Column

وزیر اعلیٰ پنجاب اور توانائی کے سستے زرائع … عقیل انجم اعوان

عقیل انجم اعوان

شومئی قسمت سے پاکستان کی تاریخ کے تیس برس پیپلز پارٹی اور (ن) لیگ کی دوستانہ لڑائی میں گزر گئے۔ اس دور کو اگر پاکستان کی ترقی کابدترین دور کہا جائے توجھوٹ نہیں ہو گا۔ افسوس یہ کہ ان میں سے جو بھی حکومت برسر اقتدار آئی اس نے اپنے سیاسی مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے انتظامی معاملات چلائے۔ ہر حکومت اپنی بدترین کارکردگی کا سہرا دوسرے کے سر پرسجانے کے لیے تیار رہی۔بدقسمتی سے بدعنوان حکومتوں کے زیر انتظام پاکستان کسی بھی شعبے میں کامیابی کے جھنڈے گاڑنے سے قاصر رہا ،اب جبکہ پاکستان میں تحریک انصاف کی مخلص حکومت آئی ہے جواپنے عوام کے لیے کچھ کرنا چاہتی ہے تو طرح طرح کے مافیاز اس کی راہ میں روڑے اٹکا رہی ہے۔وزیر اعظم پاکستان نے وزیر اعلیٰ بزدار کی شکل میں پنجاب کو ایک بہترین ٹیم دی ہے جو ہر شعبے بالخصوص توانائی کے شعبے میں عملی اقدامات اٹھا رہی ہے، جس سے ناصرف روزگار کے مواقع پیدا ہو رہے ہیں بلکہ سستے وسائل سے اہم کامیابیاں بھی حاصل ہو رہی ہیں۔

موجودہ حکومت گزشتہ تین سال سے صنعتی ترقی پر خصوصی توجہ دئیے ہوئے ہے۔خصوصی طور پر حکومت پنجاب آئین پاکستان کے تحت توانائی کی ضروریات ملکی وسائل سے حاصل کرنے کیلئے کوشاں ہے۔جس کے تحت جنوبی پنجاب میں100 میگا ووٹ کا سولر پلانٹ لگایا گیا ہے ۔100میگاواٹ سولرپلانٹ کا یہ منصوبہ جنوبی پنجاب کے لوگوں کے لیے ترقی کی نوید لائے گا۔ سو میگا واٹ سولر پاور کا یہ منصوبہ رواں سال کے آخر تک مکمل کیا ہو جائے گا۔ہر لحاظ سے یہ منصوبہ ملکی تاریخ کا سستا ترین منصوبہ ہے۔عوام کی ضروریات کے پیش نظر 100 میگا واٹ یہ منصوبہ ساڑھے پانچ روپے فی یونٹ پر جائیگا۔ اس کے برعکس گزشتہ حکومت نے قائداعظم سولر 25 روپے فی یونٹ پر لگایا ہے۔ منصوبہ جنوبی پنجاب کے لوگوں کے لیے ترقی کی نوید لائے گا جو کہ بزدار حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ساتھ ہی ساتھ کئی معاملات میں یہ جنوبی پنجاب کے لیے گیم چینجر ثابت ہوگا، یہاں کے لوگ روز اول سے ترقی کے لیے ہرنئے حکمران کا چہرہ دیکھتے رہے ہیں۔اس طرح سے ساو ¿تھ پنجاب کے لوگوںکی محرومیوں کا ازالہ ہوسکے گا جوستر سالوں سے ترقی کی راہ پہ گامزن نہیں ہوسکے۔وزیر اعلیٰ سردار عثمان بزدار کی قیادت میں صنعتوں اور عوام کو بجلی کی فراہمی کے لیے حکومت پنجاب نے سستے ترین ریٹس پر معاہدے کئے ہیں۔
وزیر اعلیٰ پنجاب کے اقدامات سے بین الاقوامی سرمایہ کاری کے لیے ساز گار ماحول فراہم کیا جا رہا ہے۔ سابقہ دور حکومت میں جنوبی پنجاب کے حقوق سلب کر کے ترقی کو صرف رائیونڈ تک محدود رکھا گیا۔ وزیر اعظم عمران خان کے یکساں ترقی کے نعرے پر عمل درآمد کے لیے وزیر اعلیٰ پنجاب پر عزم ہیں۔جنوبی پنجاب کے پسماندہ علاقے لیہ میں 57ملین ڈالر کی لاگت سے 100میگا واٹ کے ماحول دوست سولر پاور کے اس منصوبے سے 20کروڑ یونٹ بجلی پیدا ہو گی۔ حکومت نے 3.7امریکی سینٹ فی کلو واٹ کے سستے ترین ٹیرف پر معاہدہ کیا ہے جبکہ شوباز شریف نے اپنے دور میں14.1امریکی سینٹ میں قائداعظم سولر کے معاہدے کئے کیونکہ سارا کرپشن کا پیسہ پہلے شاہی خاندان کی جیبوں میں جاتا تھا جبکہ موجودہ حکومت عوام کو سستی بجلی کی شکل میں ریلیف منتقل کر رہی ہے۔ یہ منصوبہ بیرونی سرمایہ کاروں کا عمران خان کی حکومت پر اعتبار کا مظہر ہے جس سے 30ملین ڈالر بیرونی سرمایہ کاری پاکستان آئے گی۔
اس منصوبہ سے قریباً پچاس ہزار لوگوں کو روزگار میسر آئے گا۔ منصوبے سے جنوبی پنجاب کے لوگوں کی محرومیوں کا یقیناً ازالہ ہوگا۔ اسی طرح وزیراعلی پنجاب کی موجودگی میںحکومت نے پنجاب تھرمل پاور پلانٹ فنانسنگ کا تاریخی معاہدہ کیا۔ملکی تاریخ کی سب سے بڑی فنانسسنگ سو ارب روپے کا یہ معاہدہ بغیر Sovereign گارنٹی کے پنجاب تھرمل پاور پرائیویٹ لمیٹڈ حکومت پنجاب اور ملک کے چھ بینکوں کے کنسورشیم کے درمیان طے پایا۔ اس سے 1263 میگا واٹ کے RLNG پر چلنے والے توانائی کے منصوبہ کی ہنگامی بنیادوں پر اگلے سال دوران تکمیل ہو جائے گی اور ملکی توانائی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے سالانہ دس ارب سے زائد بجلی کے یونٹس نیشنل گرڈ میں شامل ہوں گے۔ وزیراعلیٰ عثمان بزدار کی قیادت میں پنجاب میں حقیقی تبدیلی کا سفر جاری ہے اور محکمہ توانائی میں مقامی زرائع توانائی کے منصوبے اسی سلسلے کی کڑی ہے۔امید ہے صوبہ پنجاب میں ہونے والی تبدیلی جلد پاکستان بھر میں نظر آئے گی۔ تھرمل کے ذریعے توانائی کے حصول کے ساتھ بزدار حکومت کا سولرلائزیشن کے ذریعے بجلی کی پیداوار ایک خوش آئند امر ہے۔ پیکا کی رپورٹ کے مطابق صوبہ بھر میں مختلف سرکاری عمارتوں میں 95ہزار 691بجلی کے کنکشن ہیں اور حکومت کو اس مد میں ہر سال 35ارب 70کروڑ روپے ادا کرنا پڑتے ہیں جس سے ایک بہت بڑی رقم بجلی کے بلوں کی مد میں چلی جاتی ہے۔ حکومت نے اس مد میں رقم کو بچانے کے لیے متبادل ذرائع سے توانائی کے حصول کا فیصلہ کیاہے۔ محکمہ توانائی پنجاب نے ”پنجاب انرجی ایفیشنسی اینڈ کنزرویشن ایجنسی“ کے ذریعے سرکاری یونیورسٹیوں کو انرجی سیونگ کمپنی کے ”ایسکو“ ماڈل پر شمسی توانائی پر منتقل کرنے کا آغاز کیاہے۔حکومت نے پائلٹ پراجیکٹ کے طور پر یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی کو شمسی توانائی پر مکمل کرنے کا پراجیکٹ کامیابی سے مکمل کرلیاہے جس سے قریباً سالانہ پونے 2 کروڑ روپے کی بچت ہوگی۔
یونیورسٹی بہاولپور میں 2.5میگاواٹ سولر پاور پلانٹ کی تکمیل کے علاوہ حکومت پنجاب کے زیراہتمام 240خودمختار اداروں کی سولر پر منتقلی کے منصوبے شروع کئے جا رہے ہیں۔اسی طرح وہاڑی اور سمندری میں 550کلوواٹ کے سولر اور بائیوگیس ہائبرڈ پاور پلانٹس لگانے کے منصوبے بھی مکمل کرلیے گئے ہیں۔محکمہ توانائی پنجاب کی پوری ٹیم یکسوئی اور لگن کے ساتھ وزیراعلی پنجاب کی قیادت اور وزیراعظم پاکستان کے ویژن کے عین مطابق مقامی زرائع توانائی سے سستی اور ماحول دوست توانائی کی پیداوار کے لیے کوشاں ہے تاکہ مہنگائی سے ستائی ہوئی عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف دیا جائے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button