Column

تحریکِ عدم اعتماد ناکام؟ …… سی ایم رضوان

 سی ایم رضوان

اپوزیشن جماعتوں نے وزیر اعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے کا اعلان کیا ہے۔ اِس کی وجہ مہنگائی اور معاشی بدانتظامی بتائی جا رہی ہے۔ ایسے میں حزب اختلاف کی جماعتوں کے باہمی روابط اور ملاقاتوں میں ایک تسلسل بھی دیکھنے میں آ رہا ہے اور ان رابطوں میں حکومت کی اتحادی جماعتیں بھی خاصی اہمیت اختیار کر گئی ہیں۔ یہ تحریک کب اور کیسے پیش کی جائے گی، اس بارے میں تو ابھی کوئی تفصیلات سامنے نہیں آسکیں تاہم اس تحریک کے ناکام ہونے سے متعلق متعدد حکومتی ترجمانوں اور وزرا نے پیشگوئی کردی ہے۔تحریک عدم اعتماد کی کامیابی یا ناکامی کے اسباب سے پہلے یہ جانتے ہیں کہ پاکستان کی تاریخ میں پہلے کب اور کتنی بار کسی وزیر اعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کی گئی اور پھر اُس کا نتیجہ کیا نکلا؟۔

1989میں اُس وقت کی وزیر اعظم بے نظیر بھٹو کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے کی ناکام کوشش کی گئی۔ یادرہے کہ 1973 کے آئین میں جب تحریک عدم اعتماد کا طریقہ وضع کیا گیا تو اُس وقت کے وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کو دوتہائی اکثریت حاصل تھی تو اُس وقت یہ تحریک کسی نے پیش کرنے کا سوچا بھی نہیں تھا مگر آگے چل کر جب ملک میں ایک بار پھر جمہوری سفر شروع ہوا تو تحریک عدم اعتماد جیسی فضا بھی اُس کا مقدر بن گئی۔ سابق وزیر اعظم بے نظیر بھٹو 1986 میں ملک واپس آئیں تو پنجاب کے شہر لاہور میں اُن کا جو استقبال ہوا اُسے آج بھی فقیدالمثال کہا جاتا ہے۔ لاہور کی سڑکوں پر ہر طرف عوام ہی عوام تھے۔ 1988 میں جب ضیاالحق ایک فضائی حادثے میں ہلاک ہوئے تو نئے آرمی چیف مرزا اسلم بیگ نے مارشل نافذ کرنے یا کوئی اور نظام حکومت متعارف کرانے کی بجائے عام انتخابات کا اعلان کردیا۔ اُن انتخابات میں پیپلز پارٹی نے اکثریت حاصل کی اور یوں بے نظیر بھٹو ملک کی پہلی خاتون وزیراعظم جبکہ نواز شریف ملک کے سب سے بڑے صوبے پنجاب کے وزیراعلیٰ بن گئے۔ یہ وہ عرصہ تھا جب کہا جاتا تھا کہ بے نظیر بھٹو کی حکومت صرف چکلالہ اور فیض آباد کے چوک میں ختم ہوجاتی ہے۔ ابھی حکومت کو بنے دو برس بھی نہیں گزرے تھے کہ حزب اختلاف کی جماعتیں وزیر اعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے پر متفق ہو گئیں۔ اپوزیشن اپنے اراکین کو مری لے گئی جبکہ پیپلز پارٹی کے خیبرپختونخوا کے وزیر اعلیٰ آفتاب شیرپاؤ اپنے اراکین کو سوات لے گئے تاکہ کوئی وفاداری تبدیل نہ کرسکے۔ بینظیر حکومت کے پہلے دور میں بدعنوانی کو ملکی حالات کی خرابی کی وجہ قرار دیا جا رہا تھا۔ صدر مملکت اسحاق خان(جو سابق بیوروکریٹ تھے اور اُنہوں نے اِسی دہائی میں دوبار اسمبلیاں تحلیل کر کے جمہوری حکومتوں کے خاتمے کا اعلان بھی کیا تھا) نے روئیداد خان کی سربراہی میں ایک سیل بھی قائم کر دیا تھا جسے حکومتی عہدیداروں کی طرف سے کی جانے والی بدعنوانی پر نظر رکھنے کی ذمہ داری سونپی گئی تھی۔ بے نظیر بھٹو کے اِسی دور حکومت میں ہی اُن کے شوہر آصف زرداری کے خلاف بدعنوانی اور اغوا جیسے الزامات بھی میڈیا کی زینت بن چکے تھے۔ یہ ایک ایسا وقت تھا جب آئی ایس آئی کے سربراہ جنرل حمید گل انتخابات سے قبل ہی بے نظیر بھٹو حکومت کے خلاف خاصے متحرک تھے اور وہ بھی اِس عدم اعتماد کے بھرپور حامی اور اُنہوں نے اسلامی جمہوری اتحاد (آئی جے آئی) کے نام سے اپوزیشن کو متحد کیا تھا جبکہ خان عبدالولی خان جیسے نامور اپوزیشن رہنما بھی وزیر اعظم بینظیر کے خلاف متحرک تھے۔
تاہم تمام تر کوششوں کے باوجود حزب اختلاف کی بے نظیر بھٹو کے خلاف تحریک ناکامی سے دوچار ہوئی۔ بے نظیر بھٹو کے ساتھ ثابت قدم لوگ تھے جنہیں توڑا نہیں جا سکتا تھا۔ جیسے ہی عدم اعتماد کی تحریک قومی اسمبلی میں پیش کی گئی پیپلز پارٹی کا ایک رکن تلاوت قرآن کے بعد فوری طور پر کھڑا ہو کر بولا کہ انہیں زبردستی کچھ لوگ مری لے گئے تھے مگر وہ اپنی لیڈر اور اپنی جماعت کے ساتھ کھڑے ہیں اور اِس تحریک کے خلاف ہیں۔ یہ اپوزیشن کے لیے پہلا دھچکا تھا۔ جب اِس تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ ہوئی تو حکومت کے حق میں چار ووٹ اضافی ہی نکلے۔ اِس تحریک کی کامیابی کی صورت میں قائد حزب اختلاف غلام مصطفیٰ جتوئی نے وزیر اعظم بننا تھا جبکہ پنجاب کے وزیر اعلیٰ نواز شریف نہیں چاہتے تھے کہ اپوزیشن لیڈر وزیراعظم بنے۔ چوہدری انور عزیز (جو کہ اُس وقت آئی جے آئی کے پلیٹ فارم سے رکن اسمبلی منتخب ہوئے تھے) نے اُس قرارداد کو ناکام بنانے میں اہم کردار ادا کیا تھا، جس کی وجہ سے حکومت کو چار ووٹ اضافی ہی ملے۔
قانونی ماہرین کے مطابق پاکستان کے آئین کے تحت قومی اسمبلی میں تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ اوپن بیلٹ کے ذریعے ہوتی ہے یعنی سب کے سامنے ہوتی ہے، اِس میں پارلیمان کے ایوان بالا یعنی سینیٹ کی طرح خفیہ ووٹنگ نہیں ہوتی۔ جب تحریک عدم اعتماد پیش کی جاتی ہے تو تین دن سے پہلے اُس پر ووٹنگ نہیں ہوسکتی اور سات دن سے زیادہ اُس پر ووٹنگ میں تاخیر نہیں کی جاسکتی ہے۔ اب تک کے ملکی تجربات کی روشنی میں یہ کہنا بجا ہے کہ تحریک عدم اعتماد پیش کرنا آسان ہے جبکہ اِس کا منظور ہونا بہت مشکل ہے۔ بے نظیربھٹو کے پہلے دور حکومت کا اگر موجودہ دور سے موازنہ کیا جائے تو قرار دیا جا سکتا ہے کہ اُس وقت کی بینظیر حکومت سے موجودہ عمران خان حکومت کہیں زیادہ مضبوط ہے کیونکہ پنجاب اور خیبرپختونخوا میں بھی تحریک انصاف کی مضبوط حکومتیں قائم ہیں۔
اِن حالات میں یہ بھی خیال رہے کہ اگر کوئی حکومتی رکن وزیراعظم کے خلاف ووٹ دے تو ایسی صورت میں سپیکر قومی اسمبلی اُس رکن کے خلاف الیکشن کمیشن کو 18 ویں ترمیم کی روشنی میں سیاسی وفاداری تبدیل کرنے پر نااہلی کا ریفرنس بھیج سکتا ہے۔ اب تک کی دوڑ دھوپ سے اِس تحریک کا بیرومیٹر ایم کیوایم ثابت ہوا ہے۔ اِس وقت ایم کیو ایم ہی تھوڑی سنجیدہ نظر آتی ہے اور اگر ایم کیو ایم نے اپوزیشن کا ساتھ دیا تو پھر (ق) لیگ بھی اِس تحریک کی حمایت کرسکتی ہے لیکن یہ مفروضے تبھی صحیح ثابت ہو سکتے ہیں جب خود اپوزیشن جماعتوں میں کوئی زور طاقت پیدا ہوگا ابھی تک تو وزیراعظم عمران خان کی آواز ہی ملک کے تمام سیاستدانوں سے بھاری توانا اور بلند آہنگ سنائی دے رہی ہے اُن کے لگائے گئے الزامات پر گرفتاریاں شروع ہو جاتی ہیں جبکہ اِس کے مقابلے میں اپوزیشن کے ساتھ نہ عوام نظر آتے ہیں اور نہ ہی اُن کی آواز اُن کا ساتھ دے رہی ہوتی ہے اب تک کا تجزیہ تو یہی ہے کہ مجوزہ تحریک عدم اعتماد ناکام ہی ہوگی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button