Column

سیاست میں کیا سادگی ہوا کرتی تھی؟ ….. علی حسن

علی حسن

ایک بھارتی اخبار میں یہ خبر شائع ہوئی تھی کہ کس بے رحمانہ طریقہ سے مالک مکان نے اپنا مکان خالی کرانے کے لیے اپنے عمر رسیدہ کرایہ دار کو مکان سے بے دخل کیا۔ کرایہ دار کے ذمہ کچھ کرایہ واجب الادا تھا جسے مالک مکان برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں تھا۔ کرایہ دار کا کل اثاثہ ایک پرانی چارپائی، کھانے کے پرانے کچھ برتن اور کپڑے کے کچھ جوڑے تھے۔ کرایہ دار گڑگڑاتا رہا کہ اِسے کچھ وقت دے دیا جائے تاکہ وہ کرایہ کی رقم کا بندوبست کر سکے، اِس دوران پڑوس کے کچھ پڑوسیوں نے مالک مکان سے رعایت دینے کے لیے کہا۔ ایک رپورٹر نے جو وہاں سے گزار رہا تھا، ساری صورتحال دیکھی۔ رپورٹر نے تو تمام تر صورت حال پر مبنی خبر دے دی لیکن جب خبر ایڈیٹر کے پاس پہنچی تو انہوں نے اِس کی سرخی کچھ اس طرح لگائی کہ ”اپنے وقت کے با اختیار یونین وزیر گلزاری لال نندا کسمپرسی کی زندگی گزار رہے تھے“۔ ایڈیٹر تو گلزاری لال نندا کے نام سے واقف تھے لیکن رپورٹر لا علم تھا۔ (یہ خامی ہمارے ملک میں بھی ہے جہاں رپورٹر ماضی کے بارے میں بہت ہی کم آگاہ ہیں۔ جب سے ٹی وی چینل کی ”بولنے کی صحافت“ کی داغ بیل پڑی ہے، تو اِس کے بعد سے تو رپورٹروں کو خود اپنے مستقبل کے لیے اپنے اوپر نگاہ ڈالنا چاہئے)۔
گلزاری لال نندا بھارت کے یونین (مرکزی) وزیر ہونے کے علاوہ دو مرتبہ اہم ترین مواقعوں پربھارت کے قائم مقام وزیر اعظم بھی مقرر ہوئے خصوصاً وزیر اعظم جواہر لال نہرو کی موت بعد وہ طویل عرصے تک بھارت کے قائم مقام وزیراعظم رہے اور اِس کے بعد لال بہادر شاستری کی موت کے بعد بھی قائم مقام وزیر اعظم کا قرعہ فال اِن ہی کے نام نکلا تھا۔ گلزاری لال کی موت کو طویل عرصہ گزر چکا لیکن سوشل میڈیا پر کسی نے اِن کے بارے میں یہ واقعہ رکھ دیا ہے۔ غالباً یہ بتانا مقصود ہوگا کہ بھارت کے یونین وزیر (تمام نہیں) کس کسمپرسی میں زندگی گزارتے ہیں۔ جب حکومتی حلقوں کے علم میں گلزاری کی کسمپرسی کی زندگی سامنے آئی تو اِنہیں مکان اوروظیفہ کی پیش کش کی گئی جسے اُنہوں نے قبول کرنے سے انکار کر دیا تھا۔

بھارت کی تو بات اپنی جگہ لیکن ایک زمانے میں برصغیر کے سیاست دان اتنی ہی سادہ زندگی گزارتے تھے۔ قیام پاکستان کے بعد جو بھی سیاست دان پاکستان کی سیاست میں سرگرم اور متحرک رہے، اِن میں سے اکثر کے بارے میں یہ بات طے شدہ ہے کہ وہ لوگ سادہ اور اپنی جائز آمدنی میں ہی زندگی گزارتے تھے۔ کسی کو سادہ زندگی سے عار نہیں تھا۔ وہ لوگ دکھاوے سے دامن بچاتے تھے۔ اِن میں سے اکثر کے بارے میں تو ایسے واقعات موجود ہیں جو ایمانداری کے زمرے میں آتے ہیں۔ کوئی کیا کہے گا کہ جب اپنے وقت کے وزیر اعظم حسین شہید سہروردی کو برخاست کیا گیا تو اُن کا سامان کراچی کی سڑکوں پر اِس لیے گھومتا رہا کہ کسی مناسب جگہ اُس سامان کو اتارا جائے۔ یہ تو بہت بعد کی بات ہے کہ پاکستانی سیاست دانوں کے ہر بڑے شہر میں اپنے محل نما مکانات ہیں۔ ایک اور واقعہ سردار عبدالرب نشتر مرحوم کے بارے میں ہے کہ وہ مرکز میں وزیر بحالیات تھے۔ کراچی میں آج کے مہنگے ترین علاقے میں ایک رہائشی بستی دھورا جی سوسائٹی بسائی جارہی تھی اِس کا سنگ  بنیاد مرحوم نشتر کو رکھنا تھا۔ منتظمین نے اِنہیں بستی میں ایک پلاٹ لینے کے لیے درخواست فارم دیا تاکہ وہ بھر کر دے دیں تو پلاٹ اُنہیں الاٹ کر دیا جائے۔ نشتر مرحوم نے یہ درخواست فارم لے لیا اور کہا کہ وہ دیکھیں گے کہ کہیں اُن کے پاس پشاور میں تو رہائشی پلاٹ نہیں ہے پھر ہی کچھ بتا سکیں گے۔ جب نشتر مرحوم دوسری بار کراچی آئے تو اُنہوں نے وہ درخواست فارم واپس کردیا اور بتایا کہ اُن کے پاس پشاور میں پلاٹ موجود ہے۔ آج کے دور میں کیا ایسے واقعات کی مثال مل سکتی ہے؟ آج تو پاکستانی سیاست دانوں کی اکثریت کی سیاست پلاٹ اور پیسے کے گرد گھومتی ہے۔
پاکستانی سیاست دانوں میں مرحوم حسرت موہانی کا نام قابل ذکر ہے جو نہایت سادہ زندگی گزارہ کرتے تھے۔ برصغیر کے اپنے وقت کے ممتاز صحافی دیوان سنگھ مفتون اپنی کتاب ”سیف وقلم“ میں لکھتے ہیں کہ”مولانا حسرت موہانی کے ساتھ راقم الحروف کے کئی برس تک تعلقات رہے اور اِس طویل عرصہ میں ہمیشہ ہی دیکھا گیا کہ آپ کی عینک پر بوسیدگی کے باعث لکیریں پڑی ہیں۔ ٹوپی زیادہ استعمال کے باعث میلی ہے اور اگر کہیں جانا ہوتا تو تانگہ میں دوسرے مسافروں کے ساتھ ایک دو آنہ دے کر بیٹھتے یعنی کبھی سالم تانگہ لیتے اور نہ ہی کسی کے زیرِ بار ہوتے، ورنہ جس صورت میں انگریز سے کانگرس، مسلم لیگ اور سوراجیہ پارٹی کے سینکڑوں ممبروں نے سرکاری کمیشنزکی ممبری اور دوسرے ذریعے سے ہزارہا روپیہ ماہوار حاصل کیا، کیا حسرت موہانی جیسے پیدائشی انقلاب پسند کے لیے انگریز کے ہاتھوں اپنی سیاسی حرمت کو فروخت کرنا مشکل تھا، کیا وہ بھی موٹروں میں سواری کرتے ہوئے اسمبلی کے دوسرے ممبروں کی طرح فلک نما ہوٹلوں میں قیام نہ کر سکتے تھے؟ مگر سوال تو کریکٹر کی بلندی کا ہے۔ وہ لوگ اپنے ضمیر کو کیوں کر نیلام کرا سکتے ہیں جنہوں نے اپنے ضمیر اور کریکٹر پر دنیا کی ہر شے قربان کرنے کا فیصلہ کیا ہو“۔
پہلے مارشل لاء کے نفاذ کے ذمہ دار جنرل ایوب خان نے اقتدار سنبھالنے کے بعد فوری طور پرملک میں ”ایبڈو“ قانون نافذ کیا۔ شہاب نامہ میں قدرت اللہ شہاب نے لکھا ہے کہ ایبڈو کے تحت فرد جرم ثابت ہونے پر ملزم (یہ سارے پاکستان کے سیاست دان تھے) کو چھ برس تک سیاست سے کنارہ کش رہنے کی سزا ملتی تھی۔ البتہ اتنی رعایت ضرور تھی کہ کہ اگر کوئی صاحب عدالت میں حاضر ہو کر اپنے صفائی پیش کرنا نہ چاہتے ہوں تو وہ رضاکارانہ طور پر چھ سال کے لیے سیاست سے دست برداری کا اعلان کر کے اپنی گلو خلاصی کرا سکتے تھے۔ دوسابق وزرائے اعظم سمیت جن لوگوں کے خلاف مقدمات چلائے گئے اِن میں ایک سابق وزیر اعظم حسین شہید سہروردی بھی تھے۔ ایبڈو کے شکار ۸۹ سیاست دانوں میں سے صرف چھ سیاست دان ایسے تھے جو بری ہوئے۔ ایبڈو کے ذریعے سیاست دانوں سے جان چھرائی جاسکے تاکہ حکمرانی میں کوئی رکاوٹ پیدا نہ کی جائے۔ ایبڈو ہو یا کوئی اور قانون، ایسے ایسے سیاست دانوں کو سیاست سے باہر کیا گیا تاکہ اُن کا کوئی عمل دخل نہ ہو لیکن بھاری اکثریت ایسے سیاست دانوں کی تھی جن پر بدعنوانی کا الزام تو بڑی بات تھی، تہمت بھی نہیں  لگائی جا سکتی تھی۔ ایوب خان کے مارشل لاء کے دوران اور بعد میں تو اِس ملک میں سیاست کا جو انداز سامنے (بہتر ہے حشر کہاجائے) آیا اِس سے بہت سارے سیاست دان پناہ مانگتے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button