Column

سیاست میں حال اور مستقبل کی منصوبہ بندی …. محمد الیاس رانا

محمد الیاس رانا

حزب اختلاف کی جماعتوں کی تحریک عدم اعتماداور لانگ مارچ کو ہدف بناتے ہوئے بھرپور سر گرمیاں جاری ہیں ، حزب اختلاف کی قیادت کی حکومتی اتحادیوں سے بھی ملاقاتیں ہوئیںاور مستقبل میں بھی رابطے جاری رکھنے پر اتفاق ہوا ہے جبکہ تحریک انصاف کے کچھ گروپ بھی سیاسی حالات کو دیکھتے اورمستقبل کو پیش نظر رکھتے ہوئے متحرک ہو رہے ہیں ، وہ کس کے پلڑے میں اپنا وزن ڈالیں گے یہ بھی انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ موجودہ صورتحال میں پاکستان مسلم لیگ (ق) اور متحدہ قومی موومنٹ توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہیںاور اِ ن کے ایک پلڑ ے سے دوسرے پلڑے میں جانے سے پاکستان کی سیاست کا نقشہ ہی تبدیل ہو سکتا ہے لیکن یہ ساری باتیں قبل از وقت ہیں۔ مسلم لیگ (ق) کی قیادت سیاست میں وضع داری میں اپنا ثانی نہیں رکھتی اِس لیے حزب اختلاف کی جماعتوں کی ملاقاتوں کا ایک پہلو سے کوئی نتیجہ نہیں نکالا جا سکتا۔

پاکستان کی سیاست اُس دور میں داخل ہو چکی ہے کہ سیاسی جماعتیں اور سیاسی اتحاد صرف حال کی سیاست پر توجہ نہیں دے رہے بلکہ مستقبل کی بھی منصوبہ بندی کر رہے ہیں جس کے تحت کس کو مستقبل میں کیا ملے گا یہ انتہائی اہم ہے اور تجزیہ نگاروں کے بقول اصل میں اب مستقبل کی صف بندی ہو رہی ہے اور ساتھ یہ بھی بر ملا کہا جارہا ہے کہ”سیاست کے سینے میں دل نہیں ہوتا“ اِس لیے اِس عنوان کے ساتھ کہ”ہم نے ملک اور قوم کے بہترین مفاد میں فیصلہ کیا ہے“کسی کا ساتھ چھوڑکر دوسری طرف چلے جانا کوئی اچنبھے کی بات نہیں ہو گی کیونکہ ماضی میں اِس کی بڑی مثالیں موجود ہیں۔ ملک میں مہنگائی کی صورتحال جس سطح پر پہنچ چکی ہے یہ درست ہے کہ حکومت کے اپنے لوگ اور اتحادی دفاع سے قاصر نظر آتے ہیں اور ایسی ہی صورتحال ہوتی ہے جب آپ عوام کے مفاد کو جواز بناتے ہوئے کسی کو چھوڑنے کا اعلان کر سکتے ہیں اور اِس سے کسی سیاسی جماعت کے مستقبل پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں میرے ذاتی خیال میں کوئی خاص نہیں کیونکہ یہاں پر ووٹروں کے سوچنے کا رجحان اِس سطح کا نہیں کہ وہ یہ دیکھیں کہ فلاں شخص دو دہائیاں پہلے کس جماعت میں تھا اور آج چوتھی جماعت سے انتخاب لڑ رہا ہے اور ہم نے اِسے ووٹ نہیں دینا بلکہ یہاں پر سیاسی جماعت کا نشان، حلقے کی سیاست اور ذات برادری کا ووٹ چلتا ہے جس میں کوئی یہی نہیں سوچتاکہ میں نے ووٹ کسے اور کیوں دینا ہے۔
موجودہ اراکین اسمبلی میں اگر کچھ یہ سمجھیں کہ مہنگائی کی وجہ سے وہ دوبارہ پرانی جماعت کے نشان پر الیکشن نہیں لڑ سکتے تو وہ ایک شاخ سے دوسری شاخ پر جانے میں دیر نہیں لگائیں گے اور دعوے سے کہہ رہا ہوں کہ اِس کے لیے موجودہ کئی اراکین اسمبلی مشاورت جاری رکھے ہوئے ہیں اور وہ مناسب وقت دیکھ کر اپنا حتمی فیصلہ لیں گے یا انتخابات کا اعلان ہوتے ہی ایک نئی شکل وصورت میں اپنی سیاست کا آغاز کر دیں گے۔ موجودہ صورتحال میں اگر مستقبل کا زائچہ بنایا جائے تو مسلم لیگ (ن) کی قیادت کاچودھری برادران کی رہائشگاہ پر جانا ایک بڑی سیاسی پیش رفت ہے اور اِس کے دوررس نتائج ہوں گے۔ بے شک مسلم لیگ (ن) کی قیادت کا چودھری برادران سے حالیہ ملاقات کا فوری کوئی نتیجہ نہ نکلے لیکن اِس کے ذریعے مستقبل کی سیاست کے راستے کھل گئے اور دونوں جماعتوں کی قیادت میں اِس سے پہلے ایک دوسرے سے ملنے یا ملک کی سیاست میں کوئی بڑا فیصلہ کرنے کے لیے کوئی ہچکچاہٹ تھی وہ دور ہو جائے گی۔جب کوئی بھی بڑی سیاسی جماعت اکثریت حاصل نہ کر سکے تو ایسے میں مسلم لیگ (ق) اورمتحدہ قومی موومنٹ کا کردار ہمیشہ سے ہی اہمیت کا حامل رہا ہے اور اِس تناظر میں اِس ملاقات کو ہرگز بے نتیجہ نہیں کہا جا سکتا۔ بظاہر مسلم لیگ(ن) شہباز شریف فیملی کے خلاف منی لانڈرنگ کیسز اورنواز شریف کے بیرون ملک ہونے کی وجہ سے شدید مشکلات سے دوچار ہے لیکن دوسری جانب تحریک انصاف کی حکومت بھی ایسی کوئی تبدیلی نہیں لاسکی اور خاص طو رپر مہنگائی کا بوتل سے باہر آنے والا جن ہے جس کی وجہ سے تحریک انصاف صرف عمران خان کی مقبولیت کی وجہ سے مسلم لیگ (ن) کو ٹف ٹائم نہیں دے سکے گی بلکہ خود اسے ٹف ٹائم ملے گا۔ دوسری طرف پیپلز پارٹی کی سر گرمیاں بھی جاری ہیں اور اِس کی قیادت بھرپور طریقے سے متحرک ہے اگر آئندہ عام انتخابات میں اِس کا بڑی سیاسی جماعت سے اتحاد کا کوئی راستہ بن گیا تو پیپلز پارٹی بھی اپنی دھاک بٹھا سکتی ہے اور اگراِس کے 27فروری سے شروع ہونے والے لانگ مارچ نے پنجاب میں رنگ دکھا دیا تو اِس سے بڑی جماعتوں جو ا ِس وقت پیپلز پارٹی سے شاید اتحاد نہ کرنے کا سوچ رہی ہوں وہ بھی اِس بارے میں غور کرنا شروع کر دیں گی۔
سیاسی تجزیہ نگاروں کے مطابق ایسا نہیں ہے کہ نواز شریف بیرون ملک خاموشی سے بیٹھے ہیں بلکہ اِن کی بھرپور سرگرمیاں جاری ہیں اور مستقبل کے حوالے سے بھی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔یہ رائے بھی دی گئی ہے کہ نواز شریف انتخابات سے قبل پاکستان آئیں اور اگر آکر وہ جیل چلے جاتے ہیں تو اِس سے بھی پارٹی کارکنان کو ہمدردی کی بنیادی پر زیادہ متحرک کرکے لوگوں کی ہمدردیاں بھی سمیٹی جا سکیں گی اور اِس حوالے سے سوچ بچار جاری ہے۔
موجودہ صورتحال میں جہانگیر ترین گروپ بھی بڑی اہمیت کا حامل ہے جس میں کئی اراکین قومی اسمبلی شامل ہونے سمیت جہانگیر ترین کا تحریک انصاف میں موجود بہت سے لوگوں پر بھی اثر و رسوخ ہے اور یہ گروپ بھی اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ جہانگیر ترین سے قربت رکھنے والوں کے مطابق اِس گروپ نے ابھی تک ایسا کوئی اقدام نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس سے حکومت لڑ کھڑا جائے لیکن یہ گروپ بھی اگر مستقبل میں اپنا وزن کسی کے پلڑے میں ڈالے گا تو وہ اپنے حصے کے لیے ضمانت مانگے گا۔ سیاست پر نظر رکھنے والوں کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ (ن) اِس وقت جن مشکل حالات سے دوچار ہے وہ مستقبل کی آسودگی کے لیے کسی سیاسی جماعت یا گروپ کو اِس کے حجم سے زیادہ حصہ دینے کے لیے بھی راضی ہو سکتی ہے۔اپوزیشن جماعتوں سے غیر اعلانیہ رابطوں کے باوجود جہانگیر ترین گروپ فی الحال دیکھو اور انتظار کرو کی پالیسی پر گامزن ہے اور حزب اختلاف کی عدم اعتماد کے حوالے سے کوئی صورت واضح ہونے تک اِسی پر گامزن رہے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button