Column

ہمارے صنعتی اور معاشی مسائل ….. سی ایم رضوان

 سی ایم رضوان
صنعت اور معیشت کسی بھی ملک کی بنیاد ہوتے ہیں۔ اِن کے بغیر کوئی ملک آگے بڑھنے کا تصور بھی نہیں کر سکتا۔ پاکستان جب وجود میں آیا تو اِس وقت ترقی یافتہ صنعتیں یا بھاری مشینری کے کارخانے نہیں تھے۔ زیادہ تر صنعتیں چھوٹے پیمانے پر یا زراعت سے وابستہ تھیں۔ ایوب خان آئے تو انہوں نے پانچ سالہ منصوبہ بنایا جس کے تحت ملک میں بڑی صنعتیں سرکاری شعبہ میں لگانے کی منظوری دی گئی اور ملک میں صنعتوں کا آغاز ہوا۔ اِس منصوبے کے بعد دوسرے پانچ سالہ منصوبے کے تحت ملک میں بہت سی بھاری مشینری کے کارخانہ قائم ہوئے۔ وہ دور پاکستان کی صنعتی ترقی کا سنہرا دور تھا۔ مگر یہ صنعتی ترقی آگے کیوں نہیں بڑھی اور سرکاری شعبے میں قائم صنعتیں رفتہ رفتہ تباہ ہوگئیں بلکہ یہ کہنا زیادہ صحیح ہوگا کہ انہیں تباہ کر دیا گیا۔
شروع میں ہمارے سرمایہ کاروں نے اِن مصنوعات کے کارخانے لگائے جو ہم باہر سے درآمد کرتے تھے ۔ مگر اِس کو آگے نہیں بڑھایا۔کچھ سرمایہ کار بھٹو دور میں صنعتوں کو قومیا لینے کی پالیسی کی وجہ سے بھی خوفزدہ ہوگئے تھے اِس لیے انہوں نے مزید دوسری صنعتوں پر سرمایہ کاری سے گریز کیا، اگرچہ اِس کے بعد بھی سرمایہ کاری کی گئی مگر چند مخصوص شعبوں مثلاً سیمنٹ کے کارخانوں یا سوتی دھاگا یا کپڑا بنانے اور شکر کے کارخانوں میں۔ یعنی ایسے شعبوں میں سرمایہ کاری کی گئی جن کا خام مال ملک میں ہی دستیاب ہے اور اِن کی مارکیٹ اندرون ملک اور بیرونی ملکوں میں بھی تھی۔ اِس کی وجہ شاید یہ بھی ہے کہ ہمارے سرمایہ کار رسک لینے سے گھبرا رہے تھے۔ ہمارے ملک میں بھاری مشینری کی اِن صنعتوں کو جو کہ ہمیں خود کفیل کر سکتی تھیں، لگایا ہی نہیں گیا اور اگر کسی نے لگایا بھی تو اِن صنعتوں کو زندہ رہنے نہیں دیا گیا۔ ہمارے یہاں دوسرے یا تیسرے درجہ کی صنعتوں کو زندہ رہنے دیا گیا جو کہ صرف ملک میں استعمال ہوتی ہیں اور انہیں برآمد نہیں کیا جاسکتا ہے۔ مگر اِس کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ غیر ملکی طاقتیں بھی ہماری معاشی اور صنعتی معاملات میں رخنہ اندازی کرتی رہی ہیں، اِن کی کوشش یہی رہی کہ پاکستان ہماری پروڈکٹس کی مارکیٹ بنا رہے اور صنعتی میدان میں ترقی نہ کرے۔ مثلاً پاکستان نے آر سی ڈی اور ایس کے ایف کے نام سے بال بیرنگ کے دو کارخانے لگائے ۔ یہ ہمارے لڑکپن کی بات ہے اِن کے بیرنگ بڑے زبردست تھے۔ جب کسی کاری گر کو بیرنگ کی ضرورت ہوتی تھی تو وہ پاکستانی بیرنگ منگواتا تھا یا امریکن ،اور یہ کہتا تھا کہ جابانی بیرنگ بھول کر بھی نہیں لانا۔ تب پاکستانی بیرنگ بہت مشہور ہوئے اور خلیج کی ریاستوں اور افریقی ممالک میں برآمد کیے جانے لگے۔ جاپانی بیرنگ پاکستانی بیرنگ سے سستا ہونے کے باوجود کوئی خریدتا نہیں تھا۔ اِس لیے جاپان نے اپنے گرگوں کے ذریعے پاکستان کے بااثر لوگوں کے کان میں یہ بات ڈال دی کہ پاکستان اگر پرانے بیرنگوں کی صرف گولیاں بدلے تو بیرنگ اور سستا پڑے گا اور اِس کی قیمت میں مزید کمی ہوجائے گی۔ حالانکہ بیرنگ کی صرف گولیاں ہی نہیں بلکہ اندرونی حصہ بھی گھستا ہے۔ یہ تجویز منظور کرلی گئی اور پاکستانی کارخانوں میں پرانے بیرنگوں کی گولیاں بدلی جانے لگیں مگر وہ بیرنگ اب کار آمد نہیں رہے تھے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ باہر تو کیا پاکستان میں بھی اِن بیرنگوں کو کوئی پوچھتا نہیں تھا۔ پھر وہ وقت آیا جب کاری گر کہتا تھا پاکستانی بیرنگ مت لانا جاپانی بیرنگ ہی لانا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ خسارے کی وجہ سے اِن کارخانوں کو بند کرنا پڑا۔
اِسی طرح جنرل ٹائر کے ساتھ بھی ہوا۔ اِن کے ٹائر پاکستان کے علاوہ خلیج اور افریقی ممالک میں بھی بہت مقبول تھے اور جاپانی ٹائروں کو کوئی نہیں پوچھتا تھا۔ اِس لیے جاپانیوں نے پاکستانی ناخداﺅں کی مدد سے یہ تجویز پیش کی کہ پرانے ٹائروں کو ہی ری اسٹیکچرکیا جائے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ اِن ٹائروں کی کارکردگی خراب ہوگئی اور لوگوں نے اِن ٹائروں کو خریدنا بند کردیا کیوں کہ انجن اور بوگیاں تیار کرنے والے ممالک نے اپنے ملک کے انجن اور بوگیاں خریدنے کے لیے پاکستان کو قرضہ اور امداد دی، جس سے یہ انجن اور بوگیاں پاکستان کے تیار کردہ انجن اور بوگیوں سے سستے پڑ رہے تھے۔ اِس طرح اِس کارخانے میں کوئی کام نہ رہا۔ کام کرنے والے ہاتھ پر ہاتھ دھرے تنخواہ وصول کرتے رہے۔ آخر کار نقصان کی وجہ سے اِن کارخانوں کو بھی بند کرنا پڑا۔پاکستان نے اپنا تیار کردہ پہلا تجارتی بحری جہاز العباس 1968ءمیں پانی میں اتارا مگر اِس میں مزید کام روک دیا گیا بلکہ مختلف طریقوں سے رکوا دیا گیا۔ پھر ہمارے یہاں کاروں کے کارخانے لگائے گئے کہ ابتدا میں یہاں کاریں اسمبلڈ ہوں گی اور بعد میں یہیں تیار ہوں گی مگر بات نجانے کیوں آگے بڑھی نہیں اور اب بھی کاریں اسمبلڈ ہو رہی ہیں۔ القصہ صنعت وحرفت میں ہماری کامیابیوں کی داستان جتنی طویل ہے اِسے مختلف حیلوں بہانوں سے تباہ کرنے کی داستان بھی اِتنی ہی لمبی ہے۔ کل جو ہمارے ساتھ جاپان کر رہا تھا آج وہ ہمارے ساتھ چائنہ کر رہا ہے۔
پاکستان انٹرنیشنل ٹریڈ آرگنائزیشن کا ممبر بنایا گیا۔ اِس کے تحت ہم بیرونی مصنوعات پر کسٹم ڈیوٹی بڑھا نہیں سکتے لیکن ملکی صنعتوں پر جتنی چاہے ڈیوٹی بڑھا سکتے ہیں۔ یعنی ہم اپنی صنعتوں کو تباہ کرسکتے ہیں مگر بیرونی مصنوعات پر پابندی نہیں لگا سکتے ۔ہمارے بہترین معیشت دانوں کو ورلڈ بینک اپنے پاس کھنچ لیتا ہے اور ضرورت کے وقت اِنہیں استعمال کرتا ہے۔ یہ ہمارے ملک کی معیشت درست راہ پر متعین کرنے کے بہانے آتے ہیں اور اِن سے پاکستان کی معیشت میں وقتی طور پر درست ہوتی نظر آتی ہے مگر کچھ عرصہ بعد پھر پاکستان کو آکسیجن سلنڈر کی ضرورت پڑجاتی ہے۔ اِس سے ایک بات صاف ظاہر ہے کہ آئی ایم ایف کے مشورے اور اقدامات سے ترقی پذیر ممالک کی معیشت سدھرنے کے بجائے مزید بگڑتی چلی جارہی ہے۔ حالانکہ اِنہیں اِس لیے بلایا جاتا ہے کہ وہ اپنی ریفارمز کے ذریعے متعلقہ ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کریں لیکن معاملہ ہمیشہ ہی توقعات کے برعکس ہوتا ہے کیوں کہ یہ ماہرین جس قسم کے فیصلے کرتے ہیں اِن سے مہنگائی کا طوفان اور بین الاقوامی مارکیٹ میں پاکستانی کرنسی کی قدر گرجاتی ہے۔ اِن کے فیصلوں میں بجلی اور گیس کی قیمتیں بڑھانا یا ایکسائز ڈیوٹی بڑھانا شامل ہوتا ہے۔ انہوں نے کبھی زراعت پر انکم ٹیکس یا وراثت پر ٹیکس کی بات نہیں کی۔ اِس کی بنیادی وجہ اِنہیں ایلیٹ طبقہ کا تحفظ حاصل ہے۔ جس میں وہ خود بھی شامل ہوتے ہیں۔ اِسی طرح آئی ایم ایف اِن کے ذریعے اپنی پالیسیوں پر عمل کرواتا ہے یعنی مغربی ممالک کے مفادات کا تحفظ کرواتا ہے اِس سے ترقی یافتہ ملکوں میں عالمی مالیاتی اداروں کی اجارداری قائم رہتی ہے۔آئی ایم ایف کے منظور نظر پاکستانی حکمرانوں میں ایک بڑی مثال شوکت عزیز کی ہے جنہوں نے اپنی وزارت عظمیٰ کے دور میں ملکی معیشت کا بیڑا غرق کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ اُنہوں نے غیر ملکی سرمایہ داروں کے ذریعے بجائے صنعتوں میں سرمایہ کاری کروانے کے، صرف تین شعبوں یعنی سٹاک ایکسچینج ، بینکنگ اور رئیل اسٹیٹ میں سرمایہ کاری کروائی جس کی وجہ سے ملک میں بظاہر پیسے کی ریل پیل دکھائی دی جانے لگی۔ مگر اِس کے بعد نتیجہ یہ نکلا کہ مہنگائی آسمان پر جا پہنچی اور اِن کے جاتے ہی اِس ملک دشمن اور صنعت دشمن پالیسی کے اثرات واضح ہوگئے اور ہمیں پھر آئی ایم ایف کے پاس جانا پڑا۔
ہمیں یہ بات تسلیم کرنا ہی پڑے گی کہ آئی ایم ایف ہمارے بہترین معیشت دانوں کو اپنے پاس کھنچ لیتا ہے اور ضرورت کے وقت اِنہیں استعمال کرتا ہے۔ اِس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ یہ پاکستانی معیشت دان جب پاکستان کے لیے کام کرتے ہیں تو یہ عالمی مالیاتی اداروں کے لیے خطرے کا باعث بن جاتے ہیں۔ جیسا کہ حسن عابدی کے ہاتھوں اِن مالیاتی اداروں کی اجارہ داری خطرے میں پڑ گئی تھی۔ اِس کا اندازہ بی سی سی آئی بینک کی کہانی سے کیا جاسکتا ہے جسے حسن عابدی نے کہاں سے کہاں پہنچا دیا تھا مگر بعد ازاں بی سی سی آئی بینک کو ہی ختم کر دیا گیا۔ ایک اور پہلو بھی غور طلب ہے کہ بھٹو کے دور تک باہر سفر کرنے والے لوگوں کو مقررہ زرمبادلہ دیا جاتا تھا۔ اِس وجہ سے باہر پاکستانیوں کی جائیدادیں نہیں تھیں اور نہ ہی اِن کے باہر اکاﺅنٹ تھے۔ باہر جانے والے پاکستانیوں کو محدود زرمبادلہ دیا جاتا تھا۔ اِس لیے وہ وہاں بڑی کھینچ تان کر گزارہ کیا کرتے تھے اور زیادہ مدت رہنے والوں کو کوئی کام دھندہ کرنا پڑتا تھا لیکن ترقی یافتہ ممالک کو اپنا سامان فروخت کرنے کے لیے مارکیٹوں کی ضرورت تھی۔ غیر ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ملکوں میں زرمبادلہ کی سخت پابندیوں کی وجہ سے اِن کا سامان فروخت نہیں ہوتا تھا۔ اِس لیے اُنہوں نے آزادانہ معیشت اور آزادانہ تجارت کا نعرہ لگایا اور ترقی پذیر ملکوں کو مجبور کیا کہ وہ بھی یہی طریقہ کار اپنائیں اور وہ اپنے سکے کی قدر کو مارکیٹ میں توازن ادائیگی یعنی رسد و طلب کے قانون کے تحت آزاد چھوڑ دیں اور زرمبادلہ کی پابندیوں کو ختم کردیں۔ اِنہیں ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن پر دستخط کرنے کی صورت میں اِن کی تجارت بڑھنے کے سنہرے خواب دکھائے گئے کہ اِس سے اِن کی تجارت پر کوئی روک ٹوک نہیں رہے گی۔ وہ اِس معاہدے پر دستخط کرتے ہوئے یہ بھول گئے کہ اِن کے پاس دنیا میں فروخت کرنے کے لیے ہے کیا؟ جس سے وہ اِن ترقی یافتہ ملکوں کا مقابلہ کریں۔ اِس کے لیے انہوں نے امداد، قرضوں اور اپنی تجارت بیرونی ملکوں تک بڑھانے کی امید میں اِن معاہدوں پر دستخط کر دیے۔
دوسری طرف ترقی یافتہ ملکوں نے اپنے سامان کی فروخت کے لیے اِن ملکوں کو مختلف طریقوں سے راغب کیا کہ وہ بھی اپنے ملک میں لوگوں کو لگژری آسائشیں مہیا کریں اور بجٹ کا کم از کم تیس فیصدی ترقیاتی کاموں کے لیے مختص کریں۔ اِس کے لیے ترقی یافتہ ملکوں نے قرضہ جات اور امدادیں دیں۔اِس میں شک نہیں ہے کہ ترقیاتی کام لوگوں کی بنیادی ضرورت ہے مگر اِس کی آڑ میں لوگوں کولگژری سہولتوں کی طرف راغب کیا گیا کہ وہ مغرب کی طرح گھریلو کاموں کے لیے بجلی کے آلات کا استعمال اور آمدورفت کے لیے بہترین درآمد شدہ گاڑیاں چلائیں۔ اِس کے لیے باقاعدہ مہمیں چلائی گئیں۔امپورٹڈ اشیاءکے استعمال کا رحجان بڑھتا چلا گیا۔ مقامی مصنوعات کی قدر کم ہوتی چلی گئی اور امپورٹڈ اشیاءکو مہنگے داموں خرید کر بیرونی ممالک کی معیشتوں کا فائدہ کیا گیا۔ایسی عادات یقینی طور پر کسی بھی ملک کی معیشت کو کھوکھلا کر دیتی ہیں کیوں کہ عام صارف کا پیسہ باہر چلا جاتا ہے۔ دوسری طرف اب جب کہ زر مبادلہ لے جانے پر کوئی روک ٹوک نہیں رہی اب ہر شخص اپنی ضرورت کا زرمبادلہ حاصل کرکے باہر جائیدادیں خرید سکتا ہے اور اکاونٹ کھول سکتا ہے۔ اِس سے کرپشن کو فروغ حاصل ہوا اور یہ کرپشن اب ناسور بن گیا ہے۔ اِس دولت کو بیرون ملک جائیداد خریدنے کے لیے استعمال کیا جانے لگا ہے۔ باہر جائیدادیں خریدنے والوں میں جاگیردار، پولیس افسر، صنعت کار، جج، بیوروکریٹ، ٹی وی اینکر اور دوسرے لوگ بھی شامل ہیں۔
سابق وزیراعظم نواز شریف نے بظاہر ملک میں بہت سے ترقیاتی کام کیے مگر یہ ایسے کام نہیں تھے جن سے ملک خود کفیل ہوسکے اور اِن سے زرمبادلہ حاصل کیا جاسکے۔ اِس میں شک نہیں اِن کی پالیسیوں کی بدولت ملک میں لوگوں کو روزگار بھی ملا مگر اِن کے ترقیاتی کاموں میں ایسی صنعتیں نہیں تھیں جن کی بدولت ملک کو خود کفیل ہونے میں مدد ملتی یا اِن سے زرمبادلہ حاصل ہوتا۔ اِن کے بیشتر ترقیاتی منصوبے مواصلات پر تھے جس میں سڑکوں کی تعمیر وغیرہ شامل ہیں۔ یہ کہنا غلط نہ ہوگا پاکستانی حکمرانوں نے ہمیشہ ہی بیرونی سرمایہ داروں سے یہ توقع لگائی کہ وہ ملک میں آکر کارخانے لگائیں مگر یہاں یہ سوال ہے کہ غیر ملکی سرمایہ کار ملک میں لمبی مدت کے لیے سرمایہ کاری کیوں کرے گا جہاں معاشی اور سیاسی استحکام نہ ہو۔ وہ اگر سرمایہ کاری کرے گا بھی تو اِن شعبوں میں سرمایہ کاری کرے گا جن سے سرمایہ نکالنا بہت آسان ہو۔ مثلاً سٹاک ایکسچینج یا رئیل اسٹیٹ یا اِسی طرح کے دیگر منصوبوں میں۔ جس سے یقینی طور پر ملکی معیشت کو دیرپا فوائد حاصل نہیں ہوں گے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button