تازہ ترینخبریںصحت

یہ سمجھنا غلط ہے کہ دنیا سے کورونا کی وبا کا خاتم ہوگیا

عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے خبردار کیا ہے کہ یہ سمجھنا غلط ہے کہ دنیا سے کورونا کی وبا کا خاتم ہوگیا۔

خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق عالمی ادارہ صحت کی چیف سائنسدان سومیا سوامی ناتھن کے مطابق یہ کہنا غلط ہے کہ وبا ختم ہو چکی، کورونا کا فوری ختم ہونا ناممکن ہے۔

چیف سائنٹس نے جنوبی افریقہ میں کورونا ویکسین کی تیاریوں کی سہولیات کا جائزہ لیتے وقت صحافیوں کے سوالوں کے جوابات کے دوران خبردار کیا کہ ابھی کورونا کی مزید قسمیں آئیں گی۔

سومیا سوامی ناتھن نے کہا کہ ابھی دنیا سے نہ تو وبا ختم ہوئی ہے اور نہ ہی فوری طور پر اس کا خاتمہ ممکن ہے۔

ان کے مطابق سائنسدانوں اور ماہرین نے وبا کو تغیر پذیر اور اس کی دیگر قسموں کا ارتقا دیکھا ہے، جس سے عندیہ ملتا ہے کہ اس کی مزید قسمیں آئیں گی۔

انہوں نے کورونا کے خاتمے کو خام خیالی قرار دیتے ہوئے کہا کہ دنیا کو نئی قسموں کے لیے تیار رہنا چاہیے۔

اس سے قبل گزشتہ ماہ کے آخر میں عالمی ادارہ صحت کے ماہرین اور سربراہ نے کہا تھا کہ ممکنہ طور پر وبا 2022 کے اختتام تک کمزور پڑ جائے گی۔

زیادہ تر ماہرین کا خیال ہے کہ جیسے جیسے کورونا کی نئی اقسام سامنے آتی جائیں گی، ویسے ویسے وبا کا زور ٹوٹتا جائے گا، کیوں کہ اب تک کی کورونا کی تمام قسموں میں تبدیلیاں نوٹ کی گئیں اور ہر نئی قسم اگرچہ پہلے والی سے زیادہ پھیلنے والی محسوس ہوئی مگر اس کے نقصان کم نوٹ کیے گئے۔

کورونا کی نئی قسم ’ڈیلٹا‘ کو سب سے زیادہ پھیلنے والی قسم قرار دیا جاتا ہے، تاہم ساتھ ہی مذکورہ قسم لوگوں کو شدید بیمار نہیں کرتی اور لوگ جلد صحت یاب بھی ہوجاتے ہیں۔

اسی چیز کو مدنظر رکھتے ہوئے بعض ماہرین کا ماننا ہے کہ اسی طرح کورونا کی نئی قسمیں بیماری کو کمزور کرکے اسے خاتمے کی طرف لے جائیں گی۔

لیکن اب عالمی ادارہ صحت کی چیف سائنٹسٹ کا کہنا ہے کہ کورونا کی وبا اتنی جلد ختم نہیں ہوگی اور اس کی مزید نئی قسموں کے دریافت ہونے کا امکان ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button