Column

ذکرِمقبول سے فکرِ مقبول تک … ڈ اکٹر محمد صغیر خان

ڈ اکٹر محمد صغیر خان

دوچار برس اْدھر کی بات ہے کہ فروری کے پہلے عشرے میں آزادکشمیر کے نسبتاً غیرمعروف و مصروف علاقے میں جانے کا اتفاق ہوا۔ سڑکیں ٹوٹی پھوٹی و تنگ تھیں تو زندگی دیہاتی پن کا شاہکار لیکن جدت و قدامت کی جنگ بہرحال یہاں بھی شروع دیکھی۔ اِس کے باوجود ایک سادگی کی لہردیکھنے کو ملی۔ اِس راہ میں جو بھی بازار پڑے وہ درجن بھر یا کہیں کہیں ذرا زیادہ کم نیم کچی کچی دکانوں پر مشتمل تھے تو دکانداروں، خریداروں اور بکاؤ مال کا حال بھی ویسا ہی تھا جیسا اِن حالات میں ہونا چاہیے۔ مسافت میلوں کے حساب سے شاید زیادہ نہ تھی لیکن پتھروں پر چل کے آنا ہو تو اِس کا کوسوں میں بدلنا معیوب تھا نہ مشکل۔ اِسی لیے دیر تک ہڈیاں چٹختے، خوبصورت مناظر آنکھوں میں سموتے چلتے رہے۔ دیدہ زیب لینڈ اسکیپ، سادگی، باہمی تعاون اور اَب جدت کی ٹاکی لگے منظر کا ایک حصہ حیران کن تھا کہ دور دراز چند کچی ہٹیوں دکانوں پر مشتمل بازاروں میں اِس کا نام کہیں سلیقے سے اور کہیں ایسے ہی مگر مقدور بھر محبت سے لکھا دیکھا اور ہر کہیں اِس کے یومِ شہادت کی یاد فسانے سے متعلق فروش محسوس کیا۔ مرکزی شہروں میں ایسا ہونا تو ممکن ہے کہ وہاں ہر نوع کی سیاست کے علی الرغم نظریات کی پنیری بھی لگتی پھیلتی رہتی ہے۔ لیکن اِتنے دور افتادہ ماحول میں جہاں سیاست محض قبیلوں اور شخصیات کے کھونٹے سے بندھی ہوتی ہے، وہاں اِس کے لیے اثبات، محبت اور پرجوش یاد آوری اچنبھے کی بات نہیں تو اور کیا؟

میں (کہ ِاس کی سیاست، شہادت و محبت کا اسیر ہوں،) نے ہمیشہ اِسے حددرجہ خوش قسمت مگر کم مقدور سمجھا سوچا۔ وہ عجیب شخص تھا کہ ایک پسماندہ کم تعلیم یافتہ اور روایتی مفاداتی معاشرے میں نئی بات لے کر سامنے آیا۔ وہ ایک جامد معاشرے کا زندہ کردار تھا، جو ہر طرح کی پابندیوں اور بندشوں کے باوجود متحرک رہنا اور سوچنا جانتا تھا۔ اِس نے ایک نئی سوچ سوچی، یہ سوچ ہمارے معاشرے کا معالجہ بھی ہے اور المیہ بھی۔ اِس نے ہاتھ کی انگلیوں پر گنے جا سکنے والے دوستوں کے ساتھ مل کر اپنی نئی انوکھی سوچ کو عملی شکل دینے کی سبیل کی۔ محدود وسائل، محدود تر پذیرائی سیاسی ضرورتوں کی کمتالی اور فکر کے نئے پن جیسی عوارض کو سامان کرکے وہ آگے بڑھا۔ وہ بڑھتا رہا، وہ لڑتا رہا خود سے بھی۔ اپنے معاشرے سے بھی، قابضین سے بھی اور ذہنی غلاموں کی فوج سے بھی لحظہ لحظہ لڑتا کٹتا گرتا پڑتا وہ چلتا رہا۔ اِس سارے عمل کے دوران بہتوں کے لیے وہ کچھ تھا ہی نہیں لیکن بعضوں کے لیے وہ ایک مستقل خطرہ بلکہ خسرہ تھا۔ جس کے علاج و ویکسین کی بہت سی سبیلیں و کاوشیں ہوئیں۔ پہلی ڈوز، دوسری ڈوز اور بوسٹر بھی لگائی، کئی لیکن وہ اِس انداز بدل کو جیتا رہا، بڑھتا رہا، چلتا رہا۔ اِس چل چلاؤ میں بہت سے مقامات سخت و بخت آئے۔ دلائی، لاہور قلعہ، سری نگر انٹروگیشن سنٹر اور تہاڑ جیل یہاں ہی سچ و تخت و بختکی گھاٹیاں بھی تھیں کہ جنہیں دیکھ کر بڑے بڑوں کے قدم بہک جاتے ہیں۔ لیکن وہ کم بخت حد سے زیادہ سخت کرخت تھا کہ نہ وہاں رکا نہ ساعت بھر سوچا کہ بہتی گنگا میں ہاتھ دھو لیے جائیں وہ یا تو گنگا جمنا کی اہمیت سے ناآشنا تھا یا پھر کسی اور دنیا کا باسی جو اپنے نیلم جہلم کے بہاؤ کے ساتھ رہنا بہنا چاہتا تھا۔ سو وہ چلتا رہا، پاپیادہ، آبلے و مقابلے اِس کے کرب و درد کو بڑھاتے رہے وہ چلتا رہا، یہ سفر کتنا مشکل تھا، اِس کا اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ تخت کے بجائے بخت دولت کے بجائے عقوبت اور سہولت کے بجائے مسرت کا چناؤ کوئی امرسہل نہیں۔ اِس مرحلے پر بہتوں نے اِسے رہبر جہل کہا، سمجھا ہو گا لیکن وہ رُکا نہیں وہ چلتا رہا اور پھر تہاڑ جیل جا پہنچا۔ اِس کا سفر یہاں پر بھی کب ختم ہوا۔ 11 فروری 1984ء کو وہ تازہ عزم حوصلے و توانائی سے ایک نئے سفر پر نکل کھڑا ہوا۔اِس کاانتقال اِس کے اعمال و افعال کے سبب اِس کا اقتدار بن گیا۔ اِس کی قبر کہیں نہ بنی لیکن لاکھوں دلوں میں اِس کا مزار بن گیا۔ وہ حریت و بغاوت کا سالار ہوا تو بے پناہ عوامی و قومی محبت کا سزاوار ٹھہرا۔ وہ روایتی معاشرے کا غیرروایتی کردار تھا۔ وہ علاقائی، قبیلائی و نسلی طور پرکمزورتھا لیکن فکری، نظری و عملی حساب میں شہ زور!! ہوا۔ اِس کے چاہنے والے روزبروز بڑھتے گئے اور آج بھی مسلسل بڑھ رہے ہیں۔ اِسے بے پناہ مقبولیت ملی اور اِس کا سبب اِس کی فکری و عملی معقولیت تھی۔ وہ مقبول تھا!! وہ مزید مقبول ہوا۔ اِسے قبولیت! جی ہاں عوامی قبولیت کی وہ سند ملی جس کے لیے سارے ترستے رہے۔ اِس کا ذکر، مقبول ترانہ ہوا۔ اِسے نہ جاننے والے، اِسے نہ دیکھنے والے! دور اور دیر سے تعلق رکھنے والے آج اِس کے ماننے والوں میں شامل ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دورافتادہ کچے پکے بازاروں میں بھی اِسے، اِس کی شہادت و نظریے کو لوگ خود جی ہاں کسی جبر کے بغیر زیادہ جانے بنا مان رہے ہیں اور صرف مان ہی نہیں رہے جی جان سے سینہ تان کے پوری شان سے اِس کا اعلان بھی کر رہے ہیں ذکر مقبول ایک ترانہ ہے ایک ورد ہے، ایک دُعا ہے اور ایک دوا بھی اِسی لیے ہزارہا کاوشوں اوراینٹی ڈوز کے باوجود اِس کی تاثیر برقرار نہیں بڑھ رہی ہے۔ ہاں یہاں ایک سوال ضرور پیدا ہوتا ہے کہ مقبول اور ذکرمقبول کی اتنی مقبولیت کے باوجود فکرِ مقبول کو اِسی معقولیت کے ساتھ کیوں نہیں پیش کیا جا رہا جو اِس کا خاصہ ہے تو اِس کا خلاصہ یہ ہے کہ یہ امر ثواب و انقلاب کرنے کے لیے وقت جو تقاضہ کرتا ہے متعلقین اِسے نبھاہ نہیں رہے اور یوں وہ سب نہیں ہو رہا جو ہونا چاہیے۔
ضرورت اِس امر و عمل کی ہے کہ فکرمقبول کو اوّلاً سنجیدگی سے سمجھا جائے، پرکھا جائے اور پھر پوری فہمیدگی کے ساتھ اِسے آگے بڑھایا جائے اور ہاں اِس میں جدت و حدت محض اتنی ملائی جائے جو اِس کی وقعت کو بڑھاوا دینے کے لیے لمحہ موجود و فردا کی ضرورت ہے۔ پیالی میں طوفان اٹھایا جائے نہ اپنی ناگزیریت کی جنگ لڑی جائے لیکن اِتنا ضرور کیا جائے کہ ایک بے حد مشکل، الجھی ہوئی، طویل فکری، نظری و نوع بہ نوع کی عملی جنگ کے لیے اور اِس کی قیادت، سیاست کے لیے جس قدر ذہانت، قابلیت، اہلیت، جرأت اور معاملہ فہمی کی ضرورت ہے اِسے اوّلاً حاصل کیا جائے اور پھر فکر مقبول کی روش پر ذکر مقبول کا ورد کرتے سنبھلتے سنبھالتے آگے بڑھا جائے کہ یہ وہ قوالی ہے جس میں گرقوال ہی کو حال آ جائے تو باقیوں کا کیا حال ہو گا؟ یہ سمجھنا ذرا بھی مشکل نہیں۔ ہاں مجھے یہ بھی کہنا ہے کہ فکر مقبول کی مقبولیت اور اِس سے جڑے سبھی کرداروں کی اِس سے جذباتی و روحانی وابستگی کسی شک سے بالاتر ہے لیکن آزادی کی مشکل جنگ میں جذباتیت و روحانیت سے زیادہ اہلیت کا ہتھیار کام دیتا ہے فکر مقبول کے داعی و راہی اِس حوالے سے سیم و تھورکا نہ سہی لیکن ایک بڑی تھوڑ کا شکار بلکہ شاہکار ضرور ہیں لیکن بدبختی یہ ہے کہ اِن میں سے ہر کوئی یہ محفل جو آج سجی ہے اِس میں کوئی ہم سا ہو تو سامنے آئے کا راگ الاپتا اپنا دربار سجائے بیٹھا ہے میرا خیال ہے کہ کوئی سیاسی و بشری تجزیہ نگار جب اِس کیفیت کا دردمندی سے تجزیہ کرے تو شاید اِسے کسی نوع کی کم فہمی کہے لیکن وہ کبھی سبھوں کے اخلاص پر سوال نہ اٹھا سکے۔ اخلاص بڑی دولت ہے لیکن سیاست بلکہ نظریات سیاست اور قومی آزادی کی جنگ میں اخلاص کا عصاتب ہی کام دیتا ہے جب انسان اِسے ایک ہاتھ میں تھامے اور دوسرے ہاتھ میں علم و اہلیت کا دیا ہو، اور وہ پورے اعتماد سے اقدار کی راہ پر چلے ورنہ حکومتی، نظریاتی، جماعتی یا گروہی اقتدار، ہمیشہ اِسے بھول بھلیوں کی نذر کر دیتا ہے اور مقلدین مقبول آج نہ چاہتے ہوئے بھی اِسی جنگ پزل میں الجھے ہیں اور ان کی بلندآہنگی اِس الجھا کو مزید پیچیدہ کرتی جا رہی ہے۔
گیارہ فروری مقبول بٹ کی شہادت کی یاد آوری کے ساتھ ساتھ اِس کی بارآوری کے لیے سنجیدہ متحدہ اور حقیقی قومی جنگ لڑنے پر آمادہ کرنے کی سعد ساعت ہے۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ بلی کے گلے میں گھنٹی باندھے کون؟ آج جب ہرسوذکرمقبول کی محفلیں جمی ہوتی ہیں، یہاں وہاں، شہر میں، گاؤں میں، ملک، بیرون ملک، ہر جگہ بپا اِن محفلوں کے بعد سرور اور عزور میں ڈوب کر شرور کی راہ چلنے سے ذرا پہلے تھوڑا سا ساہ لے کر اِنہماک اور ادراک سے سوچا جائے کہ وقت و حکمت کا مطالبہ کیا ہے تو شاید پردہ غیب سے سہی، ہزارہا عیب کے باوجود وہ جواب آئے جو کسی انقلاب کی کلید ہو۔ یاد رہے کہ کلید بردار بننے سے پہلے در، تالے، جندرے اور کلید کا ہونا ضروری ہے ورنہ اور ہاں اہل کشمیر کو ذکرمقبول کی راہ سے فکر مقبول کی شاہراہ پر آنا ہو گا اور پھر دوسہہ طرفا گنجلک سفر کے بجائے یکطرفہ سیدھا سمارٹ سفر کرنا ہو گاکہ منزل اور دور کی منزل تک فی زمانہ ایسے ہی جایا جا سکتا ہے۔ یہ تو سبھی جانتے ہیں کہ کشمیری قوم کی منزل دور، دشوار گزار اور اوکھی ہے اور اوکھے پینڈے کبھی بھی سوکھے نہیں ہوتے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button