Column

سوہان روح بنا سیاسی عدم استحکام … قادر خان یوسف زئی

قادر خان یوسف زئی …

ایک طرف بد قسمتی کہ ہماری قوم بڑی جذباتی واقع ہوئی ہے اور دوسری طرف ایسے تخریب کار عناصر موجود ہیں جنہوں نے پاکستا ن کے وجود کو ابھی تک دل سے قبول نہیں کیا۔ یہ لوگ عوام کی جذبات پرستی کا بڑا ناجائز فائدہ اٹھانے کی کوشش میں رہتے ہیں ۔ملک میں جب بھی سیاسی بحران اٹھتا ہے تو بعض حلقوں کی جانب سے اشاروں کنایوں میں یہ باور کرانے کی کوشش کی جاتی ہے کہ اس کے پس پردہ مخصوص لابی ہے ، یہ حلقے بڑے تواتر سے ایسی افوائیں اور قیاس آرائیاں بھی پھیلاتے ہیں جن سے عوام میں ابہام کا سونامی اُمڈ آئے۔ ایسی شر انگیزی کا مقصود کیا ہے ، بتانے کی ضرورت نہیں ، ان وجوہ سے حکومت بھی آگاہ ہے اور فہمیدہ حلقے بھی بخوبی جانتے ہیں ۔حکومت اور سیاسی جماعتیں مکمل واقف ہیں کہ مقاصد کیا ہیں اور باہمی معاملات کو طے کس طرح کیا جانا چاہے ، ضرورت ہے کہ ہر وہ قول و فعل جو فتنہ و انتشار کو پھیلانے اور نفرت کی فضا کو پیدا کرنے کی غرض سے کہا یا کیا گیا ہو، اس کو سختی سے دبا دیا جائے ۔ موجودہ نازک دور میں صوبائی تعصب اور منافرت و انتشار کو ہوا دینے کا عمل ختم ہونا چاہئے ۔

حزب اقتدار و اختلاف کے درمیان جامع مذاکرات کا نہ ہونا، جمہوری عمل کو نقصان پہنچا رہا ہے ۔ اِس سے معمول کے تعلقات کی بحالی میں رکاوٹیں پیدا ہو رہی ہیں۔ پارلیمان کے پلیٹ فارم سے باہمی تعلقات اور نئی جہتوں کی تلاش میں مدد مل سکتی تھی لیکن روایتی طور پر بھی سرد مہری اور سیاسی چپقلش بڑھنے سے عوام میں مایوسی کے بادل گہرے ہوتے جارہے ہیں ، اِن حالات میں کہ معاشی چیلنجز نے مملکت کو چہار اطراف سے گھیر رکھا ہو ، دہشت گردی اور انتہا پسندی کے کاروبار کو فروغ حاصل ہورہا ہو ، یہ تمام لعنتیں آج ہمارے سماج کی بنیادوں کے لیے خطرہ بن گئی ہیں۔ مخدوش حالات میں دیکھنے میں یہی آرہا ہے کہ ریاست کو درپیش مسائل کے مرض کی علامات ظاہر ہونے کے باوجود ختم کرنے کی سنجیدہ کوشش نظر نہیں آتی ۔ بدقسمتی سے افغانستان کی صورت حال اب بھی مسلسل متاثر کررہی ہے ، ان حالات میں کہ سکیورٹی فورسز اور ملک کی سلامتی و بقا کو خطرات لاحق ہیں ، سیاسی جماعتیں بھی ایک صفحے پر نہیں۔ ملک جس بھنور میں جس کی بھی وجہ سے پھنسا ہے ، اِس سے نکلنے کے لیے مربوط اور اجتماعی کوششوں کی ضرورت ہے ۔ تمام سیاسی جماعتوں اور اداروں کو ادارک کرنا چاہئے کہ ملکی سیاسی و معاشی بحالی اور خطے میں ترقی اور جمہوریت کی بقا کو مضبوط بنانے پر یقین رکھنے والوں کو سنجیدگی کے مثبت راستے پر آنا ہوگا۔

غربت ، دہشت گردی اور ناخواندگی کے خلاف اجتماعی ٹھوس کوششوں کے بجائے دیکھنے میں آرہا ہے کہ سیاسی فروعی مفادات کے لیے ایک ایسا طریق اختیار کیا گیا ہے جس میں مکمل نقصان صرف عوام کو ہو رہاہے ۔ مدت اقتدار کو مکمل یا ختم کرانے کے لیے کی جانے والی کوششیں وقت گذاری کے لیے نہیں بلکہ مسائل کے جامع حل کے مقصد سے کی جانے کی ضرورت پہلے سے زیادہ بڑھ جاتی ہے۔بلوچستان اور شمالی مغربی سرحدوں سے ایسی اطلاعات تواتر سے آرہی ہیں جس میں ملک دشمن عناصر اتحاد کرکے سکیورٹی فورسز کو مسلسل نشانہ بنا رہے ہیں۔ دہشت گردوں کامذموم اتحاد ایک تشویش ناک اور پریشان کن خبر ہے کیونکہ اِس سے دہشت گردوں کا صفایا کرنے کے مشن کو نقصان پہنچ رہا ہے۔ عوام دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے اور ملک و قوم کو اِس عفریت سے مکمل نجات دلانے کے خواہش مند ہیں لیکن پڑوسی ممالک کی جانب سے عسکریت پسندی کے خاتمے میں تعاون نہ ملنے کے باعث ریاست کو مشکلات کا سامنا ہے۔ ملک وقوم کو مشکلات سے نکالنے کے لیے عوام کو اپنے اعتماد میں لینا ہوگاتاکہ ریاست اِن تمام چیلنجزکا مقابلہ کرنے کے لیے منظم ہونے والے عناصر اور حکومت کی رٹ کو چیلنج کرنے والوں سے نمٹ سکے۔

سیاسی استحکام ہی حکومت کو احسن انداز سے کام کرنے کا موقع فراہم کرسکتی ہے ، عدم استحکام کرانے کی تمام سازشوں کا واحد مقصد پاکستان کی بقا و سلامتی کو نقصان پہنچانا مقصود ہے۔ مملکت جس نہج پر پہنچ چکی اِس سے اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ اِس کے خطرناک نتائج ملک وقوم پر اثر انداز ہوسکتے ہیں۔جب تک ملک میں ریاست مضبوط نہیں ہوگی ، اِس وقت تک زمینی و نظریاتی سرحدوں کی حفاظت پر بھی سوالیہ نشان اٹھتے رہیں گے ۔ پاک فوج کی جانب سے دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خاتمہ کے سلسلے میں اب تک کی گئی کوششیں اور حاصل کی گئی کامیابیاں یقیناً قوم کے لیے حوصلہ افزا ءہیں، تاہم حالات کے تقاضے میں سیاسی جماعتوں کو حکومت اور اپوزیشن کی سطح پر ایک صفحے پر آنے کی اشد ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔ ملک آج تک نازک دور سے باہر نہیں نکل سکا ، ایک عرصے سے ملک وقوم کے لیے سوہان روح بننے والے سیاسی عدم استحکام کی وجہ سے ملکی معیشت بھی بحران کا شکار ہے بلکہ عالمی برادری میں پاکستان کا امیج اور ساکھ بھی متاثر ہو رہی ہے ، جب تک تمام سٹیک ہولڈرزیکجا ہوکر ایک نقطے پر متفق نہیں ہوتے ، یہ ایک ایسی دلدل ہوگی جس میں ملک دھنستا چلا جائے گا ۔

کسی حکومت کا مدت اقتدار پورا کرنا جتنا ضروری ہے اِس سے کہیں زیادہ سسٹم کو چلانے کے لیے برداشت ، رواداری اور سیاسی مینڈیٹ کو تسلیم کرنا بھی اہمیت رکھتا ہے۔ باہمی اتحاد سے ہی ملک کے مستقبل کے بارے میں سوال اٹھانے والوں کی زبانیں بند کی جاسکتی ہیں ، اب ضرورت اِس امر کی ہے کہ سات دہائیوں سے سبق حاصل کرنے کا ہی نہیں بلکہ سب کو ایک صفحے پر آنا ہی مکمل طور پر ملکی ترقی اور کامیابی کی حقیقی منزلوںکی جانب گامزن کیا جاسکتا ہے ۔ سیاسی پنڈتوں کے مطابق مفاہمت کی کوشش میں تاخیر کی گئی تو سب کچھ بے سود ہوسکتا ہے ۔دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہزاروں قیمتی جانوں کا نقصان ہوا ، لاکھوں لوگ بے گھر ہوئے ، جائیداد تباہ و برباد ہوگئی ۔ لیکن سیاسی عدم برداشت کی وجہ سے جتنا نقصان ہورہا ہے اِس کا تخمینہ بھی نہیں لگایا جاسکتا ، ان حالات میں ملک بچانے کے لیے کڑوے فیصلے ارباب حل و عقد کو کرنا ہوں گے ۔سیاسی لیڈر اور ریاستی اداروں کے سربراہ جنہیں مدبر کہا جاتا ہے ، وہ ایسا عمل بالکل نہیں کرنا چاہیں گے جس سے عوام کی صحیح رہنمائی اور درست سمت بتانا بالکل مشکل ہوجائے ۔ تدبر سے کام نہ لینے کی وجہ سے تباہی و بربادی کا ذمہ دار کس کو قرار دیا جائے گا اِس کا فیصلہ تاریخ ہی کرے گی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button