Column

نونہالان قوم اور کامیابی بیچنے والے ….. کاشف بشیر خان

کاشف بشیر خان …

کسی قوم کی ترقی میں بنیادی کردار اُن کے نونہالان کے کردار اور تربیت کا ہوتا ہے۔باکردار اور پھر اِسے پختہ کرنے میں سب سے پہلا کرداروالدین کا ہوتا ہے، جو تربیت گھر سے شروع ہوتی ہے وہ تمام عمر ساتھ چلتی ہے، ویسی تربیت نہ تو کوئی ڈھونگی موٹیوشنل سپیکر دے سکتا ہے اور نہ ہی دنیا کا کوئی اور علم۔ انسانی دماغ سے بڑا کمپیوٹر تو آج کا سائنس دان بھی ایجاد نہیں کر پایا اور یقیناً قیامت تک کوئی ایجاد بھی نہیں کر پائے گا کہ دنیا کی تمام ایجادات اِسی انسانی دماغ کی محتاج ہیں۔ انسانی زندگی میں بچپن کے بہت سے واقعات ایسے ہوتے ہیں جن کی شبیہ تاعمر ساتھ ساتھ چلتی ہے۔کل ہی ائیر فورس کلب میں بیٹھے میاں عثمان سے قوم کی تربیت کے موضوع اور نام نہاد جگاڑی موٹیوشنل سپیکرز پر بات ہو رہی تھی۔دراصل فیس بک پر ایک گلابی اردو والے نام نہاد سپیکر جو خود بھی شاید بارہ پڑھا ہوا ہے، کی چند تصاویر پنجاب یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر نیاز احمد کے ساتھ دیکھنے کے بعد اِس موضوع پر بات شروع ہوئی کہ ایشیا کی سب سے بڑی یونیورسٹیوں میں سے ایک کے وائس چانسلر کو بھلا کسی ایسے شخص کو ملنے اور اِس سے پھول وصول کرنے کی کیا ضرورت پیش آ گئی ؟دوران گفتگو ہم اِس نتیجے پر پہنچے کہ یہ دراصل کمرشل جگاڑی لوگ ہی اِس معاشرے کی تباہی کے ذمہ دار ہیں جو مرے ہوے لوگوں کو کوڈ کرکے ہماری یوتھ کو بیوقوف بنا کر اپنی جیبیں بھر رہے ہیں،لیکن اِس سارے دھندے میں واصف علی واصف اور اشفاق احمد کو کوڈ کیا جاتا ہے۔ واصف علی واصف گو کہ اپنی زندگی کے آخر میں تصوف اور روحانیت سے متاثر تھے لیکن وہ انگریزی کے بلند پایا استاد تھے جو ماڈرن زمانے کے ساتھ چلتے تھے۔رہی بات بابا جی کے کردار کی تو یہ ایک افسانوی کردار تھا جسے آج بھی قوم کی یوتھ کو سنا کر بیوقوف بنایا جا رہا ہے۔اسلام میں کسی بابے کی کوئی گنجائش نہیں اور کامیابی کے لیے مسلسل محنت اور علوم پر دسترس ہی واحد راستہ ہے۔کامیابی کے تمام راستوں کی نشاندھی قرآن پاک میں کر دی گئی ہے اور بنی نوح انسان کے لیے رسول کریم ﷺکی شخصیت ہی مشعل راہ ہے۔انگریزی میں لکھی کے ایل گابا کی کتاب میں نے اپنے مرحوم والد کی لائبریری سے اس وقت پڑھی جب نویں جماعت کا طالب علم تھا۔ یہ بے مثال انگریزی کتاب اب آن لائن اردو میں بھی”پیغمبرِ صحرا“کے نام سے دستیاب ہے۔ ہماری نوجوان نسل کو اِس عظیم شخصیت پر لکھی یہ قیمتی کتاب کا انگریزی یا اردو میں مطالعہ ضرور کرنا چاہیے۔اِسی طرح سید سلمان ندوی کی سیرت النبیﷺ کی غالباً چھ جلدیں بھی میں نے زمانہ طالب علمی میں پڑھی تھیں جس کے بعد پوری زندگی میں مجھے کسی موٹیوشنل سپیکر یا کسی”بابے“کی ضرورت ہی پیش نہیں آئی۔یقین جانئے اِن دو تصانیف کو پڑھنے کے بعد نہ تو آپ کو کسی بابے اور نہ ہی کسی پاکھنڈی موٹیوشنل سپیکر کی ضرورت پڑے گی اور آپ کی زندگی نہ صرف بدل جائے گی بلکہ کامیابی کے دروازے آپ پر کھلتے ہی چلے جائیں گے۔success overnight کا فارمولا آج پاکھنڈی بیچنے کی کوشش کرتے ہیں ان کا کامیابی کی حقیقت سے دور کا کوئی تعلق نہیں ۔کامیاب بننے کے طریقے بتانے والے صرف اور صرف”رٹاباز“ اور مغربی کتابوں کا ترجمہ کر کے پاکستان کے نوجوانوں کی جیبوں پر ہاتھ صاف کر رہے ہیں، اب تومختلف این جی اوز کے ہر کارے بھی ایسے پاکھنڈیوں کے ساتھ کھڑے دکھائی دیتے ہیں۔

بات قوم کے نونہالان کی پہلی تربیت سے شروع ہوئی تھی اور قوم کے نوجوانوں کو اپنے مفادات کے لیے استعمال کرنے والے نوٹنگی بازوں تک پہنچ گئی۔ میرے ذہن میں اپنے بچپن کی اِس یاد کی شبیہ آج بھی محفوظ ہے جب میری عمر 5 سال سے بھی کم تھی۔میں اپنی والدہ کے ساتھ ساہیوال میں اپنے گھر کے بیڈ پر بیٹھا تھا ، انہوں نے میری پلیٹ میں چاول ڈال کر دینے تھے۔جب میں نے چاول کھانے شروع کئے تو میری والدہ نے مجھے کہا کہ”چاول اپنے سامنے سے کھاو ¿“ مجھے آج بھی اِس کمرے میں جلتی پیلے بلب کی روشنی یاد ہے۔مجھے یاد ہے کہ میں نے ضد کی اور متعدد مرتبہ اپنے طریقے سے چاول کھانے چاہے لیکن میری ہر ایسی کوشش کو میری والدہ مرحومہ نے میرا ہاتھ اور چمچ پکڑ کر ناکام بنایا اور مجھے یہی کہا کہ اپنی پلیٹ کے سامنے سے چاول کھاو ¿ ورنہ میں تمہیں چاول نہیں کھانے دوں گی۔چونکہ بات کوئی چار دہائیوں سے بھی زیادہ پرانی ہے اِس لیے مجھے یہ تو نہیں یاد کہ کتنا وقت میں نے ضد کی لیکن یہ ضرور یاد ہے کہ مجبور ہو کر میں نے بالآخر میں نے اپنی پلیٹ کے سامنے سے چاول کھانے شروع کر دیئے تھے۔
میری والدہ کی اِس تربیت کے لیے کی گئی سختی کا فائدہ میں نے اب تک کی تمام زندگی میں محسوس کیا اور گزری ہوئی زندگی میں جب بھی میرے سامنے کھانا آیا تو کھانا شروع کرتے ہی اول تو میرے سامنے میری والدہ اور بچپن کا وہ سبق آموز واقعہ سامنے آتا رہا اور میں کسی مشین کی طرح ہمیشہ اپنی پلیٹ سے سالن یا چاول وغیرہ اپنے سامنے سے ہی کھاتا چلا آیا۔اِسی طرح بچپن میں ہمارے گھرکے باہر عمر نامی شخص کی دکان ہوا کرتی تھی جو اِس وقت کی مقبول ترین کولڈ ڈرنک کوکا کولا بیچا کرتا تھا۔ایک دن میرے والد یا والدہ نے ایک سکہ دکھایا جس کے اندر سوراخ تھا۔یہ سکہ ناقابل استعمال تھا اور کسی دکاندار نے میرے والدین کو کسی چیز کی خریداری کے دوران دے دیا تھا۔میں نے وہ سکہ گھر سے اٹھا یا اور عمر کی دکان پر پہنچ گیا۔عمر چونکہ ادھیڑ عمر تھا اور ایک آنکھ سے بھی محروم تھا تو اِس نے مجھے وہ سکہ لے کر دو عدد کوکا کولا کی بوتلیں دے دیں،میں دونوں بوتلیں لے کر گھر آیا ،ایک بوتل ڈرائنگ روم کی ٹیبل پر رکھی اور دوسری کچن کے سامنے برآمدے میں پڑی کرسی پر بیٹھ کر پینے لگا ۔کچن کی کھڑکی سے دیکھ کر والدہ نے فوراً مجھ سے پوچھا کہ یہ بوتل کہاں سے لی ہے۔ جب میں نے بتایا کہ سوراخ والا سکہ دے کر میں دو بوتلیں لے کر آیا ہوں تو اُنہوں نے فوراً وہ بوتل میرے ہاتھ سے پکڑی اور اپنی چادر اوڑھ کر میری انگلی پکڑی اور عمر کی دکان کی جانب چل پڑیں۔جس سختی سے میری والدہ نے میری انگلی پکڑی تھی میرا چھوٹا سا ذہن سمجھ چکا تھا کہ میں نے کچھ غلط کیا اور اب میری شامت آنے والی ہے۔عمر کی دکان پر پہنچ کر میری والدہ نے دکاندار عمر سے کہا کہ جو سکہ یہ آپ کو دے کر گیا ہے وہ ناقابل استعمال ہے کیونکہ اس میں سوراخ ہے۔میری والدہ کی درخواست پر عمر نے سکوں میں سے سوراخ والا سکہ ڈھونڈا اور میری والدہ نے وہ سکہ واپس لے کر مجھے دوسرا سکہ دیا اور کہا کہ”عمر انکل سے سوری کرو“ گھر واپس آ کرمجھے میری والدہ نے بٹھا کر سمجھایا تھا کہ جو تم نے کیا وہ دھوکااورفراڈ کہلاتا ہے۔اب آپ اندازہ کر سکتے ہیں کہ اس”سوری“کے مثبت اثرات تاعمر کس طرح میرے ساتھ چلے ہوں گے۔

لاہور کے سینٹ اینڈریوز سکول کاشمار 70 اور 80 کی دہائی کے ٹاپ کلاس انگلش میڈیم سکولز میں ہوتا تھا۔میری والدہ ہمارے سکول میں ہماری پراگریس چیک کرنے مہینے میں ایک مرتبہ ضرور آتی تھیں لیکن ہم تینوں بھائیوں کو کبھی بھی معلوم نہیں ہوتا تھا کہ انہوں نے کس دن سکول آنا ہوتا تھا۔اِس وقت پیرنٹ ٹیچر میٹنگ کا رواج بھی نہیں تھا اِس لیے میری والدہ سکول آ تی تھیں تو پرنسپل مسز ممتاز سے مل کر سب بھائیوں کے کلاس روم میں بھی آتیں اور ٹیچرز سے ہماری پراگریس پوچھا کرتی تھیں۔یقین جانیں والدہ مرحومہ کا کلاس روم میں آنے کا ڈر ہمیں ہمیشہ سیدھا رکھا کرتا تھا۔واقعات تو بہت ہیں لیکن کالم کی تنگی جگہ آڑے آتی ہے۔ وقت تو بدلتے رہتے ہیں اور ہر دور میں رہنے والے پچھلے دور کو اچھا بتاتے ہیں۔لیکن نسلوں کو سنوارنے کی جو ذمہ داری والدین پر روز اول سے تھی وہ آج بھی ویسی ہی ہے لیکن افسوس کہ بطور والدین ہم نے اپنی اولادوں کو بنیادی تربیت سے نہ صرف محروم کر دیا بلکہ اِن کی کردار سازی کے لیے بھی وقت دینے سے انکاری ہیں جس کا نتیجہ یہ ہے کہ اول تو معاشرے میں باہمی عزت و احترام کا شدید فقدان دکھائی دیتا ہے تو دوسرا ہماری آنے والی نسلوں کو پاکھنڈی راتوں رات کامیاب بنانے کے خواب دے کر اِن کی راہ میلی کرنے کے ساتھ ساتھ ان کی جیبیں بھی صاف کر رہے ہیں۔ افسوس کا مقام تو یہ ہے کہ تعلیمی اداروں کے سربراہان کو سمجھ نہیں آ رہی کہ ایسے پاکھنڈیوں کا تعلیمی اداروں میں پہنچ کر اوراُن سے مراسم بڑھانے کا مقصد صرف اور صرف وہاں پڑھنے والے ہزاروں طالب علموں کو اپنے(کامیاب بنانے والے دھندے)جال میں پھنسا کر اُن کی جیبیں صاف کرنے کے سوا کچھ بھی نہیں۔ حقیقت تو یہ ہے کہ جس شخص کے پاس خود کوئی ڈگری نہیں وہ کس حیثیت میں لیکچر دے سکتا ہے اور اس کو سرکاری تعلیمی اداروں میں بلانے والوں کی باز پرس کون کرے گا؟ والدین کو چاہیے کہ اپنے اولاد پر خود توجہ دیں اور کامیابی کے وہ گر اپنی اولاد کو سکھائیں جن کا ذکر قرآن پاک میں ہے اور رسول کریم ﷺکی ذات اقدس اس کا تا قیامت عملی نمونہ ہے۔ حکومتی ارباب اختیار کب تک آنکھیں بند کئے رکھیں گے۔حکومت کو چاہیے کہ ہماری آنے والی نسلوں کو”کامیابی بیچنے والے پاکھنڈیوں“ کے چنگل سے بچانے کے لیے ضروری کارروائی کریں اور سرکاری تعلیمی اداروں میں گھس کر نونہالان قوم کو پھنسانے کی کوششوں کو ناکام بنانے کے لئے اپنا کردار ادا کریں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button