Column

بلوچستان: دہشت گردی اور حکومتی ترجیحات … امتیاز عاصی

امتیاز عاصی …

آخر بلوچستا ن کے لوگ کب تک دہشت گردی کا نشانہ بنتے رہیں گے اور ہماری بہادر افواج کی شہادتوں کا سلسلہ کب بند ہو گا؟ قیام پاکستان سے اب تک کتنے فوجی آپریشن ہونے کے باوجود بلوچستان میں شورش کا خاتمہ نہیں ہو سکا۔ ہماری سیاسی حکومتوں نے کبھی اِس طرف توجہ دینے کی کوشش نہیںکی۔ ماسوائے ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالنے کے اور ملک و قوم کو لوٹنے کے سوا سیاست دانوں نے کیا بھی کیا ہے؟ حالانکہ جس طرح صوبہ بلوچستان قدرتی خزانوں سے مالا مال ہے،سیاسی حکومتوں کی اولین ترجیحات میں شامل ہونا چاہیے تھا۔

بلوچستان میں دہشت گردی معمول بن چکی اور یہ مسلمہ حقیقت ہے کہ جب تک کسی علاقے کے رہنے والے دہشت گردوں کے آلہ کارنہ بنے ہوں دہشت گردی ممکن نہیں۔ بلوچستان کی سرحد پر باڑ لگانے کے باوجود دہشت گردی کا سلسلہ ختم ہونے کو نہیںآتا۔بلوچستان کے کچھ لوگوں کا یہ خیال ہے کہ قیام پاکستان کے وقت بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناحؒ اور ریاستِ قلات کے خان آف قلات کے درمیان طے پانے والے معاہدے پر عمل درآمد ہو جاتا تو شاید آج بلوچستان کی یہ صورت حال نہ ہوتی۔وہ معاہدہ کیا تھا ؟خان آف قلات میر احمد یار خان نے ریاستِ قلات کا پاکستان سے الحاق کرتے وقت بانی پاکستان کے ساتھ جو تحریری معاہدہ کیا تھا اِس کے مطابق وفاق کے پاس ماسوائے دفاع، کرنسی اور خارجہ امور کے تمام محکمے اور اختیارات صوبہ بلوچستا ن کے پاس ہوں گے۔بدقسمتی سے قائدؒ کی زندگی نے وفا نہ کی اور وہ جہانِ فانی سے کوچ کر گئے جس کے بعد دونوں رہنماﺅں کے درمیان طے پانے والے معاہدے پر عمل درآمد نہ ہو سکا۔بلوچستان کے عوام اپنی محرومیوں کا رونا کس سے رویں؟ معاہدے میں یہ بات بھی شامل تھی کہ قلات کی زمین خان آف قلات کی اجازت کے بغیر کسی کو نہیں دی جا سکے گی۔ قلات کی زمین پر گوادر کی بندرگاہ تعمیر ہوگئی۔چین کی مدد سے تعمیر ہونے والی اِس بین الاقومی بندرگاہ کا کنٹرول وفاق کے پاس ہے۔بلوچستان کے عوام کو اِس بین الاقومی بندرگاہ سے کیا حاصل ہوا؟خان آف قلات کے بیٹے سلیمان داﺅد خان ملک سے باہر پنا ہ لئے ہوئے ہیں۔سندھک کی بات کریں تو چین سے حاصل ہونے والا زرمبادلہ وفاق کو چلا جاتا ہے اور بلوچستان کو صرف دو فیصد مل رہا ہے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ جب صوبے کے لوگ دہشت گردوں سے میل ملاپ رکھیں گے تو قانون حرکت میں آئے گا۔یہ تو کہا جاتا ہے کہ بلوچستان کے لاپتہ افراد کو تلاش کیا جائے۔جب وہاں کے رہنے والے دہشت گردوں کا ساتھ دیں گے توایسے لوگ ملک میں کیسے رہ سکتے ہیں؟ بلوچستان ایک طویل سرحد رکھنے والا صوبہ ہے جس کی سرحدیں افغانستان اور ایران سے جا ملتی ہیں۔افغانستان کے بارڈر پر بھارت نے قونصل خانوں کی آڑ میں دہشت گردوں کے تربیتی مراکز قائم کر رکھے تھے۔ہو سکتا ہے اَب بھی ہوں ۔اگرچہ طالبان کی حکومت نے اپنی سرزمین کسی کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت نہ دینے کا اعلان کر رکھا ہے۔ لیکن دہشت گرد جب کسی کے ہاں اپنی کارروائیاں کرتے ہیں تو اِنہیںکسی سے اجازت کی ضرورت نہیں ہوتی۔آج تک ہماری حکومتیں افغانستان سے منشیات کی سمگلنگ کی روک تھام کا کوئی موثر حل نہیں نکال سکیں۔ افغانستان سے آنے والی منشیات کی بھاری مقدار بلوچستان کے راستے ایران بھیجی جاتی ہے۔ اے این ایف کی کاوشوں کے باوجود منشیات کی سمگلنگ کی روک تھام نہیں ہو سکی بلکہ بدستور جاری ہے۔
ہماری ماضی کی سیاسی حکومتیں بلوچستان کے بڑوںکو اعتماد میں لیتی تو اِنہیں اپنے ساتھیوں کے ہمراہ پہاڑوںپر چڑھنے کی چنداں ضرورت نہ ہوتی۔ سیاست دانوںکو سانحہ مشرقی پاکستان سے سبق حاصل کرنا چاہیے ۔سیاست دانوں کی اپنی ریشہ دوانیوں کے سبب ملک دو لخت ہوا۔ جب بلوچستان کے نوابوں اور سرداروں نے ملک بنتے وقت اپنی اپنی ریاستوں کے الحاق کا فیصلہ کیا تو اِن کا مقصد وطن عزیز میں پرامن طریقہ سے رہنا تھا۔نواب اکبر خان بگٹی، سردارنوورز خان اور نواب احمد یار خان جیسے سردار محب وطن ہی تھے تو انہوں نے قائدؒ کے کہنے پر پاکستان سے اپنی ریاستوں کے الحاق کا فیصلہ کیا تھا۔اگر ماضی میں بلوچستان کو نظر انداز رکھا گیا تو اب موجودہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ ملک کے اِس بڑے صوبے میں امن وامان قائم رکھنے کے لیے وہاں کے سرداروں اور نوابوں کو اعتماد میں لے کر بلوچستان کی ترقی کا کوئی راستہ نکالیں۔ریکوڈک جیسے بڑے منصوبوں پر کام کا آغاز کرکے وہاں کے نوجوانوں کو روزگار فراہم کیا جائے۔تعلیم یافتہ نوجوانوں کو وفاق کی ملازمتوں کا حصہ دیا جائے۔بلوچستان کا ایک دیرینہ مطالبہ یہ بھی ہے کہ اِسے این ایف سی ایوارڈ میں آبادی کی بجائے رقبے کے لحا ظ سے حصہ دیا جائے۔اگر یہ ممکن نہ ہو تو صوبے کو کچھ رقم اضافی دے دی جائے تاکہ وہاں کے لوگوں کی محرومیوں کا کچھ تو سدباب ہوسکے۔
جہاں تک وہاں کے لاپتہ افراد کی تلاش کا معاملہ ہے۔وفاقی سطح پر ایک کمیشن پہلے ہی کام کر رہا ہے جس کی کاوشوں سے بڑی تعداد میںلاپتہ افراد کو بازیاب کیا گیا ہے۔بلوچستان کے عوام کی اَشک شوئی اگر موجودہ دور میں نہیں ہوئی تو آئندہ آنے والی حکومت سے کیا امید کی جا سکتی ہے۔ وزیراعظم عمران خان کو اپنی گوناگوں مصروفیات سے وقت نکال کر ملک کے اِس بڑے صوبے کے عوام کی محرومیوں کا جائزہ لیتے ہوئے اِن کا کوئی ٹھوس حل تلاش کرنا ہوگا۔ہماری معلومات کے مطابق اِس وقت وفاق میں ماسوائے ایک سیکرٹری کے تمام سیکرٹریوں کا تعلق پنجاب، سندھ، اور کے پی کے سے ہے۔ وزیراعظم کے پاس بلوچستان کے عوام کے دل جیتنے کے لیے اچھا موقع ہے جس کا اِنہیں بھرپور فائدہ اٹھانا چاہیے۔جس طرح وہ ریکوڈک منصوبے پر دوبارہ کام کا آغاز کرنے کے لیے حکمت عملی اپنائے ہوئے ہیں۔ریکوڈک کی آمدن کا بڑا حصہ بلوچستان کو دینے کی اشد ضرورت ہے تاکہ صوبے کے لوگوں کی محرومیوں کا کچھ تو ازالہ ہو سکے۔ہمیں امید ہے موجودہ حکومت بلوچستان کے لوگوں کے مسائل کو سنجیدگی سے لے گی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button