Column

یوم یکجہتی کشمیراور قومی تقاضے … محمد جاوید قصوری

محمد جاوید قصوری …
امیر جماعت ا سلامی پنجاب (وسطی)
5فروری یوم یکجہتی کشمیر کا یہ دن1990ءمیں پہلی مرتبہ قاضی حسین احمد مرحوم و مغفور کی کال پر پاکستان اور آزاد کشمیر میں بالخصوص اور پوری دنیا میں مقیم پاکستانی و کشمیری باشندگان نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی دہشت گردی کے خلاف منایا۔ یہ دن ہر سال بھارت کے ظلم و ستم اور انسانی حقوق کی بدترین خلاف ورزیوں کے خلا ف بطور احتجاج منایا جاتا ہے مگراِس وقت یہ دن کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کے طور ایسی صورت حال میں آیا ہے کہ 3سال قبل 5اگست 2019ءمیں نریندر مودی کی حکومت نے اپنے آئین کے آرٹیکل 35Aاور 370کے تحت کشمیر کی متنازع حیثیت کو ختم کرکے پورے خطے میں فوج، پولیس اور پیر املٹری ٹروپس کے ذریعہ ظلم و ستم میں بڑے پیمانے پر اضافہ کردیا ہے۔اِس دوران کشمیری قوم کے ہر دلعزیز حریت راہنما ¶ں سید علی شاہ گیلانی اور اشرف صحرائی کی شہادتوں کے بعد اِن کے جنازوں کے موقع پر پوری قوم کو سخت کرفیو اور دیگر شدید قسم کی پابندیوں میں جکڑ کر اپنے قائدین کے جنازے پڑھنے اور اِن کی تکفین و تدفین کے عمل سے دور رکھا گیا۔ انسانی حقوق کی اِس بد ترین خلاف ورزی کو پوری دنیا نے اپنی کھلی آنکھوں سے دیکھا مگر بھارت کے بھیانک طرز عمل کی مذمت نہیں کی ۔ خصوصاً افسوس ناک پہلو یہ بھی ہے کہ اسلام آباد میں اقتدار کے ایوانوں میں موجود حکمران (جو کشمیریوں کے وکیل بھی ہیں) کا طرز عمل بھی پاکستان کے دیرینہ موقف کے خلاف رہا۔ اِس سے شہ پا کر بھارت نے اپنی فوجی قوت کے ذریعے انتہائی ڈھٹائی سے بربریت کی نئی داستانیں رقم کر رکھی ہیں۔
طویل ترین لاک ڈا ¶ن سے کشمیریوں کی تمام تر زندگی کے معمولات مفلو ج ہیں۔ہزاروں بچوں کے بازو کاٹ دیے گئے، ہزاروں بچے کسی نہ کسی طور پر معذور ہیں، ایک لاکھ سے زائد کشمیریوں کو شہید کیا جاچکا،ہزاروں خواتین کو بیوہ،بچوں کو یتیم اور بوڑھوں کو شہید کردیا گیا۔کشمیر میں بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں جاری ہیں لیکن عالمی تنظیمیں خاموش ہیں، اِس خاموشی کے تدارک کے لیے ہم یک جان ہوکر کشمیریوں کی آزادی کے لیے ڈٹ جائیں۔ ہمیں ہرحال میں اِس جدوجہد کا ساتھ اور قربانیاں دینی ہیں۔مودی حکومت نے آئینی ترمیم کے ذریعے کشمیریوں کے حقو ق سلب کرنے کی جو مذموم کوشش کی، اِس سے تحریک آزادی کشمیر پوری دنیا میں اُجاگر ہوئی ہے۔بات یہاں پر ہی ختم نہیں ہوتی بلکہ بھارتی انتہا پسند حکمرانوں نے مقبوضہ کشمیر میں مسلم اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کرنے کا عمل شروع کررکھا ہے تاکہ بھارت کا قبضہ مستحکم ہوسکے مگر حکومت پاکستان کی جانب سے موثر آواز یا اقدام دیکھنے میں نہیں آرہا۔بھارت کے کشمیریوں پر مظالم کے74سالوں پر محیط طویل عرصہ گزرنے کے باوجود اِن پر مظالم میں کمی آنے کی بجائے عرصہ حیات کو مزید تنگ کیا جارہا ہے۔ ایسے میں انسانی حقوق کی دعویدار تنظیمیں اور متقدر حلقے کہاں کھو گئے ہیں۔ یہ کشمیریوں کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے۔ ایسی صورتحال میں 5فروری 2022ءکا یہ دن ایک مرتبہ پھر ہمیں خصوصاً پاکستانی قوم اور حکمرانوں کو کشمیر کے حوالے سے اپنے فرائض یاد دلاتا ہے کہ ہم دیرینہ قومی موقف کے تحت اہلِ کشمیر کے مضبوط پشتیبان رہیں اور بھارتی مظالم کے خلاف آواز بھی بلند کرتے رہیں اور دنیا کو بھی اِس کی طرف متوجہ کرتے رہیں۔کشمیر برصغیر کی تقسیم کا نامکمل ایجنڈا توبلا شبہ ہے ہی لیکن یہ عصرحاضر کے چند اہم ترین سیاسی اورا نسانی مسائل میں سے ایک نہایت تکلیف دہ مسئلہ بھی ہے۔ کشمیر کی بے پناہ مشکلات کا ادراک کرتے ہوئے ہمیں اِس وقت اپنے سامنے یہ سوال رکھنا چاہیے کہ بطورریاست اور من حیث القوم ہم ایسے کیااقدامات اٹھاسکتے ہیں جن کے ذریعے ہم اپنے کشمیر ی بھائیوں کی بھرپور حمایت کر سکیں۔
وقت کا ناگزیر تقاضا ہے کہ حکومت پاکستان میڈیا اور سفارت کاری کے ذریعے اصل صورتحال اور سنگینی کے بارے میں دنیا کو آگاہ کرے تاکہ بھارتی میڈیا کا مقابلہ کر کے کشمیری عوام سے موقف کی صحیح ترجمانی ہوسکے۔بھارتی انتہاپسند حکمرانوں نے مقبوضہ کشمیر میں مسلم اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کرنے کا عمل شروع کردیا ہے تاکہ مقبوضہ کشمیر پر بھارت کا غاصبانہ قبضہ مستحکم بنایا جائے۔حکومت پاکستان کی جانب سے کشمیر کا مسئلہ اقوام متحدہ میں کئی بار پہنچایا گیا اور ہر بار اقوام متحدہ کی قرار دادوں میں کشمیر کو متنازعہ علاقہ قرار دے کر اِس کے حل کے لیے بھارت پر زور دیا گیا۔پاکستان اور بھارت دونوں جوہری طاقتیں ہیں جو کشمیر کی آزادی اور خودمختاری کو (مسئلہ کشمیر کو) دنیا کے خطرناک ترین علاقائی تنازعات میں سے ایک شمار کرتے ہیں، آج بھی سری نگر میں اکثر و بیشتر کرفیو کی صورتحال رہتی ہے اور پورے جموں و کشمیر پر بھارتی فوج کے ظلم و ستم کا سلسلہ جاری ہیں ۔یہ ہی نہیں بلکہ کشمیری عوام اپنے حقوق کے لیے بھارتی فوج پر پتھرا ¶ کرتے ہیں اور دیگر طریقوں سے اپنا احتجاج ریکارڈ کراتے ہیں۔پاک و ہند کی آزادی کے74سال بعد بھی دونوں ملکوں کے آپسی تعلقات انتہائی کشیدہ ہیں جس کی وجہ صرف کشمیر ہے، آزادی ہر فرد کا بنیادی حق ہے، پاکستان کی جانب سے عالمی سطح پر اِس حوالے سے آواز اٹھائی جاتی ہے مگر یہ آواز موثر طریقے سے نہیں اٹھائی جاتی اِس لیے بھارت کشمیری عوام کو حق خود ارادیت دینے سے گریزاں ہے۔بھارتی انتہاپسند حکمرانوں نے مقبوضہ کشمیر میں مسلم اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کرنے کا عمل شروع کردیا ہے تاکہ مقبوضہ کشمیر پر بھارت کا غاصبانہ قبضہ مستحکم بنایا جائے۔حکومت پاکستان کی جانب سے کشمیر کا مسئلہ اقوام متحدہ میں کئی بار پہنچایا گیا اور ہر بار اقوام متحدہ کی قرار دادوں میں کشمیر کو متنازعہ علاقہ قرار دے کر اِس کے حل کے لیے بھارت پر زور دیا گیا۔پاکستان کی 80فیصد اقتصادیات زراعت پر ہے، بھارت آبی دہشت گردی کی مقاصد بھی یہی ہے کہ پاکستان کا پانی بند کیا جائے تاکہ پاکستان کے اندر قحط پیدا ہو، اقتصادیات مفلوج اور پاکستان معاشی طور پر تباہی کی طرف جائے۔ بھارت کشمیر کے اندر غیر قانونی طور پر تمام معاہدوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے پاکستانی پانیوں پر قبضہ کرکے تواتر کے ساتھ چھوٹے بڑے125 ڈیم بنا رہا ہے جن میں درمیانے درجے کے54کے قریب ڈیم ہیں، بھارت آبی جارحیت کے ساتھ کشمیریوں پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑ رہا ہے ہزاروں نوجوانوں کو پیلٹ گن کے ذریعے اندھا کردیا گیا ہے۔بھارت پر یہ حقیقت اب واضح ہوجانی چاہیے کہ وہ کشمیریوں کے بنیادی حق،حق خودارادیت میں رکاوٹ نہ بنے بلکہ سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے مذاکرات کے ذریعے اِس مسئلہ کو حل کرے۔
کشمیریوںنے بھارت کے تمام تر مظالم کے باوجود اپنے نصب العین کونہیں چھوڑا۔ وہ کسی بھی صورت میں اپنے موقف سے دستبردار نہیں ہوئے اور نہ ہوںگے کیونکہ وہاں کی نوجوان نسل پوری طرح حریت پسند ہے۔ اور اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے میں پیچھے نہیں ہٹی ہے۔ حریت پسندقائدین جناب سید علی گیلانی ؒ اور اشرف صحرائی ؒ کی شہادت پر اِن کے جسد خاکی کے ساتھ جو کیا گیا، کشمیری قوم اِسے کسی قیمت پر فراموش نہیں کرے گی۔ اور اِن کا کہنا ہے کہ یہ ہمارے اوپر قومی قرض ہے جسے ہم ضرور ادا کریںگے۔ کشمیری عوام ریاست جموں و کشمیر کو ناقابل تقسیم وحدت سمجھتے ہیں۔ کشمیری عوام کے لیے وہی حل قابل قبول ہو گا جو کشمیری عوام کی خواہشات اور اقوام متحد ہ کی قراردادوں کے مطابق ہو گا اور یہی اِس کادیر پا اور پائیدار حل ہو گا۔ حکومت پاکستان کسی بین الاقوامی استعمار کا ایجنٹ نہ بنے اور اہلِ کشمیر کا سنجیدگی سے ساتھ دے۔ یہی 5فروری 2022ءکا یوم یکجہتی کا پیغام ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button