Column

11فروری، ( 22بہمن) ایران کا قومی دن

ضیاء الحق سرحدی
11فروری، (22بہمن) کو اسلامی انقلاب ایران کا 45واں قومی دن منایا جاتا ہے۔ پاکستان اور ایران کے برادرانہ اور دوستانہ تعلقات کسی سے ڈھکے چھپے نہیں۔ ایران نے انقلاب اسلامی کے بعد اپنے پڑوسی ممالک بالخصوص اسلامی پڑوسی ممالک سے بہترین تعلقات استوار کئے۔ ایران اپنے پڑوسی ممالک میں پاکستان کو خصوصی اہمیت دیتا ہے۔ دونوں برادر ممالک میں اعتماد کا رشتہ بھی موجود ہے حالات کی گرمی سردی کی بدولت دونوں ممالک کے تعلقات میں اتار چڑھائو آتا رہتا ہے مگر پھر بھی دونوں ممالک اہم نوعیت کے محل وقوع کی بدولت ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرنے پر مجبور ہیں۔ 1979ء میں انقلاب ایران کے بعد مذہبی سخت گیر قیادت کے بعد عالمی طاقتوں کی جانب سے ایران پر متعدد سخت پابندیاں بھی لگیں اس کے علاوہ ایٹم بم بنانے کی کوشش کے سبب بھی ایران کو عالمی پابندیوں کا سامنا بھی کرنا پڑا، ایرانی معیشت کو بہت بڑا دھچکا لگا مگر پھر بھی ایران نے عالمی طاقتوں کے سامنے جھکنے سے انکار کر دیا۔ ایران کمزور معیشت کے باوجود عالمی طاقتوں خاص طور پر اسرائیل کیلئے درد سر بنا رہا۔ ایران میں 1979ء کے انقلاب نے یہاں صدیوں سے قائم بادشاہی نظام کا بوریا بستر گول کر دیا۔ ایرانی انقلاب نے پوری دنیا کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا تھا کیونکہ خطے میں سعودی عرب اور ایران امریکی مفادات کے محور و مراکز تھے۔ ایران میں پہلی تبدیلی اس وقت دیکھنے میں آئی جب 1979ء میں عوامی انقلاب کے ذریعے امام خمینی نے شاہ ایران رضا شاہ پہلوی کی حکومت کا تختہ الٹ کر اقتدار سنبھال لیا اور شاہ ایران کو جلا وطن ہونا پڑا۔ امام خمینی نے جو فرانس کے ایک گائوں نوفل لوشاتو میں جلاوطنی کے دوران انقلابی تحریک کی قیادت کر رہے تھے اور جنہوں نے اپنی ایران آمد کو شاہ کی بے دخلی سے مشروط کر دیا تھا، سولہ جنوری انیس سو اناسی کو شاہ ایران کے ملک سے فرار ہو جانے کے بعد، اپنی ایران واپسی کا فیصلہ کیا۔ امام خمینی کا یوں اقتدار میں آجانا کوئی اچانک نہیں تھا بلکہ اس کے لئے سالہا سال تک فضا تیار کی گئی تھی، امام خمینی اور ان کے رفقاء نے ایک طویل عرصہ تک اپنی تقریروں اور تحریروں کے ذریعے عوام میں تبدیلی لانے کے لئے جدوجہد کی،اس دوران امام خمینی کو پندرہ سال تک جلاوطنی کی زندگی گزارنا پڑی۔ عوام بھی بادشاہی نظام حکومت سے تنگ آچکے تھے اس لئے عوام کی اکثریت نے ان کی آواز پر لبیک کہا اور سڑکوں پر نکل آئے۔ ایران کی بہادر عوام نے امام خمینی کی باتدبیر اور دانشمندانہ رہنمائی میں نہ صرف 8سالہ مسلط کی گئی جنگ کا مردانہ وار مقابلہ کیا بلکہ انقلاب اسلامی کے بعد اب تک بدترین اقتصادی پابندیوں اور اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف ہونے والی مذموم سازش کے خلاف بھی اپنی جدوجہد جاری رکھتے ہوئے ترقی و پیشرفت کی راہ پر گامزن ہے۔ اقتصادی پابندیوں کا ایران کی جمہوری نظام پر کوئی اثر نہیں ہوا بلکہ ان تمام پابندیوں کے باوجود بھی ایران آج ترقی کی راہ پر گامزن ہے اور ان پر لگائی گئی مختلف پابندیاں اس بات کی غماز ہیں کہ استعماری ممالک کی دشمنی ایرانی عوام کے ساتھ ہے۔ آج کے تناظر میں دیکھا جائے تو ایران سخت گیر رویہ پر نظر ثانی کر رہا ہے۔ عالمی طاقتوں کے ساتھ بھی اس کے تعلقات بہتر ہو رہے ہیں۔ اگر ہم تجزیہ کریں تو ہم اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ ایران اپنا حلقہ اثر وسیع کرنا چاہتا ہے۔ ایران اور مسلمان ممالک کے حوالے سے عالمی طاقتیں ہمیشہ اس کوشش میں رہیں کہ ان کو متحدہ نہ ہونے دیا جائے۔ ترکی، ایران اور پاکستان نے جو آرسی ڈی ( ریجنل کو آپریشن ڈویلپمنٹ ) تنظیم بنانے کا پلان بنایا جو مسلم ممالک میں اتفاق و اتحاد اور معیشت کو فروغ دیتا مگر اس پلان کو تباہ کر دیا گیا۔ مسلمانوں میں اتفاق نہ ہونے کی وجہ سے مسلمانوں کا شیرازہ بکھر گیا۔ آج فلسطین میں مسلمان اور عیسائی کسمپرسی کی زندگی گزار نے پر مجبور ہیں۔ باخبر حلقے اس بات سے متفق ہیں کہ ایران اس وقت ایٹمی طاقت بن چکا ہے اور اس بات کا علم یورپ امریکہ کو بھی ہے مگر اس کے باوجود بھی عالمی طاقتیں ایران سے بہتر تعلقات کی خواہاں ہیں ۔ ایران میں تبدیلی کی لہر کی بات کی جائے تو امام خمینی کا انقلاب مذہبی تھا سیاسی نہیں۔ اب ایران آہستہ آہستہ خود کو بدل رہا ہے موجودہ انتظامیہ کی کوشش ہے کہ وہ بیرونی دنیا کے ساتھ تعلقات بہتر کر سکے ۔ ایرانی لیڈرز اور عوام ملک کے ساتھ مخلص ہیں۔ ایرانی قوم نے پابندیوں کا سامنا کیا مگر اصولوں سے پیچھے نہیں ہٹے ۔ ایران کے لیڈر بے داغ ہیں امام خمینی کوئی جائیداد چھوڑ کر نہیں گئے۔ ایران کے سابق صدر احمدی نژاد بھی کام کر کے گزر بسر کر رہے ہیں مگر اس کے برعکس ہمارے حکمرانوں کی نسلیں تک پر آسائش زندگی گزارتی ہیں۔ یہاں حکمران ملک و قوم کو خوب لوٹ کر واپس جاتے ہیں۔ ایرانی لیڈر شپ کے مفادات ملک سے وابستہ ہیں۔ ایران اور پاکستان دونوں برادر اسلامی ملک ہونے کے ناطے ایک دوسرے سے گہرے تعلقات رکھتے ہیں ایرانی صدر سید ابراہیم رئیس الساداتی نے بالکل درست کہا تھا کہ ہماری شناخت ہمارا مسلک نہیں اسلام ہے اور ہمیں اسلام کی حقیقی روح دنیا کو دکھانا ہوگی۔ پاکستان اور ایران کی سرحد کو دہشت گردوں اور غیر ملکی ایجنٹوں کی منفی سرگرمیوں سے محفوظ رکھنے کیلئے دونوں ممالک کو مشترکہ پالیسی اپنانا ہوگی۔ پاکستان اور ایران اس خطے کی اہم قوتیں ہیں، دونوں ملک بہت سے شعبوں میں ایک دوسرے کی مدد کر سکتے ہیں، خصوصاً ایران کے پاس توانائی وافر مقدار میں ہے جبکہ پاکستان کو توانائی کی قلت کا سامنا ہے، پاکستان ایران سے گیس اور تیل لے کر توانائی کی قلت پر قابو پا سکتا ہے جبکہ دونوں ملکوں کے باہمی تعلقات میں جو سست روی چلی آرہی تھی، اب وہ ختم ہو رہی ہے۔ اس لئے ایران کو بھی اپنے قریبی ہمسایہ ممالک سے اقتصادی تعلقات میں زیادہ بہتری کی ضرورت ہے۔ پاکستان کو گیس پائپ لائن منصوبے کو ترجیحی طور پر مکمل کرنا چاہئے تاکہ پاکستان کو توانائی کے جس بدترین بحران کا سامنا ہے اس سے نکل سکے۔ ایران برادر ہمسایہ ملک، تاریخی، ثقافتی اور تہذیبی اعتبار سے پاکستان کا انتہائی اہم دوست ہے ، دونوں ممالک کے مابین کئی جہتیں یکساں ہیں، باہمی سطح پر مزید بہتر مستقبل اور عوامی خوشحالی کے لئے مل کر کام کرنا ہو گا۔ تاریخ بتاتی ہے کہ قیام پاکستان کے بعد ایران نے سب سے پہلے پاکستان کو تسلیم کیا اور 1965ء کو پاک بھارت جنگ میں پاکستان کے طیاروں کو محفوظ بنانے کیلئے اپنے ہوائی اڈے پاکستان کی تحویل میں دے دئیے تھے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button