تازہ ترینخبریںدنیاویڈیوز

اسرائیلی فوج نے غزہ میں قطر کے رہائشی پروجیکٹ کو بموں سے اڑا دیا، دل دہلا دینے والی ویڈیوز

ایک طرف جہاں قطر کی کوششوں کے باعث حماس اسرائیل خوں ریز جنگ میں قیدیوں کے تبادلے کے لیے وقفہ ممکن ہوا، وہاں دوسری طرف اسرائیلی فوج نے غزہ میں جاری قطر کے رہائشی پروجیکٹ پر بمباری کر کے اسے تبادہ کر دیا۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیلی لڑاکا طیاروں نے ہفتے کے روز وسطی غزہ کی پٹی کے شہر خان یونس میں قطر کے تعاون سے چلنے والے حمد رہائشی منصوبے پر بمباری کی۔

حملے سے کچھ دیر قبل اسرائیلی فوج نے پروجیکٹ کے رہائشیوں کو فون کالز کے ذریعے انخلا کے لیے وارننگ بھی دے دی تھی، فون کالز کے بعد ایس ایم ایس بھی بھیجے گئے، تقریباً ایک گھنٹہ بعد صرف دو منٹ کے وقفے میں اس پروجیکٹس پر پانچ اسرائیلی فضائی حملے کیے گئے۔

ایک ایک کر کے پیلے اپارٹمنٹ کے بلاکس پر بم گرائے گئے، جس سے وہ ملبے کے ڈھیر میں تبدیل ہو گئے اور سیاہ دھوئیں کا ایک بہت بڑا بادل آسمان پر چھا گیا۔

ترکی میڈیا کے مطابق اکتوبر 2012 میں غزہ کی پٹی پر اسرائیل کی دوسری جنگ کے بعد، قطر نے حمد رہائشی پروجیکٹ جیسے اہم منصوبوں کے ذریعے غزہ کی تعمیر نو کے لیے تقریباً 407 ملین ڈالر کا عطیہ دیا تھا۔

حمد سٹی کا نام خلیجی ریاست کے سابق امیر شیخ حمد بن خلیفہ الثانی کے نام پر رکھا گیا ہے جنھوں نے 11 سال قبل ایک دورے کے موقع پر اس کا سنگ بنیاد رکھا تھا، یہ غزہ کی پٹی کے سب سے نئے منصوبوں میں سے ایک تھا۔ تعمیر کے بعد سب پہلے فلیٹس (ایک ہزار سے زیادہ) ان فلسطینیوں کو دیے گئے جن کے گھر دو سال قبل اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ میں تباہ ہو گئے تھے۔

لائیو کوریج کے دوران گھر کو تباہ ہوتا دیکھ کر ایک خاتون رپورٹر رو پڑی، ٹی آر ٹی عربی کی رپورٹر روبائی حلیت براہ راست نشریات پر تھیں، اُسی وقت ان کے گھر پر بمباری کی گئی۔

غزہ کے جنوبی علاقوں میں اسرائیلی طیاروں کی وحشیانہ بمباری جاری ہے، ایک عمارت کے ملبے میں محصور 18 خواتین اور بچوں کو دیوار میں سوراخ کر کے بہ حفاظت نکال لیا گیا۔

ایک بار پھر اسرائیلی فورسز نے غزہ کو بچوں کے لیے جہنم بنا دیا ہے، گزشتہ تین روز سے جاری بمباری میں 60 سے زیادہ بچے مارے گئے ہیں، جب کہ سیکڑوں زخمی بچے اسپتال میں تڑپ رہے ہیں، بمباری سے متاثر بچوں پر خوف طاری ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button