تازہ ترینخبریںپاکستان

باجوڑ دھماکا: کیا پاکستانی قبائلی علاقوں میں داعش اور ٹی ٹی پی ہاتھ ملا رہے ہیں؟

امریکی نشریاتی ادارے کے مطابق پاکستانی تفتیش کاروں کے مطابق گزشتہ روز باجوڑ میں ہونے والے بم دھماکے کے پیچھے داعش کا ہاتھ ہو سکتا ہے تاہم ابھی تک اس حوالے سے کوئی حتمی اطلاع سامنے نہیں آئی ہے۔ اسی دوران جمعیت علمائے اسلام کی سیاسی ریلی میں ہونے والے خودکش بم حملے میں ہلاکتوں کی تعداد اب تک بڑھ کر 46 تک پہنچ گئی ہے۔

اس حملے میں ہلاک ہونے والوں کی تدفین کا سلسلہ بھی آج سے شروع کر دیا گیا ہے۔باجوڑ میں ہونے والے اس بم دھماکے میں زخمیوں کی تعداد 150 سے زائد ہے، جن میں سے تقریبا نوے افراد کا علاج معالجہ جاری ہے۔ پولیس نے گزشتہ رات چھاپے مارتے ہوئے کم از کم تین مشتبہ افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔

افغان سرحد کے قریب سابقہ پاکستانی قبائلی علاقے باجوڑ میں اتوار کو ایک خودکش بمبار نے خود کو جے یو آئی کی ریلی میں ہجوم کے درمیان اڑا دیا، یہ علاقہ کبھی پاکستانی طالبان یا ٹی ٹی پی کے زیر کنٹرول ہوا کرتا تھا۔

صوبائی پولیس چیف اختر حیات خان نے تصدیق کی کہ یہ خودکش حملہ تھا اور حملہ آور کی شناخت کے لیے ڈی این اے ٹیسٹ کرایا جا رہا ہے۔

پولیس کے سربراہ نذیر خان نے کہا کہ بم دھماکے سے ممکنہ تعلق میں کم از کم تین مشتبہ افراد کو راتوں رات گرفتار کیا گیا جبکہ انٹیلی جنس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے ان سے پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button