ColumnRoshan Lal

اور چارہ کیا تھا؟ .. روشن لعل

روشن لعل

 

آج کل اسٹیبلشمنٹ کی سیاست میں عدم مداخلت کے موضوع پر کھلے عام بحثیں ہو رہی ہیں۔ اہم ہستیوں کے اعترافات سامنے آنے کے بعد اس بات میں کوئی دو رائے نہیں کہ یہاں اسٹیبلشمنٹ نہ صرف سیاسی عمل میں مداخلت کرتی رہی بلکہ دھڑلے سے اس کا انکار بھی کیا جاتا رہا۔ اس حوالے سے تازہ ترین صورتحال یہ ہے کہ انکار اور اقرار کی باتیں بے معنی ہو نے کے بعد مباحث اس مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں کہ سیاسی عدم مداخلت کا جو تاثراس وقت دیا جارہا ہے کیا وہ حقیقت بن کر ارتقائی منازل طے کرے گا یا پھر حسب سابق ایک نیاسراب ثابت ہوگا۔یہاں لوگوں کے سابقہ تجربات یہ ہیں کہ صرف سراب ہی سراب ثابت نہیں ہوتے رہے بلکہ حقیقتیں بھی سراب بنتی رہی ہیں۔ ایسے تجربات کے حامل لوگوں کا کسی ایسی تبدیلی پر یقین کرنا آسان نہیںجو ابھی صرف دعووں کی حد تک موجود ہے۔ اپنے سابقہ تلخ تجربات کے سبب بعض لوگوں کو سیاست میں مداخلت نہ کرنے کے دعوے سچ ثابت ہونے کی امید بہت کم ہے۔ سیاست میں عدم مداخلت جیسی تبدیلی کا دعویٰ سچ ثابت ہونے کی چاہے کسی کو جتنی بھی کم امید ہو مگر پھر بھی ظاہر ہوچکی اس خردہ سی تبدیلی سے انکار ممکن نہیں ہے۔ یہ تبدیلی اگرچہ خردہ ہے مگر واضح نظر آنے کے باوجودلوگوں کی ایک بڑی تعداد اسے موہوم سمجھ رہی ہے۔
اسٹیبلشمنٹ کی سیاست میں عدم مداخلت کے تاثر کو موہوم سی تبدیلی سمجھنا چاہیے کسی کے لیے حوصلہ افزا ہو یا نہ ہو مگر مجموعی طور پر یہ بات مایوس کن ہے کہ جن سیاسی جماعتوں کے ساتھ یہ تبدیلی براہ راست وابستہ ہے ،ان کے متعلق کسی طرح بھی نہیں کہا جاسکتا کہ یہ تبدیلی ان کی مشترکہ کوششوں کی وجہ سے رونما ہوئی ہے۔ اس باب میں یہ بات انتہائی عجیب لگتی ہے کہ جو تبدیلی سیاسی جماعتوں کی مشترکہ کوششوں کی وجہ سے رونما ہونی چاہیے تھی اس کے لیے ان کی باہمی کشمکش اور مخاصمت نے کردار ادا کیا ہے ۔ تبدیلی کے جس بیج سے انتہائی نرم و نازک پودے کی کونپلیں پھوٹ چکی ہیں اس کی نشوونما موسم کی سختیوں کے سامنے اسی لیے مشکوک سمجھی جارہی ہے کیونکہ یہاں ابھی تک یہ نظر نہیں آرہا کہ اس کی آبیاری میں وہ لوگ کوئی مشترکہ کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہو ں گے جو اس کے درخت بننے پر آخر کار اس کے پھلوں کے حقدار ہوسکتے ہیں۔ ویسے یہاں یہ بات بھی عجیب محسوس ہوتی ہے کہ جب سیاسی جماعتوں نے اسٹیبلشمنٹ کی سیاست میں عدم مداخلت کے لیے کسی قسم کا مشترکہ کردار ادا کیا ہی نہیں تو پھر مذکورہ تبدیلی کیسے رونما ہوگئی۔
اسٹیبلشمنٹ کی سیاست میں عدم مداخلت کے لیے چاہے سیاسی جماعتوں نے وسیع پیمانے پر تسلسل میں کوئی مشترکہ کردار ادا نہیں کیا مگر ضیا کے مارشل لا سے موجودہ دور تک یہاں کوئی نہ کوئی ایسی سیاسی جماعت موجود رہی ہے جس نے جمہوریت کے استحکام کی بجائے اپنے مفادات کے تحت ہی سہی مگر سیاست میں غیر سیاسی لوگوں کی مداخلت کو چیلنج ضرور کیا۔ اس طرح سے چیلنج کرنے کا مقصد چاہے یہی رہا کہ دوسروں کی بجائے ان کی حکومت بنانے کے لیے سہولت کاری کی جائے مگر ایسا کرتے ہوئے بھی بادشاہ گروںکےپروردہ ہونے کی بجائے ان کے برابر ہونے کا احساس پیدا ہوتا چلا گیا۔ اس طرح کا احساس پیدا ہونے میں صرف اندرونی ہی نہیں بلکہ بیرونی عوامل نے بھی کردار ادا کیا ۔
یہاں بادشاہ گری کو کچھ دروغ گو میڈیا پرسنز کی لفاظی کے ذریعے چھپانے کی کوششیں تو کی جاتی رہیں مگر ایسی کوششوں کے باوجود بیرونی دنیا کے سامنے وہ سب کچھ آشکار ہونے سے نہ روکا جاسکا جسے صرف آئین و قانون ہی نہیں بلکہ تہذیب اور اخلاقی اصولوں کے بھی متصادم سمجھا جاتا ہے۔ یہاں انجینئرڈ الیکشن منعقد کراتے ہوئے جو حکومتیں قائم کی گئیں بیرونی دنیا نے ان سے براہ راست بات کرنے کی بجائے ان بادشاہ گروں سے درپردہ معاملات طے کرنے کو ترجیح دی جنہیں ملک میں طاقت کا حقیقی مرکز سمجھا جاتا ہے ۔ بیرونی دنیا کا یہ عمل صرف یہاں تک ہی محدود نہیں رہا بلکہ انہوں نے طے شدہ معاملات میں مطلوبہ نتائج برآمد نہ ہونے پر مورد الزم بھی نام نہاد حکمرانوں سے زیادہ انہیں ٹھہرایا جن کے ساتھ درپردہ معاملات طے کیے جاتے رہے۔ ایک عرصہ تک یہ سب کچھ ہوتے رہنے کی وجہ سے بیرونی دنیا نے وطن عزیز کو دو کشتیوں میں سوار ریاست تصور کرنا شروع کردیا۔ بیرونی دنیا نے صرف ہماری ریاست کو دو کشتیوں کا سوار ہی نہیں سمجھا بلکہ اس کے لیے ان نتیجوں کی پیش گوئی بھی کرنا شروع کردی جو کسی بھی دوکشتیوں کے سوار کے لیے ممکنہ طور پر برآمد ہو سکتے ہیں۔جن حالات و واقعات کی یہاں ڈھکے چھپے لفظوں میں نشاندہی کی گئی ہے وہ صرف بیرونی دنیا ہی نہیں بلکہ اندرون ملک بھی ہر ذی فہم پر آشکار ہو چکے تھے۔ مذکورہ حالات و واقعات صرف ذی فہم لوگوں پر آشکار ہی نہیں ہوئے تھے بلکہ انہیں ان پر تشویش بھی تھی۔ اب اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کے اندر موجود لوگوں میں اس قسم کی تشویش پیدا ہونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتاتو ایسے خیال کو کسی طرح بھی درست نہیں مانا جاسکتا ۔ جو کچھ یہاں گزشتہ چند ماہ کے دوران ہو چکا ہے اس کا اگر باریک بینی سے تعصبات کو ایک طرف رکھ کر جائزہ لیا جائے تو اس بات کو نظر انداز کرنا ممکن نہیں کہ سخت اندرونی تنائو اور دبائو کے باوجود اسٹیبلشمنٹ کی طرف سے جو ماحاصل سامنے آئے انہیں کوئی کچھ اور نام دینے کو تیار ہو یا نہ ہو مگر وہ اس بات سے انکار نہیں کر سکے گا کہ یہ ماحاصل اسٹیبلشمنٹ کی ان روایات کے برعکس ہیں جنہیں اصول بنا کر یہاں عرصہ دراز تک عمل کیا جاتا رہا۔ یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کے موجودہ سرکردہ لوگوں کے خلاف یہاں کس طرح سے ایکس سروس مین سوسائٹی کے لوگ سرگرم رہے ۔ یہ بات بھی اکثر لوگ جانتے ہیں ایک خاص عہد میں خاص قسم کی فکری نشوونما کے تحت ایکس سروس میں سوسائٹی سے وابستہ لوگوں کے مافی الضمیر کی کیا تشکیل ہوئی۔ موجودہ اسٹیبلشمنٹ کے سرکردہ لوگوں نے خاص مافی الضمیر کے حامل ان لوگوں کا ہر قسم کا دبائو مسترد کیا جن کے وہ کبھی ماتحت رہ چکے تھے۔ یہ روایت شکن تبدیلی اگرچہ کوئی بہت بڑا انقلاب نہیں ہے مگر اسے سرے سے محسوس نہ کرنے کے تاثر کو کسی صورت بھی جائز نہیں سمجھا جاسکتا۔
اسٹیبلشمنٹ کے سرکردہ لوگوں کے رویوں میں جو تبدیلی نظر آئی ہے ابھی اس کی وجہ کسی قلبی واردات کے نتیجے میں رونما ہونے والے فکری تغیر کو قرار نہیں دیا جاسکتا۔حالات و واقعات کے ہر پہلو کو مد نظر رکھتے ہوئے ابھی صرف یہی کہا جاسکتا ہے کہ رویے تبدیل کرنے والوں کے پاس ماضی کی روایتوں کو پیچھے چھوڑ کر نئے رجحانات کے ساتھ آگے بڑھنے کے علاوہ کوئی اور چارہ نہیں تھا۔ وجہ چاہے جو بھی ہو اسٹیبلشمنٹ کے رویوں میں تبدیلی کا آغازہو چکا ، اب دیکھنا یہ ہے کہ سیاستدان چارہ گروں کی بیساکھیوں پر انحصار کرنے کی بجائے کب ایک ساتھ آئین و قانون کے مطابق آگے بڑھنا شروع کرتے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button