ColumnImtiaz Ahmad Shad

صاحب ظرف .. امتیاز احمد شاد

امتیاز احمد شاد

 

پھل دار درخت کا سایہ بھی بڑا اور پھیلا ہوا ہوتا ہے جبکہ وہ درخت جس پر پھل نہیں لگتے گو کہ قد میں کتنا ہی بڑا نظر آئے مگر اس کا سایہ تنگ اور چھوٹا ہوتا ہے۔بس یہی فرق ہے صاحب ظرف اور کم ظرف کا۔
ظرف والا چاہے معاشی اور معاشرتی لحاظ سے کتنا ہی چھوٹا نظر آئے لیکن تم دیکھو گے کہ وہ سخی، رحمدل اور طاقت رکھتے ہوئے بھی معاف کرنے والا ہو گا جبکہ جو کم ظرف ہووہ چا ہے معاشی اور معاشرتی لحاظ سے کتنا ہی بڑا کیوں نہ ہو وہ تند خو،کمینہ اور کینہ پرور ہو گا۔انسان اپنی فطرت نہیں چھپا سکتا اور کم ظرف تو بالکل ہی نہیں۔شاید ظرف والا تم دیر سے پہچان سکو لیکن کم ظرف فوراً خود کو ظاہر کر دے گا کیونکہ خالی گھڑا ہلکی سی ضرب لگنے پر آواز دیتا ہے جبکہ جو بھرا ہو وہ ضرب کو پی جاتا ہے اور جب آواز بھی نکلتی ہے تو وہ اس طرح کی کھوکھلی نہیں ہوتی جیسی خالی کی ہوتی ہے۔
انسان اشرف المخلوقات ہے اور اس کی پہچان اس کا ظرف ہے۔ ظرف کو ہم باطنی ہمت سے تعبیر کر سکتے ہیں۔انسان اپنی ظاہری پرت میں اپنے ماحول اور معاشرے کا محتاج ہوتا ہے، اس کا ماحول اس کی ظاہری پرت کو اپنی ضرورت کے مطابق تبدیل کرتا رہتا ہے، مثلاً اگر کوئی دیہاتی ہے تو شہر میں آنے کے بعد اس کا بود باش بدل جائے گا، اگر ایک بچے کوتعلیمی ادارے میں داخل کر دیا جائے تو اگلے ہی دن اس کے انداز میںتبدیلی دکھائی دے گی، اسی طرح مشرق کے لوگ جب مغرب کا رخ کرتے ہیں تو جیسا دیس ویسا بھیس کے مصداق، ان کے لباس کی تراش خراش میں فرق نظر آنے لگتا ہے۔لیکن یہ ساری ماحولیاتی تبدیلی انسان کے صرف ظاہر کو تبدیل کرتی ہے۔ ماحول کی رسائی اس کے باطن تک نہیں ہوتی۔ باطن ظاہر کے ہاتھ پر کبھی بیعت نہیں کرتا۔ جب تک کسی کا باطن مایوسی کے پاتال میں کود کر خود کشی نہ کر لے وہ ظاہر کی حاکمیت قبول کرنے سے انکار کرتا رہتا ہے۔ جب انسان خدانخواستہ اپنے باطن سے بددل ہو جاتا ہے تو وہ ظاہر کے کلیے کی حاکمیت قبول کر لیتا ہے اورزندگی کی حقیقت سے نکل کر مادیت پرستی کا غلام بن جاتا ہے۔ انسان کی اخلاقی اقدار اس کے اعلیٰ ظرف ہونے کی آئینہ دار ہیں۔ کم ظرف انسان جب مفاد اور اخلاق کے دوراہے پر پہنچتا ہے تو یکلخت مال اور مفاد کے حق میں فیصلہ سنا دیتا ہے، جبکہ عالی ظرف اپنے مال و مفاد کے تقاضوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اخلاقی تقاضا پورا کرے گا۔ ہمارے اخلاقی نصاب کا تعلق براہِ راست ہمارے باطنی ظرف سے ہے۔ یاد رہے کہ یہاں اخلاقیات سے مراد محض معاشرتی ادب و آداب نہیں بلکہ اللہ اور اس کے رسولﷺ کی رضاجوئی کی خاطر مخلوق کے ساتھ تواضع کی راہ اختیار کرنا ہے۔ معاشرتی آداب ہر تہذیب کے جدا جدا ہیں، کہیں سر پر ٹوپی رکھنا ادب کہلاتا ہے اور کہیں ٹوپی اتار کر ہاتھ میں لے لینا ادب متصور ہوتا ہے۔
اخلاق کا پہلا امتحان اپنے ماتحتوں سے شروع ہوتا ہے۔ مال و منصب ہمارے ظرف کا امتحان ہیں۔ وہ لوگ جو ہمارے مال کے محتاج ہیں، اور وہ جو ہمارے منصب کے ماتحت ہیں ان کے ساتھ اخلاق اور کشادہ روی ہمارے عالی ظرف اور عالی نسب ہونے کا پتہ دیتی ہے۔ کم ظرف انسان بہت جلد بھڑک اٹھتا ہے۔ اپنے سے طاقتور کے سامنے اس کے ادب آداب، اس کی نشست و برخاست اور خطاب و القاب مثالی ہوتے ہیں، لیکن اپنے منصب کی کرسی پر براجمان ہوتے ہی وہ اپنے ماتحتوں پر ڈسپلن کے نام پر ترش روی کے تیر برسانے لگتا ہے۔ خلوت اور جلوت میں فرق کم ظرف ہونے کی دلیل ہے۔کم ظرف اپنے وقت، وجود اور وسائل میں خورد برد کا مرتکب ہوتا ہے۔ عالی ظرف امانت کی حفاظت کرنا جانتا ہے، وہ عہد کی پاسداری کرتا ہے اور اپنے اطراف مخلوقِ خدا کی خدمت کے لیے باآسانی دستیاب ہوتا ہے۔
ہم دیکھتے ہیں کہ لوگ شہرت اور دولت پاتے ہی اپنے منصب کے معاشرتی پروٹوکول کی حفاظتی شیلڈ میں چھپ جاتے ہیں۔عالی ظرف اپنی صلاحیتوں کا خراج وصول نہیں کرتے، وہ عام عوام کو دستیاب ہوتے ہیں۔ وہ معاشرے پر بوجھ نہیں ہوتے بلکہ وہ معاشرے کا بوجھ اٹھانے والے ہوتے ہیں۔ ان کی صلاحیتیں وقف ہوتی ہیں۔کم ظرف کثیف خیال کا مالک ہوتا ہے، عالی ظرف خیال کی رفعت سے آشنا ہوتا ہے۔ رفعتِ خیال کا حامل باآسانی دوسروں کا بوجھ اٹھا لیتا ہے۔ عالی ظرف اپنے لیے کم سے کم تقاضا کرتا ہے لیکن دوسروں کے تقاضوں پر پورا اترنے کی پوری کوشش کرتا ہے۔ عالی ظرف انسان کی ایک خاص نشانی یہ ہے کہ وہ شکوے شکایت سے دور ہوتا ہے۔عالی ظرف تعلقات کی دنیا میں بھی بڑا فراخ دل پایا جاتا ہے۔ وہ اپنے متعلقین کی لاپروائیوں اور کوتاہیوں کو فراخ دلی سے نظر انداز کرتا ہے۔ لوگوں کو معاف کرنا اس کے لیے کبھی دشوار نہیں ہوتا۔ وہ زود رنج نہیں ہوتا۔ عالی ظرف عالی ہمت ہوتا ہے۔ لوگوں کو ساتھ لے کر چلنا اس کے لیے کبھی مشکل نہیں ہوتا۔ نفرت، کینہ، غصہ اور حسد کم ظرفوں کی مصروفیت ہے۔ کم ظرف ناشکرگزار ہوتا ہے، عالی ظرف ہمیشہ تشکر کی حالت میں پائے جاتے ہیں۔ وہ مخلوق کا شکریہ اور خالق کا شکر ادا کرنے میں کبھی بخیل نہیں ہوتے۔ وہ جانتے ہیں کہ ان کے پاس ان کے استحقاق اور استعداد سے کہیں بڑھ کر نعمتیں ہیں، اس لیے ہر حال میں اپنے اوپر شکر کو واجب سمجھتے ہیں۔ عالی ظرف خود سے خود کو نکالنے پر قادر ہوتا ہے۔ خود بھوکا رہ کر دوسروں کو سیر کرنا عالی ظرفوں کا شیوہ ہے۔عالی ظرف کھاتا نہیں بلکہ کھلاتا ہے۔ رب کی یہ صفت جہاں جلوہ گر ہوگی وہاں ربوبیت کا دسترخوان بچھ جائے گا۔ معاف کردینا ظرف کے اعلیٰ ہونے کی دلیل ہوا کرتی ہے۔
تاریخ کے روشن دانوں سے جھانکیں تو معافی، عام معافی اور پھرغیرمشروط معافی صرف فتح مکہ کے موقع پر دیکھی جاتی ہے۔ کمالِ ظرف ہے کہ فاتحِ زمانہ نے عجز و انکسار میں اپنا سر اتنا جھکا دیا کہ اونٹنی کے کجاوے کے ساتھ چھونے لگا۔ دولت اور طاقت کا اختیار ہوتے ہوئے اس سے بے نیاز ہوجانا ظرف کے عالی ہونے کی انتہا ہے۔ اپنے ظرف کو عالی کرنے اور رکھنے کے لیے ہمیں عالی ظرف کرداروں کی ضرورت ہوتی ہے، اور کائنات میں سب سے اعلیٰ اخلاق و کردارجس ذاتِ گرامی کا ہے اس پر اللہ اور اس کے فرشتے ہمہ حال درود بھیجتے ہیں، اور مومنوں کو بھی حکم ہے کہ درود بھیجیں۔معاشرے میں ہمارا واسطہ بہت سے ایسے لوگوں سے پڑتا ہے جو کم ظرفی کی وجہ سے اپنے ہی قریبی حلقوں میں ہر طرح کی بھاگ دوڑ کے باوجود اچھے الفاظ میں یاد نہیں کئے جاتے اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ ہر قدم پر اپنا احسان جتلاتے رہتے ہیں اور یہ باور کروانے کی کوشش کرتے ہیں کہ تمام دوستوں کے پاس جو بھی مقام و مرتبہ ہے وہ ان کا مرہون منت ہے۔جب کہ بہت سے عالی ظرف بھی ہماری زندگیوں میں آتے ہیں جو ہمیشہ اپنے دوستوں اور عزیزوں کو آگے بڑھتا دیکھ کر خوش ہوتے ہیں اور ہر قدم پر ان کی رہنمائی کر کے فخر اور راحت محسوس کرتے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button