ColumnZameer Afaqi

اعلیٰ تعلیم یافتہ بچے .. ضمیر آفاقی

ضمیر آفاقی

 

ہمارے تعلیمی نظام پر سوال اٹھ رہے ہیںبچوں کی ذہانت کا پیمانہ میرٹ کو بنا کر رکھ دیا گیا ہے جبکہ عملًا یہ بچے زندگی کی دوڑ میں بہت پیچھے رہ جاتے ہیں، ہمیں بحیثیت قوم سوچنا ہو گا کہ ہم کس طرح کا نظام تعلیم رائج کر رہے ہیں اور کیا جو کچھ ہم پڑھا رہے ہیں یہ موجودہ دور کے تقاضوں کے مطابق بھی ہے، دنیا ترقی کیوں کر رہی ہے اور ہم پیچھے کیوں ہیں ، ہماری ڈگریوں کو دنیا میں پذیرائی کیوں نہیں ملتی یہ اور اس سے جڑے بے شمار سوال ہیں جس پر بات تو ہو تی رہتی ہے لیکن جہاں اس اہم مسئلے پر سنجیدگی دکھانی چاہیے وہاں کا یہ مسئلہ شاید ہے ہی نہیں۔
ہمارا مسئلہ یکساں نصاب بھی نہیں بلکہ ہمارا مسئلہ معیاری نصاب ہے۔ کیا ہمارے کسی سرکاری سکول میں کسی اہم شخصیت کا بچہ تعلیم حاصل کرتا ہے جواب نفی ہیں ہو گا۔ اسی لیے ہمارا نظام تعلیم دگرگوں ہے، اگر محکمہ ایجوکیشن کے آفیسران ،ایم پی اے ،ایم این اے اور بیوروکریٹ کے بچے سرکاری سکولوں میں تعلیم حاصل کرتے تو آج ہمارا نظام تعلیم ایک بہترین نظام ہوتا، بہترین نصاب ترتیب دیا جاتا اور جدید دور کے تقاضوں کے مطابق اسے ڈھالا جاتا لیکن ایسا نہیں ہے اور اس پر کہیں سنجیدگی بھی نہیں اسی لیے جس طرح کے ہمارے بچے بن رہے ہیں انہیں ایک ناکارہ فورس کا نام دیا جارہا ہے۔
ہمیں اکثر والدین کے فون آتے رہتے ہیں کہ بچہ داخل کرانا ہے کون سا سکول بہتر ہے جہاں معیار تعلیم کے ساتھ ماحول بھی صحت مندانہ ہو ،ہم اپنی معلومات کی روشنی میں انہیں گائیڈ کرتے رہتے ہیں، لیکن گزشتہ کچھ عرصے سے والدین کی تشویش میں اضافہ ہوچکا ہے وہ اپنے بچوں کے مستقبل بارے بہت پریشان رہتے ہیں، دن رات محنت کرنے، اچھے گریڈ حاصل کرنے اور موٹیویشنل سپیکر کو سننے کے باوجود انہیں کسی اچھے کالج ،یونیورسٹی میں داخلہ ملتا ہے اور نہ تعلیم سے فارغ ہونے کے بعد کوئی ڈھنگ کی نوکری نہیں ملتی۔
آپ دیکھتے ہیں کہ جب بھی میٹرک، ایف اے کے امتحانات ہوتے ہیں۔ بورڈ میں کچھ بچے ٹاپ کرتے ہیں، کبھی غور کریں کہ یہ ٹاپر بچے کہاں سے فارغ التحصیل ہیں اور مخصوص اداروں اکیڈمیوں کے بچے ہی کیوں ٹاپ کرتے ہیں۔ اس پر ہم کسی دوسرے کالم میں بات کریں گے آج صرف اعلیٰ گریڈ حاصل کرنے والے بظاہر کامیاب مگر عملی زندگی میں ناکام بچوں کی بات کریں گے ۔ آپ سب نے دیکھا ہو گا ٹاپ کرنے والے بچوں کے پورے شہر میں اسے ہونہار طلبا کا چرچا ہوتا ہے۔
بڑے بڑے پینا فلیکس پر ان کی ادارے کے نام کے ساتھ تصاویر لگتی ہیں ، بڑے کالجز کی طرف سے فری ایجوکیشن کی پیش کش ہوتی ہے اور یہ طلبا اپنے من پسند کالجز کا انتخاب کرکے اس میں داخلہ بھی لیتے ہیں ، اگلے چار سالوں میں کامیابی کا تناسب بھی قدرے بہتر رہتا ہے۔ گریڈ میں استحکام بھی رہتا ہے۔ کامیابیوں کی منازل طے کرتے یہ بچے یوں محسوس کرتے ہیں جیسے دنیا فتح کر لیں گے ، ان کے گریڈ ان کی کامیابی کی دلیل اور گارنٹی ہیں۔ ان کی میڑک کی سند ان کی اعلیٰ ملازمت پر قبولیت کی سند ہے۔ لیکن نتائج اس کے برعکس رہتے ہیں۔
وہ جس بڑے ادارے میں انٹرویو دینے جاتے ہیں بہت کم نمبروں سے ٹیسٹ پاس کر سکتے ہیں، تحریری ٹیسٹ پاس کر بھی لیے تو انٹرویو میں رہ گئے ، پینل کے سوالات ان کے سر سے گزر جاتے ہیں ، اسناد میں اے پلس گریڈ دھرے کے دھرے رہ جاتے ہیں ، ریک میں رکھی ٹرافیاں ان کے کسی کام نہیں آتیں۔
مسلسل انٹر ویو ،ناکامیاں ان کے چہروں پر مایوسی اور عدم تحفظ کا شکار کر دیتی ہیں ، ان سے بات کریں تو کہتے ہیں تعلیمی نظام نے ہم پر بہت ظلم کیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ بے روزگاری ہے یا کچھ اور۔ بیروزگاری تو ہمارا بہت پرانا مسئلہ ہے، لیکن انہیں بیروزگاری نے نہیں ، ان کی ڈگریوں نے مارا ہے ، انہیں وہ کچھ سکھایا ہی نہیں گیا جو اگلے دس سال ان کے کام آتا ۔
انہیں اعتماد نہیں سکھایا گیا انہیں سکلز نہیں دیں گئیں ، انگریزی میں پورے نمبر دے کر انگریزی بولنا نہیں سکھایا گیا ، میتھ میں سو بٹہ سو لینے والے اپنی ہی زمین کا رقبہ نہیں نکال سکتے، اردو میں پورے نمبر لے کر بھی یہ بچے ڈھنگ کی درخواست نہیں لکھ سکتے، میرٹ گریڈ میں یہ آگے ہیں لیکن نالج میں صفر، ہمارے تعلیمی اداروں اور نظام نے انہیں گریڈوں کی مشینیں تو بنا دیا ہے لیکن انہیں جدید دور کے تقاضوں کے مطابق نہیں ڈھالا گیا ، ان بچوں اور ان کے والدین کی باتیں سنتے ہیں تو یقین کیجیے تکلیف سے دل بھر آتا ہے لیکن اس نظام کے خلاف ہم بھی کچھ نہیں کر سکتے۔
ایک زمانے میں ڈاکٹری کا میرٹ70 فیصد ہوتا تھا،اب پچانوے فیصد سے بھی آگے جا چکا ہے، اس کے باوجود بھی سب سے تھکے ہوئے کالج میں بھی داخلہ نہیں ملتا۔ اعلیٰ گریڈ حاصل کرنے والے بچے سمجھتے ہیں کہ نوکریاں ہمارے قدموں میں گریں گی لیکن عملی زندگی میں ناکام دکھائی دیتے ہیں آج جس کمپنی میں جاتے ہیں وہاں پورے نمبر لینے والے سینکڑوں کی تعداد میں کھڑے ہوتے ہیں لیکن ٹیسٹ اور انٹرویو میں سب رہ جاتے ہیں ، کہاں گئے ان کے نمبر اور گریڈ؟
ہم نمبروں کی مشینیں تو بنا رہے ہیں ، اب یہ بچے کیسے دوبارہ سے واپس جاسکتے ہیں اور کہاں سے درکار قابلیت حاصل کریں گے۔ کون ان کا ذمّہ لے گا؟ کیا ساری عمر در در کی ٹھوکریں ان کا نصیب ہوں گی؟ کیا کسی کے پاس کوئی حل ہے؟

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button