ColumnJabaar Ch

جس تن لاگے سو تن جانے! .. جبار چودھری

جبار چودھری

 

کہاوت ہے کہ ’’جس تن لاگے سو تن جانے‘‘ یعنی جس پر مصیبت آتی ہے اس کی تکلیف اور شدت وہی جان سکتا ہے۔کنارے پر کھڑاشخص کسی کو ڈوبتے دیکھ تو سکتا ہے ،لیکن ڈوبنے کی تکلیف اور موت کا دکھ تو ڈوبنے والا ہی جان سکتا ہے۔عمران خان صاحب اقتدارمیں تھے تو موج میں تھے۔ اس ملک میں قانونی کی حکمرانی کوکوئی خطرہ تھا اور نہ ہی اسٹیبلشمنٹ مسائل کی جڑتھی بلکہ اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ تو ان کی اتنی گاڑھی چھنتی تھی کہ اہم قانون سازی کے وقت اسمبلی میں بندے پورے کرنے ہوں یا سینیٹ میں حفیظ شیخ کی اکثریت کے باوجود ہار اور یوسف رضا گیلانی کی جیت کے بعد عمران خان کا اعتماد کاووٹ لینے کو دل کرے تو ووٹ پورے کرنے کا دردسربھی اسی اسٹیبلشمنٹ کا ہی تھا۔آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ ایسے جید جرنیل کہ عمران خان کیا پوری پی ٹی آئی میرے رشک قمر کا گاناگاتی پھرتی تھی۔
اقتدارہاتھ سے گیا ہے تو پچھلے چھ ماہ میں عمران خان کے بیانات دیکھ لیں انہیں اس ملک کے ہر مسئلے کی وجہ اسٹیبلشمنٹ لگتی ہے یہاں تک کہ وہ فوج کے آئینی کردار کو ہی نہیں مان رہے۔ ان کے نزدیک فوج غیرسیاسی نہیں ہوسکتی کیونکہ نیوٹرل تو جانور ہوتا ہے۔ان کو لگتا ہے کہ عدم اعتماد کی تحریک کوروکنا فوج کا کام تھا ،وہ چاہتے تو روک سکتے تھے لیکن انہوں نے اس وقت کی اپوزیشن کو نہ روک کروہ جرم کیا ہے کہ انہیں میر جعفراور میر صادق کہنا فرض ہوگیا ۔ان میں سے کوئی مسٹر ایکس ہوگیا ،کوئی مسٹر وائے اور کوئی ڈرٹی ہیری کہلوانے کے لائق قرار پاگیا۔کہا یہ جاتا ہے کہ انہیں عدم اعتماد کی کامیابی کا زیادہ دکھ اس وجہ سے ہے کہ ان کے اقتدار کا دس سالہ منصوبہ فیل ہوگیا ہے۔ انہو ں نے منصوبہ بنارکھا تھا کہ یو نہی موجودہ آرمی چیف ریٹائر ہوں گے اس کے بعد نیا آرمی چیف چننے کا اختیار ان کے پاس ہوگا تووہ اپنے پسند کے ایک جرنیل کو آرمی چیف کے منصب پر بٹھادیں گے جو اگلا الیکشن کروائے گا اور اسی طرح آر ٹی ایس مینج کرکے انہیں اگلی ٹرم کیلئے دوبارہ وزیراعظم بنوادے گا۔یہ سچ ہے یا جھوٹ لیکن اس منصوبے کی خبریں بہرحال اسلام آباد کے ہر گلی کوچے میں زیرگردش تھیں۔یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ان کی اس احتجاجی تحریک میں شدت اور لانگ مارچ کیلئے اس وقت کو چننے اور پھر اتنے زیادہ دن راستوں میں گزارنے کے بعد عین اس وقت پنڈی اوراسلام آباد پہنچنا جب نئے آرمی چیف کی تعیناتی کا وقت ہو،بھی اسی مشن کا حصہ ہے کہ وہ اپنے بندے کی تعیناتی کیلئے دباؤ ڈالیں۔کیا اس طرح کسی قسم کا دباؤ ڈالا جاسکتا ہے یا کوئی ان کا دباؤ قبول کرکے اپنا فیصلہ تبدیل کرسکتا ہے میرا نہیں خیال کہ ایسا ہوسکتا ہے۔اگر ایسا ہوتا ہے تو پھر اس ملک میں صرف عمران خان ہی ہوگا اگلے دس سے پندرہ سالوں تک۔
اپنے تن لگنے پریہ تو اسٹیبلشمنٹ بارے عمران خان کی سوچ اور چیخ وپکار ہے ، اب ان کو لگی ہے تو انہیں ہر چیز ہی خراب لگ رہی ہے۔انہیں اس وقت احساس ہورہا ہے کہ ملک میں تو قانون کی حکمرانی بھی نہیں ہے۔ انہیں اب جاکے تکلیف ہوئی ہے کہ اس ملک میں پولیس عام آدمی کی ایف آر بھی درج نہیں کرتی ۔ان کے ترجمان فواد چودھری نے ایک لطیفہ نمابیان دیا کہ ہم کس طرح کے ملک میں رہ رہے ہیں یہاں ایک شخص اپنی مرضی کی ایف آر بھی درج نہیں کرواسکتا۔چودھری صاحب یہ وہی پاکستان ہے جس میں چھ مہینے پہلے آپ حکمران تھے۔ یہ وہی پاکستان ہے جس میں آپ پنجاب کے وزیراعلیٰ بننا چاہتے تھے ۔ آپ کو وزیراطلاعات بنایا گیا تو آپ وزیرداخلہ کی دوڑ میں لگ گئے اور آخری وقت میں عدم اعتماد روکنے کیلئے غیر قانونی اقدام اٹھانے کی باری آئی تو آپ وزیرقانون بن گئے تھے ۔ یہ وہی پاکستان ہے جس میں آپ نے محسن بیگ صاحب کو پہلے گرفتار کیا اور بعد میں ایف آئی آر درج کی تھی۔ یہ وہی پاکستان ہے جس میں اپنے والد کی ملاقات کیلئے کوٹ لکھپت جیل گئی مریم نوازکو وہیں اپنے باپ کے سامنے ہتھکڑی لگوادی تھی۔یہ وہی پاکستان ہے جس میں عمران خان نے کہاتھا کہ میں مونچھوں سے پکڑ کررانا ثنا اللہ کوجیل میں ڈالوں گا تو ان کو جیل میں ڈالنے کیلئے ان پر پندرہ کلو ہیروئن ڈالنی پڑگئی تھی۔ اس وقت وہ چیخ رہے تھے اور خوشیاں منارہے تھے کیونکہ بات وہی ہے کہ ’’جس تن لاگے سوتن جانے‘‘۔
اس کوتھوڑاآگے بڑھاتے ہیں اورپانچ چھ سال پیچھے جاتے ہیں ۔میاں نوازشریف کا گناہ پتا نہیں کیا تھا۔ممکن ہے جنرل راحیل شریف کو توسیع نہ دینا ان کا گناہ ہو۔یمن میں اپنی فوج نہ اتارنا ان کا گناہ ہو۔ یا پھر ڈان اخبار میں ایک خبر کا چھپ جانا ان کا گناہ ہوجس کی تردید اگلے ہی لمحے جاری کردی گئی لیکن اس تردید کو کوئی خاطر میں لانے کو تیارنہ ہوا۔اس کو ڈان لیک کا سکینڈل بنادیا گیا۔نوازشریف نے اپنے وزیروں سے استعفے لے لیے لیکن آپ کو وہ ’’نوٹیفیکیشن ریجکٹڈ‘‘والا المشہور ٹویٹ تویاد ہی ہوگا۔ اس وقت نوازشریف کے تن کو لگی تھی اور وہ چیخ رہے تھے ۔ وہ اس وقت اسٹیبلشمنٹ کے بارے میں عین اسی طرح کے جذبات رکھتے تھے جو آج عمران خان کے ہیں۔اس وقت نوازشریف کونکالنے کا بندوبست کیا جارہا تھاتو عمران خان سول بالادستی کیلئے نواز شریف کے ساتھ کھڑے ہونے کے بجائے اس کے مخالف کھڑے اس کونکالے جانے کا صرف انتظار ہی نہیں کررہے تھے بلکہ اس کو نکالنے کے بندوبست کے پورے سہولت کار بن کر سپریم کورٹ میں مدعی بن گئے تھے۔جب اقتدار سے نکالے جانے کے بعد نوازشریف جی ٹی روڈ پرایسے ہی خلائی مخلوق اور مجھے کیوں نکالا کی تحریک چلارہے تھے تو عمران خان لوگوں کو یہ بتارہے تھے کہ سارا قصور ہی نوازشریف کا ہے کیونکہ ان کی کسی آرمی چیف سے نہیں بنتی۔اس کے بعد بھی جب عمران خان وزیراعظم تھے اور نوازشریف نے گوجرانوالہ میں آرمی چیف کانام لے کر حساب مانگا تھا اس وقت کے عمران خان کے بیانات دیکھ لیں وہ اس وقت کہہ رہے تھے کہ نوازشریف صرف اس لیے الزامات لگارہے ہیں تاکہ فوج اس کا ساتھ دےاور فوج میں نوازشریف کے ان بیانات کا بہت غصہ ہے۔
آج نوازشریف یا نون لیگ اور پانچ سال پہلے عمران خان کیوں ایک دوسرے کی جگہ لیے کھڑے تھے؟۔اس وقت عمران خان کو اسٹیبلشمنٹ سے حددرجہ پیار اور نوازشریف کو حد درجہ غصہ تھاکیونکہ اس وقت عمران خان اقتدار کی گاجر کھانے میں مشغول تھے اور آج نوازشریف کے سامنے وہی اقتداری گاجر ہے۔یہ ہماری سیاست کی سب سے بڑی بدقسمتی ہے کہ ایک وقت میں ایک ہی پارٹی ایک سائیڈپر کھڑی ہوتی ہے۔اسٹیبلشمنٹ ہو،سول بالادستی کا ایشوہویا قانون کی حکمرانی کے ساتھ ساتھ دوسرے مسائل۔جب تک سیاستدان اس کو اپنے اپنے مفادات کی عینک سے دیکھتے رہیں گے ۔یہ سب مسائل اسی طرح اپنی جگہ پر موجود رہیں گے۔ایک وقت میں ایک فریق جیلیں بھگت رہا ہوگا اور دوسرافریق ان کے جیلوں میں جانے کو جائز کہتارہے گا۔آج عمران خان اقتدارسے باہر ہیں اور ان کو پاکستان کے مسائل اتنے بڑے اور گھمبیر لگ رہے ہیں لیکن اس وقت جو حکمران ہیں انہیں سب اچھا۔کل نوازشریف کے تن کو لگی تھی تو وہ جانتے تھے ،وہ رورہے تھے وہ ووٹ کو عزت دو کے نعرے ماررہے تھے اور آج عمران خان کے تن کولگی ہے تو وہ ماہی بے آب بنے بیٹھے ہیں ۔جس دن دونوں فریق دوسرے کے تن کو لگی کو محسوس کرتے ہوئے اسے پرسہ دینے آگئے اسی دن مسائل حل ہونا شروع ہوجائیں گے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button