ColumnNasir Naqvi

ایک اور میثاق جمہوریت .. ناصر نقوی

ناصر نقوی

 

دنیا کی سپر پاور امریکہ بہادر، جس طرح من مانیوں میں ہر معاملے پر دوہرا تہرا معیار اختیار کرتے ہیںبالکل اسی طرح پاکستان کے سیاستدان بھی دوہرے معیار پر سیاست سیاست کھیل رہے ہیں جس کے نتیجے میں قومی سیاسی بحران وقفے وقفے سے نہ صرف جنم لیتا ہے بلکہ اس کے ردعمل میں قومی یکجہتی اور جذبہ حب الوطنی کا خون بھی ہو جاتا ہے۔ ریاست اسلامی جمہوریہ پاکستان میں بسنے والوں پر ایک عرصے سے الزام ہے کہ یہ کوئی قوم نہیں،مختلف خیال رکھنے والوں کا غیر سنجیدہ مجمع ہے جسے مذہب و مسلک ہی نہیں،زبان وبیان کے نام پر بھی جب چاہے تقسیم کر کے دست و گریبان کیا جا سکتا ہے، اس کمزوری اور غیر ذمہ داری کا مظاہرہ ماضی میں ایک سے زیادہ مرتبہ ہو چکا ہے، عاقبت نا اندیشوں نے ایسے ہی انتشار کو کئی مرتبہ ہوا دے کر چنگاری کو جنگل کی آ گ بنا کر معصوم بے گناہوں کی زندگی چھینی،ترقی پزیر ملک کے کاروبار زندگی میں رکاوٹیں پیدا کیں،بھائی کو بھائی سے لڑایا،سیاسی نعروں کے بھینٹ چڑھایا،پھر بھی پاکستانی ایسی باہمت قوم ہے کہ اس نے ہر مصیبت کی گھڑی میں اپنی خدا داد صلاحیتوں سے جنگ،دہشت گردی،زلزلہ،سیلاب تمام لمحات میں گلے شکوے فراموش کرکے ملک وملت کے استحکام کے لیے اپنا کردار یک جان ہو کر ادا کیا اوردشمنوں کی تمام تر سازشیں بے نقاب ہی نہیں،ناکام کر دیں،اگر وطن عزیز کی75 سالہ تاریخ کی ورق گردانی کی جائے تو یہ راز کھل کر سامنے آ جائے گا کہ ریاست میں ہر دس سال بعد کوئی بڑا بحران صرف اس لیے پیدا کر دیا جا تا ہے کہ پاکستان اور پاکستانی کسی طرح اپنے پائوں پر نہ کھڑے ہو سکیں میرے مطابق ہمارا قصور صرف اتنا ہے کہ ہم کلمہ گوغربت میں دنیا کی ساتویں ایٹمی طاقت کیسے بن گئے؟ یہ اسلامی بم دنیا کی فتوحات کے لیے بڑی دھمکی سمجھا جا رہاہے لہٰذا فکر یہ لاحق ہے کہ غریب اور ترقی پزیر ملک اس اہم ترین جوہری طاقت کی محفوظ حفاظت کیسے کر سکتا ہے دنیا جانتی نہیں کہ پاکستان کی افواج اس قدر باصلاحیت ہے کہ وہ اپنے اندرونی و بیرونی خطرات سے نمٹنے کی طاقت رکھتی ہے۔ اس لیے سب جانتے بوجھتے ہم پر الزامات کی بوچھاڑ کر کے محض اپنے مفادات کے لیے دبائو اور ڈومور کے خواہشمند ہیں، افسوسناک بات یہ ہے کہ ہماری قوم کو انگریز کی تقلید میں ابھی تک تقسیم کرواور حکومت کرو، کے اصول پر چلایا جا رہا ہے، اس خواہش میں اپنے پرائے سب نے اپنا اپنا حصہ ڈالا،ہم اور آ پ جمہوریت پسند ہیں ملک میں جمہوری اقدار چاہتے ہیں آ مریت سے ہمیں نفرت ہے لیکن جب اپنی طاقت میں کمزوری کا خدشہ لاحق ہوتا ہے تو تمام تر اصول بالائے طاق رکھ کر’’پنڈی والوں‘‘کی محبت میں گیٹ نمبر چار کا طواف کرنا شروع کر دیتے ہیں اس گیٹ کی عزت وتکریم کا پوچھنا ہے تو پنڈی بوائے شیخ رشید اور ان سیاستدانوں سے پوچھیں جو کبھی ادھر اور کبھی ادھر نہ صرف دکھائی دیتے ہیں بلکہ ہر اقتدار میں حصے کے طلب گار ہوتے ہیں بھلا کیوں؟ یہ سب جانتے ہیں مانتے نہیں۔
اس وقت وطن عزیز تاریخ کے بد ترین سیاسی اور معاشی بحران میں مبتلا ہے اقتدار کی میوزیکل چیئر کاکھیل جاری ہے۔ پہلی مرتبہ ایوان کے اندر سے اکثریت اقلیت بنی اور اقلیت نے اکثریت کا مظاہرہ کرکے حکومت سنبھالی،اس ساری کارروائی کے پس منظر میں کیا کچھ ہے، عام آ دمی کو اس کی فکر لاحق نہیں،لیکن خاص آ دمی اس سے تبدیلی سے اپنا دامن نہیں چھڑا سکتے ،معاشی بحران ہمارے گلے کیوں پڑا؟ سیاسی بحران سے نجات کیسے ملے گی؟ ان سوالوں کے جواب بھی صرف سیاستدان اور اسٹیبلشمنٹ جانتی ہے قوم کو صرف اتنا معلوم ہے کہ کچھ ایسا ہوا جو نہیں ہونا چاہیے تھا لہٰذا دونوں بحرانوں کا حل بھی سیاستدانوں نے پارلیمنٹ کے ذریعے نکالنا ہے لیکن جب ہمارا دوہرا معیار سیاست ہو گا تو پھر مثبت نتائج کیسے نکلیں گے؟ ضرورت ہے قومی درد رکھنے والے رہنما کی،اگر بازار سے یہ مال ملتا ہوتا تو قوم چندہ کرکے بھی خرید لیتی،اس قومی خواہش کا ادراک ہمارے سیاستدانوں کو مکمل طور پر ہے اسی لیے ہر کوئی پہلے قائد اعظم بننے کے لیے ایمانداری اور سچائی کا درس دیتے ہوئے ماضی کے حکمرانوں پر الزامات لگاتا ہے پھر یہ عقدہ کھل جاتا ہے کہ یہ تو جانے والوں سے بھی برا ہے، یوں نئے آنے والے نیا ڈھول بجانا شروع کر دیتے ہیں 75 سال بیت گئے ہیں برے حالات ہماری تین نسلوں نے بھگت لیے،ناقص منصویہ بندی،دوہرے معیار اور ناحق خواہشات کی کمزوری پر دشمنوں کی سازش کا شکار ہوکر ریاست کا دو حصوں میں بٹوارہ کر لیا، اب سب کچھ لٹا کے توہمیں ہوش میں آ جانا چاہیے ،لمحہ موجود میں ہم ایک مرتبہ پھر اقتدار کی دیوی کی محبت میں واضح طور پر تقسیم در تقسیم ہو چکے ہیں عوامی ریلیف
نہ ملا اور نہ ہی ملنے کی امید دکھائی دے رہی ہے ہر روز حالات نازک سے نازک ترین ہوتے جارہے ہیں پھربھی ہمارے رہنما خواہ کسی پارٹی سے تعلق رکھتے ہوں انتقام کی آ گ میں جلتے محسوس ہوتے ہیں قومی مفادات،مملکت کے استحکام اور عوامی فلاح کے لیے سیاست کے بنیادی اصول رواداری اور برداشت کے قائل نہ ہوں تو پھر بحران ہی بحران قوم کامقدر نہیں بنیں گے تواور کیا ہو گا؟ بڑی پارٹی تحریک انصاف جمہوری پلیٹ فارم پارلیمنٹ سے باہر بیٹھی ہے کہ اندر چور اور ڈاکو امپورٹ کر کے بیٹھا دیئے گئے ہیں،الیکشن کمشنر از خود تعینات کرنے کے بعد اسے امپورٹڈ حکومت کازر خرید غلام کہہ رہے ہیں، اسمبلی سے استعفوں کے بعد بھی ضمنی الیکشن کے کھیل میں قومی خزانہ لٹایا جا رہا ہے، حکومت کی حکمت عملی ہے وہ وقت مقررہ سے پہلے الیکشن کرا کے سابق وزیر اعظم کو کسی قسم کی کوئی خوشی دینے کو تیار نہیں۔ ایسے میں صرف ایک مسئلہ انا اور ضد ابھر کر سامنے آ یا ہے ہر طرف سے بات قومی مفادات اور عوامی سہولت کاری کی ہوتی ہے لیکن مسئلہ ضرب جمع تقسیم حاصل ضرب کچھ نہیں یعنی سب کچھ لا حاصل اور حالات بد سے بدتر ہوتے جا رہے ہیں الزامات اور دعوؤں سے ظاہر ہے کچھ نہیں ہوتا لہٰذا کچھ نہیں ہو رہا۔
اس لا حاصل کوحصول اجتماعی مفادات میں کیسے بدلہ جا سکتا ہے میری جمع تفریق میں ذاتی انا اور ضد کی بے معنی جنگ میں سیزفائر ہونا چاہیے جس ریاستی اقتدار کی لڑائی لڑی جا رہی ہے اس کی بقا زیادہ ضروری ہے اگر خدا نخواستہ ریاست مزید ابتری کا شکار ہو گئی تو اقتدار ملنے پر بھی مسائل اور مشکلات ہی استقبال کریں گے، جیسے کمزور قومی ادارے کوئی ایسا مضبوط اور سخت فیصلہ نہیں کر پاتے جس سے مستقبل کی درست سمت مقرر کی جاسکے ایسی صورت حال میں مصلحت پسندی کا رنگ چوکھا دیکھنے کو ملتا ہے جس سے صرف وقت گزاری کے سوا کچھ نہیں ہو پاتا،اس لیے ضروری ہے کہ دشمنوں کی خواہشات پوری کرنے کی بجائے تمام قومی اداروں اور سیاستدانوں کو قومی ترقی و خوشحالی اور ریاستی استحکام کے لیے قومی سلامتی کونسل سے ابتدائی فیصلے لے کر سیاستدانوں کے لیے ایک اور میثاق جمہوریت کی ضرورت ہے تاکہ جمہوری انداز میں دنیا کی طرح اصولوں کی سیاست کرکے آ گے بڑھا جاسکے حقیقی آزادی کیا ہے؟ جمہوری آ زادی کی ڈیمانڈ کتنی ہے؟ ورنہ موجودہ لانگ مارچ اور اس پر قاتلانہ حملے کے بعد ردعمل میں احتجاج سے ملک فساد و انتشار کی دلدل میںپھنس جائے گا جہاں سے نکلنا موجودہ سیاسی سوچ کے ساتھ مشکل ہو گا اس لیے ہم سب کو پاکستان، استحکام پاکستان اور قومی یکجہتی کو بنیاد بناکر مستقبل کے فیصلے کرنے ہونگے یہی وقت ہے کہ مشاورت سی بنیادی معاملات اس طرح طے کر لیے جائیں کہ الیکشن2023 میں کامیابی حاصل کرنے والوں کو آئین اور قانون کے مطابق پانچ سالہ مدت ملے اور اگر وہ ناکام ہوں تو تبدیلی کا عمل پارلیمانی روایات کے مطابق پارلیمنٹ میں اکثریت سے کیا جائے اور کسی جانب سے سازش،دھونس،دھاندلی کا طوفانی بیانیہ نہ اٹھایا جائے بلکہ قائد ایوان کے مقابلے میں قائد حزب اختلاف بھی اپنا بھرپور کردار ادا کر کے جمہوری روایات کے مطابق حکومت کو ٹف ٹائم دے۔فرینڈلی اپوزیشن،مصلحت پسندی،احتجاج بائیکاٹ اوراسمبلیوں سے باہر بیٹھ کر نہ کچھ بہتر ہوا ہے اور نہ ہی ہو سکتا ہے کیونکہ
موج ہے دریا میں بیرون دریا کچھ نہیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button