ColumnImtiaz Ahmad Shad

ہم ایسے کیوں ہیں؟ ۔۔ امتیاز احمد شاد

امتیاز احمد شاد

 

دنیا کی تمام تر نعمتوں ، وسائل ،زرخیز مٹی اور ساٹھ فیصد نوجوانوں پر مشتمل آبادی کے باوجود ہم بے چین ہیںاور مسلسل اضطرابی دلدل میں دھنس رہے ہیں۔ہر نئے دن کے ساتھ نئے مسائل اور مصائب ہمارا استقبال کرتے ہیں۔ہر شخص کسی نہ کسی مشکل میں گھرا ہے۔بے معنی شب و روزگزرتے ہیں اور ایام محدودہ کو رینگ رینگ کر بسر کرنے کے سوا کچھ نہیں ہو رہا۔ لاکھ کاوشوں کے باوجود ہم بے نشان منزل کی مسافر ہیں۔کبھی غور ہی نہیں کیا کہ ہم اس حالت کو کیسے پہنچے اور اب ان مسائل کا حل کیا ہے؟ مادیت پرستی اور افرا تفری کے اس دور میں آج ہماری زندگیاں اخلاقی زبوں حالی کا شکار ہیں، ہماری معاشرت سے انسانی خصائل ناپید ہو چکے ہیں، کوئی ایسا عمومی عیب نہیں جو ہماری فطرت ثانیہ نہ بن چکا ہو۔ کوئی ایسی برائی نہیں جس میں ہم مبتلا نہ ہوں اور ایسی اخلاقی خرابی نہیں جو ہماری قومی بنیادوں کو کمزور نہ کر رہی ہو۔
دراصل اخلاقی اقدار وہ اصول ہیں جو فیصلہ کرتے ہیں کہ کون سے افعال صحیح ہیں اور کون سے اعمال غلط، جب کوئی شخص اس طرح کے اقدار کو اپنے روزمرہ طرز عمل میں لاگو کرتا ہے تو وہ اخلاقی طور پر وہ کام کرتا ہے جس کی مثالیں ذمہ داری، دیانتداری، وفاداری اور اخلاص ہیں۔ہمار ا معاشرہ اس مقام پر آکھڑا ہوا ہے کہ جہاں بڑوں کا احترام اور چھوٹوں سے شفقت،ذاتی مفاد کی نفی اور انسانیت کا درد سب ناپید ہوچکے۔جانے کہاں گئے وہ لوگ جو تعلقات سماجی رتبوں، شان و شوکت، ذاتی مفادات کو دیکھ کر استوار نہیں کرتے تھے بلکہ نظریات جن سے ملک و قوم، معاشرے کو بہترین بنانا اور اخلاقیات کو نبھانا، سماجی اور مذہبی فریضہ سمجھا جاتا تھا۔ معاشرہ کے افراد کا ایک دوسرے سے تعلق ہر خوشی‘ غمی پر مزید مضبوط ہوجاتا تھا اور اپنے معاشرے کے سفید پوش، مجبور، بے سہارا، ناداروں کے ساتھ کھڑے ہونا قابلِ سعادت رسم چلی آرہی تھی،لیکن پھر ہم نے اغیار سے ترقی اور جدت مستعار لی جس سے ہمارا طرز زندگی یکسر بدلااور زمانے کے یہی بدلے انداز ہمارا معیارزندگی بن گیا،جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ملک، معاشرہ اورانسانیت کی بنیاد ہی ختم ہو گئی ۔ ہم نے تعصب، سٹیٹس اور بس پیسے کمانے کے چکر میں اپنی روایات کو چھوڑ دیا، جس کاخمیازہ ہماری نسلوں کو تباہی کی صورت میں مل رہا ہے۔شاید ہم بھول چکے ہیں کہ ہماری بہت ہی شاندار و اعلیٰ اوصاف پر مشتمل تہذیب ہوا کرتی تھی جس میں معاشرتی تفریق کا تصور تک نہ تھا۔غیر اخلاقی ویڈیوز اور بہتان بازی کا مقابلہ تو دور ،ایک دوسرے سے مخاطب ہوتے ہوئے غیر اخلاقی جملوں کا استعمال بھی معیوب سمجھا جاتا تھا۔ معاشرے میں کسی غریب گھرانے کو تنگی کا احساس نہیں دلایا جاتا تھا بلکہ اللہ کریم کے حکم ’’ان کے چہروں سے انہیں پہچان لیا کرو‘‘ صاحب ِ ثروت خود سے ان کی مجبوریوں کا خیال رکھتے تھے، دوسروں کیلئے آسانیاں باٹنا سعادت سمجھا جاتاتھا۔ لیکن اب احساس توکجا ہم بغیر دِل آزاری کیے نہ تو کوئی بات مکمل کرپاتے ہیں اور نہ کوئی محفل سجتی ہے۔آج کے ماڈرن اور تعلیم یافتہ طبقے کو معلوم ہونا چاہیے کہ ہماری تہذیب کے وارثوں کو تعلیم یافتہ ثابت کرنے کیلئے تعلیمی اسناد دکھانے کی ضرورت نہیں ہوتی تھی بلکہ اخلاق،اندازِ گفتگو،نشست و برخاست اور تہذیبی رکھ رکھا ئو ہی خاندانی ہونے کی عام نشانیاں تھیں۔ آج کی طرح برانڈڈ لباس،جوتے اور پرس یعنی ظاہری اور اوپری لبادہ کسی کے خاندانی وقار میں اضافے کا سبب نہیں بنتا تھا بلکہ یہ نو دولتیا پن کہلاتا تھا۔اَدب و احترام، انسانیت، ہمدردی، اخوت کا رجحان تو یکسر ختم ہو گیا، پہلے محلوں میں ایک دوسرے کے ساتھ ہمدردی، رواداری، احساس اور اپنائیت کی فضا ہوا کرتی تھی، افسوس کہ آج کمزور اور غریب طبقے کیلئے قبرستان میں قبر کا حصول تک ممکن نہیں۔فیس بک آنے سے پہلے گھروں میں بچوں اور بڑوں کو کتاب پڑھنے کی ترغیب دی جاتی تھی بلکہ بہترین تحفہ کتاب، گھڑی اور پین سمجھا جاتا تھا ۔ تسلیم کرنا پڑے گا کہ اب ہمارامعاشرہ غریب پرور نہیں رہا ۔ سیاست کے میدان سے لے کر ،کچن میں ہنڈیا پکانے تک بچوں کا راج ہے،بزرگوں اور بڑوں کی رائے کو بحیرہ عرب میں دفن کر دیا گیا ہے،جس کے بھیانک نتائج سامنے آنے لگے ہیں۔ ہماری زندگیوں میں ٹھہرائو، تحمل اور برداشت کا سلسلہ رُک سا گیا ہے۔ اب کسی کیلئے کوئی آنکھ نہیں بھیگتی ،کوئی زبان درد بیان نہیں کرتی، کسی کی مجبوری کو رفع کرنا اور دکھ سکھ بانٹ لینا خوبی نہیں، کمزروی اور سٹیٹس کے خلاف عادت سمجھی جاتی
ہے۔روپے پیسے کی اہمیت ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ ہی رہے گی، لیکن اس کو قبلہ و کعبہ بنا لینا کچھ عرصہ پہلے ہی ہمارے حصہ میں آیا اور اب ہم میں رچ بس گیا ہے۔ ہم سب روپے پیسے کمانے میں ایسے لگے کہ اپنے بچوں کو نہ اچھا بچپن دے پارہے ہیں اور نہ ہی اچھی شخصیت۔ نفسا نفسی کے اس دور میں کون غریب کون امیر، کون بڑا، کون چھوٹا؟ کیا تہذیب، کیا بد تہذیبی؟ کسی کے پاس کسی کیلئے وقت ہی نہیں رہا۔ یقیناً انسانیت کے دم سے ہی معاشروں میں رونق ہوتی ہے اور احساس کے دم سے ہی معاشرہ میں بھلائیوں اور اچھائیوں کی آمد جاری رہتی ہے۔ روز ایک نئی دوڑ تیز اور تیز بھاگنے پر مجبور کر دیتی ہے اور ہم کسی اور کام کے قابل نہیں رہے۔مطلب پرستی، انا، عصبیت اور مانگے تانگے کے موجودہ کھوکھلے نظام نے ہمیں اس حال تک پہنچا دیا۔ انسانی تاریخ گواہ ہے کہ جس معاشرے سے ہمدردی،عزت و تکریم، احساس اور خدا خوفی رخصت ہو جائے وہ معاشرے تباہ و برباد ہو جاتے ہیں۔یقین کیجیے کہ جن لوگوں نے اپنی تہذیب، تمدن اور اخلاقی روایات کی قدر کی، اپنی معاشرتی اقدار کو مقدم جانا، اپنے ملک، قوم، معاشرے کو مقدم رکھا، ان کی مثالیں دُنیا دیتی ہے۔ ان لوگوں سے قوم نے ہی نہیں بلکہ باقی اقوام نے بھی بہت کچھ سیکھا۔ روپیہ پیسہ ایک حقیقت ہے لیکن یہ سب کچھ نہیں ہے۔ دراصل اچھی اقدار اور محنت سے زندگیاں بدلتی ہیں۔ آئیں ایک نئی سوچ کے ساتھ اپنی زندگیاں بدلیں، یقین کریں انسانیت اور دوسروں کی بھلائی میں حقیقی حسن ہے اور اس منزل کا ایک ہی راستہ ہے وہ ہے سیرتِ مصطفیٰﷺ کو زندگی میں عملی طور پر شامل کرنا، اس سے آخرت تو سنورے گی ہی، دنیا بھی جائے امن و سلامتی بن جائے گی۔پہلی دفعہ حکومتی سطح پرسیرتِ مصطفیٰﷺ کو اپنانے پر زور دیا جارہا ہے جو کہ خوش آئند ہے۔اغیار نے ہمارے اپنوں کو ساتھ ملا کر ہماری تہذیب،روایات اور مذہبی خیالات کو داغ دار بنا دیاہے۔پیارے نبی حضرت محمدمصطفیٰﷺ کی زندگی جو کہ بہترین نمونہ ہے کو اپنا کر ہی ہم وہ خواب شرمندہ تعبیر کرسکتے ہیں جو علامہ اقبال نے دیکھا اور سیرتِ معصطفیٰﷺ ہی وہ واحد شمع ہے جس سے قائد اعظم کے اس گلشن میں بہار آسکتی ہے۔ مشکلات اقوام پر آتی رہتی ہیں،بطور مسلمان ہمارا ایمان ہے کہ ہر مشکل کے ساتھ آسانی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button