CM RizwanColumn

عمران خان کا فوج کے ساتھ ماضی اور حال ۔۔ سی ایم رضوان

سی ایم رضوان

 

مسلم لیگ نون کی سینئر نائب صدر مریم نواز نے اپنی ایک تازہ پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ عمران خان کے سیاسی استاد جنرل (ر) پاشا اور جنرل (ر) ظہیر الاسلام ہیں۔ انہوں نے سوال کیا ہے کہ کیا اسٹیبلشمنٹ نے کہا تھا کہ عمران خان توشہ خانے کے تحائف بیچ دے اور اپنی آمدن کے گوشوارے بھی درست طریقہ سے الیکشن کمیشن میں جمع نہ کروائے۔ انہوں نے کہا کہ جب فوج اس کی حمایت میں قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے کام کر رہی تھی تو تب یہ راگ الاپتا تھا کہ فوج اور عمران حکومت ایک پیج پر ہیں اور جب اسے آئینی طریقے سے عدم اعتماد کے ذریعے حکومت سے علیحدہ کر دیا گیا تو یہ فوج پر تنقید کرنے لگا، حالانکہ اسے نہ تو فوج نے اور نہ ہی امریکہ نے وزارت عظمیٰ سے ہٹایا ہے بلکہ موجودہ حکومت ایک آئینی حکومت ہے۔ انہوں نے کہا کہ سابقہ دور میں مسلم لیگ نون کی اسٹیبلشمنٹ پر تنقید اصلاح کیلئے تھی جبکہ عمران خان اب فوج کو مارشل لاء کی دعوت دے رہا ہے۔
دوسری طرف پی ٹی آئی کے حامی حلقوں میں بڑی تعداد ایسی ہے جن کے مطابق شاید عمران خان کے عہدے سے ہٹائے جانے میں پاکستان کی اپوزیشن کے علاوہ فوج بھی شامل تھی۔ جس کے نتیجے میں بظاہر عمران خان کے حامی معلوم ہونے والوں کی جانب سے ٹویٹر پر افواج پاکستان کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ خصوصی طور پر آرمی چیف قمر جاوید باجوہ کے خلاف چلائے جانے والے ٹویٹر ٹرینڈ، ٹاپ ٹرینڈ میں شامل ہیں۔ ان ٹرینڈز کے ردعمل پر اب ادارے بھی حرکت میں آ گئے ہیں۔ یہاں تک کہ ڈی جی آئی ایس آئی نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ فوج کو بغیر کسی وجہ ثبوت اور بنیاد کے تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ شروع میں ایف آئی اے نے ایسے ٹرینڈ چلانے والے لوگوں کے خلاف کریک ڈاؤن بھی شروع کیا تھا۔اس وقت تک ایف آئی اے کی جانب سے کئی اکاونٹس کی لوکیشن بھی معلوم کر لی گئی۔ جس کے بعد اب تک ایسے دس بارہ لوگوں کو گرفتار بھی کر لیا گیا۔ جن پر آرمی چیف کے خلاف ٹرینڈ چلانے کا الزام ہے جو وہ مبینہ طور پر کئی اکائونٹس کے ذریعے کر رہے تھے۔ ایف آئی اے حکام نے دعویٰ کیا تھا کہ ایک شخص کو لاہور سبزہ زار سے گرفتار کیا گیا جس کا تعلق ایک سیاسی جماعت سے ہے۔ وہ شخص اکیس سو سے زیادہ اکاؤنٹس کے ذریعے پاک فوج اور ان کے سربراہ کے خلاف
سوشل میڈیا پر مہم چلا رہا تھا۔ جب سابق وزیر اعظم عمران خان کو تحریک عدم اعتماد کے ذریعے ان کے عہدے سے ہٹایا گیا تھا تو اس کے فوری بعد یہ ٹرینڈز سامنے آئے تھے۔ اس سارے معاملے میں جو چیز سب سے زیادہ دیکھنے کو ملی وہ یہ ہے کہ پی ٹی آئی سے وابستہ بعض لوگوں کے خیالات میں ایک دم سے تبدیلی آئی۔ سابق وزیر اعظم عمران خان کے حق میں نکالی گئی ریلیوں میں لوگوں میں فوج کے خلاف شدید غصہ دیکھا گیا۔ ریلیوں میں امریکہ اور فوج مخالف نعرے بھی لگائے گئے۔ پی ٹی آئی کے بعض کارکنوں نے الزام عائد کیا کہ ‘عمران خان کو عہدے سے ہٹانے والے باجوہ صاحب ہیں۔
جب ان سے یہ سوال کیا جاتا ہے کہ پہلے آپ کی پارٹی کی جانب سے ہی کہا جاتا تھا کہ فوج اور عمران خان ایک پیج پر ہیں؟ تو جواب دیا جاتا ہے کہ ‘ہم پوری فوج کی بات نہیں کر رہے ہیں۔بعض لوگ یہ قیاس آرائی کرتے رہے ہیں کہ یہ سب اس لیے کیا جا رہا تھا کیونکہ آرمی چیف مزید ایکسٹینشن لینا چاہتے تھے جس پر عمران خان نے انکار کیا تھا۔ ان خیالات کا اظہار لوگوں نے پوسٹرز کے ذریعے بھی کیا۔ کئی پوسٹرز ایسے تھے جن میں باقاعدہ طور پر آرمی چیف کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا، لیکن اس پراپیگنڈا کا جواب بھی آرمی چیف نے ریٹائرمنٹ لینے کا اعلان کر کے عملی طور پر دے دیا ہے۔افسوس صد افسوس یہ ہے کہ یہ رویہ صرف یہاں تک ہی محدود نہیں بلکہ حساس اداروں نے جب ان ٹرینڈز میں حصہ لینے والے سوشل میڈیا اکائونٹس کا جائزہ لیا تو ان میں کچھ ایسے تھے جنہوں نے دو دن کے اندر اندر تین ہزار سے زیادہ ٹویٹس کیں۔ یہی نہیں بلکہ ری ٹویٹس کرنے کا سلسلہ بھی بڑی تعداد میں جاری رہا۔ پی ٹی آئی سے وابستہ لوگوں پر یہ تنقید بھی اصولی طور پر کی جا رہی ہے کہ یہی وہ لوگ ہیں جو پہلے فوج اور آرمی چیف کے بارے میں مثبت باتیں کرتے تھے اور اب یہی وہ لوگ ہیں جو ان کے خلاف باتیں کر رہے ہیں۔ اس پہلو کو دیکھنے کیلئے جب ایسے اکائونٹس کا جائزہ لیا گیا جو ماضی میں تو فوج کے حق میں بات کرتے تھے لیکن پھر فوج کے خلاف بات کر رہے ہیں۔ ایک ٹویٹر صارف نے ماضی میں لکھا تھا کہ کوئی بھی جو یہ دلیل دیتا ہے کہ عمران خان اور فوج ایک پیج پر نہیں ہیں اسے ذرا بھی معلوم نہیں کہ فوج کیسے کام کرتی ہے۔ پاک فوج آدمی کی قدر اچھی طرح جانتی ہے جبکہ اسی صارف نے بعد ازاں وزیراعظم شہباز شریف کی تقریب حلف برداری میں جنرل باجوہ کی غیر موجودگی سے متعلق لکھتے ہوئے تنقید کی تھی۔ ایک خاتون صارف نے بھی ماضی میں عمران خان کی فوج کے بارے میں کی گئی تقریر شیئر کر کے لکھا تھا کہ یہ ان تمام لوگوں کو جو پاکستان کی فوج اور حکومت کو ایک پیج پر ہوتے دیکھنا ہضم نہیں کر سکتے۔ عمران خان آپ پر بہت فخر ہے، جناب وزیراعظم آپ ہم سب پاکستانیوں کی آواز بن گئے ہیں جبکہ پھر انہوں نے وزیر اعظم شہباز شریف کی حلف کی تقریب کی تصویر شیئر کی جس میں مریم نواز اور فوج اور دیگر سکیورٹی اداروں کے افسران ایک ہی صف میں بیٹھے تھے۔ اس معاملے پر ڈیجیٹل میڈیا کے ماہر اسامہ خلجی نے ٹویٹ کیا تھا کہ پاکستان میں کل 3.3 ملین ٹویٹر صارفین ہیں، لیکن پی ٹی آئی کے ہیش ٹیگز 3 ملین سے زیادہ ٹویٹس دکھا رہے ہیں۔ میں یہ نہیں کہہ رہا کہ ان کے پاس ٹویٹ کرنے والے زیادہ لوگ نہیں ہیں، لیکن اس حد تک نہیں جو دکھایا جا رہا ہے۔
یہ تمام حقائق ثابت کرتے ہیں کہ پی ٹی آئی کا فوج کے خلاف حالیہ بیانیہ ایک سیاسی فائدے کے حصول کے سوا کچھ بھی نہیں۔ ایک دور میں جبکہ عمران خان حکومت کے مزے لے رہے تھے اور ان کی پارٹی کے لوگ اقتدار کے جھولے جھلا رہے تھے تو ساری کی ساری جماعت نہ صرف فوج کے حق میں زمین وآسمان کے قلابے ملا رہے تھے اور مثبت تنقید کو بھی غداری قرار دینے سے نہیں چوکتے تھے جبکہ اب وہ ساری باتیں کی جارہی ہیں جو کہ نون لیگ غداری قرار دے سکتی ہے مگر وہ ایسا کچھ نہیں کررہی کیا یہ سیاسی بڑا پن نہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button