Ahmad NaveedColumn

خواتین کی جدوجہد کی کہانی ۔۔ احمد نوید

احمد نوید

خواتین نے پچھلے سو سالوں میں حقوق نسواں کی کئی تحریکوں کو جنم دیا۔ یہ تحریکیں قانونی حقوق کے حصول سے لے کر شخصی آزادی ، ہراساں او ر جنسی تعصب سے آزادی اور مساوی حقوق حاصل کرنے پر مشتمل تھیں ۔ دنیا بھر میں مساوات کیلئے خواتین کی جدوجہد کی کہانی کسی ایک فیمنٹ یا کسی ایک تنظیم یا ملک کی کہانی نہیں بلکہ یہ ایک عورت کے حق کی لڑائی ہے جو دنیا کے کسی بھی گائوں، بستی ، شہر یا ملک میں رہتے ہوئے لڑی گئی ہے ۔ ماضی میں خواتین کے نہ صرف حقوق محدود تھے بلکہ اُنہیں چند ملازمتوں کی اجازت تھی ۔ حتیٰ کہ ووٹ ڈالنے کا حق بھی حاصل نہ تھا۔ امریکہ میں کانگریس نے امریکی آئین میں 19ویں ترمیم کر کے 1920ء میں خواتین کو پہلی بار ووٹ ڈالنے کا حق دیا۔ خواتین کو حقوق حاصل ہونے کا سفر یورپ سے شروع ہوا تھا۔ دوسری جنگ عظیم کے دوران جب یورپی ممالک کی معیشتوں کو نقصان پہنچا تو خواتین کو مردوں کے برابر کام کرنے کا مواقع دستیاب ہونے لگے۔ یہ وہ وقت تھا جب ایک خاتون ورکر کا پوسٹر بہت مشہور ہوا تھا، جس پر لکھا تھا We can do it!امریکہ کی سماجی کارکن اور لکھاری بیٹی فریڈن (Betty Friedan)خواتین کے حقوق کے حوالے سے 1963میں The Feminine Mystiqueنامی کتاب لکھی تھی جو نہ صرف بہت مشہور ہوئی بلکہ اُس کتاب کی وجہ سے دنیا بھر میں حقوق نسواں کی دوسری لہر اُٹھی۔ حقوق نسواںکی اس دوسری لہر نے خواتین کے مساوی حقوق کے ساتھ ساتھ زیادہ سے زیادہ ذاتی آزادی کی بھی کوشش کی ۔ اس تحریک اور ذہانت کو استعمال کرنے کی اجازت ملنی چاہیے ۔خواتین کے حقوق کی جدوجہد میں تاریخی موڑ امریکی مساوی تنخواہ ایکٹ تھا۔ 1963 میں امریکی صدر جان الف کینیڈی نے مساوی تنخواہ کے قانون پر دستخط کیے تھے ، جوصنفی بنیاد پر تنخواہ کے تغاوت کو دور کرنے کے امتیازی سلوک کے خلاف پہلا قانون تھا۔
یہ پہلا موقع تھا کہ جب مہارت، قابلیت اور ذمہ داری کی بنیاد پر مرد اور عورت کے تنخواہ کے لفافوں میں برابری پائی گئی ۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد خواتین کی بڑھتی ہوئی تعداد نے اعلیٰ تعلیم کی جانب قدم بڑھائے ۔ 1968میں امریکی ریاست شکاگو میں پہلی قومی حقوق نسواں کانفرنس منعقد ہوئی ۔ اگلے سال بلیک فیمینزم کی حمایت میں خواتین نے آزادی مارچ بھی کیا ، جبکہ فیمینزم یعنی حقوق نسواں یا خواتین کی آزدی کیلئے استعمال کئے جانے والے اس لفظ یا اصطلاع کا استعمال پہلی بار 1837میں کیا گیا۔ 1851میں امریکی حقوق نسواں کی رکن اور سابقہ غلام سیاہ فام سوجورنرٹروتھ (Sojourner Truth)کی تقریر ’’کیا میں ایک عورت نہیں ہوں ‘‘ نے بھی دنیا کو سنجیدگی سے خواتین کے حقوق کی جانب توجہ کرنے پر مجبور کیا۔ حق رائے دہی کے حوالے سے نیوزی لینڈ سرفہرست ہے ، حالانکہ امریکہ میں خواتین کو 1920میں ووٹ ڈالنے کا حق ملا، مگر نیوزی لینڈ وہ پہلا ملک ہے جہاں 1873میں پارلیمنٹ میں خواتین کو ووٹ ڈالنے کی اجازت دینے کیلئے 270 میٹر لمبی پٹیشن پیش کی گئی ۔ غالباً یہی وہ دور تھا جب دو پہیوں والا معجزہ یعنی سائیکل ایجاد کی گئی ۔ سائیکل کی سواری نے یورپ سمیت دنیا کے بہت سے دوسرے ممالک میں بھی خواتین کو نقل و حرکت اور آمد ورفت کی آزادی کی راہ ہموار کی ۔ہر سال 8مارچ کو منائے جانے والے خواتین کے عالمی دن کی ابتداء 1911ء میں ہوئی تھی ۔ ا بتدائی سالوں میں پہلی جنگ عظیم کے خلاف احتجاج کا ایک طریقہ کار تھا۔ انہی سالوں میں روس میں ہونے والے خواتین کے ایک بہت بڑے احتجاج میں اِن روسی خواتین نے ’’روٹی اور امن ‘‘ کا مطالبہ بھی کیا تھا ۔ بعد ازاں یہ دن روس میں قومی تعطیل قرار دے دیا گیا ۔ مورخین کا یہ خیال بھی ہے کہ روسی انقلاب کی بنیاد بھی اسی سوچ کا شاخسانہ تھی۔دوسری جنگ عظیم کے بعد 1945 میں بین الاقوامی تعاون کو فروغ دینے کیلئے اقوام متحدہ کو تشکیل دیا گیا ۔ اقوام متحدہ کے چارٹر میں صنفی مساوات کو شامل کیا اور لکھا گیا
’’ہم عوام ، مرد اور عورت کے مساوی حقوق پر یقین کا اعادہ کرتے ہیں ‘‘۔1946میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی افتتاحی اجلاس میں امریکی صدر روز ویلٹ نے دنیا کی خواتین کے نام ایک کھلا خط پڑھا ، جس میں خواتین کی قومی اور بین الاقوامی معاملا ت میں اُن کی بڑھتی ہوئی شمولیت پر زور دیا۔ 1947میں پاکستان کا قیام وجود میں آیا اور 1952میں عاصمہ جہانگیر جیسی بہادر اور دلیر بیٹی پاکستان کو ملی۔ عاصمہ جہانگیر نے پاکستان کے آزاد اور انسانی حقوق کمیشن کی بنیاد رکھی اور اس انسانی حقوق کے کمیشن کو پاکستان کی مظلوم نسلی اور مذہبی اقلیتوں ، خواتین ، بچوں اور سیاسی اختلاف کرنے والوں کے حقوق کی طرف توجہ دلانے کیلئے انتھک محنت سے استعمال کیا گیا۔ عاصمہ جہانگیر جبری گمشدگیوں کے خلاف مضبوط آواز بنی۔ وہ مظلوم مزدور طبقے کی نمائندہ تھیں ۔ 80کی دھائی کے وسط میں عاصمہ ،جنرل ضیا ء الحق کی آمریت کے خلاف کانٹا بنی رہی ۔ عاصمہ جہانگیر صاحبہ نے بہت سی کتب بھی لکھیں۔ انہوں نے پاکستان میں استحصال اور تکلیف دہ زندگی گزارنے والے لاکھوں بچوں کے حقوق کے حوالے سے بھی بہت سی خدمات سر انجام دیں۔ عاصمہ جہانگیر انسانی حقوق کے حوالے سے پاکستان کا بہت معتبر نام ہے ۔ گذشتہ دنوں عاصمہ جہانگیر کانفرنس میں سکیورٹی اداروں کے خلاف لگنے والے نعرے نہایت نا مناسب تھے، جس کی وزیراعظم پاکستان شہباز شریف، وزیر خارجہ بلاول بھٹو اور سابق صدر آصف زرداری صاحب نے بھی مذمت کی ۔ آزادی اظہار کا ہر گز یہ مطلب نہیں کہ ہم اپنے اداروں کیلئے نا مناسب الفاظ استعمال کریں ۔ پاکستان میں سب نے مل کر دہشت گردی کا مقابلہ کیاہے ۔ ہم سب اس کا شکار رہے ہیں ۔ لیکن پاک فوج نے صف اول پر کھڑے ہو کر اپنا کردار ادا کیا۔ ہماری پاک فوج آج بھی دہشت گردوں کے نشانے پر ہے ۔ لہٰذا اس طرح کے نعرے لگاتے ہوئے ہمیں سوچنا چاہیے کہ ہمارے وہ جوان جو دہشت گرد وں کا مقابلہ کر رہے ہیں ۔ اُنہیں اس طرح کے نا مناسب نعروں سے تکلیف پہنچے گی ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button