CM RizwanColumn

باپ بیٹی کا رشتہ اور تقدیر .. سی ایم رضوان

سی ایم رضوان

 

عام اتفاق پایا جاتا ہے کہ ایک باپ اپنی بیٹیوں کو جو آسائشیں، سہولیات اور جائیدادیں مہیا کرتا ہے وہ اس کی محبت، بیٹیوں کو دیئے جانے والے وقت اور پدرانہ شفقت کا نعم البدل نہیں ہو سکتیں اور اگر بیٹیاں باپ سے بوجوہ دور ہو جائیں تو ہر روز دن میں چند گھنٹے ایسے ضرور ہوتے ہیں جب بیٹیاں اپنے باپ کی غیر موجودگی کو شدت کے ساتھ محسوس کرتی ہیں۔ عام طور پر یہ بھی کہا جاتا ہے کہ مائیں بیٹیوں کے مقابلے میں بیٹوں کو زیادہ چاہتی ہیں جبکہ بیٹیاں اپنی ماں کے مقابلے میں باپ کو زیادہ پیار کرتی ہیں تاہم پدرانہ شفقت کے معیار کا تعین کرنا مشکل ہے۔ باپ اپنی بیٹیوں کے لیے ایک تناور درخت کی طرح ہوتا ہے جس کے سائے میں وہ پرورش پاتی ہیں۔ بچپن سے لے کر جوانی حتیٰ کہ اپنے گھروں کو چلے جانے کے بعد بھی باپ کا حوصلہ افزاء رویہ بیٹیوں کی صلاحیتوں کو پروان چڑھانے میں معاون اور مددگار ہوتا ہے۔ نفسیاتی سائنس کے مطابق سماجی اقدار کی پاسداری، باہمی اعتماد اور باپ کی پرخلوص اور بے لوث محبت ایک بیٹی کو مستقبل میں کامیاب زندگی گزارنے کے لیے معاون ثابت ہوتے ہیں۔ ایک باپ کا اپنی بیٹی کے ساتھ مشفقانہ رویہ اور محبت ایک ایسا بہترین تحفہ ہے جس سے اس کی بیٹی کی شخصیت میں نہ صرف خود اعتمادی پیدا ہوتی ہے بلکہ وہ مستقبل میں ایک کامیاب زندگی بھی کامیابی کے ساتھ بسر کرتی ہے۔ اکثر اوقات باپ کا رویہ اپنی بیٹی یا بیٹیوں کے ساتھ دلی طور پر مشفقانہ ہی رہتا ہے لیکن کہیں کہیں بظاہر
یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ باپ کو اپنے دل میں بیٹی کی محبت کو جگانا پڑتا ہے۔ بعض اوقات ایسی صورت میں ایک بات جس کا اظہار بیٹیاں نہایت آزادانہ طور پر کرتی ہیں وہ یہ ہے کہ ’’میں چاہتی ہوں کہ میرے والد مجھے بتائیں کہ وہ مجھے کتنا پیار کرتے ہیں؟‘‘اس سوال کے بارے میں ایک ماہر نفسیات کا کہنا ہے کہ بیٹیاں اس کے جواب میں اپنے باپ کی بے پایاں اور غیر متبدل محبت کا بے ساختہ اور بھرپور اظہار اپنے کانوں سے سننا چاہتی ہیں۔ لیکن یہ اظہار اس وقت وہ نہیں سن پاتیں جب بعض اوقات ان کے باپ انہیں نظم و ضبط اور دیگر ضابطوں اور ترجیحات کا پابند بنانا چاہتے ہیں اور اس کے لیے سخت گیر رویہ اختیار کرتے ہیں لیکن بیٹیوں کو چونکہ باپ کی پدرانہ شفقت کی فطری ضرورت ہوتی ہے اور یہ نفسیاتی ضرورت پوری نہ ہونے پر وہ غم، رنج، احساس محرومی یا پھر دیگر نفسیاتی مسائل میں الجھ جاتی ہیں۔ لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ باپ اپنی بیٹی یا بیٹیوں کے ساتھ اپنے رویوں پر وقت بہ وقت غور کرتے رہیں اور بوقت ضرورت تبدیل کرتے رہیں۔ اگر آپ انہیں نظم و ضبط یا کسی غیر عمومی صورت کا پابند بنانا چاہتے ہیں یا کسی چیلنج کے لیے یکسو کرنا چاہتے ہیں تو محبت اور نرم رویے سے سمجھائیں تو یہ سختی کے مقابلے میں زیادہ صحت مندانہ رویہ ہوگا۔ بیٹیاں باپ کواپنا آئیڈیل سمجھتی ہیں‘ لہٰذا اگر باپ کا رویہ سخت ہو تو اس سے بچیوں کی شخصیت پر منفی اثر پڑتا ہے اور وہ ماں کے مقابلے میں باپ سے زیادہ سہمی ہوئی رہنے لگتی ہیں۔
ہمارے مشرقی ماحول میں باپ کا گھر کے سربراہ کی حیثیت سے رویہ گھر کے تمام افراد کے ساتھ بعض اوقات دوستانہ کے بجائے حاکمانہ ہوتا جس سے بچوں، خصوصاً بیٹیوں کی شخصیت پر دبائو کی سی کیفیت طاری رہتی ہے اور پھر وہ پوری زندگی مرد کو سخت گیر ہی سمجھتی رہتی ہے اور اس طرح آگے چل کر ان کی ازدواجی زندگی بھی متعدد مسائل کا شکار ہوسکتی ہے۔ لہٰذا ضروری ہے کہ بچوں خصوصاً لڑکیوں کو نظم و ضبط کا پابند بنانے کے سلسلے میں باپ کو مشفقانہ رویہ اپنانا چاہیے۔ اس طرح بچیاں نہ صرف پابندیوں یا نظم وضبط کو خوش دلی سے قبول کرلیتی ہیں بلکہ ان پر دل سے عمل بھی کرتی ہیں اور جیسے جیسے ان کی عمر بڑھتی جاتی ہے وہ باپ کے اصول کی تعریف اور ان کے مثبت اثرات کا اعتراف بھی کرتی ہیں لیکن ان ساری معمولی صورتوں کے علاوہ کچھ غیر معمولی اور جابرانہ صورتیں بھی ہوتی ہیں۔ مثال کے طور پر باپ غریب ہونے یا کم وسائل کا حامل ہونے کی وجہ سے بیٹیوں کو اس سطح کا نازونعم یا پرورش کا ماحول نہ دے سکتا ہو۔ باپ معذور یا کسی بھی حوالے سے مجبور ہو تو بیٹیوں کو اپنی ضرورت یا خواہش کا پورا ہونا مشکل ہو جاتا ہے۔ بیٹی چونکہ صنف نازک ہوتی ہے اور بعض بیٹیاں کسی بھی ہنگامی اور حادثاتی صورت کا مقابلہ مطلوبہ ہمت یا حوصلے سے نہیں کر پاتیں اس طرح صورت حال بڑی تشویش ناک اور غم ناک ہو جاتی ہے اور بعض بیٹیاں اس قدر ہمت اور جرات کی حامل ہوتی ہیں کہ وہ مشکل حالات میں نہ صرف باپ بلکہ پورے گھرانے اور خاندان کی ڈھارس بندھاتی ہیں۔ ایسی بیٹیوں کا ہونا یقیناً باپ کے لیے باعث فخر اور باعث تسکین ہوتا ہے۔ کیونکہ نصیب اور مصیبت تو بالآخر وارد ہوکر ہی رہتے ہیں اور ان کو ٹالا نہیں جاسکتا البتہ ہمت سے ان کا مقابلہ کرکے ان کی شدت اور تکلیف کو کم کیا جاسکتا ہے۔
لاہور کے علاقے ٹھوکر نیاز بیگ میں واقع ایک نجی ہسپتال کے انتہائی نگہداشت کے وارڈ میں زیر علاج اپنے ایک تاجر اور صنعتکار عزیز از جان دوست میاں رب نواز کی ان دنوں تیمارداری کے دوران راقم الحروف کو ایسی ہی نفسیاتی اور جذباتی صورتحال کو دیکھنے اور مشاہدہ کرنے کا مشکل ترین اور کربناک اتفاق ہو رہا ہے کہ ایک طرف باپ ہے جو مختلف خطرناک امراض کا علاج کروانے کے لیے آئی سی یو میں وینٹی لیٹر پر ہے اور دوسری طرف اس کی دو بیٹیاں نگرانی، نگہداشت اور تیمارداری کا فرض نبھا رہی ہیں۔ بڑی بیٹی علیشبا رب نواز جو ڈاکٹریٹ کی سٹوڈنٹ ہے اور انتہائی درجہ خود اعتمادی اور ہمت کی حامل ہے جو نہ صرف باپ کی بیماری اور علاج کے تکلیف دہ مراحل سے گزر رہی ہے بلکہ والد کو بھی ہمت و حوصلہ دے رہی ہے تو دوسری طرف چھوٹی بیٹی حمنا رب نواز ہے جو اعلیٰ تعلیم کے حصول کے مراحل میں ہے لیکن باپ کی بیماری اور تکلیف کی شدت کے مناظر دیکھنے سے خوفزدہ اور غمگین ہے۔ جسے الگ سے توجہ اور شفقت کی ضرورت ہے مگر شفقت سے نوازنے والا باپ خود بیماری اور اذیت میں مبتلا ہے۔ گو کہ ہسپتال کے ایم ایس ڈاکٹر تنویر بڑے مشفق تعاون کرنے والے اور توجہ دینے والے ایڈمنسٹریٹر ہیں۔ معالج ڈاکٹر ابوبکر صدیق گوندل بھی طبی اور اخلاقی حوالوں سے ایک مثالی ڈاکٹر ہیں۔ ہسپتال کی دیگر انتظامیہ بھی اچھی ہے مگر ان دو بیٹیوں کی باپ کی صحت کی نازک ترین صورتحال میں اذیت ناک کیفیت دیکھ کر دل سے بے ساختہ دعا نکلتی ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ ان معصوم بیٹیوں کے سروں پر ایک شفیق اور شجر سایہ دار کی سی حیثیت رکھنے والے باپ کا سایہ سلامت رکھے۔
راقم الحروف اپنے قارئین سے خصوصی طور پر ملتمس ہے کہ وہ میاں رب نواز موصوف کے لیے دعا کریں اللّٰہ تعالیٰ ان دو معصوم بیٹیوں کے والد کو صحت و عافیت عطا فرمائے۔ میاں رب نواز کے ساتھ راقم الحروف کے سابقہ تیس سال گواہ ہیں کہ وہ انتہائی رحم دل، غریبوں کی مدد کرنے والے، دیانتداری اور محنت سے تجارت و صنعت کے معاملات چلانے والے اور اپنے متعلقین کے محبوب ہونے کا درجہ رکھنے والے نفیس اور عظیم انسان ہیں۔ ایسے افراد کی نہ صرف ان کے خاندانوں بلکہ ان کے متعلقین اور احباب کو بھی شدید ضرورت ہوتی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button