CM RizwanColumn

سپاہی کی سچی گواہی ۔۔ سی ایم رضوان

سی ایم رضوان

 

حقائق چھپانے کو ظلم سے تعبیر کیا گیا ہے، سچی گواہی صرف عدالتوں میں قاضی، جج یا پنچایت کے سرپنج کے سامنے بولنے کا نام نہیں بلکہ اس کا دائرہ بہت وسیع ہے اسے ہم کسی ایک معاملے، شعبے یا سیکٹر میں محدود نہیں کر سکتے۔ اللہ کے آخری نبی محمد ﷺ نے انسانیت کی، اصلاح، آخرت کی تیاری اور نجات کیلئے بنی نوع انسان کو ایک طرف ہمیشہ سچ کو اپنانے، سچ کی تلاش اور سچ کی پیروی کی تلقین فرمائی ہے تو دوسری طرف قرب قیامت کی آزمائشیں اور بہت ساری نشانیاں بتلائی ہیں۔ ان بہت ساری نشانیوں میں سے ایک نشانی یہ بھی فرمائی کہ قرب قیامت میں انسانی معاشرہ میں سچی گواہی کو چھپایا جائے گا، گویا حق بات کو جانتے بوجھتے چھپایا جائے گا۔ چاہے بے گناہ انسانوں کے گلے ہی کیوں نہ کٹ جائیں۔
عام طور پر حقائق کو دو طریقوں سے چھپایا جاتا ہے ایک طریقہ دائرہ اسلام میں داخل ہو کر اور دوسرا طریقہ دائرہ اسلام میں داخل نہ ہو کر۔ پہلے ہم دوسرے طریقے کی بات کرتے ہیں مثلا سورج، چاند، ستارے، پھل، پھول، حیوانات، نباتات، بحروبر، بادلوں کا آنا جانا، رات اور دن کا آنا یہ سب کچھ جانتے ہوئے بھی دل سے انکار کر دینا اور اس پر جھوٹے اور عقلی دلائل دینے کی کوشش کرنا، حق جانتے ہوئے بھی باطل کا لبادہ اوڑھنا وغیرہ ہے۔ جیسا کہ دوسرے مذاہب عالم میں ہوتا رہا ہے۔ وہ تو کفر کے زمرے میں آتا ہے۔ اللہ ایسے لوگوں کو ہدایت دے۔ اب بات کرتے ہیں پہلے طریقے کی جو شخص دائرہ اسلام میں داخل ہوا، کلمہ پڑھا، نمازیں ادا کیں، اللہ کی ذات پر ایمان لایا اور آپ ﷺ کے فرامین کو مانتے ہوئے بھی حقائق کو چھپایا، چار ٹکوں کیلئے ایمان کا سودا کیا اور حق کی گواہی نہ دی، سچ کو چھپاتے ہوئے کسی کی زمین، مکان، دکان، گاڑی اور دیگر مال واسباب پر قبضہ کر لیا، راتوں رات حقائق چھپا کر تجاویز اور تحاریر تبدیل کیں، کاغذات نامزدگی تبدیل کئے، گواہان تبدیل کئے، جھوٹے گواہان خریدے، اصلی چیز کو چھپا کر جعلی چیزیں دکھائیں۔ غرض دنیا کی حرص اور لالچ میں اندھے ہو کر جھوٹ پھیلایا اور معصوم شہریوں کو جھوٹ کا پیروکار بنا دیا۔ سچ کو جھوٹ کے پردوں میں اس طرح چھپایا کہ انصاف دینے والے بھی، لینے والے بھی اور انصاف کے رکھوالے بھی سب کے سب اس بدترین گناہ میں ملوث ہوتے چلے گئے۔ بدقسمتی سے پاکستان میں یہ مکروہ دھندہ کئی سالوں سے چلتا آرہا ہے۔ ہمارے معاشرے میں سالوں سے جاری اس ظلم میں وقت کے ساتھ ساتھ مزید جدت آتی گئی۔یہاں تک کہ سیاست و حکومت میں بھی جھوٹ کا غلبہ ہوگیا۔ جمہوریت کے نظام کو بھی جھوٹ کے شکنجے میں جکڑ دیا گیا۔ جھوٹ کی بنیاد پر ہی بڑی بڑی سیاسی پارٹیوں نے اپنے منشور بنائے اور ان جھوٹے منشوروں کی بنیاد پر ہی ووٹ حاصل کر کے حکومتیں کی۔ حتیٰ کہ جھوٹ کامیاب اور حاکم بنتا گیا اور سچ محکوم اور کمزور ہوتا گیا۔ گویا کامیابی اور حاکمیت کا معیار ہی جھوٹ اور جھوٹا پراپیگنڈا بن گیا۔ چند سال قبل ان جھوٹوں کے اوپر ایک اور بڑا جھوٹ مسلط کر کے جھوٹ موٹ کا انصاف، جھوٹی تبدیلی اور جھوٹی آزادی کا پراپیگنڈا اس قدر اثر انگیزی کے ساتھ کیا گیا کہ سچ جھوٹ اور جھوٹ سچ محسوس ہونے لگا۔ پھر یہ کہ سچے کرداروں کے نام کے ساتھ غداری اور وطن دشمنی کے لاحقے لگا دیئے گئے۔ سوشل میڈیا پر جھوٹا پراپیگنڈا اس قدر تسلسل سے کیا گیا کہ محب وطن طاقتیں اور پاکستان کی سلامتی کے محافظ ادارے بیرونی دشمنوں سے زیادہ اندرونی بدخواہوں کے ٹاپ ٹرینڈز سے پریشان ہوگئے۔ اس زیادتی میں روز افزوں اضافے اور جھوٹ کے تسلسل کو روکنا اس قدر ضروری ہوگیا کہ ملکی تاریخ میں پہلی بار حساس ترین خفیہ ادارے آئی ایس آئی کے سربراہ کو خود آکر میڈیا نمائندگان کے سامنے سچ اور جھوٹ میں فرق بتانا پڑا۔پاکستان کی حالیہ تاریخ میں پہلی بار ہوا کہ اس کی مرکزی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی جوہر معاملے کے پس پردہ رہتی ہے، کے سربراہ نے پریس کانفرنس سے خطاب کیا اور ملک کی موجودہ سیاسی و سماجی صورتحال پر کھل کر بات کی ۔ ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل ندیم انجم نے ایک سال پہلے جب اپنے عہدے کا چارج سنبھالا تو اسی وقت ان کے بارے میں اطلاعات آئی تھیں کہ وہ پس منظر میں رہ کر کام کرنا پسند کرتے ہیں، حالانکہ ان کے پیشرو خبروں میں تو رہتے ہی تھے لیکن کئی ایک بار وہ کیمرے کے سامنے بھی آئے اور تقریبات میں بھی شرکت کی، بلکہ ایک بار تو انہوں نے افغانستان پر طالبان کے کنٹرول کے بعد کابل میں میڈیا سے ’اتفاقی گفتگو‘ بھی کر ڈالی تھی۔ تاہم جنرل ندیم انجم ڈی جی آئی ایس آئی کا چارج سنبھالنے کے بعد کبھی بھی میڈیا یا کسی عوامی تقریب میں سامنے نہیں آئے۔بلکہ یہاں تک اطلاعات آئیں کہ انہوں نے وزیراعظم اور دیگر اعلیٰ عہدیداران سے سرکاری ملاقاتوں کی تصاویر جاری کرنے سے بھی منع کر دیا تھا کیوں کہ وہ نہیں چاہتے تھے کہ ان کا چہرہ لوگوں کے سامنے آئے۔ اسی پس منظر میں جب انہوں نے جمعرات کے روز آئی ایس پی آر میں ہونے والی پریس کانفرنس میں شرکت کی تو یہ کوئی معمولی واقعہ نہیں تھا۔
پاکستان گزشتہ چند دہائیوں میں افغانستان جنگ، ملک کے اندر دہشت گردی، انڈیا کے خلاف کشیدہ صورتحال اور سیاسی ہنگامی صورتحال کے کئی
ادوار سے گزرا ہے لیکن آئی ایس آئی کے کسی بھی سربراہ نے کبھی بھی اس طرح پریس کانفرنس سے براہ راست خطاب نہیں کیا اور سوالوں کے جوابات نہیں دیئے لیکن تاریخ اور روایات سے قطع نظر ڈی جی آئی ایس پی آر اور آئی ایس آئی کے سربراہ نے مشترکہ پریس کانفرنس کی۔ اس غیر معمولی روایت کا سبب لیفٹیننٹ جنرل ندیم انجم نے ان الفاظ میں بیان کیا کہ ان کی پالیسی اور ان کے فرائض انہیں اس بات کی اجازت نہیں دیتے کہ وہ منظر عام پر آئیں لیکن ملک و قوم کی خاطر وہ آج سامنے آکر بات کر رہے ہیں، کیونکہ بعض اوقات جھوٹ کو جھوٹ ثابت کرنا پڑتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب انہیں یہ خدشہ محسوس ہوا کہ جھوٹ ملک میں فتنے اور فساد کا باعث بن رہا ہے تو انہوں نے منظر عام پر آ کر بات کرنے کا فیصلہ کیا کیونکہ جھوٹ کا جواب دینا ضروری ہو گیا تھا۔
اپنی گفتگو میں لیفٹیننٹ جنرل ندیم انجم نے کہا کہ ان کے سامنے آرمی چیف کو تاحیات توسیع کی پیشکش کی گئی جس کو انہوں نے ٹھکرا دیا۔ انہوں نے کسی کا نام لئے بغیر یہ بھی کہا کہ اگر آپ سمجھتے ہیں کہ آرمی چیف غدار ہے تو اس کو بار بار توسیع دینے کا کیوں کہتے رہے۔ آپ راتوں کو ان سے ملتے کیوں ہیں؟اور ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ میر جعفر ، میر صادق ، غدار، نیوٹرل اور جانور کہنا اس لیے نہیں کہ میرے ادارے نے، میری ایجنسی نے، آرمی چیف نے غداری کی ہے۔ یہ اس لیے بھی نہیں ہے کہ انہوں نے کوئی غیر قانونی کام کیا ہے بلکہ یہ اس لیے ہے کہ انہوں نے، ان کے ادارے نے غیر آئینی، غیر قانونی کام کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ جنرل باجوہ نے اپنی ذاتی انا بھی قربان کی۔ ان پر ان کے بچوں پر کتنی تنقید کی گئی۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ انہوں نے خود کبھی نیوٹرل کا لفظ استعمال نہیں کیا بلکہ ہمیشہ کہا ہے کہ ہم غیر سیاسی ہیں اور اس پر انہیں جانور کہا جاتا ہے،پاکستان کا آئین شریعت کے عین مطابق ہے۔ اس میں کسی کو کوئی شک نہیں ہے۔ پاکستان کا آئین اسلامی مملکت کا آئین ہے اور اسی میںلکھا ہے کہ ادارے اپنا کردار اپنی آئینی حدود میں رہ کر ادا کریں گے اور اسی آئین کے اوپر ہم حلف لیتے ہیں، ڈی جی آئی ایس آئی نے صحافیوں کے کئی سوالوں کے کھل کر اور واضح جواب دیئے۔ تاہم ایک موقع پر انہوں نے یہ بھی کہا کہ بعض اوقات سچ کو خفیہ بھی رکھنا پڑتا ہے کیونکہ بعض اوقات بہت زیادہ سچ بتانا شر بھی بن جاتا ہے۔
ہر باخبر پاکستانی جانتا ہے کہ یہ پریس کانفرنس ایک تشویش ناک ماحول کے پس منظر میں ہو رہی تھی۔ اس دوران دونوں فوجی افسران کے چہرے زیادہ تر سپاٹ رہے۔ تاہم ایک لمحہ ایسا بھی آیا جب ندیم انجم کے چہرے پر اس وقت خفیف سی مسکراہٹ پھیل گئی جب ایک صحافی نے ان کے طرز تکلم کو سراہا اور کہا کہ آپ اردو بہت اچھی بولتے ہیں۔ اگرچہ ڈی جی آئی ایس آئی نے آرمی چیف کی سیاستدان (عمران خان) سے ملاقاتوں کی تصدیق کی اور مزید مذاکرات کے امکان کی بھی تردید نہیں کی۔ تاہم فوج اور اس کی خفیہ ایجنسی کی طرف سے اس طرح کھل کر سامنے آنے سے پاکستان کا مستقبل قریب کا سیاسی منظر نامہ کافی ہنگامہ خیز نظر آ رہا ہے۔ واضح رہے کہ عمران خان نے اس پریس کانفرنس کے دوسرے دن یعنی جمعے کو لاہور سے مارچ کا اعلان بھی کر رکھا تھا، جس کے دوران وہ پنجاب کے کئی بڑے شہروں میں جلوس بھی لے کر جانے کا پروگرام رکھتے تھے اس ضمن میں ایک سوال کے جواب میں دونوں آرمی افسران کا کہنا تھا کہ انہیں اس احتجاجی مارچ یا سیاسی جماعت کے کسی سیاسی حق کے پورے ہونے پر کوئی اعتراض نہیں اور پاک فوج اکثریت کے ساتھ آنے والی ہر سیاسی جماعت کی حکومت کے ساتھ آئینی تقاضوں کے مطابق کام کرنے کی پابند ہے اور اس کیلئے پرعزم بھی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button