Abdul Hanan Raja.Column

وعدوں میں اسیر خوشحالی .. عبدالحنان راجہ

عبدالحنان راجہ

 

برصغیر کی سیاست مبالغہ کی حد تک جھوٹ، سیاسی شخصیت پرستی، بدعنوانی اور لاقانونیت کا ایسا مرکب ہے کہ اب عوام اسی معجون سے ہی شفا پاتے ہیں۔ جھوٹے دعووں اور نعروں کو سچائی میں ملفوف کر کے کئی کئی عشروں تک عوام کے جذبات سے کھیلنا سیاست دانوں کو راس آ چکا ہے۔پانچ دہائیوں کے بعد روٹی کپڑا مکان کا خواب ٹوٹا مگر نون لیگ کا کارڈ ابھی کچھ نہ کچھ باقی ہے۔ اب تو حال یہ ہو چکا ہے کہ عوام بھی آمیزش شدہ جھوٹ کے سوا کچھ سننے، ماننے کو تیار نہیں اور اپنے پسندیدہ کردار کے ہر بیان کو بلا چون و چرا تسلیم کرتے ہیں ۔ہندوستان میں گاندھی، پاکستان میں ذوالفقار علی بھٹو، اور اب کپتان نے سیاست میں اپنے الگ نظریات کی بنیاد پر مقبولیت کے جھنڈے گاڑھے۔ نون لیگ سابق صدر ضیا الحق کے فلسفہ پر کاربند رہی اور اینٹی بھٹو نظریہ انکی کامیابی کی کلید رہا، مگر کپتان نے اول دن سے اپنے نظریہ کی بنیاد بدعنوانی کے خلاف رکھی۔ 2013 میں ان کی جد و جہد بارآور ہونا شروع ہوئی۔ اقتدار سے نکلنے کے بعد ان کی جارحانہ حکمت عملی نے نون لیگ اور پی پی پی سمیت مولانافضل الرحمن کو اپنے نظریات بھلا دینے اور حالات کی نزاکت دیکھتے ہوئے اقتدار کے یک نکاتی ایجنڈا پہ متحد ہونے پر مجبور کر دیا۔
ماہرین عمرانیات اور غیر جانبدار سیاسی زعما اسے کپتان کی کامیابی قرار دیتے ہیں۔ میری ذاتی رائے کے مطابق پی پی اور نون لیگ ایک دوسرے کی مخالفت میں طاقتور اداروں کی ہمدردیاں حاصل کر کے اقتدار کی باریاں لگاتے رہے کہ کوئی تیسرا فریق گٹھ جوڑ پر مبنی اس کھیل میں شامل نہ ہو اور شاید دونوں نے اس وقت اسٹیبلشمنٹ کو استعمال کیا
کہ کرپشن کے بھاری بھر کم کیسز کے باوجود یہ آج بھی قومی سیاست کے گرہن شدہ ہی سہی ستارے تو ہیں۔ ملکی سلامتی کے خلاف بیانات اور اقدامات اور کھربوں کی کرپشن بھی انہیں اقتدار کے کھیل سے باہر نہ کر سکی اور آج سب جماعتیں بیک زباں اینٹی پی ٹی آئی ایجنڈا پر اپنا حصہ وصول کر رہی ہیں۔ بدقسمتی یہ ٹھہری کہ سب نے اپنی اپنی باری پر اپنے نظریات اور عوامی جذبات کا استحصال ہی کیا۔ پی ٹی آئی چیئرمین کا گزشتہ آٹھ سالوں کا بیانیہ آج کے بیانیہ سے یکسر مختلف، مگر کھلاڑی یہ ماننے کو تیار نہیں، مگر یہ طے ہے کہ کپتان عوام میں کرپشن اور کرپٹ راہنمائوں کے خلاف جد و جہد کا استعارہ بن کے سامنے آئے، وہ کرپشن ختم تو نہ کر سکے مگر ان کا بیانیہ آج بھی بکتا ہے، مگر چند روز قبل اس مرد آہن نے دوران اقتدار اپنی بے بسی کا رونا رو کے نہ صرف اپنی طلسماتی شخصیت کو مجروح کیا بلکہ ان کے مخلص
اور وفادار کارکن جو یقین کی حد تک انہیں کسی طور نہ جھکنے والا راہنما تصور کرتے تھے کو بھی جھٹکا لگا۔ تحمل مزاجی اور دور اندیشی کا تقاضا تو تھا کہ حکمران اتحاد کی کرپشن کیسز میں بریت کے فیصلوں کو کپتان کیش کراتے مگر وہ حوصلہ مندی کا دامن چھوڑ کر اقتدار کھو جانے کے غم میں وہ کچھ کہہ گئے جو معقول نہ تھا، بلکہ ایک قدم آگے وہ اداروں کے ساتھ کھلم کھلا جارحیت پر اتر آئے۔
پرانے سیاسی کاریگر ابتر حالات سے فائدہ مندی میں مصروف اور مقبولیت کے باوجود کپتان کے گرد گھیرا تنگ کر رہے ہیں، کدروتوں اور نفرتوں کے ماحول کو صدر مملکت کی جانب سے اعتدال پر لانے کی کوششیں بار آور ہوتی نظر نہیں آ رہیں۔ حالات وہی 70 والی دہائی کے ہی نظر آتے ہیں ،80والے بھی سب کچھ دیکھ سن رہے ہیں۔ راہنمائوں کی یہ کشیدگی ماحول کو کسی اور طرف لے جاتی نظر آتی ہے، مگر یہ طے ہے کہ موجودہ طرز جمہوریت اپنی ساکھ کھو بیٹھا اور اس نے عوام کو سیاسی و معاشی گرداب میں دھکیلنے اور نفرتوں کے سوا کچھ نہ دیا۔ اب مسئلہ مدت یا عدت پوری کرنے کا ہے ہی نہیں بلکہ سیاست میں جو جھوٹ، کینہ، عداوت، نفرت، تشدد اور انتہاپسندی کے رویے دخول کر چکے ہیں انکو ختم کرنے اور اسے اعتدال پر لانے کا ہے۔ کیا قائد کے پاکستان سے کرپشن اور بدعنوانی ختم کی جا سکتی ہے۔ کیا عوام شخصیات کی بجائے نظریات کو پروان چڑھانے پر آمادہ اور کیا وہ چہروں کی بجائے نظام بدلنے کو تیار ہیں۔ موجودہ ماحول میں شفاف اور پرامن انتخاب کپتان کا خواب تو ہو سکتا ہے تعبیر نہیں، تو پھر اپنے نظریات اور جہد کا رخ تعبیر کی طرف موڑنے میں انہیں کیا خوف لاحق اور وہ روایتی سیاست کے اسیر کیوں رہنا چاہتے ہیں۔ جبکہ وہ بقول غالب ہر ایک گھر میں دیا جلے اور اناج بھی ہو، اگر نہ ہو ایسا کہیں تو احتجاج بھی ہو۔
رہے گی وعدوں میں کب تک اسیر خوشحالی
ہر اک بار کل ہی کیوں، کبھی تو آج بھی ہو
چاہتے بھی ہیں، اس سوال کا جواب تبدیلی کے لیے نکلنے والے نوجوانوں کو تلاش کرنا ہے….!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button