ColumnKashif Bashir Khan

امریکی عزائم اور پاکستانی عوام! ۔۔ کاشف بشیر خان

کاشف بشیر خان

 

جو کچھ پاکستان کے سیاستدانوں بالخصوص تحریک انصاف کی رہنماؤں سے آج کل ہورہا ہے بلکہ مرکزی حکومت کر رہی ہے وہ نیا نہیں اور ماضی میں سیاسی انجینئرنگ کرنیوالے ایسا ہی سلوک مختلف سیاستدانوں اور جماعتوں سے کرتے چلے آئے ہیں۔جب ہم ریاستی جبر کی بات کرتے ہیں تو ہمیں 1977 سے لیکر 1988 تک کا دور نہیں بھولنا چاہیے۔
پچاس کی دہائی میں اقتدار کی اس میوزیکل چیئر میں ایک وقت ایسا بھی آیاکہ پاکستان کے امریکہ میں سفیر محمد علی بوگرہ کو راتوں رات امریکہ سے بلوا کر وزیر اعظم پاکستان بنا دیا گیا۔اب یہ لکھنے کی تو ضرورت نہیں کہ محمد علی بوگرہ کو وزیر اعظم پاکستان کس نے بنوایا تھالیکن آج کی نسل کو بتلانا ضروری ہے کہ بنگال کے علاقہ بوگرہ سے تعلق رکھنے والے نواب خاندان کے محمد علی بوگرہ کیریئر ڈپلومیٹ تھے اور جب سکندر مرزا نے خواجہ ناظم الدین(وہ بھی بنگالی) کی حکومت ختم کر کے امریکہ میں تعینات سفیر پاکستان محمد علی بوگرہ کو وزیر اعظم بنا دیا تھا تو اس وقت کے امریکہ کے صدر آئزن ہاورنے ہزاروں ٹن گندم پاکستان بطور امداد بھجوائی تھی۔اس سے پہلے بھی پاکستان کے پہلے وزیر خزانہ شعیب اور سرظفر اللہ خان نے ملک غلام محمد کے ساتھ مل کر اس وقت کے وزیر اعظم لیاقت علی خان کا مجوزہ بلکہ قریباً طے شدہ دورہ روس منسوخ کروا کر دورہ امریکہ کی راہ ہموار کر چکے تھے۔
محمد علی بوگرہ نے ہی پاکستان میںدو ایوانی پارلیمان کا فارمولہ (بوگرہ فارمولہ) سینیٹ اور قومی اسمبلی کی سفارش کی تھی جس میں پاکستان کے پانچوں اکائیوں کوبرابر نمائندگی دی جائے۔ 1953 میں گورنر جنرل اسکندر مرزا نے محمد علی بوگرا کووزیر اعظم بنایا تو قانون ساز اسمبلی موجود تھی جس کو گورنر جنرل نے 1954 میں برخاست کر دیا اور پھر محمد علی بوگرہ کو بطور وزیر اعظم کام کرنے کی ہدایت کی گئی اور انہیں کہا گیا تھا کہ وہ منسٹری آف ٹیلنٹ کے نام سے اپنی کابینہ تشکیل دے کر حکومت چلائیں ۔
اگست 1955 میں گورنر جنرل نے محمد علی بوگرہ کی حکومت برخاست کر کے چودھری محمد علی کو وزیر اعظم پاکستان نامزد کر دیا تھا اور اگلی نسل کیلئے سوچنے کی بات ہے کہ محمد علی بوگرہ وزیر اعظم کے عہدے سے برخاستگی کے بعد دوبارہ امریکہ بطور سفیر پاکستان تعینات کر دیئے گئے۔ 1958 میں پاکستان میں سب سے پہلا شب خون مارنے والے ایوب خان کی اقتدار کے حصول کیلئے خواہشات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں تھیں اور گورنر جنرل اسکندر مرزا نے جب انہیں ملک کا وزیر دفاع بنایا تو انہیں اقتدار پر قبضہ کرکے اسکندر مرزا کو بھی چلتا کیا اور پاکستان کے نو زائیدہ آئین 1956اور ڈگمگاتی جمہوریت کو ختم کر کے ملک میں مارشل لاء نافذ کردیا۔ایوب خان کا دور پاکستان کیلئے تباہیوں کا پیش خیمہ ثابت ہوا اور جہاں جمہوری اداروں کو روندا گیا وہاں مشرقی پاکستان میں شدید احساس محرومی پیدا ہوا اور اگر میں لکھوں کہ مشرقی پاکستان کی پاکستان سے علیحدگی کا اصل محرک ایوب خان اور اس کی حکومت کی
پالیسیاں تھیں تو یہ ہرگز غلط نہیں ہو گا۔ایوب دور میں امریکہ کو پاکستان اور اس خطے میں کھل کر اپنی من مانیوں کرنے کے مواقع فراہم کئے گئے اور یہ ایوب خان ہی تھا جس نے پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ پشاور کے نزدیک بڈھ پیرمیں امریکہ کو فوجی اڈے فراہم کئے تھے۔ 1962میں چین، بھارت جنگ کے دوران بھٹو کا بزور طاقت کشمیر آزاد کروانے کا منصوبہ بھی ایوب خان نے صرف امریکہ کے پٹھو ہونے کی بنا پر رد کر کے کشمیر آزاد کروانے کا ایک سنہری موقعہ ضائع کیا تھا۔بلاشبہ ایوب خان کا دور اس خطہ اور پاکستان میں امریکی اثر رسوخ اور ان کے ایجنڈے کی تکمیل کا سنہری دور تھا جس کے نتیجے میں پاکستان کا مشرقی حصہ پاکستان سے علیحدہ ہو گیا۔کمال کی بات دیکھیں کہ بھارت روس کا دفاعی پارٹنر ہونے کے باوجود سانحہ مشرقی پاکستان میں امریکہ کے ساتھ مل کر پاکستان کو توڑنے میں کامیاب ہوا۔پاکستان اپنی پیدائش سے لیکر آج تک(ماسوائے 1972 سے 1977)تک کبھی بھی اپنی آزاد خارجہ پالیسی نہیں اپنا سکا۔جو آزاد خارجہ پالیسی ذوالفقار علی بھٹو نے اپنائی تھی وہ ہی پاکستان کے ایٹمی طاقت بننے کا باعث بنی۔اس کے بعد ذوالفقار علی بھٹو کا انجام اور پھرضیاالحق، نواز شریف، بینظیر بھٹو، شوکت عزیز، یوسف رضا گیلانی اور اب شہباز شریف اس خطے میں امریکی مداخلت اور شہ زوری کے نہ صرف حامی ومددگار بلکہ سپورٹر رہے۔عمران خان اپنے تین سالہ دور حکومت کے بعد جب آزاد خارجہ پالیسی کی طرف آئے اور دنیا کے بدلتے ہوئے جغرافیائی حالات اور اپنی معیشت کے فائدے کیلئے روس کی جانب رجوع کرنے کی حقیقی کوشش کی تو امریکہ نے پاکستان میں موجود اپنے ہینڈلرز جو ماضی میں بھی پاکستان میں امریکہ کی خواہشات کے تابع رہ کر حکومت کرتے رہے، عمران خان کی حکومت ختم کروا کر اقتدار دلادیا۔
موجودہ اتحادی پاکستانی حکمران امریکہ کیلئے آزمودہ اور پرانے آزمائے ہوئے ہیں۔ اس تحریر کا مقصد یہ ہے کہ پاکستان میں امریکہ کی پاکستان میں مداخلت اور عملداری کا جو راستہ و دروازہ لیاقت علی خان کے دورہ روس کو منسوخ کرکے دورہ امریکہ سے کھولا گیا تھا وہ آج کے جدید دور میں بند کرنا نہایت مشکل ہو چکا۔ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی کے بعد امریکہ کے خلاف پاکستانی عوام کی نفرت کوگو امریکہ نےاپنے کٹھ پتلی حکمرانوں کے ذریعے سے مختلف ادوار میں دبانے کی کوششیں کیں،لیکن آج قریباً 45 سال کے بعد امریکہ مخالف جذبات پھر سے عوام کے دلوں میں نفرت کی صورت سامنے آ چکے ہیں اور اس سوئی ہوئی امریکہ مخالف شدید نفرت کو جگانے میں عمران خان کا کردار کلیدی ہے۔کیوبا،شمالی کوریا،وینزویلا،بھارت اور دوسرے کچھ ممالک اپنے خارجہ امور آزادی سے چلاتے ہیں اور روس کے ساتھ امریکہ سے بھی تعلقات استوار رکھتے ہیں جبکہ پاکستان کے ماضی کے حکمرانوں نے امریکہ کی غلامی کا جوطوق پاکستان کے گلے میں ڈالا تھا اس کی وجہ سے امریکہ آج بھی پاکستان کو نہ توآزادانہ خارجہ پالیسی ترتیب دینے دیتا ہے اور نہ ہی دنیا کے دوسرے طاقتور ترین ممالک(روس)وغیرہ سے تعلقات بنانے دیتا ہے ۔آج پاکستان کے موجودہ سیاسی حالات عندیہ دے رہئے ہیں کہ ماضی میں امریکہ کی مدد سے اقتدار میں آنے والے اور پھر ان کے اشاروں پر ناچنے والے اس وقت پاکستان میں عوامی تائید اور مدد سے محروم ہو کر فارغ ہوتے نظر آرہے ہیں اور ماضی کے برعکس وہ پاکستان میں امریکی ایجنڈے کی تکمیل اس شدومد سے کرنے سے عاری ہو چکے کہ عوام کو اب سوشل میڈیا اور بیداری شعور کے تناظر میں مزید بیوقوف بنانا اب مشکل ہے۔عوام ان کو انتخابات میں پچھاڑتے نظر آ رہے ہیں اور اتحادی جماعتیں انتخابات کے انعقاد سے بھاگتی نظر آتی ہیں۔آج جو ضمنی انتخابات پاکستان میں ہو رہے ہیں ان کے ممکنہ نتائج موجودہ اتحادی حکومت جسے عمران خان بیرونی مداخلت اور سازش کا شاخسانہ قرار دے رہے ہیں، کے مستقبل کا فیصلہ کریں گے کہ عمران خان نے موجودہ حکمرانوں پر تحریک انصاف کی حکومت کی تبدیلی میں امریکی سازش اور مداخلت کے آلہ کار بننے کا جو الزام کا بیانیہ عوام میں لے کر گئے تھے وہ آج عوام نے خرید لیا ہے اور یہ بیانیہ آج عوام کے دلوں میں گھر کر کے اتحادی جماعتوں اور امریکہ کے خلاف شدید نفرت میں بدل چکا ہے۔پاکستان کے بہتر مستقبل اور شدید معاشی مشکلات سے نکلنے کا واحد راستہ بیرونی تسلط سے پاکستان کو آزاد کروانا ہے کہ امریکی صدر جو بائیڈن کا آج پاکستان کے ایٹمی پروگرام بارے اشتعال انگیز بیان پاکستان بارے مستقبل میں امریکی عزائم کا آئینہ دار ہے اور یوں دکھائی دی رہا کہ رجیم چینج کے منحوس نتائج سامنے آنا شروع ہو چکے۔اس سے بھی افسوسناک امر تادم تحریر وزیر اعظم سمیت حکومتی زعما کی اس بیان کی مذمت اور سفارتی سطح پر احتجاج نہ کرنا ہے۔عوام کی زمہ داری ہے کہ اب پاکستان کو امریکہ اور استعمار سے حقیقی آزادی دلانے میں اپنا بھرپور کردار ادا کریں اور اپنی بھرپور رائے سے کسی بھی استعمار اور امریکہ کے ساتھی کو نشان عبرت بنا ڈالیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button