CM RizwanColumn

ایران کی پریشان کن صورت حال .. سی ایم رضوان

سی ایم رضوان

خواتین کے پردے کے خلاف ایرانی حکام کے اپنے ہم وطن مظاہرین کے خلاف کریک ڈاؤن میں کم از کم 50 افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ مظاہرے اور احتجاج بھی جاری ہے اور اس کے خلاف ایرانی حکومت کا آپریشن بھی تاحال جاری ہے مزید نقصانات کا اندیشہ پوری دنیا خاص طور پر عالم اسلام کو پریشان کئے ہوئے ہے۔ ہم سب پاکستانی اپنے ہمسائے اسلامی ملک میں ایسی صورتحال پر انتہائی غم اور افسوس کی شدت محسوس کررہے ہیں۔ اس تنازع کی تفصیل یہ ہے کہ 22 سالہ ایرانی لڑکی مہسا امینی کو مبینہ طور پر ’’غیر مناسب‘‘ طریقے سے سکارف پہننے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔ پولیس حراست کے دوران وہ کومہ میں چلی گئیں اور بعد ازاں ہسپتال میں ان کی موت واقع ہو گئی تھی۔ ایران کے سرکاری میڈیا کے مطابق ایرانی فوج نے احتجاج کرنے والے ان ’’غیر قانونی اجتماعات‘‘ میں شرکت کے خلاف خبردار کیا ہے اور خفیہ سروس نے کہا ہے کہ وہ ’’دشمنوں کو اس صورت حال کو استعمال کرنے کی اجازت ہرگز نہیں دے گی۔‘‘ جمعے کے روز ہی ایرانی حکام نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم انسٹاگرام اور وٹس ایپ تک رسائی کو بھی روک دیا۔ ایران کے سرکاری ٹی وی کے مطابق پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں میں مرنے والوں کی تعداد 26 تک ہو سکتی ہے۔ خواتین کے پردے اور لباس کے حوالے سے قوانین اور ضوابط نافذ کرنے والی ایران کی اخلاقی پولیس (گشتِ ارشاد فورس) جس کی حراست میں مہسا امینی ہلاک ہوئی، کیا ہے اور یہ کیسے کام کرتی ہے۔ اس کیلئے ماضی میں انقلاب ایران کے بعد کے حالات کا جائزہ ضروری ہے۔
ایرانی حکام کی ’’خراب حجاب‘‘کے خلاف جنگ یعنی سر پر سکارف یا دیگر لازمی لباس کو غلط طریقے سے پہننے کے خلاف کارروائی کا سلسلہ 1979 کے اسلامی انقلاب کے فوراً بعد شروع ہوا تھا جس کا ایک بڑا مقصد خواتین کو عام اور سادہ لباس پہنانا تھا۔ مغرب نواز رضا شاہ پہلوی کا تختہ الٹنے سے پہلے تہران کی سڑکوں پر منی سکرٹس اور کھلے بالوں کے ساتھ خواتین کا نظر آنا کوئی غیر
معمولی بات نہیں تھی۔ خود رضا پہلوی کی اہلیہ فرح جو اکثر مغربی لباس پہنتی تھیں کو ایک جدید عورت کی مثال کے طور پر دیکھا جاتا تھا۔ تاہم ایران میں اسلامی انقلاب کے چند مہینوں کے اندر ہی رضا پہلوی کے دورِ حکومت میں خواتین کے حقوق کے تحفظ کیلئے قائم کردہ قوانین منسوخ ہونے لگے تھے۔ انسانی حقوق کی وکیل اور کارکن مہرنگیز کار جنہوں نے پہلے حجاب مخالف مظاہرے کا انعقاد کرنے میں مدد کی تھی تب اس کا کہنا تھا کہ یہ راتوں رات نہیں ہوا تھا، یہ ایک مرحلہ وار عمل تھا۔ انقلاب کے فوراً بعد سڑکوں پر مرد و عورت زرق برق لباس میں ملبوس خواتین کو مفت سکارف بانٹ رہے تھے۔ سات مارچ 1979کو انقلاب کے رہبر اعلیٰ آیت اللہ روح اللہ خمینی نے حکم جاری کیا تھا کہ تمام خواتین کیلئے ان کے کام کی جگہوں پر حجاب لازمی ہو گا اور وہ بے پردہ خواتین کو برہنہ تصور کرتے ہیں۔ ان کے اس خطاب کو بہت سے انقلابیوں نے خواتین کے سروں پر زبردستی حجاب
پہنانے کے حکم کے طور پر لیا تھا اور بہت سے لوگوں کا خیال تھا کہ یہ راتوں رات ہونے والا ہے، اس لیے خواتین نے مزاحمت شروع کر دی اور ایک لاکھ سے زیادہ افراد جن میں زیادہ تر تعداد خواتین کی تھی، اگلے دن خواتین کے عالمی دن کے موقع پر تہران کی سڑکوں پر احتجاج کیلئے جمع ہوئے تھے، اس وقت ایران کے رہبر اعلیٰ کے فرمان کے باوجود ایرانی حکام کو یہ فیصلہ کرنے میں کچھ وقت لگا تھا کہ خواتین کیلئے مناسب لباس کس کو سمجھا جائے۔ چونکہ اس بارے میں کوئی واضح ہدایات نہیں تھیں تو (وہ) ایسے پوسٹرز اور بینرز لے کر آئے جن میں ماڈلز کو دکھایا گیا تھا اور ان پوسٹرز اور بینروں کو دفاتر کی دیوراروں پر لٹکا دیا گیا۔ خواتین کا حجاب پہننے کے حوالے سے ان ہدایات پر عمل کرنا لازمی ہے ورنہ انہیں دفتر داخلے کی اجازت نہیں ہو گی۔
1981 تک ایران میں خواتین اور لڑکیوں کو قانونی طور پر سادہ ‘اسلامی لباس پہننے کی اجازت تھی یعنی گھر سے باہر جاتے وقت پورے جسم کو ڈھانپنے والی چادر اوڑھنا اور سر پر سکارف پہننا ضروری تھا۔ مگر انفرادی سطح پر لازمی حجاب کے خلاف لڑائی جاری رہی اور خواتین کی اکثریت نے سر کا سکارف پہننے یا سر کے بالوں کو مکمل طور پر نہ ڈھانپنے کیلئے تخلیقی انداز سے حل نکال لیا تھا۔ ہر ایک مرتبہ جب حکومتی اہلکار انہیں روکتے تو وہ لڑائی شروع کر دیتیں۔ یہاں تک کہ 1983 میں ایرانی پارلیمان نے فیصلہ کیا کہ جو خواتین سرعام اپنے بال نہیں ڈھانپتیں انہیں 74 کوڑوں کی سزا دی جا سکتی ہے۔ ابھی حال ہی میں اس قانون میں
60 دن تک قید کی سزا کا اضافہ کیا گیا ہے۔ اس کے باوجود حکام اب تک اس قانون کو نافذ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور ملک میں ہر عمر کی خواتین گھروں سے باہر اپنی حدود کو بڑھاتے ہوئے اکثر شوخ رنگوں کے سکارف میں آدھے سر کے بالوں کو ڈھانپے اور چست لباس پہنے نظر آتی ہیں۔ اس قانون کے نافذ کیے جانے کے بعد سے ان برسوں کے دوران ملک کے اقتدار پر رہنے والے صدر کے مطابق اس قانون کی سزاؤں میں تبدیلیاں اور شدت آتی گئی۔ ایران کے اس وقت کے انتہائی قدامت پسند میئر محمود احمدی نژاد نے جب 2004 میں صدارت کیلئے اپنی انتخابی مہم چلائی تو انہوں نے اس معاملے پر زیادہ ترقی پسند دکھائی دینے کی کوشش کی تھی۔ انہوں نے ایک ٹیلی ویژن انٹرویو میں کہا تھا کہ ‘لوگوں کی اس حوالے سے پسند نا پسند مختلف ہے اور ہمیں اس سب کا خیال رکھنا ہے۔ مگر صدارتی انتخاب میں کامیابی کے فوراً بعد اسی برس انہوں نے گشتِ ارشاد (اخلاقی پولیس) کو باضابطہ طور پر قائم کر دیا تھا حالانکہ اس سے قبل دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں اور نیم فوجی یونٹوں کے ذریعے خواتین کے لباس کے ضابطوں کو غیر رسمی طور پر نافذ کیا گیا تھا۔ ایران کی اس اخلاقی پولیس فورس کو اکثر عوام کی طرف سے اُن کے سخت رویے کی وجہ سے تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے اور خواتین کو اکثر حراست میں لیا جاتا ہے اور صرف اس صورت میں رہا کیا جاتا ہے جب کوئی رشتہ دار یقین دہانی کرائے کہ وہ مستقبل میں قوانین کی پابندی کریں گی۔
ایران کے ایک سخت گیر عالم دین ابرہیم رئیسی جو گذشتہ سال ایرانی صدر منتخب ہوئے تھے، نے 15 اگست کو پابندیوں کی ایک نئی فہرست کو نافذ کرنے کے حکم پر دستخط کیے تھے۔ ان میں نگرانی کرنے والے کیمروں کو بھی شامل کیا گیا تھا تاکہ نقاب نہ کرنے والی خواتین کی نگرانی اور جرمانے کیے جا سکیں یا انہیں کونسلنگ کیلئے بھیجا جا سکے اور کسی بھی ایرانی خاتون جو آن لائن حجاب کے قوانین کے خلاف سوال یا مواد پوسٹ کرے کو لازمی سزا یا قید دیے جانا شامل ہے۔ ان پابندیوں کی وجہ سے گرفتاریوں میں اضافہ ہوا لیکن ساتھ ہی خواتین کی سوشل میڈیا پر ہیڈ سکارف کے بغیر اپنی تصاویر اور ویڈیوز پوسٹ کرنے میں بھی اضافہ ہوا۔ یہاں تک کہ اب اس میں گزشتہ دنوں مہسا امینی کی موت کے بعد شدت آگئی ہے۔
امریکہ میں مقیم ایک صحافی اور کارکن مسیح علی نژاد کا کہنا ہے کہ مہسا امینی کی موت کے بعد سے شروع ہونے والے مظاہرے شدید ذاتی نوعیت کے ہیں۔ کئی برسوں کے دوران انہوں نے حجاب کے قوانین کے خلاف کئی وائرل مہمات چلائی ہیں۔ حکومت سمیت بہت سے لوگ اسے موجودہ بدامنی کے پیچھے ایک آلہ کار کے طور پر دیکھتے ہیں۔ گزشتہ ہفتے کے روز ایرانی مغربی شہر ساقیز میں مہسا امینی کے جنازے میں خواتین نے اپنے سر سے سکارف اتار کر ہوا میں لہرانا شروع کر دیئے تھے۔ اس کے بعد کے دنوں میں، وہ ملک بھر میں سڑکوں پر نکل آئیں اور کچھ کو مرد مظاہرین کے ساتھ نعرے لگاتے اور اپنے حجابوں کو آگ لگاتے ہوئے مختلف ویڈیوز میں دیکھا گیا ہے۔ علی نژاد کہتی ہیں کہ جب انہوں نے ایسا کیا تو مجھے وہ وقت یاد آیا جب لوگوں نے دیوار برلن گرانا شروع کی تھی، یہ ویسا ہی ایک لمحہ محسوس ہوتا تھا۔ وہ کہتی ہیں کہ جس چیز نے مجھے بہت جذباتی اور پُرامید بنا دیا وہ یہ ہے کہ یہ پہلی بار ہوا ہے کہ یہ لڑکیاں اکیلی نہیں ہیں۔ اب مرد خواتین کے ساتھ کھڑے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button