ColumnZameer Afaqi

بدتہذیبی پر مریم اورنگ زیب کا بے مثال کردار .. ضمیر آفاقی

ضمیر آفاقی

چند دن پیشتر سوشل میڈیا پر ایسی ویڈیوز وائرل ہوئیں جن میں وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب کو لندن میں کافی یا کوک پیتے ہوئے، چند مرد و خواتین کا ایک گروہ ہراساں کر رہا ہے۔ بین الاقوامی خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق اس گروہ میں شامل افراد مریم اورنگزیب کیلئے نازیبا الفاظ استعمال کرتے، اْن پر آوازیں کستے اور انہیں نازیبا ناموں سے پکارتے سنے اور دیکھے جا سکتے ہیں۔ ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ وہ اپنے اپنے موبائل فونز سے اس واقعے کی ویڈیو بنا رہے ہیں۔ ایک، دو افراد کے ہاتھوں میں میگا فون بھی موجود ہیں جن پر وہ سیاسی نوعیت کی نعرے بازی اور نازیبا الفاظ کا استعمال جاری رکھتے ہیں۔مریم اورنگزیب بغیر کوئی جواب دیے خاموشی سے ایک کیفے میں داخل ہوتی ہیں مگر یہ گروہ اپنے میگا فون، کیمروں اور نعروں کے ساتھ اْن کا وہاں بھی پیچھا کرتا ہے۔ کیفے کے اندر بھی یہ گروہ اپنا کام جاری رکھتا ہے مگر مریم اورنگزیب جواباً مسکراتے ہوئے کوک پیتی رہتی ہیں اور ان کے اس ردعمل کو بھی وہاں موجود ایک خاتون شدید تنقید کا نشانہ بناتی ہیں۔یاد رہے کہ وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب، وزیراعظم شہباز شریف کے اس وفد کے حصہ ہیں جو مسلم لیگ کے قائد میاں نواز شریف سے ملاقات و مشاورت کیلئے فی الوقت لندن میں موجود ہے۔ یہ سرکاری وفد امریکہ میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 77 ویں اجلاس میں شرکت کے بعد لندن پہنچا تھا۔ایسی ہی ایک اور وائرل ویڈیو میں وہ اِسی کیفے میں کھڑی تحمل سے ایک نوجوان لڑکی کے سوالات کے جواب
دے رہی ہیں اور اسے سمجھا رہی ہیں کہ احتجاج آپ کا حق ہے لیکن اس کا بہتر طریقہ ووٹ ہے۔مریم کو یہ بھی کہتے سنا جا سکتا ہے کہ آپ کا حق بھی ہے اور آپ کا ملک بھی ہے جس کی ہم عزت کرتے ہیں لیکن ہر چیز کا طریقہ کار ہوتا ہے۔ اگر کوئی آپ کی اپنی بہن یا والدہ کو اس طرح سڑک پر ہراساں کرے گا تو کیا آپ کو اچھا لگے گا؟وہ کہتی ہیں،10 منٹ پہلے یہاں پی ٹی آئی کے 20 لوگ مائیک لے کر میری تحقیر کر رہے تھے، مجھے ناموں سے پکار رہے تھے، اور میں نے کوئی ردِعمل نہیں دیا۔مریم یہ بھی کہتی ہیں کہ آپ لوگ اس طرح مجھے ہراساں کرتے ہیں تو اس سے مجھے فرق نہیں پڑتا بلکہ اس کے سامنے میں جس صبر کا مظاہرہ کرتی ہوں اس سے میرے قد میں اضافہ ہوتا ہے لیکن یہ طریقہ کار ہمارے ملک کے تشخص کیلئے خراب ہے۔ مریم اورنگزیب نے خود ان واقعات کے بعد ٹویٹر پر کہا ہے کہ نفرت اور تفرقہ بازی کی سیاست کے ہمارے بھائیوں اور بہنوں پر زہریلے اثرات دیکھ کر دکھ ہوا۔ میں رکی رہی اور اْن کے ہر سوال کا جواب دیا۔ افسوس کی بات
ہے کہ وہ عمران خان کے پراپیگنڈے کا شکار ہیں۔ ہم عمران کی زہریلی سیاست کا مقابلہ کرنے اور لوگوں کو اکٹھا کرنے کیلئے اپنا کام جاری رکھیں گے۔ان وائرل ویڈیوز پر سوشل میڈیا پر شدید ردِعمل سامنے آ رہا ہے۔ سیاستدانوں سے لے کر عام افراد تک سبھی مریم اورنگزیب کو اس طرح لندن کی سڑکوں اور کیفے میں ہراساں کرنے کی مذمت کر رہے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ یہ احتجاج نہیں سراسر ہراسانی ہے۔یاد رہے یہ پہلا واقعہ نہیں جب مریم اورنگزیب یا نون لیگ کے کسی رہنما کو سیاسی کارکنوں کی جانب سے بیرونِ ملک ہراساں کیا گیا ہو۔رواں سال اپریل کے اواخر میں جب وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف اور اتحادی جماعتوں کے رہنماؤں پر مشتمل وفد سعودی عرب کا دورہ کر رہا تھا تو چند افراد نے مسجد نبوی کے احاطے میں انہیں ہراساں کیا، اْن سے بدسلوکی کی اور ان کے خلاف ’چور چور‘ کے نعرے لگائے۔ بلکہ نواز شریف کا گھر تو اب ہائیڈ پارک بنا دیا گیا ہے ۔ جبکہ پاکستان میں بھی احسن اقبال اور دیگر سیاسی رہنمائوں کے ساتھ اس طرح کے غیر مہذب روئے روا رکھے گئے ۔
پاکستان کی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب کے ساتھ برطانیہ میں بد تمیزی کے اس واقعے نے ہر خاص و عام کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ بحیثیت معاشرہ بد تمیزی اور بد تہذیبی میں ہم کہاں پہنچ چکے ہیں کیا ہماری واپسی بھی ہے کہ نہیں ؟ اس سوال کا ایک سیدھا سادا جواب تو یہ ہے کہ ہماری سیاسی و مذہبی اشرافیہ کو بہر حال یہ سوچنا پڑے گا کہ وہ اپنے فالورز کو بنیادی اقدار کی پاسداری کرنے والا بہترین شہری بننے کی ترغیب دیتے ہیں یا اپنے مخالف نقطہ نظر رکھنے والے راہ چلتے لوگوں پر آوازیں کسنے بدتمیزی، بد تہذیبی کرنے سے روکتے ہیں یا نہیں کیونکہ جس جگہ آج ہم پہنچ چکے ہیں یہاں تک آنے میں ہماری سیاسی و مذہبی ایلیٹ کا اہم کردار رہا ہے۔المیہ یہ ہے کہ اس بدتمیزی کلچر کے معاشرے پر کیا اثرات مرتب ہو رہے ہیں اس کا ادراک بھی شاید اسے نہیں ہے اور آج نوبت یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ ایک بظاہر سیاسی اندر کھاتے نیم مذہبی جماعت کے فالور اپنی پارٹی سے اختلاف کرنے والوں کے گھروں تک پہنچ چکے ہیں اور راہ چلتے کہیں بھی کھانا کھاتے ،چائے پیتے سفر کرتے ان کی بدتمیزی اور بد تہذیبی کا مشاہدہ اب مہذب دنیا بھی کرنے لگی ہے۔
بلکہ سیاست کے ساتھ ساتھ بدتمیزی ایک متعدی چیز بن چکی ہے اور ایک شخص کی دیکھا دیکھی دوسرے بھی بد تمیزی کرنے لگتے ہیں، جیسے گھر میں ایک شخص کو زکام ہو جائے تو باری باری سب کو ہوئے بغیر گھر سے جاتا نہیں۔ تحقیق کے مطابق دفتروں میں بھی بدتمیزی کی وبا عام ہے۔ ماضی میں کیے گئے کچھ جائزوں کے مطابق دفتروں میں کام کرنے والے تمام ملازمین کو غیرمہذب رویے یا بدتمیزی کا سامنا کرنا پڑا جبکہ باقی نصف کا کہنا تھا کہ اگر روز نہیں تو ہفتے میں ایک بار وہ بھی برے رویے کا شکار ضرور ہوئے اور کچھ جائزوں کی بنیاد پر ماہرین کا یہ دعویٰ بھی رہا ہے کہ ایسا تمام دفاتر میں ہوتا ہے اور صورت حال دن بدن خراب ہوتی جا رہی ہے۔ سیاسی و مذہبی نفرت انگیز رویے اب مارکیٹوں میں دکانوں کے اندر بھی نظر آنے شروع ہوگئے ہیں۔ یہ ایک الارمنگ صورت حال ہے جس پر سوچنے کی شاید ضرورت اس وقت محسوس کی جائے گی جب ہر کسی کا دامن اور دستار محفوظ نہیں رہے گی۔کہ اب تو اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے بھی کہا ہے کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارم غصے اور منفی جذبات کو پروان چڑھا رہا ہے، معاشروں کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ رہا ہے۔ نفرت پر مبنی بیانات اور غلط معلومات تیزی سے پھیل رہی ہیں۔ انتونیو گوتریس نے کہا کہ ہمارا ڈیٹا خریدا اور فروخت کیا جا رہا ہے، اسے تبدیل کرنے کیلئےریگولیٹری فریم ورک کی ضرورت ہے۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز غصہ اور منفی جذبات کو فروغ دے رہے ہیں، غصے اور منفی جذبات کو فروغ دینے کی وجہ سے معاشروں کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ رہا ہے، نفرت پر مبنی بیانات اور غلط معلومات تیزی سے پھیل رہی ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہماری سیاسی و مذہبی اشرافیہ ،ملکی اداروں اور دانشوروں اور خصوصات تعلیمی درس گاہوں کو اس سماجی سنگینی کا احساس کرتے ہوئے اپنے کردار ادا کرنا چاہیے تاکہ ہم ایک مذید انتشار کا شکار ہونے سے بچ جائیں ورنہ یقین رکھیے ہمارے یہ غیر مہذ ب سیاسی رویے ہمیں کہیں کا نہ چھوڑیں گے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button