تازہ ترینخبریںپاکستان سے

تربیلا ٹو اسلام آباد ٹنل فائیو ٹرانسمیشن لائن کا ٹھیکہ رولز کی خلاف ورزی پر منسوخ

لاہور (رپورٹ، ضیاءتنولی ) پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (پیپرا )نے تربیلا ٹو اسلام آباد ٹنل فائیو ٹرانسمیشن لائن کا پانچ ارب روپے کا ٹھیکہ رولز کی خلاف ورزی پر منسوخ کردیا ہے۔

جہان پاکستان انویسٹی گیشن سیل کو دستیاب دستاویزات کے مطابق این ٹی ڈی سی کی جانب سے تربیلا کو اسلام آباد سے منسلک کرنے کے لیے ٹنل فائیو لائن بچھانے کے لیے 2019میں ٹینڈرز طلب کیے گئے ۔ میسرز نیٹرا کون پرائیویٹ لمیٹڈ(NETRACON) نے یہ ٹھیکہ پانچ ارب روپے میں حاصل کرلیا جبکہ ترکیہ کی کمپنی ”ساراSA-RA“ پانچ اشاریہ دوارب ڈیمانڈ کے باعث دوسرے نمبر پر رہی۔

پانچ ارب روپے میں ٹنل فائیو کا ٹھیکہ حاصل کرنے ”میسرز نیٹراکون“ کے جمع کرائے گئے دستاویزات میں ردوبدل سامنے آنے پر ٹھیکہ حاصل کرنے والی کمپنی کی ساکھ پر سوالات اٹھنا شروع ہوئے اور بولی میں دوسرے نمبر پر آنے والی ترکیہ کی کمپنی ” سارا“ نے اس ٹینڈر کو پچاس لاکھ روپے فیس بھرکر پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (پیپرا ) میں چیلنج کرکے بے ضابطگیوں کی تحقیقات کی استدعا کی۔

کمپنی کی طرف سے درخواست میں ٹینڈر دینے والے قومی ادارے نیشنل ٹرانسمیشن اینڈ ڈسپیچ کمپنی (این ٹی ڈی سی)اور ٹھیکہ لینے والی کمپنی میسرز نیٹراکون کو فریق بنایا تاہم سماعت کے دوران ایک ہی بار کمپنی کا نمائندہ پیش ہوسکا ۔

پیپرا نے ترکیہ کی کمپنی کی نشاندہی کو درست قرار دیتے ہوئے نیشنل ٹرانسمیشن اینڈ ڈسپیچ کمپنی کو پانچ ارب روپے مالیت کا یہ ٹینڈر فوری منسوخ کرنے کا حکم دیا ہے۔

پیپرا نے این ٹی ڈی سی حکام کا یہ موقف بھی مسترد کردیا ہے کہ ورلڈ بینک میسرز نیٹراکون سے مطمئن ہے اور پیپرا رولز کا اطلاق اِس پر نہیں ہوتا۔

پیپرا حکام کی جانب سے فیصلہ سناتے ہوئے کہاگیا ہے کہ اِس منصوبے میں پاکستانی قوم کا پیسہ خرچ ہورہا ہے اس لیے پیپرا رولز کا اطلاق اِس معاملے پر بھی ہوتا ہے۔ پیپرا کا فیصلہ آنے کے بعداب این ٹی ڈی سی پر منحصر ہوگا کہ وہ اِس منصوبے کا ازسرنوٹینڈر طلب کرتی ہے یا پھر دوسرے نمبر پر آنے والی ترکیہ کی کمپنی ”سارا“(SA-RA)کو ہی ٹھیکہ دیتی ہے جس نے 5.2بلین کا ٹینڈر بھرا تھا۔

واضح رہے کہ ٹنل فائیو ٹرانسمیشن لائن کا منصوبہ ورلڈ بینک کی ڈیڈ لائن کے مطابق 2025میں مکمل ہونا تھا لیکن بے ضابطگیاں اور اُن پر پیپرا کا فیصلہ سامنے آنے کے بعد نئے ٹینڈرز طلب کرنے میں ہی منصوبے کی تکمیل کی ڈیڈ لائن 2025گذرنے کا خدشہ ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button