ColumnNasir Sherazi

ڈبل اے، ڈبل اے .. ناصر شیرازی

ناصر شیرازی

ملکہ برطانیہ کو رائل والٹ میں ڈال کر دفن کر دیا گیا ہے۔ اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ، ان کا انتقال پاکستان میں نہیں ہوا ، ورنہ ان کی تدفین کا خرچ بجلی کے بلوںمیں ڈال کر عوام سے وصول کیا جاتا۔ برطانوی شہزادہ چارلس بادشاہ بن گئے، انہیں بہت بہت مبارک۔ ہمارے یہاں کوئی ایس ایچ او بن جائے تو مبارکوں کے ڈھیر لگ جاتے ہیں، چارلس تو سچ مچ بادشاہ بن گیا لہٰذا دنیا بھر سے اُسے مبارکیں مل رہی ہیں، بہتر برس کی عمر میں بادشاہ بننے پر ایک اخبار نے لکھا ہے ، ایک بوڑھے کو روزگار مل گیا ہے، بہتر سالہ بادشاہ تاش کے چار بادشاہوں جیسا ہی لگتا ہے، اس عمر میں وہ کوئی چاند نہیں چڑھا سکتا، اس قابل ہوتا تو شہزادی ڈیانا اُس سے طلاق کیوں لیتی، شہزادہ چارلس بادشاہ بننے سے پہلے انڈر ٹریننگ تھا لیکن وہ سوچ بھی نہ سکتا تھا کہ اس کی ٹریننگ اتنی لمبی ہوجائے گی، اُسے بادشاہ بننے کے لیے نصف صدی تک انتظار کرنا پڑے گا، یہ ایک طرف بلند حوصلگی جبکہ دوسری طرف نالائقی بھی ہے، مسلمانوں میں اتنے طویل انتظار کا رواج نہیں رہا، وہ تو ایک دو برس انتظار کے بعد اپنے بھائی بند کا گلا کاٹ کر بادشاہ بن جاتے تھے، بادشاہت تو مغل کرگئے، ان کی پہچان، حکمت و دانش، رعایا کی فلاح و بہبود یا پھر فتوحات تھیں۔ ولی عہد انڈر ٹریننگ بادشاہ جبکہ شہزادے ویلے مشٹنڈے پھرتے تھے، وہ وہی کچھ کرتے تھے جو شہزادہ سلیم فلم مغل اعظم میں کرتا نظر آتا ہے۔ دوسرے یا تیسرے دن ایک عدد مجرا، ایک کنیز یا فلم ٹائم عشق دیگر ایک سو کنیزوں سے پارٹ ٹائم ورکنگ ریلیشن شپ، باپ نے کہیں ڈانٹ ڈپٹ کردی تو درجن بھر لفنگوں کی ٹیم کو لیکر شکار پر نکل گئے، لیکن نئے بزرگ برطانوی بادشاہ سے یہ سب کچھ نہ ہوسکے گا، غالب امکان یہی ہے کہ نئی ملکہ اُسے ٹھیک ایک ماہ بعد جگتیں کیا کرے گی اور وہ سر جھکاکر سنا کرے گا، جب سن سن کرتنگ آجائے گا یا تھک جائے گا تو پھر ہاتھ میں پانی کی ٹیوب پکڑ کر پودوں کو پانی دینا شروع کردے گا۔ چارلس کے بادشاہ بنتے ہی شاہی خاندان نے خصوصی انتظامات کے تحت ایک ویڈیو ریلیز کیا ہے جس میں چارلس بازو چڑھائے گیلس والی پینٹ پہنے، ہاتھ میں دو بالٹیاں اٹھائے چلاآرہا ہے، بالٹیوں میں مرغیوں اور بطخوں کا کھانا پانی ہے، مرغیاں اور بطخیں اس کے پیچھے پیچھے بھاگی چلی آرہی ہیں، کلپ سے ثابت ہوتا ہے کہ چارلس سے ان کاموں کے علاوہ باورچی خانے کا کام بھی لیا جاتا تھا اس کے چہرے کے تاثرات بتاتے ہیں کہ وہ یہ سب کچھ ہنسی خوشی کررہا ہے۔ ویڈیو کلپ کے آخر میں دکھایاگیا ہے کہ چارلس مرغی کے ڈربوں سے انڈے اکٹھے کرکے ٹوکریوں میں ڈال رہا ہے، ہمارے یہاں یہی کام گھر میں پانچ چھ برس کا بچہ کرتا ہے جو چارلس بہتر برس کی عمر کو پہنچ کر کرتا نظر آتا ہے، چارلس کے بارے میں ایک خبر پڑھ کر تو یقین ہوگیا کہ اس کی تعلیم و تربیت میں بہت سے خلا رہ گئے ہیں، کسی بھی شخص کی تعلیم و تربیت کا
اندازہ بس ایک فقرے سے ہوجاتا ہے، وہ فقرہ جو حالت عیش یا حالت طیش میں اس کی زبان سے ادا ہوتا ہے۔ بادشاہ چارلس انہی ایام میں دو مرتبہ سرکاری تقریبات میں ناراض ہوئے ہیں جن میں انہوں نے اپنے غصے اوربدمزاجی کا اظہار کیا ہے، وہ ملکہ کی موت کے بعد برطانیہ میں سرکاری سوگ کے دوران شمالی آئر لینڈ کے دورے پر گئے، بلغاسٹ کے قریب ہلز بروکیسل میں انہوں نے وزیٹرز بک میں اپنے تاثرات قلم بند کرنے تھے، انہوں نے قلم اٹھایا تو اس کی سیاہی لیک کرگئی اور چارلس کے ہاتھ اور لباس آلودہ ہوگئے جس پر وہ غصے میں آگئے، انہوں نے قلم اپنی بیگم کمیلا کو دیتے ہوئے جو کچھ کہا وہ تو ناقابل تحریر ہے بس اس میں سے آدھے فقرے کے پنجابی ترجمے کے مطابق انہوں نے کہا’’اوہ تیری پین دی۔۔۔‘‘ باقی تو آپ خوب سمجھ چکے ہوں گے۔ چارلس اور ان کی ہمشیرہ صاحبہ کی بچپن کی تصویریں دیکھیں تو وہ دونوں ڈارون کی تھیوری کے عین مطابق نظر آتے تھے، جوانی گذرے اور بڑھاپے کے آنے کے بعد دونوں کے چہرے اور جس پر کچھ بوٹی آئی ہے، جس سے اب ان کی تصویر قدرے بہتر آتی ہے، چارلس شکل میں اپنے ابا پر اور عقل میں اپنی اماں حضور پر گئے ہیں، ملکہ الزبتھ کا مزاج آخری برسوںمیں بالکل ویسا ہوگیا تھا جیسا ہمارے یہاں کڑک مرغی کا ہوتا ہے۔ وہ بات بات پر اور خصوصاً مسلمانوں کے معاملات پر تو کاٹ کھانے کو دوڑتی تھیں۔
چارلس بادشاہ تو بن گیا ہے، ہے بھی اصلی والا، لیکن اصیل کم اور برائلر برائلر سا لگتا ہے، معلوم نہیں کیوں۔
بادشاہت جاپان کی ہو یا انگلستان کی یا کسی اور یورپی ملک کی کمزور سی، بادشاہتیں ہیں، کچھ خلیجی ملک کے بادشاہ ہیں جن میں کچھ دم خم نظر آتا ہے جس کو چاہیں نوازدیں جس کا چاہیں سر قلم کا حکم دے دیں، اب اندازہ فرمائیے جو ایک قلم کو قابو نہ کرسکے وہ خاک بادشاہ ہے، مجھے تو رہ رہ کر مسلمان بادشاہ یاد آتے ہیں، مردانہ وجاہت کے خوبصورت نمونے، ہرسال دو سال بعد نئے ماڈل کی ملکہ کی بھرتی مگر مجال ہے پرانی کوئی ملکہ طلاق مانگے، جس سے جب بھی پوچھا تو جواب ملا، بادشاہ سلامت کے قدموں میں باقی زندگی گذارنے کی خواہش ہے۔ ایسے ہوتے ہیں اصیل بادشاہ۔ چارلس کی ٹریننگ کچھ ایسے ہوئی ہے جیسے ہمارے یہاں نئے بس ڈرائیورکی ہوتی ہے، تجربہ کار ڈرائیور کے ساتھ ٹرینی ڈرائیور کو لگادیا جاتا ہے لیکن اس کا عہدہ اسسٹنٹ ڈرائیور کا ہوتا ہے، بس منزل پر پہنچنے کے بعد ڈرائیور تو ایک جست لگاکر بس سے اُتر جاتا ہے جس کے بعد اسسٹنٹ ڈرائیور، ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھ کر سب سے پہلے اپنے استاد کے سٹائل میں سگریٹ سلگاکر اپنی چھوٹی اور منجھلی انگلی کے درمیان داب کر لمبا سا کش لگاکر دھواں ناک سے نکالتا ہے، پھر شیشہ سیدھا کرکے اپنی ان مونچھوں کوتائو دیتا ہے جو ابھی بل کھانے کی لمبائی تک ہی نہیں پہنچی ہوتیں، اس کے بعد وہ سرسوں کے تیل اور پسینے میں بھیگے لمبے بالوں میں کنگھی کرتا ہے، اس نیک کام سے فارغ ہوکر وہ خواہ مخواہ دوچارمرتبہ پوں پوں پاں پاں کرکے ہارن بجاتا ہے تاکہ آس پاس کے لوگ بالخصوص مسافر متوجہ ہوں اور اسے ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھا دیکھیں اسی اثنا میں صفائی والا آجاتا ہے وہ استاد کے لہجے میں اس سے مخاطب ہوکرکہتا ہے ذرا بندے کا پتر بن کر صفائی کرنا، اس کے بعد وہی فقرہ دوہراتا ہے جو چارلس نے پین لیک ہونے پر ادا کیا تھا، صفائی والا اس فقرے کا برا نہیں مناتا کیونکہ اُسے دن میں بیسیوں مرتبہ یہ فقرہ سننے کو ملتا ہے، بسوں اورٹرکوں کے اڈے پر گفتگو کا آغاز و اختتام اسی فقرے کے ساتھ ہوتا ہے، صفائی والاخوب جانتا ہے یہ شخص مستقبل کا’’استاد جی‘‘ ہے لہٰذا وہ اس سے تعلقات ٹھیک رکھنا چاہتا ہےتاکہ عید شبرات جب چھٹی پر گھر جانا ہو تو اسی نیو استاد جی کی بس میں مفت سفر کرسکے۔
بس کی صفائی مکمل ہونے کے بعد اسسٹنٹ ڈرائیور بس کو سٹارٹ کرکے آگے پیچھے ، آگے پیچھے کرنا شروع کرتا ہے تاکہ مسافر سمجھیں کہ یہ بس روانگی کے لیے تیار ہے لہٰذا وہ بھاگ بھاگ کر سوار ہونا شروع ہوتے ہیں، چند منٹ یہی حرکتیں کرنے کے بعد وہ بس کو ایک جگہ روک دیتا ہے، اچانک اصل ڈرائیور یعنی استاد جی آکر ڈرائیونگ سیٹ سنبھالتا ہے اور اسسٹنٹ کو وہی کچھ کہتا ہے جو چارلس نے کہا تھا، اسسٹنٹ ڈرائیور یہ سن کر دانت نکالتا ہے اور بس کو ٹھاہ ٹھاہ تھپتھپاکر کہتا ہے، اُستاد جی جان دیو ڈبل اے، چارلس بھی یہی کہے گا ڈبل اے، ڈبل اے، اصل بادشاہ اس کے بعد آئے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button