ColumnImtiaz Ahmad Shad

پاکستان کے معاشی مسائل کا حل .. امتیاز احمد شاد

امتیاز احمد شاد

وطن عزیز سیلاب کی زد میں ہے۔معیشت بربادی کے آخری دہانے پر ہچکولے کھا رہی ہے۔ مہنگائی تمام ریکارڈ توڑ چکی،بھوک اور ننگ کا وحشی کھیل جاری ہے۔ مزدور تو دور کاروباری طبقے کی چیخیں نکل رہی ہیں۔ صبر کی تلقین کرنے والوں کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا۔سیلاب زدہ علاقے لٹیروں کی زدمیں ہیں۔ امدادی قافلے تک لوٹے جارہے ہیں۔ ہر چہرے پر خوف ،مایوسی اور وحشت نمایاں ہے۔ ہیجانی کیفیت نے75 سالوں میں پہلی دفعہ ریاست کے چہرے پر گہرے سیاہ بادلوں کا سایہ ڈال رکھا ہے ۔ خوراک اور ادویات کی قلت نے قیامت صغریٰ پربا کر دی مگر اقتدار کے ایوانوں میں موجود پاکستان کی تمام سیاسی جماعتیں خاموش تماشائی کے کردار کے سوا کچھ بھی نہیں۔
یہ سب کو معلوم ہے کہ تین کروڑ سیلاب کی زد میںہیں،لاکھوں افرادسڑک کنارے بے یارو مدد گارپڑے ہیں۔ دوست ممالک سے ضرورت کا سامان اور مالی امداد آرہی ہے لیکن سوال یہ ہے کہ یہ سب جا کہاں جارہا ہے۔ سامان کہاں بٹ رہا ہے۔ ایسی آفات ناگہانی میں تو دل خوف خدا سے لرز جاتے ہیں۔ مگر افسوس عاقبت نااندیش لوگ امدادی سامان اپنے گوداموں ،رائس ملوں اور فارم ہائوسز میں چھپا رہے ہیں۔خطرناک بات یہ ہے کہ دوائیں گودام میں ذخیرہ کر رہے ہیں۔شاید یہی وجہ ہے کہ وطن عزیز پر مسلط ان حکمرانوں پر اب دنیا اعتبار نہیں کر رہی۔دنیا کو معلوم ہو گیا ہے کہ پاکستان میں آنے والی آفات سے کہیں بڑی آفات یہ حکمران طبقہ ہے جو ان مصیبت زدہ لوگوں کو کچھ دینے کے بجائے جو ان کو دیا جارہا ہے اس میں سے بھی خانچے لگا رہے ہیں۔75سال میں ہم نے کسی کی نہ سنی۔ ملک میں حکمران آتے جاتے رہے۔ سیاسی جماعتیں بنتی رہیں اور ختم ہوتی رہیں۔ ریاست کے ارتقا اور استحکام کیلئے جو اقدامات ناگزیر تھے وہ کبھی نہیں کئے گئے۔ موسمیاتی تبدیلی پر اقوامِ متحدہ اور دوسرے عالمی ادارے خبردار کرتے رہے لیکن ہم نے پچاس سال میں کوئی بڑا ڈیم نہ بنایا۔ ہماری ضد ،ہٹ دھرمی اور جھوٹی انا عروج پر رہی۔ اس مشکل وقت میں کوئی سیاسی جماعت میدان عمل میں نظر نہیں آرہی ،جو سیاسی جماعت کچھ کرنا چاہ رہی ہے اس کی راہ میں روڑے اٹکائے جارہے ہیں۔ الخدمت ایسی تنظیمیں جو اپنی مدد آپ کے تحت کچھ کر بھی رہی ہیں تو ان کی دسترس میں وہ وسائل نہیں جو حکومت کے پاس ہوا کرتے ہیں۔ جوں جوں وقت گزررہا ہے، سیلاب کے نتیجے میں پیدا ہونے والی تباہی اور بربادی کا دائرہ بھی وسیع ہوتا جارہا ہے۔ ایسا نہیں کہ دنیا ہماری مدد نہیں کررہی ۔ مگریہ حقیقت ہے کہ دنیا ہم پر اعتبار نہیں کر رہی۔ایک پارٹی کا ایسا سربراہ جسے دہشت گرد سے لے کر ہر طرح کے الزامات کا سامنا ہے وہ چند گھنٹے ٹیلی تھان کرتا ہے اور اربوں روپے اکٹھے کر لیتا ہے ۔دوسری جانب چودہ پارٹیوں کا متنجن مل کر کسی مصیبت زدہ علاقے میں جا نہیں سکتا۔کم از کم ایک پارٹی کے مقابلے میں چودہ پارٹیوں کا یہ کردار تو ہونا چاہیے تھا کہ وہ اس کے مقابل ہی امداد اکھٹی کر لیتے۔تجربہ کاروں کی اس ٹیم پر تو توقع تھی کہ چند دنوں میں یہ وطن عزیز کے مسائل حل کر لیتے مگر انہوں نے تو مسائل کو مزیدگمبھیربنا دیا ہے۔پاکستان کو اس وقت شدید معاشی بحران کا سامنا ہے،ذرائع آمدن محدود اور اخراجات میں اضافے کی وجہ سے زرمبادلہ کے ذخائر تیزی سے کم ہورہے ہیں۔ایسے میں اگر پاکستان پر کوئی مشکل آتی ہے تو اس سے صرف عوام نہیں بلکہ ریاست بھی شدید متاثر ہو گی۔ یہ مشکلات کتنی خطرناک ہوسکتی ہیں یہ جاننے کیلئے صرف سری لنکا کی مثال کافی ہے جہاں معیشت دیوالیہ ہونے کے بعد ہر چیز کی قیمت اتنی بڑھ چکی ہے کہ وہ عام لوگوں کی پہنچ سے دور ہوچکی ہے۔
پاکستان کی صورتحال بھی کوئی مختلف نہیں۔ ہمارے پاس ابھی موقع ہے اگرچہ وقت کم ہے مگر ملک کو مشکل صورتحال سے بچایا جا سکتاہے۔ بنیادی شرط یہ ہے کہ عوام کا حکومت پر اعتماد بحال ہو۔ سیاسی استحکام ہو۔اس کیلئے ان اداروں کو اپنا کردار ادا کرنا ہو گا جو ریاست کے رکھوالے ہیں۔ دوسرے نمبر پر چند بنیادی اور ضروری اقدامات اٹھانے ہوں گے تاکہ معیشت کو سنبھالا مل سکے۔ پاکستان کو پٹرولیم مصنوعات کی امپورٹ پر سالانہ 17 ارب ڈالر کی ادائیگی کرنا پڑتی ہے لیکن ہم تھوڑی سی کوشش سے گاڑی کا استعمال کم کر کے حکومت کو سالانہ 300 ڈالر تک یعنی گاڑی استعمال کرنے والا ہر شہری قریباً 60 ہزار روپے کا فائدہ پہنچاسکتا ہے جس سے ہمارا امپورٹ بل کم ہوگا اور پاکستان کو ادائیگی کیلئے درپیش مشکلات میں بھی کمی ہوگی۔پاکستان میں مہنگے موبائل فونز رکھنا فیشن بن چکا ہے اور لوگ نئے نئے ماڈلز کے موبائل فونز خریدنا پسند کرتے ہیں لیکن یہ جان لیں کہ بیرون
ممالک سے موبائل فونز امپورٹ کرنا بھی پاکستان کی معیشت پر بہت بھاری پڑتا ہے۔ ملک میں گزشتہ سال قریباً ڈیڑھ ارب ڈالر کے موبائل فونز درآمد کئے گئے۔عوام مہنگے فونز کی خریداری کا سلسلہ کچھ عرصہ کیلئے روک کر پاکستان کو بھاری بلز کی ادائیگی سے بچانے میں اپنا کردار ادا کرسکتے ہیں۔ ایک طرف کھانے پینے کی اشیاء کی قیمتیں کنٹرول سے باہر جارہی ہیں تو دوسری طرف پٹرول کی قیمت بھی قابو میں آنا مشکل ہے ،ایسے میں ملک میں مہنگی گاڑیاں منگوانا کسی بھی طرح دانشمندانہ اقدام نہیں ہوسکتا۔ پاکستان نے گزشتہ سال ڈھائی ارب ڈالر سے زائد کی گاڑیاں امپورٹ کیں۔ پاکستانی عوام بحران کے دوران غیر ضروری گاڑیاں منگوانا بند کردیں تو ملک پر معاشی دبائوکم ہوسکتا ہے۔ پاکستانی عوام چائے کے بہت زیادہ شوقین ہیں اور یہاں چائے کے بغیر ہر محفل ادھوری سمجھی جاتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ پاکستان پوری دنیا میں چائے کی پتی درآمد کرنے والا سب سے بڑا ملک بن چکا ہے اور پاکستانیوں کے چائے کے اس شوق کو پورا کرنے کیلئے حکومت کو سالانہ قریباً 600 ملین ڈالر تک خرچ کرنا پڑتے ہیں جو کہ پاکستانی کرنسی میں 120 ارب روپے سے زائد بنتے ہیں لیکن عوام چائے کا استعمال کم کردیتے ہیں تو پاکستان کا درد سر کم ہوسکتا ہے۔ہمارے ملک میں اور کچھ ہو یا نہ ہو دکھاوے کیلئے برانڈڈ اشیا ء کا استعمال ضرور کیا جاتا ہے لیکن ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ ان اشیاء کیلئے حکومت کو بھاری زرمبادلہ بیرون ممالک کو ادا کرنا پڑتا ہے جس کے اثرات ہماری روزمرہ زندگیوں پر بھی ہوتے ہیں۔ اگر ہم برانڈڈ اشیاء کے بجائے نسبتاً سستی اور مقامی اشیاء کو ترجیح دیں تو ہماری معاشی مشکلات کافی حد تک کم ہوسکتی ہیں۔پاکستان میں خوردنی تیل بھی پٹرول کی طرح معیشت پر بہت بھاری پڑتا ہے، حیرت کی بات تو یہ ہے کہ ملکی ضرورت کا صرف 10 فیصد مقامی جبکہ 90 فیصد خوردنی تیل بیرون ممالک سے امپورٹ کرنا پڑتا ہے اور اس کیلئے حکومت کو قریباً 4ارب ڈالرتک ادا کرنا پڑتے ہیں،لیکن مہنگے اور امپورٹڈ تیل کا استعمال کم کرکے ڈالرز کو ملک سے باہر جانے سے روکا جاسکتا ہے۔پوری دنیامیں آن لائن کام کرنے کا رجحان بڑھتا جارہا ہے۔ بھارت آن لائن خدمات کی فراہمی کے عوض کروڑوں ڈالرز کمارہا ہے جبکہ ہمارے نوجوان درست رہنمائی نہ ہونے کی وجہ سے بہت کم ڈالرز تک محدود ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button