ColumnImran Riaz

پنڈی پلان .. عمران ریاض

 

معروف صحافی نجم سیٹھی نے سوشل میڈیا پر پروگرام کرتے ہوئے دیگر تمام تجزیہ نگاروں سے انتہائی مختلف تجزیہ پیش کیا جس پر اس روزیقین کرنا بہت مشکل تھا۔ بہرحال نجم سیٹھی اطلاعات پر مبنی اس تجزیے پر اپنی ساکھ دائو پر لگانے بھی تیار ہوگئے اور انہوں نے پنڈی پلان کےنام سے منصوبہ بیان کرتے ہوئے بتایا ہے کہ اس پنڈی پلان پر تمام سیاسی سٹیک ہولڈرز کا اتفاق ہو چکا ہے اور جو کوئی اس سے اتفاق نہیں کرے گا وہ پھر خودی ہی بھگتے گا۔ لندن پلان کو آشکار کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ اگلے دو مہینوں میں وفاقی اور صوبائی حکومتیں ختم ہو جائیں گی۔ شہباز شریف، عمران خان اور اسٹیبلشمنٹ کے اتفاق رائے سے مرکز اور صوبوں میں نگران حکومتیں قائم ہوں گی جو جنوری یا فروری میں عام انتخابات کرائیں گی۔ الیکشن صاف اور شفاف ہوگا اور اس میں سب کو برابر موقع دیا جائے گا۔ نواز شریف جیل جائے بغیر پاکستان آکر اپنی پارٹی کے معاملات چلائیں گے اور الیکشن مہم میں بھی وہ لیڈ کریں گے۔ عمران خان کو کسی بھی کیس میں سزا نہیں ہوگی۔ اگر کوئی ماتحت عدالت سزا دے گی بھی تو اعلیٰ عدلیہ ایسی سزائوں کو معطل کر دے گی۔ دوسری طرف مریم نواز کو ان کا پاسپورٹ مل جائے گا اور وہ لندن میں اپنے والدکے پاس چلی جائیں گی اور پھر نواز شریف کے ساتھ ہی واپس آئیںگی اسی طرح نئے آرمی چیف کی تقرری انتخابات کےبعد قائم ہونے والی حکومت کرے گی تب تک جنرل قمر جاوید کو ان کی مدت ملازمت میں توسیع دے
دی جائے گی اور انتخابات صاف و شفاف ہوں گے۔ انتخابات کے نتیجے میں جو بھی اکثریت حاصل کرے گا اقتدار اس کے سپرد کر دیا جائے گا۔
جو فارمولا نجم سیٹھی نے بیان کیا قریباً وہی فارمولا عمران خان نے کامران خان کے ساتھ فرمائشی انٹرویو میں کہہ کر مہرتصدیق ثبت کردی اور اس کے بعد پاکستان کے سیاسی مستقبل کا جو نقشہ ہے، اگر نکتہ سے نکتہ ملایا جائے تو سارا کھیل واضح ہو جاتا ہے لیکن ساری صورت حال میں ابھی کچھ ابہام بھی باقی ہے اور کچھ سوالات بھی جنم لیتے ہیں۔مثال کے طور سب سے پہلا سوال یہ ہے یہ جو مجوزہ پنڈی پلان ہے یہ اس پر یشر کا نتیجہ ہے جو کہ عمران خان اسٹیبلشمنٹ اور حکومت پر مسلسل بڑھا رہے تھے یا پھر آپ اسے عمران خان کا سرنڈر کرنا کہیں گے ۔ عمران خان کل تک جنہیں
عوامی جلسوں میں میر جعفراور میر صادق اور پتا نہیں کیا کیا کہتے رہے تھے، آج ان کی مدت ملازمت میں اضافے کی بات کر رہے ہیں اور آٓئندہ پھر ان کے ساتھ ملکر کام کرنے کو تیار ہیں اوردوسری طرف وہ بھی سب کچھ بھلاکر عمران خان کو قبول کرنے پر تیار ہوگئے ہیں۔کیا اس صورتحال کو این آر او کہا جا سکتا ہے۔ کیا نون لیگ کے علاوہ حکومتی اتحاد میں شامل دیگر جماعتیں پیپلز پارٹی، جے یو آئی اور ایم کیو ایم بھی پنڈی پلان پر آن بورڈ ہیں یا نہیں؟ مسلم لیگ نون نواز شریف کی واپسی جیل جائے بغیر کو، اپنے لیے اتنا بڑا سیاسی ہتھیار سمجھتی ہے کہ جس سے اپنی کھوئی ہوئی سیاسی ساکھ بحال کرکے آئندہ الیکشن جیتنے کی پوزیشن میں آجائے گی۔
اس امر کا جائزہ لینا بھی ضروری ہے کہ آیا یہ مجوزہ پلان عمران خان کے دبائو کا نتیجہ ہے یا ماضی کی طرح اسٹیبلشمنٹ کی ایک ڈکٹیشن ۔جو سب کے کے لیے بائنڈنگ ہوگی یا پھر اس پلان کے پیچھے وہ بیک ڈور ڈپلومیسی ہے جو صدر علوی سمیت کچھ بھاری و بھرکم شخصیات کام کر رہی تھیں اور اس ڈپلومیسی کے ذریعے تمام سٹیک ہولڈرز کا اتفاق رائے کرایا گیا اور اب کہا یہ جا رہا ہے کہ اگر اس پنڈی پلان پر عمل درآمد نہ کیا گیا تو پورا جمہوری نظام لپٹ سکتا ہے۔
بعض غیر جانبدار حلقوں کہنا ہے کہ ایک طرف پاکستان کو سخت بحرانوں کا سامنا ہے تو دوسری طرف ملک بالکل جامد ہوکر رہ گیا تھا۔غیر یقینی سیاسی صورتحال پاکستان کو درپیش بحرانوں کو مزید کئی گنا بڑھا رہی ہے اور موجودہ حکومت کی کارکردگی سے عوام بالکل مطمئن نہیں تو دوسری طرف عمران خان عوام میں مقبول ترین لیڈر بن چکے ہیں۔ عمران خان سے سختی سے نمٹنے کے لیے نہ تو حکومت تیار ہے نہ اسٹیبلشمنٹ اورنہ ہی عدلیہ۔ تو حالات مزید خرابی کی طرف جائیں گے سب کو ون ون پوزیشن دیتے ہوئے فی الحال یہی پنڈی پلان تیار کیا گیا ہے جو درپیش مسائل کا بڑی حد تک احاطہ کرتاہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button