ColumnKashif Bashir Khan

موم کی ناک ٹوٹ چکی؟ .. کاشف بشیر خان

کاشف بشیر خان

لوگ کہتے ہیں کہ 1985 کے غیر جماعتی انتخابات کا بائیکاٹ کر کے محترمہ بینظیر بھٹو نے بہت بڑی سیاسی غلطی کی تھی لیکن میرا استدلال آج بھی یہی کہ اگر محترمہ بینظیر بھٹو ان غیر جماعتی انتخابات کا بائیکاٹ نہ کرتیں تو اول تو وہ انتخابات ہونے ہی نہیں تھے اور اگر منعقد بھی کروائے جاتے تو ایم آر ڈی اور پی پی پی کوبری طرح سےہروادیا جانا تھا کیونکہ جنرل ضیاءالحق بہت ہی جابر اور ظالم ڈکٹیٹر تھے، جو اپنے اقتدار کے دوام کیلئے کچھ بھی کر سکتے تھے۔قارئین کو یاد دلانے کی ضرورت ہے کہ جنرل ضیاء الحق نے اپنے ہاتھ کی بنائی ہوئی اسمبلیاں اور وزیر اعظم جونیجو و تمام وزراء اعلیٰ کی حکومتیں 29مئی 1988کو ختم کر دی تھیں۔قارئین کو یہ بھی یاد دلانا ضروری ہے کہ 1985میں اس غیر جماعتی اسمبلی کا پہلا اجلاس ہی تب ہوا تھا،جب خان اقبال احمد خان(تب وفاقی وزیر قانون) کی سربراہی میں کمیٹی نے بدنام زمانہ آٹھویں ترمیم کو مکمل کر لیا تھا اور یہ بھی تاریخ کا سیاہ باب ہے کہ 1985کی اسمبلی نے اپنے پہلے اجلاس میں ہی آٹھویں ترمیم کو منظور کرکے جہاں جنرل ضیاءالحق کے تمام ماورا آئین اقدامات کو جائز قرار دے دیا تھا وہاں وفاقی پارلیمانی آئین کا حلیہ بگاڑ کر تمام طاقت ایک جابر آمر کے ہاتھوں میں دے دی تھی کہ اٹھانون ٹو بی کے تحت وہ جب چاہتا منتخب حکومت اور اسمبلیوں کو گھر بھیج دیتا۔چشم فلک نے بعد میں1988,1990,1993اور 1997 میں اس بدترین آئینی دفعہ58 ٹوبی کو پاکستان کی مختلف اسمبلیوں پرکند چھری کی طرح چلتے دیکھا۔
محترمہ بینظیر بھٹو کی جمہوریت کی بحالی کیلئے جتنی لمبی جدوجہد تھی انہیں اس وقت میں یہی فیصلہ کرنا چاہیے تھا اور اقتدار کے حصول کیلئے اپنے مقاصد اور جمہوری جدوجہد کو قربان نہیں کرنا چاہیے تھا (جو انہوں نے بعد میں کیا)ان کا یہ فیصلہ اس وقت ہی درست ثابت ہو گیا تھا جب نو منتخب اسمبلی کے سامنے آٹھویں ترمیم کا ڈرافٹ رکھا اور کہا گیا کہ پہلے اجلاس میں اگر یہ نہ منظور کی گئی تو پھر اسمبلی توڑ دی جائے گی۔اسی انتخابات کے نتیجے میں گوالمنڈی سے تعلق رکھنے والا ایک کردار جو نہایت محنت سے اس وقت کے گورنر پنجاب لیفٹیننٹ جنرل غلام جیلانی کی قربت کے طفیل صوبائی وزیر خزانہ بن چکا تھے، کو عالمی سیاست دان اور بھٹو خاندان کی سیاسی میراث(جو سیاسی جدوجہد میں ہمیشہ ایک نمایاں استعارے کے طور پر جانی جائیں گی) کی مالک محترمہ بینظیر بھٹو اور نصرت بھٹوکے خلاف لانچ کیا گیا۔ پرانے اور عوامی سیاستدانوں کو نظر انداز کر کے نظر التفات نواز شریف پر صرف اس لیے ڈالی گئی تھی کہ ایک مطلق العنان آمر کو ایسا وزیر اعلی چاہیے تھا،جو موم کی ناک کی طرح ہو اور فوجی آمر اسے جب اور جیسا چاہے، اپنی مرضی کے تابع موڑ لے۔پنجاب اسمبلی میں کھنڈا اٹک سے تعلق رکھنے والے پڑھے لکھے اور عوام میں مقبول ترین اصول پسند سیاستدان ملک اللہ یار آف کھنڈا کے گرد پنجاب اسمبلی کے نو منتخب اراکین اسمبلی اکٹھے ہو چکے تھے کہ اس وقت میں ان سے بہتر وزیر اعلیٰ میسر نہیں تھا لیکن پھر گورنر غلام جیلانی اور سابق وفاقی وزیر میاں زاہد سرفراز کی ایک میٹنگ نے اس(ممکنہ نامزدگی) کو تبدیل کر دیا اور میاں نواز شریف کو میاں زاہد سرفراز اور جنرل ضیاالحق کی فائنل میٹنگ میں اس ایک جملے پر بطور وزیر اعلیٰ پنجاب نامزد کر دیا گیا جو میاں زاہد سرفراز نے جنرل ضیاالحق کے سوال کے جواب میں کہا کہ جنرل صاحب
ملک اللہ یار کھنڈا آپ کی ساری غیر آئینی باتیں نہیں مانے گا جب کہ میاں نواز شریف موم کی ناک ثابت ہو گا اور آپ اسے جدھر چاہیں موڑ لیں گے،اسی طرح مرکز میں سندھ سے پیر صاحب پگاڑا نے محمد خان جونیجو کا نام بطور وزیر اعظم دیا اور ساتھ کہا کہ سائیں یہ ہمارا آدمی ہے اور ہم اسے سود سمیت جب چاہیں گے واپس لے لیں گے،لیکن مرکز میں جنرل ضیاءالحق کو شدید جھٹکا اس وقت لگا جب سپیکر قومی اسمبلی کے انتخاب میں ان کا امیدوار تمام تر کوششوں کے بعد ہار گیا اور آزاد گروپ کے سید فخر امام سپیکر قومی اسمبلی منتخب ہو گئے۔
اس غیر جماعتی اسمبلی کی خوبصورتی یہ تھی کہ آمر جنرل ضیاالحق کے نامزد سپیکرخواجہ محمد صفدر(خواجہ آصف کے والد اور مجلس شوریٰ کے چیئرمین)ایک واضح مارجن کے ساتھ سپیکر قومی اسمبلی کا الیکشن ہار گئے تھے۔سید فخر امام میرے بہت اچھے دوست اور پاکستان کے قابل فخر اور ایماندار پڑھے لکھے سیاستدان ہیں۔سید فخر امام نے میرے پروگرام میں بتایا تھا کہ جب سپیکر قومی اسمبلی کا الیکشن ہونے جا رہا تھا تو آخری وقت میں نامزد وزیر اعظم محمد خان جونیجو حکومتی امیدوار کیلئے اراکین اسمبلی سے ووٹ مانگ رہے تھے۔ سید فخر امام کے بقول قومی اسمبلی میں جنرل ضیاالحق کا فون بھی آیا جس میں انہوں نے فخر امام سے دستبرداری کی خواہش ظاہر کی تھی۔ سید فخر امام کے مطابق انہوں نے جابر آمر کو خوبصورتی سے یہ کہہ کر ٹال دیا تھا کہ یہ فیصلہ میرا نہیں اور اس فیصلہ کے پیچھے تمام اراکین اسمبلی ہیں اور اس موقعہ پر سپیکر کے انتخاب سے دستبردار ہونااب مناسب نہیں۔ یہ کردار تھا ایک ایسے سیاستدان کا جو آج بھی پاکستان کا وہ واحد سپیکر قومی اسمبلی ہے جس نے سپیکر شپ آئین اور قانون کے تحت چلائی تھی۔جنرل ضیاءالحق نے یہ بات دل میں رکھی اور ایک
سال کے بعد مئی 1986 میں تحریک عدم اعتماد کے ذریعے سید فخر امام کو ہٹا کر حامد ناصر چٹھہ کو سپیکر قومی اسمبلی بنا دیا۔اسی طرح محمد خان جونیجو کاافغان پالیسی پر اختلاف اور اوجڑی کیمپ پر تحقیقات کرانے کے اعلان پر آمر جنرل ضیاءالحق نے جب 1988 میں اپنی ہی منتخب کی ہوئی اسمبلی پر اسی اسمبلی کی منظور کی ہوئی 58 بی ٹو کی ترمیمی شق استعمال کی تو’’موم کی ناک‘‘کی مانند نواز شریف اس کے ساتھ تھے اور پھر دنیا نے دیکھا کہ جونیجو صاحب کو حکومت اور اسمبلی ختم کر کےسانگھڑ بھیج دیا گیا اور نواز شریف دوبارہ نگران وزیر اعلیٰ پنجاب بن گئے۔
جو کچھ 1988 کے انتخابات میں پی پی پی اور بینظیر بھٹو کے ساتھ کیا گیا اور اکثریت میں ہونے کے باوجود دو ادوار میں ان کو حکومت نہ کرنے دی گئی وہ بھی دنیا کو یاد ہے لیکن آج حیرانگی تو اس بات پر ہے کہ جس (آصف علی زرداری) کی بیوی اور(بلاول زرداری)کی ماں کی برہنہ تصاویر جہازوں سے پھینکی گئیں اور بھٹو خاندان کی عورتوں کو منحوس اور غلیظ خطابات سے نوازا گیا۔ وہی باپ بیٹا انہی شریف برادران کے ساتھ آج شراکت اقتدار میں ہیں۔دوسری جانب مریم صفدر اور کلثوم نواز کیلئے غلیظ ترین زبان استعمال کرنے والے ایک صاحب آج نواز لیگ کے کرتا دھرتا اور وفاقی وزیر خاص ہیں۔ سیاست بے رحم ضرور ہوتی ہے لیکن بے اصولی اور غیرت بیچنے کا نام تو سیاست دنیا کے کسی حصہ میں بھی نہیں کہلایا جاتا۔آج جب شریف برادران اور آصف علی زرداری جمہوریت کی بات کرتے ہیں تو میری سامنے زمانہ طالب علمی کے وہ سارے ایک دوسرے کے خلاف کیچڑ اچھالنے کےواقعات تیزی سے چلتے نظر آتے ہیں ۔ 1988 میں صاحبزادہ یعقوب خان کو وزیر خارجہ قبول کرنا اور پھر غلام اسحاق خان کو صدارتی انتخاب میں نوابزادہ نصر اللہ خان پر ترجیح دینا۔پنجاب میں اپنے بھائی کو وزیر اعلیٰ بنانا اور رفیق تارڑ اور ممنون حسین جیسے اشخاص کو صدر پاکستان بنانا۔یہ سب کام محترمہ بینظیر بھٹو اور میاں نواز شریف جیسے نام نہاد جمہوری چمپئن ہی ماضی میں کرتے رہے۔جس جماعت کا بھٹو کے زمانے میں پنجاب اور لاہور گڑھ تھا اس کا حال یہ ہو گیا تھا کہ یہاں کا صوبائی صدر میاں نواز شریف کے ساتھ ملا ہوا تھا اور قومی و صوبائی اسمبلیوں کے ٹکٹ بھی شریف برادران سے پوچھ کر دیا کرتا تھا۔آج اگر پنجاب سے پی پی پی کا صفایا ہو چکا ہے تو پلے نون لیگ کے بھی کچھ نظر نہیں آرہا۔اس تحریر کو غور سے پڑھیں تو یہ سمجھ ضرور آئے گی کہ جو پودا جنرل ضیاء الحق نے پاکستان کی سیاست میں لگایا تھا اس نے کسی آسیب کی طرح اس قوم کا قریباً چالیس سال نہ صرف پیچھا کیا بلکہ اس قوم کو ہر طرح سے لوٹا اور کھسوٹا۔آج بھی اگر دنیا میں سوشل میڈیا کا انقلاب نہ برپا ہوا ہوتا تو شاید یہ سیاستدان آسیب کی مانند عوام کا خون پھر چوستے ہی دکھائی دیتے بلکہ وہ اپنے خونی پنجے عوام کی شہ رگ میں پیوست کرتے اور دوسرا سیاسی گروہ اپنی باری کے انتظار میں ہوتا لیکن بدلتے زمانے کے ساتھ تیزی سے تبدیل ہوتے سیاسی و ملکی حالات ان دونوں سیاسی جماعتوں (زرداری وغیرہ اور شریف برادران)اور مولانا فضل الرحمان کو اپنے اپنے گھروں تک محدود کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔ آج عوام کوخس و خاک کرنے والے اپنی سیاسی بقا کی جنگ لڑتے بری طرح ایسے گرداب میں پھنسے نظر آرہے ہیں جس سے نکلنا نہ ان کے بس میں دکھائی دے رہا نہ ہی انہیں نکالناچارہ سازوں کے بس میں ہے۔ فیض احمد فیض تو بہت عرصہ پہلے کہتا تھا کہ’’ہم دیکھیں گے‘‘اب یہ ہم پر منحصر ہے کہ کیا ہم تخت اچھلتے دیکھنا چاہتے ہیں؟یقین جانیے وقت رخصت آن پہنچا ہے۔ حوصلہ اور آخری دھکا دینا ہوگا۔چالیس سال میں پاکستان میں موم کی ناک کو اپنی مرضی اور خواشات کی تکمیل میں موڑنے والوںنے اتنا زیادہ موڑا ہے کہ آج’’موم کی ناک‘‘ٹوٹتی ہوئی دکھائی دے رہی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button