CM RizwanColumn

مسائل کے آبنائے ہرمز میں سرگرداں پاکستان

جگائے گا کون؟
مسائل کے آبنائے ہرمز میں سرگرداں پاکستان
سی ایم رضوان
پاکستان اپنی سابقہ تمام تر تاریخ کی بداعمالیوں اور موجودہ رجیم کی خوش فہمیوں کے نتیجے میں آج مسائل کے آبنائے ہرمز پر ہو بہو ایسے ہی سرگرداں ہے جیسے کہ جنگ کے ان دنوں میں آبنائے ہرمز کے پانیوں کی سطح پر کوئی بے منزل بحری جہاز ڈانواڈول پھر رہا ہو۔ آج کے پاکستان کے تمام تر سلگتے مسائل ایسی شکل اختیار کرتے جا رہے ہیں کہ جیسے یہ کبھی بھی حل نہیں ہو سکیں گے۔ ان حالات میں ایک طرف تو موجودہ حکمرانوں کی طفل تسلیاں اور دوسری طرف معیشت کی تباہی پر ذی شعور پاکستانی کے لئے سوہان روح بن گئی ہے۔ ایران اور امریکہ کے درمیان جاری معاشی و عسکری جنگ میں پاکستان کے ڈیفالٹ کر جانے کا ممکنہ خطرہ، سعودی عرب اور حوثیوں کی طویل کشیدگی کے علاقائی اثرات سے مسائل میں گھر جانے کا خدشہ اوپر سے مقامی سطح پر پٹرولیم مصنوعات کے داموں میں بے تحاشا اضافہ اور اس کے نتیجے میں پھیلنے والی کمر توڑ مہنگائی، اپوزیشن بالخصوص پی ٹی آئی اور جماعت اسلامی کی احتجاجی تحاریک اور ان سب کے ساتھ عالمی توانائی کی اہم ترین گزرگاہ آبنائے ہرمز کی غیر یقینی صورتحال اور بحر منذب کی سنگین صورتحال سے جڑا ملکی معاشی و سیاسی مستقبل؛ یہ سب وہ طوفانی امواج ہیں جنہوں نے آج پاکستان کی کشتی کو اپنے حصار میں لے رکھا ہے۔
ایک جواب نہ پانے والا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ مسائل کے اس بے رحم سمندر میں تھپیڑے کھاتی ہوئی پاکستانی معیشت کی کشتی آخر کس طرح ترقی و استحکام کے ساحل پر لنگر انداز ہو سکتی ہے جبکہ آج کے جیو پولیٹیکل توازن نے یہ صورت حال پیدا کر دی ہے کہ پاکستان کا سب سے پہلا معرکہ بیرونی محاذ پر ہے۔ جس میں لڑنے کے لئے ہر حال میں دوسرے ممالک کی ترجیحات اور من مرضی کے مطابق چلنا پڑتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ آبنائے ہرمز سے دنیا کا تقریباً 20 فیصد خام تیل گزرتا ہے۔ اگر ایران اور امریکہ کا تصادم بڑھتا ہے یا خلیجی خطے میں حوثی کشیدگی طویل ہوتی ہے تو اس کا براہ راست اثر عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں سنسنی خیز اضافے کی صورت میں نکلے گا اور کمزور معیشت کا حامل پاکستان سب سے پہلے اس معاشی تھپیڑے کا شکار ہو گا۔
پاکستان کو ایران اور سعودی عرب، نیز مغرب کے ساتھ اپنے روابط کا استعمال کرتے ہوئے غیر جانبدارانہ اور امن پسند سفارت کاری اپنا کر بھی وہ نتائج حاصل ہونا مشکل ہے جن سے کم از کم اس کی معیشت مضبوط ہو سکے۔ دوسرے لفظوں میں خطے میں جنگ کے طویل یا شدید ہونے کا مطلب پاکستان کے لئے معاشی تباہی یقینی ہے۔ جس کا ثبوت یہ ہے کہ امریکی صدر ٹرمپ جس ایران کے عوام کی بدحالی کے فرضی قصے جھوٹ موٹ روزانہ کی بنیاد پر سناتا ہے پاکستان کے عوام اس ایران کے عوام کے مقابلے میں جنگ سے زیادہ بیزار اور مشکلات کا کہیں زیادہ شکار ہو چکے ہیں۔ ان حقائق کی موجودگی میں معاشی بدحالی سے بچنے کے لئے خلیج پر مکمل انحصار کی بجائے پاکستان کو ایران، پاکستان گیس پائپ لائن، وسطی ایشیائی ریاستوں اور روس کے ساتھ طویل المدتی توانائی معاہدوں پر کام تیز کرنا ہو گا لیکن پاکستان جس طرح ثالثی سفارت کاری میں مصروف ہے مشکل نظر آتا ہے کہ وہ توانائی کے متبادل ذرائع تلاش کر لے گا۔ ملک کے اندرونی سیاسی استحکام اور قومی میثاقِ معیشت کا عدم وجود بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ حکمران طبقہ جس طرح اندرونی سطح پر تحریک انصاف اور جماعت اسلامی جیسے سیاسی دھڑوں کے احتجاجی مظاہروں سے نپٹ رہا ہے اس پر بھی اس کی انرجی اور وقت ضائع ہو رہا ہے۔ سیاسی عدم استحکام اور سڑکوں پر جاری کھینچا تانی ملکی معیشت کی جڑوں میں دیمک کی طرح سرایت کر رہی ہے۔ تمام سیاسی جماعتوں، عسکری و سول قیادت کو فوری طور پر تمام تر اختلافات بالائے طاق رکھ کر ایک طویل المدتی معاشی روڈ میپ پر متفق ہو جانا چاہئے لیکن یہ کام بھی کبھی نہیں ہو سکتا کیونکہ یہاں ہر سیاستدان کی بالیدگی بیرونی پانیوں میں پل کر ہوئی ہے مقامی مسائل ان سب کی ترجیحات میں شامل ہیں نہیں۔ ان سب کو واضح طور پر علم ہے کہ پاکستان کی معاشی بحالی اور جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہونے کے لئے معیشت، تعلیم اور آئی ٹی کے شعبوں میں بنیادی اور فوری اصلاحات کی ضرورت ہے غیر فعال اور ٹیکس نیٹ سے باہر شعبوں ( مثلاً جاگیرداری، رئیل اسٹیٹ اور بڑا ہول سیل کاروبار) کو ٹیکس نیٹ میں لانا اور عام شہریوں پر غیر براہ راست ٹیکسوں کا بوجھ کم کرنا، خسارے میں چلنے والے سرکاری اسٹیل ملز، پی آئی اے اور پاور ڈسٹری بیوشن کمپنیوں کے مستقل مالی خسارے کو ختم کرنے کے لئے ان کی نج کاری یا پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کی ضرورت ہے یہ سب ہو بھی سکتا ہے لیکن بدقسمتی یہ ہے کہ یہ سیاسی حکمران یہ سب کرنا نہیں چاہتے۔
یہ اگر ملک سے مخلص ہوں تو ملک کی برآمداتی صنعتوں کو سستی اور مسلسل توانائی فراہم کریں تاکہ عالمی منڈی میں پاکستانی مصنوعات کا مقابلہ ممکن ہو سکے، ملک بھر میں تیز ترین فائبر آپٹک اور فائیو جی سروسز کا قیام کریں تاکہ فری لانسرز اور ٹیک کمپنیوں کو بغیر کسی رکاوٹ کے کام کرنے کا ماحول ملے۔ بین الاقوامی ادائیگی کے نظاموں مثلاً PayPal، Stripeوغیرہ کی پاکستان میں رسائی اور مقامی بینکنگ سسٹم کی بین الاقوامی یکسانیت۔ آئی ٹی سے وابستہ اسٹارٹ اپس اور فری لانسرز کو کم از کم 5سے 10سال کے لئے واضح اور دوستانہ ٹیکس پالیسی دیں تاکہ زرِ مبادلہ پاکستان لانا آسان اور محفوظ ہو۔ یہ حکمران اگر ان تینوں شعبوں میں سیاسی مفادات سے بالاتر ہو کر مربوط اور ٹھوس پالیسیاں نافذ کریں، تو ملک مختصر سے درمیانے عرصے میں معاشی خودکفالت حاصل کر سکتا ہے۔ لیکن اگر یہ سب نہیں ہوتا تو پاکستان اسی طرح مسائل کے آبنائے ہرمز میں سرگرداں رہے گا اور اسے ترقی و خوشحالی کا ساحل کبھی نصیب نہیں ہو گا۔
پاکستان جن بحرانوں سے گزر رہا ہے وہ غیر معمولی ہیں، آبنائے ہرمز کے تنائو سے لے کر اسلام آباد کی شاہراہوں پر احتجاجی نعروں تک ان تمام چیلنجز کا جواب ایک واضح قومی وژن، مضبوط سیاسی ارادے، اور دیرپا معاشی اصلاحات میں پوشیدہ ہے۔ اگر ملک کے فیصلے وقتی سیاسی مفادات کی جگہ طویل المدتی قومی مفاد میں کیے جائیں اور معاشی پالیسیوں میں تسلسل قائم رکھا جائے، تو مسائل کا یہ متلاطم سمندر بالآخر پرسکون ہو گا اور پاکستان واقعی ایک پائیدار اور مستحکم ترقی کے ساحل پر لنگر انداز ہو سکے گا۔
افسوس کہ پاکستان آج کل جس خبط میں مبتلا ہے وہ یہ ہے کہ پی ٹی آئی کے مجوزہ لانگ مارچ کے خلاف کی جانے والی حکومتی تدابیر کے حوالے سے سیاسی اور انتظامی صورتِ حال انتہائی کشیدہ ہے۔ دونوں فریقین کے اقدامات اور ممکنہ نتائج کیا ہوں گے یہ تو وقت ہی بتائے گا لیکن فوری طور پر حکومت نے مارچ کو روکنے اور وفاقی دارالحکومت کو بندش سے بچانے کے لئے سخت ترین اقدامات کیے ہیں۔ بعض جبری اور چند فرمائشی گرفتاریاں اور قانون کی ڈنڈا برداری جاری ہے۔ ایم پی او کے تحت پی ٹی آئی کے متعدد اراکینِ اسمبلی، کارکنان اور عمران خان کی تینوں ہمشیرگان علیمہ خان، ڈاکٹر عظمیٰ اور نورین نیازی کو حراست میں لیا گیا ہے۔ کنٹینرائزیشن اور ناکہ بندی کے تحت اسلام آباد اور پنجاب کے اندرونی و بیرونی راستوں پر ہزاروں کنٹینرز اور پنجاب، سندھ پولیس پر مشتمل بھاری نفری تعینات کی جا رہی ہے۔ وزیرِ داخلہ محسن نقوی اور دیگر سرکاری نمائندوں کا واضح موقف ہے کہ دارالحکومت میں احتجاجی دھرنے یا شہر کو مفلوج کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ اور پی ٹی آئی کی قیادت احتجاج کو کامیاب بنانے پر زور دے رہی ہے۔ یہاں پیش گوئی یہ ہی کی جا سکتی ہے کہ اگر کے پی کے اور پنجاب سے کارکنان بڑی تعداد میں رکاوٹیں توڑ کر پہنچنے میں کامیاب ہوتے ہیں تو اسلام آباد میں شدید تنا اور تعطل کی فضا بن سکتی ہے لیکن زمینی سطح پر پی ٹی آئی کی مرکزی قیادت اور سرگرم شخصیات کی حالیہ گرفتاریوں کے بعد سڑکوں پر نچلی سطح کی تنظیم سازی اور جتھہ بندی پر دبا بڑھ چکا ہے۔ اب تک تو غالب امکان یہی نظر آتا ہے کہ انتظامیہ اور سکیورٹی فورسز کے ذریعے دارالحکومت کو مکمل سیل کرنے اور کارکنان کو داخل ہونے سے روکنے میں تکنیکی طور پر پیش رفت حاصل کر سکتی ہے۔
ان معاملات سے ہٹ کر دیکھا جائے تو نظر آتا ہے کہ ملکی عوام کو اپنے درپیش مسائل ( خواہ وہ معاشی، سیاسی، سماجی یا انتظامی ہوں) کے حل ہونے کی کوئی امید باقی نہیں رہی۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی اجتماعی نفسیات شدید دبا اور توڑ پھوڑ کا شکار ہو گئی ہے۔ نفسیات اور عمرانیات میں اس کیفیّت کو مختلف مراحل اور علامتوں کی صورت میں سمجھا جاتا ہے۔ نفسیات میں اسے سیکھی ہوئی لاچاری کہا جاتا ہے۔ جب لوگ بار بار کوشش کرنے یا سڑکوں پر نکلنے کے باوجود حالات کو تبدیل ہوتا نہ دیکھیں، تو وہ یہ مان لیتے ہیں کہ اب کچھ نہیں ہو سکتا۔ لوگ مسائل پر احتجاج کرنے یا آواز اٹھانے کے بجائے خاموشی اختیار کر لیتے ہیں۔ ظلم یا بدحالی ان کی زندگی کا معمول بن جاتی ہے اور وہ اپنے حالات پر تعجب کرنا بھی چھوڑ دیتے ہیں۔ کیونکہ مستقبل کے غیر یقینی ہونے کا احساس انسان کے اندر مسلسل بے چینی اور خوف پیدا کرتا ہے۔ جب لوگوں کو یہ معلوم نہ ہو کہ اگلے ماہ کا راشن، بجلی کا بل یا بچوں کی فیس کیسے ادا ہوگی، تو گھروں میں تنائو بڑھ جاتا ہے۔ عوام کی بڑی تعداد اینگزائٹی، شدید دبائو اور بے خوابی کا شکار ہو جاتی ہے۔ امید ختم ہونے کا سیدھا تعلق اداروں اور قیادت سے اعتماد کا اٹھ جانا ہے۔ لوگ پولیس، عدلیہ، حکومت اور سیاستدانوں کو اپنا ناظم یا محافظ سمجھنے کی بجائے نظام کے شاطر کھلاڑی سمجھنے لگتے ہیں۔ قانون کی پاسداری کا جذبہ ختم ہونے لگتا ہے کیونکہ عوام کا یہ یقین بن جاتا ہے کہ قانون صرف غریب کے لئے ہے۔ جب اپنے گھر یا ملک میں حل کی امید نہ رہے تو انسان ذہنی یا جسمانی طور پر وہاں سے نکلنا چاہتا ہے۔ نوجوان طبقہ بیرونِ ملک جانے کی ہر ممکن تلاش میں رہتا ہے۔ لوگ سوشل میڈیا، گیمنگ، منشیات یا تفریح کے فضول ذرائع میں پناہ ڈھونڈتے ہیں تاکہ تلخ حقیقتوں سے کچھ دیر کے لئے آنکھیں چرا سکیں۔ جب اجتماعی بہتری کی امید نہیں رہتی، تو افراد ہر شخص اپنے لئے کے اصول پر عمل کرنے لگتے ہیں اور معاشرے میں باہمی ہمدردی، ایثار اور اخلاقی اقدار تیزی سے گرتی ہیں۔ لوگ چھوٹی چھوٹی چیزوں پر جھگڑتے ہیں، دھوکہ دہی اور ذخیرہ اندوزی عام ہو جاتی ہے۔ محرومی اور ناامیدی کا اخراج یا تو اندرونی گھٹن بنتا ہے یا بیرونی تشدد، سڑکوں پر چھوٹی بات پر لڑائی جھگڑا اور گھریلو تشدد بڑھ جاتا ہے۔ روزمرہ کے جرائم ( چوری، ڈکیتی) میں اضافہ ہوتا ہے کیونکہ لوگ اسے اپنے وجود کو برقرار رکھنے یا نظام سے بدلہ لینے کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔ امید کسی بھی معاشرے کا وہ لازمی عنصر ہے جو اسے زندہ اور متحرک رکھتا ہے۔ جب ناامیدی جڑ پکڑ لیتی ہے تو قوم کی تعمیری صلاحیتیں ختم ہو جاتی ہیں اور وہ محض ’’ زندہ رہنے کی جدوجہد‘‘ میں آ جاتی ہے، جہاں ترقی کے بجائے صرف بقا کا سوچا جاتا ہے۔ آج ملک بھر میں یہی صورت حال ہے۔

جواب دیں

Back to top button