ColumnImtiaz Ahmad Shad

وَنس فار آل

ذرا سوچئے
وَنس فار آل
امتیاز احمد شاد
ہم اس وقت ایک ایسے سیاسی اور سماجی دور سے گزر رہے ہیں جہاں اختلافِ رائے نے محض سیاسی میدان تک محدود رہنے کے بجائے معاشرتی تعلقات کو بھی متاثر کرنا شروع کر دیا ہے۔ سیاست میں اختلاف جمہوریت کا حسن ہے، مگر جب یہی اختلاف نفرت، دشمنی، الزام تراشی اور ذاتی حملوں میں تبدیل ہوجائے تو پھر نقصان کسی ایک جماعت یا فرد کا نہیں، پورے معاشرے کا ہوتا ہے۔ ونس فار آل کے بجائے ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم ایک دوسرے کے خلاف نہیں بلکہ اپنے حقیقی مسائل کے خلاف صف بندی کریں۔ ہمیں ایک دوسرے کو شکست دینے کے بجائے مہنگائی، بے روزگاری، جہالت، غربت، بدانتظامی، کرپشن، عدم برداشت اور مایوسی کو شکست دینے کا عزم کرنا ہوگا۔ پاکستان میں سیاسی اختلاف کوئی نئی بات نہیں۔ قیامِ پاکستان کے بعد سے مختلف سیاسی جماعتیں، نظریات اور قیادتیں سامنے آتی رہی ہیں۔ حکومتیں تبدیل ہوئیں، اپوزیشن نے احتجاج کیا، پارلیمان میں اختلافات ہوئے، کبھی سیاسی کشیدگی بڑھی اور کبھی مذاکرات کے ذریعے راستہ نکالا گیا۔ جمہوری معاشروں میں یہ سب معمول کا حصہ ہے۔ اصل مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب سیاسی اختلاف ذاتی دشمنی بن جائے اور سیاسی وابستگی انسان کی پوری شناخت پر غالب آجائے۔
کیا ہمارا سیاسی اختلاف اتنا بڑا ہے کہ ہم اپنے بھائی، دوست، رشتہ دار، پڑوسی یا ساتھی سے تعلق ختم کر دیں؟ کیا کسی سیاسی جماعت کی حمایت ہمیں یہ حق دیتی ہے کہ ہم دوسرے کی نیت، کردار یا حب الوطنی پر سوال اٹھائیں؟ کیا اقتدار کی کشمکش اتنی اہم ہے کہ ہم معاشرے کے باہمی رشتوں کو ہی کمزور کر دیں؟ یقیناً نہیں۔ حکومتیں آتی جاتی ہیں، سیاسی جماعتیں اقتدار میں آتی اور اپوزیشن میں جاتی ہیں، قیادتیں تبدیل ہوتی ہیں، لیکن پاکستان اور اس کے عوام باقی رہتے ہیں۔ اسی لیے ہمیں سیاست کو اپنی زندگی کا ایسا مرکز نہیں بنانا چاہیے جہاں اختلاف کرنے والا ہر شخص دشمن دکھائی دینے لگے۔ پاکستان کو آج سب سے زیادہ جس چیز کی ضرورت ہے، وہ برداشت ہے۔ برداشت کا مطلب یہ نہیں کہ انسان اپنے اصول یا موقف سے دستبردار ہوجائے۔ برداشت کا مطلب یہ ہے کہ ہم اپنے موقف پر قائم رہتے ہوئے دوسرے شخص کو بھی رائے رکھنے کا حق دیں۔ ہم اختلاف کریں، سوال کریں، تنقید کریں، حکومت سے جواب طلب کریں، اپوزیشن کے موقف پر بھی سوال اٹھائیں، مگر انسان کی عزت کو مجروح نہ کریں۔ ہمیں یہ بھی سیکھنا ہوگا کہ معافی کمزوری نہیں ہوتی۔
زندگی میں ایسے مواقع آتے ہیں جب کسی کی بات دل دکھا دیتی ہے، کوئی ناانصافی ہوجاتی ہے، کوئی سخت جملہ کہہ دیا جاتا ہے یا سیاسی اختلاف ذاتی تعلق کو متاثر کرتا ہے۔ ایسے موقع پر بدلہ لینا آسان ہے، جواب دینا آسان ہے، نفرت کو آگے بڑھانا آسان ہے، مگر معاف کرنا مشکل ہے۔ اور شاید اسی مشکل کام کی آج پاکستان کو سب سے زیادہ ضرورت ہے۔ دل میں نفرت پالنا، ہر وقت انتقام کے بارے میں سوچنا اور ہر اختلاف کو نسل در نسل منتقل کرنا کسی قوم کو آگے نہیں لے جا سکتا۔ ہمیں درگزر اور احتساب کے درمیان فرق بھی سمجھنا ہوگا۔ معاشرے میں انصاف ضروری ہے، لیکن انصاف کا مطلب انتقام نہیں۔ سیاسی اختلاف کا حل دشمنی نہیں بلکہ مکالمہ ہے۔ قومی بحرانوں کا حل نفرت نہیں بلکہ دانش، تدبر اور اتفاقِ رائے ہوتا ہے۔
پاکستان کے سیاسی ماحول میں اس وقت مختلف جماعتوں کے درمیان شدید اختلافات موجود ہیں۔ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان اعتماد کا بحران ہو یا سیاسی بیانیوں کی کشمکش، ہر فریق اپنے موقف کو درست سمجھتا ہے۔ ایسے ماحول میں میڈیا اور سوشل میڈیا کا کردار بھی انتہائی اہم ہوجاتا ہے۔ خبر دینا صحافت ہے، لیکن نفرت کو بڑھانا صحافت نہیں۔ سوال اٹھانا صحافت ہے، مگر کسی شخص کو ذلیل کرنا صحافت نہیں۔ حکومت پر تنقید جمہوری حق ہے، لیکن ہر مخالف کو غدار قرار دینا کسی بھی معاشرے کے لیے خطرناک رجحان ہوسکتا ہے۔ سیاسی کارکنوں کو بھی یہ سوچنا ہوگا کہ اپنے قائدین سے محبت ضرور کریں، مگر اپنی عقل اور ضمیر کو معطل نہ کریں۔ سیاست میں اختلاف ہوسکتا ہے، مگر انسانیت مشترک رہنی چاہیے۔
پاکستان کے حقیقی مسائل ہمارے سامنے ہیں۔ مہنگائی عام آدمی کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔ روزگار کے مواقع پیدا کرنا ضروری ہیں۔ تعلیم، صحت، توانائی، پانی، زراعت، صنعت اور برآمدات کے شعبوں میں مسلسل توجہ درکار ہے۔ نوجوانوں کو تعلیم کے ساتھ ہنر اور روزگار کی ضرورت ہے۔ کاروباری طبقہ پالیسیوں میں تسلسل چاہتا ہے۔ عام شہری ایک ایسا نظام چاہتا ہے جہاں قانون سب کے لیے برابر ہو اور ریاستی ادارے عوام کو سہولت فراہم کریں۔یہ وہ مسائل ہیں جن پر ہماری قومی توانائی صرف ہونی چاہیے۔
لیکن افسوس یہ ہے کہ اکثر ہم اصل مسائل سے نظریں ہٹا کر ایک دوسرے سے دست و گریبان رہتے ہیں۔ پاکستان کی تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ بڑے بحران صرف طاقت سے نہیں بلکہ قومی حوصلے، اتحاد اور اجتماعی کوشش سے عبور کیے جاتے ہیں۔ آج بھی ہمیں اسی جذبے کی ضرورت ہے۔ حکومت اپنے دائرے میں بہتر کارکردگی دکھائے، اپوزیشن مثر اور ذمہ دار نگرانی کرے، پارلیمان قانون سازی اور مکالمے کا مرکز بنے، ادارے آئینی حدود میں اپنا کردار ادا کریں، میڈیا ذمہ دارانہ صحافت کرے اور عوام اختلاف کے باوجود قومی مفاد کو مقدم رکھیں۔ ہمیں یہ بھی تسلیم کرنا ہوگا کہ ہر انسان سے غلطی ہوسکتی ہے۔ سیاست دان بھی انسان ہیں، صحافی بھی، کارکن بھی اور عام شہری بھی۔ اگر ہم ہر غلطی کو ہمیشہ کے لیے دشمنی کا سبب بنا دیں گے تو معاشرے میں صلح کی گنجائش باقی نہیں رہے گی۔ بعض اوقات ایک قدم پیچھے ہٹنا شکست نہیں بلکہ بڑے مقصد کے لیے راستہ بنانا ہوتا ہے۔ بعض اوقات معذرت قبول کرنا، معاف کرنا اور آگے بڑھ جانا ہی سب سے بڑی دانش مندی ہوتی ہے۔
پاکستان کسی ایک جماعت، ایک لیڈر، ایک صوبے، ایک ادارے یا ایک طبقے کا نام نہیں۔ پاکستان ہم سب کا ہے۔ اس ملک میں حکومت کے حامی بھی رہتے ہیں اور مخالف بھی، مختلف زبانیں بولنے والے بھی، مختلف ثقافتوں سے تعلق رکھنے والے بھی، مختلف نظریات رکھنے والے بھی۔ یہی تنوع پاکستان کی حقیقت ہے۔ اس لیے ہمیں نفرت کی سیاست کے بجائے مکالمے کی سیاست، انتقام کے بجائے قانون، الزام کے بجائے دلیل اور تقسیم کے بجائے اتحاد کو جگہ دینا ہو گی ۔ آج اگر ہم ایک دوسرے کو معاف کرنا سیکھ جائیں، چھوٹی چھوٹی تلخیوں کو درگزر کرنا سیکھ جائیں، سیاسی اختلاف کو ذاتی دشمنی نہ بنائیں اور اپنی توانائی حقیقی مسائل کے حل پر صرف کریں تو شاید ہم اپنے آنے والے کل کو بدل سکتے ہیں۔ آئیے! فیصلہ کریں کہ ہم ایک دوسرے کو گرانے کے بجائے پاکستان کو اٹھانے کی کوشش کریں گے۔

جواب دیں

Back to top button