Column

دہشت گردوں کیخلاف قومی عزم

اداریہ۔۔۔۔۔۔
دہشت گردوں کیخلاف قومی عزم
پاکستان ایک بار پھر دہشت گردی کے خلاف ایک ایسے مرحلے میں داخل ہوچکا ہے جہاں دشمن کا مقصد صرف چند حملے کرنا نہیں بلکہ ملک کے امن، معیشت، عوام کے اعتماد اور ریاستی اداروں کو کمزور کرنا ہے۔ مگر دہشت گردوں کو یہ حقیقت کبھی نہیں بھولنی چاہیے کہ پاکستان نے اس سے پہلے بھی اس ناسور کا مقابلہ کیا ہے اور آج بھی ریاست، سیکیورٹی فورسز اور عوام کے عزم میں کوئی کمزوری نہیں۔ گزشتہ روز خیبر پختونخوا اور پاک افغان سرحدی علاقے میں سیکیورٹی فورسز کی انٹیلی جنس بنیادوں پر کارروائیوں میں 37دہشت گردوں کو ہلاک کیے جانے کی سرکاری اطلاع سامنے آئی ہے۔ وزارت اطلاعات کے مطابق کوہاٹ، ہنگو اور ٹل کے علاقوں میں کارروائیوں کے بعد دہشت گردوں کے ٹھکانوں اور محفوظ پناہ گاہوں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ سرکاری بیان کے مطابق سرحدی علاقے میں دہشت گردوں کے تین اہداف تباہ کیے گئے، جن میں خودکُش بمباروں کی تربیت کا مرکز بھی شامل تھا۔ یہ کارروائیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ اب محض ردعمل تک محدود نہیں رہی بلکہ انٹیلی جنس، نگرانی، زمینی کارروائی اور درست نشانہ بندی کے امتزاج سے دہشت گرد نیٹ ورکس کو توڑا جارہا ہے۔ بلوچستان کے پنجگور میں بھی ایک انٹیلی جنس بنیاد کارروائی کے دوران چار دہشت گرد مارے گئے اور جدید اسلحہ و گولا بارود برآمد کیا گیا۔ لیکن اس جنگ کا سب سے اہم پہلو صرف دہشت گردوں کی ہلاکت نہیں، بلکہ وہ قومی قیمت ہے جو پاکستان کے جوان ادا کر رہے ہیں۔ ہنگو میں حالیہ جھڑپ کے دوران 6سکیورٹی اہلکار شہید ہوئے، جن میں دو فوجی افسر بھی شامل تھے۔ یہ قربانیاں ہمیں یاد دلاتی ہیں کہ امن کی قیمت صرف اعداد و شمار نہیں ہوتے، اس کے پیچھے مائوں کے بیٹے، بچوں کے باپ اور خاندانوں کے سہارا بننے والے جوان ہوتے ہیں۔ دہشت گردوں کا سب سے بڑا ہدف ریاست سے زیادہ عوام کا حوصلہ ہوتا ہے۔ وہ خوف پیدا کرنا چاہتے ہیں، بازار بند دیکھنا چاہتے ہیں، سڑکوں پر بے یقینی پھیلانا چاہتے ہیں، بچوں کو اسکول جانے سے روکنا چاہتے ہیں اور سرمایہ کاروں کو پاکستان سے دُور کرنا چاہتے ہیں۔ اس لیے دہشت گردی کے خلاف اصل کامیابی صرف بندوق سے نہیں بلکہ خوف کے خاتمے سے حاصل ہوگی۔ پاکستانی قوم نے دہشت گردی کے خلاف ایک طویل سفر طے کیا ہے۔ اس سفر میں فوج، پولیس، رینجرز، لیویز اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ہزاروں اہلکاروں اور عام شہریوں نے جانوں کے نذرانے پیش کیے۔ یہی وجہ ہے کہ آج دہشت گردی کے خلاف کارروائی کو محض ایک فوجی معاملہ سمجھنا درست نہیں۔ یہ پاکستان کے مستقبل، معیشت، تعلیم، تجارت اور روزمرہ زندگی کے تحفظ کی جنگ ہے۔ دہشت گردوں کے خلاف کارروائی میں ریاست کو دو محاذوں پر بیک وقت آگے بڑھنا ہوگا۔ ایک طرف ان کے مسلح نیٹ ورکس، مالی ذرائع، سہولت کاروں اور محفوظ پناہ گاہوں کا خاتمہ ضروری ہے، دوسری طرف ان علاقوں کے عوام کو تعلیم، روزگار، صحت، سڑکوں اور بنیادی سہولتوں کی فراہمی بھی یقینی بنانا ہوگی۔ کیونکہ ایک مضبوط ریاست وہ ہوتی ہے جہاں بندوق کے ساتھ قانون، انصاف اور ترقی بھی پہنچتی ہے۔ سرحدی علاقوں کی صورت حال بھی غیر معمولی توجہ چاہتی ہے۔ پاکستان نے حالیہ کارروائیوں کو اپنے شہریوں پر ہونے والے دہشت گرد حملوں کے تناظر میں قرار دیا ہے جب کہ افغان حکام بعض پاکستانی الزامات سے اختلاف کرتے ہیں۔ اس صورت حال میں پاکستان کے لیے ضروری ہے کہ اپنی سرحدی نگرانی، سفارتی رابطوں اور انسداد دہشت گردی کی صلاحیتوں کو مزید مضبوط بنائے اور اپنی سرزمین پر کسی مسلح گروہ کو شہریوں کے امن کے لیے خطرہ نہ بننے دے۔یہ بھی ضروری ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں قومی اتفاق رائے برقرار رہے۔ دہشت گرد کسی ایک صوبے، شہر یا طبقے کے دشمن نہیں۔ ان کا نشانہ پاکستان ہے۔ اس لیے خیبر پختونخوا کے شہری کا تحفظ کراچی کے شہری کے تحفظ سے الگ نہیں اور بلوچستان کے امن کا تعلق پنجاب اور سندھ کے امن سے بھی جڑا ہوا ہے۔ آج سیکیورٹی فورسز جس عزم کے ساتھ دہشت گردوں کے خلاف کارروائیاں کررہی ہیں، اسے ریاستی اداروں، سیاسی قیادت، میڈیا، علما، سول سوسائٹی اور عوام کی اجتماعی حمایت کے ساتھ آگے بڑھانے کی ضرورت ہے۔ اختلافِ رائے جمہوریت کا حسن ہے، لیکن دہشت گردی کے خلاف ریاست کی قانونی جدوجہد کو کمزور کرنا کسی صورت قومی مفاد میں نہیں۔ پاکستان امن کا خواہاں ملک ہے، مگر امن کمزوری سے نہیں، مضبوط ریاستی رٹ، موثر قانون اور مسلسل جدوجہد سے قائم ہوتا ہے۔ دہشت گردوں کے لیے پیغام واضح ہونا چاہیے کہ پاکستان میں خوف کی حکمرانی قبول نہیں کی جائے گی۔ آج اگر دہشت گرد کسی پہاڑ، سرحدی علاقے یا شہری آبادی کو اپنی پناہ گاہ سمجھتے ہیں تو انہیں یہ جان لینا چاہیے کہ ریاست کی رسائی وہاں تک بھی پہنچ سکتی ہے۔ ان کے نیٹ ورک توڑے جائیں گے، سہولت کاروں کا تعاقب ہوگا اور قانون کے مطابق کارروائی جاری رہے گی۔ امن کی منزل ایک دن میں حاصل نہیں ہوتی، مگر مسلسل اور منظم جدوجہد اسے ضرور قریب لاتی ہے۔ پاکستان نے ماضی میں بڑے بڑے خطرات کا مقابلہ کیا ہے اور آج بھی اس کے پاس قربانی دینے والے جوان، ثابت قدم ادارے اور ایک زندہ قوم موجود ہے۔ دہشت گردی کا اندھیرا عارضی ہے، پاکستان کی بقا، امن اور استحکام کا سفر مستقل ہے۔ یقین رکھنا چاہیے کہ عزم، حکمت عملی اور قومی یکجہتی کے ساتھ دہشت گردی کے نیٹ ورکس کمزور ہوں گے، امن مضبوط ہوگا اور وہ دن ضرور آئے گا جب پاکستانی شہری اپنے ملک میں خوف کے بجائے اطمینان کے ساتھ زندگی گزاریں گے۔
شذرہ۔۔۔۔
پولیو کیخلاف جنگ جیتنا ہوگی
پاکستان میں پولیو وائرس کی موجودگی ایک ایسا چیلنج ہے جسے کسی ایک صوبے یا شہر کا مسئلہ سمجھ کر نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ سندھ میں رواں سال اگست کے دوران کراچی کے مختلف اضلاع اور حیدرآباد سے لیے گئے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی تصدیق اس امر کی یاد دہانی ہے کہ وائرس کے مکمل خاتمے تک انسدادِ پولیو مہم میں معمولی سی غفلت بھی نقصان دہ ہوسکتی ہے۔ ماحولیاتی نمونوں میں وائرس کی موجودگی لازماً یہ ثابت نہیں کرتی کہ ہر متاثرہ علاقے میں بچے پولیو کا شکار ہوچکے ہیں، تاہم یہ ضرور ظاہر کرتی ہے کہ وائرس کی گردش کا خطرہ موجود ہے۔ اسی لیے مثبت نمونوں والے علاقوں میں ویکسی نیشن، نگرانی اور صفائی کے اقدامات کو مزید موثر بنانا ناگزیر ہے۔ پاکستان نے پولیو کے خاتمے کے لیے برسوں سے مسلسل کوششیں کی ہیں۔ لاکھوں بچوں کو بار بار پولیو کے قطرے پلائے جاتے ہیں، صحت کے کارکن گھر گھر پہنچتے ہیں اور ماحولیاتی نگرانی کے ذریعے وائرس کی موجودگی کا سراغ لگایا جاتا ہے۔ ان کارکنوں کی محنت اور قربانی قابلِ قدر ہے، مگر کامیابی اسی وقت ممکن ہوگی جب والدین، مقامی انتظامیہ، محکمہ صحت اور معاشرہ ایک ہی مقصد پر متحد ہوں۔ پولیو کے خلاف جنگ میں سب سے اہم ذمے داری والدین کی ہے۔ پانچ سال سے کم عمر ہر بچے کو مقررہ مہم کے دوران پولیو کے قطرے پلانا ضروری ہے، خواہ بچے کو پہلے بھی متعدد مرتبہ ویکسین دی جاچکی ہو۔ بار بار ویکسی نیشن بچے کو وائرس کے خلاف مضبوط تحفظ فراہم کرنے میں مدد دیتی ہے۔ حکومت کو بھی صرف مہم کے دنوں تک محدود رہنے کے بجائے صاف پانی، نکاسی آب، صفائی، بنیادی صحت مراکز اور مسلسل نگرانی کے نظام کو بہتر بنانا ہوگا۔ سندھ کے مثبت نمونے پورے ملک کے لیے ایک واضح پیغام ہیں کہ وائرس سرحدیں نہیں دیکھتا۔ پاکستان سے پولیو کا خاتمہ ممکن ہے، لیکن اس کے لیے عزم میں تسلسل، ویکسی نیشن میں مکمل کوریج اور عوامی تعاون ناگزیر ہے۔ آج کی معمولی غفلت کل کسی بچے کی پوری زندگی متاثر کر سکتی ہے۔ اس لیے پولیو کے خلاف جنگ میں کوئی علاقہ، کوئی بچہ اور کوئی مہم نظرانداز نہیں ہونی چاہیے۔

جواب دیں

Back to top button