
لاہور(محمد اخلاق اسلم )پاکستان میں ٹریکٹر انجنوں ، ٹرانسمیشن اور دھوئیں کے اخراج کی مقامی سطح پر جانچ کے لیے نیا تحقیقی و ترقیاتی مرکز قائم کیا گیا ہے ، جبکہ زرعی مشینری میں ایندھن کی بچت، کارکردگی اور پائیداری بہتر بنانے کے لیے جدید ٹیکنالوجی متعارف کرانے پر بھی کام جاری ہے۔
الغازی ٹریکٹرز لمیٹڈ (AGTL) آٹو اسٹیئرنگ اور ٹیلی میٹکس جیسی ٹیکنالوجیز متعارف کرانے پر غور کر رہی ہے ، جنہیں 2028 تک اپنی مصنوعات میں شامل کرنے کا ابتدائی ہدف رکھا گیا ہے۔ ان تفصیلات سے کمپنی کی سربراہ برائے تحقیق و ترقی حمیرا ذوالفقار اور جنرل منیجر کوالٹی فراز شاہ نے بدھ کو لاہور میں کمپنی کے تحقیقی و ترقیاتی مرکز کے دورے کے موقع پر صحافیوں کو آگاہ کیا۔
کمپنی کے مطابق اس مرکز پر کام 2023 میں شروع ہوا اور یہ 2025 میں مکمل ہوا، جس پر تقریباً 37 کروڑ 30 لاکھ روپے لاگت آئی۔ یہاں انجن کی طاقت، ایندھن کے استعمال، درجہ حرارت اور دھوئیں کے اخراج کی پیمائش کی جاتی ہے ، جبکہ ٹرانسمیشن میں ٹارک، طاقت کے ضیاع اور پہیوں و زرعی آلات تک طاقت کی منتقلی کا حساب لگایا جاتا ہے۔







