Column

بینکوں، بلاسود قرض فراہم کرنیوالے اداروں کی پالیسیوں پر نظرثانی کی ضرورت

بینکوں، بلاسود قرض فراہم کرنیوالے اداروں کی پالیسیوں پر نظرثانی کی ضرورت
تحریر : شکیل سلاوٹ
پاکستان میں بڑھتی ہوئی مہنگائی، علاج معالجے کے اخراجات اور روزمرہ ضروریات نے کم آمدنی والے طبقے کی زندگی پہلے ہی مشکل بنا رکھی ہے۔ ان حالات میں سب سے زیادہ مشکلات کا سامنا ان بزرگ شہریوں کو کرنا پڑتا ہے جو ملازمت سے ریٹائر ہونے کے بعد محدود پنشن پر زندگی گزار رہے ہیں۔ زندگی بھر ملک و قوم کی خدمت کرنے والے یہ افراد بڑھاپے میں سکون، تحفظ اور عزت کے مستحق ہیں، لیکن جب انہیں کسی ہنگامی ضرورت کے لیے مالی معاونت درکار ہوتی ہے تو ان کے سامنے متعدد رکاوٹیں کھڑی ہو جاتی ہیں۔ یہ صورتِ حال اس وقت مزید سنگین ہو جاتی ہے جب 65سال سے زائد عمر کے بزرگ شہری قرض کے حصول کے لیے بینکوں، مائیکروفنانس اداروں یا بلاسود قرض فراہم کرنے والی تنظیموں سے رجوع کرتے ہیں، لیکن عمر کی حد یا دیگر شرائط کی وجہ سے انہیں مایوس لوٹنا پڑتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر ایک بزرگ پنشنر کو علاج، ادویات، گھر کے ضروری اخراجات یا کسی ناگزیر ضرورت کے لیے رقم درکار ہو اور رسمی مالیاتی نظام اس کی مدد نہ کر سکے، تو وہ آخر کہاں جائے؟۔
اسٹیٹ بینک آف پاکستان ملک میں بینکاری نظام کی نگرانی اور مالیاتی استحکام کے لیے اہم کردار ادا کرتا ہے۔ بینکوں اور مالیاتی اداروں کی قرض دینے سے متعلق پالیسیاں عموماً درخواست گزار کی عمر، آمدنی، قرض کی واپسی کی صلاحیت اور متعلقہ اسکیم کی شرائط کو مدنظر رکھتی ہیں۔ بعض قرض اسکیموں میں زیادہ سے زیادہ عمر کی حد مقرر ہوتی ہے۔ نتیجتاً عمر رسیدہ شہری، خواہ ان کے پاس باقاعدہ پنشن یا کوئی مستقل آمدنی موجود ہو، بعض مالی سہولتوں سے محروم رہ سکتے ہیں۔ تاہم اس معاملے میں ایک اہم قانونی وضاحت ضروری ہے۔ یہ دعویٰ کہ اسٹیٹ بینک نے 65سال سے زائد عمر کے تمام افراد کو ہر قسم کا قرض دینے پر ملک بھر میں مکمل پابندی عائد کر رکھی ہے، متعلقہ موجودہ ضابطے یا سرکاری حکم نامے کے مستند حوالے کے بغیر حتمی طور پر بیان نہیں کیا جا سکتا۔ مختلف بینکوں اور قرض اسکیموں کی شرائط الگ ہو سکتی ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ اسٹیٹ بینک اس حوالے سے واضح کرے کہ عمر کی حد کہاں لازمی ضابطے کا حصہ ہے اور کہاں متعلقہ ادارے کی اپنی پالیسی کے تحت مقرر کی گئی ہے۔ اصل مسئلہ صرف کسی ایک عمر کی حد کا نہیں، بلکہ یہ بھی ہے کہ کیا مالیاتی نظام میں ایسے بزرگ شہریوں کے لیے مناسب متبادل موجود ہیں جنہیں اپنی ضروریات پوری کرنے کے لیے محدود رقم درکار ہوتی ہے۔پاکستان میں اخوت جیسے فلاحی ادارے بلاسود قرضوں کے ذریعے ضرورت مند افراد کی مدد کرنے کے حوالے سے اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ لیکن بلاسود قرضوں کے پروگراموں میں بھی اہلیت کی شرائط ہوتی ہیں، جن میں عمر، قرض کا مقصد اور درخواست گزار کی مالی صورتِ حال شامل ہو سکتی ہے۔
اخوت کے شائع کردہ عمومی قرض اہلیت کے معیار میں عمر کی حد 18سے 62سال درج رہی ہے۔ اس بنا پر 63سال یا اس سے زائد عمر کے بعض شہری اس کے عمومی قرض پروگرام کے لیے اہل نہیں ہوتے، اگرچہ مخصوص پروگراموں کی شرائط مختلف ہو سکتی ہیں۔ اس صورتِ حال میں ایک بزرگ پنشنر کے سامنے سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر وہ سودی قرض سے بچنا چاہتا ہے، بلاسود قرض کے لیے درخواست دیتا ہے لیکن عمر کی وجہ سے اہل نہیں رہتا، اور روایتی بینک کی کسی اسکیم میں بھی عمر کی حد پوری نہیں کرتا، تو اس کے لیے محفوظ اور باعزت مالی مدد کا راستہ کیا ہے؟۔
یہاں یہ بھی سمجھنا ضروری ہے کہ فلاحی اداروں کے وسائل محدود ہوتے ہیں اور انہیں اپنے پروگراموں کے لیے اہلیت کے معیار مقرر کرنے پڑتے ہیں۔ لیکن بزرگ شہریوں کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے مخصوص پروگراموں کی گنجائش پیدا کرنا ایک قابلِ غور سماجی ضرورت ہے۔
پاکستان کے مختلف علاقوں میں گلی محلوں کی سطح پر نجی قرض دینے اور قسطوں کے نام پر رقم فراہم کرنے کا کاروبار بھی موجود ہے۔ بعض افراد سوشل میڈیا کے گروپس اور آن لائن ذرائع کے ذریعے بھی قرض کی پیشکش کرتے ہیں۔ایسے ذرائع میں سے ہر ایک کو غیرقانونی قرار دینا درست نہیں، لیکن جہاں قرض کی شرائط غیرشفاف ہوں، غیرمعمولی اضافی رقم وصول کی جائے، دھوکا دہی ہو یا قرض لینے والوں کو ہراساں کیا جائے، وہاں سنجیدہ قانونی اور انتظامی کارروائی ضروری ہے۔
ایک بزرگ پنشنر جب رسمی بینک سے قرض حاصل نہیں کر پاتا اور بلاسود قرض کی سہولت بھی اس کے لیے دستیاب نہیں ہوتی، تو ممکن ہے کہ وہ اپنی مجبوری کے تحت کسی نجی قرض دہندہ سے رابطہ کرے۔ اگر وہاں اسے سخت شرائط، بھاری اضافی ادائیگیوں یا غیرقانونی وصولی کا سامنا کرنا پڑے تو اس کی محدود پنشن مزید دبا میں آ سکتی ہے۔ اس طرح ایک ایسا شخص جو اپنی باقی زندگی سکون سے گزارنے کا حق رکھتا ہے، قرض کی ادائیگی کے مسلسل دبائو میں مبتلا ہو سکتا ہے۔ اگر اسے ایک قرض کی ادائیگی کے لیے دوسرا قرض لینا پڑے تو اس کی مالی مشکلات مزید بڑھنے کا خدشہ ہوتا ہے۔
یہی وہ پہلو ہے جس پر متعلقہ حکام، مالیاتی اداروں اور فلاحی تنظیموں کو مشترکہ طور پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔قرض کی منظوری میں اداروں کے لیے سب سے اہم سوال یہ ہوتا ہے کہ درخواست گزار رقم واپس کرنے کی استطاعت رکھتا ہے یا نہیں۔ اس حوالے سے پنشن ایک ایسی آمدنی ہو سکتی ہے جو ہر ماہ باقاعدگی سے موصول ہوتی ہے۔ اگر کسی بزرگ شہری کو باقاعدہ پنشن ملتی ہو، اس کے ضروری اخراجات کا اندازہ لگایا جا سکے اور اس کی مالی استطاعت کے مطابق قرض کی مناسب رقم اور واپسی کی مدت مقرر کی جائے، تو بعض صورتوں میں عمر کو تنہا فیصلہ کن معیار بنانے کے بجائے مجموعی مالی حالت کا جائزہ لینا زیادہ مناسب ہو سکتا ہے۔
البتہ اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہر پنشنر کو لازماً قرض دیا جائے۔ عمر کے ساتھ صحت، گھریلو ذمہ داریوں، ضروری اخراجات اور قرض کی واپسی کے دیگر خطرات کو بھی مدنظر رکھنا ضروری ہے۔ کسی بزرگ شہری کو ایسا قرض دینا بھی مناسب نہیں ہوگا جس کی ادائیگی اس کی بنیادی ضروریات پوری کرنے کی صلاحیت متاثر کرے۔ضرورت اس بات کی ہے کہ مالیاتی ادارے عمر کے ساتھ ساتھ پنشن کی مقدار، قرض کی رقم، ماہانہ ادائیگی اور درخواست گزار کی حقیقی استطاعت کو دیکھتے ہوئے شفاف اور متوازن طریقہ کار اختیار کریں۔
اسٹیٹ بینک آف پاکستان اور متعلقہ مالیاتی اداروں کے سامنے چند بنیادی سوالات رکھنا ضروری ہے: کیا 65سال سے زائد عمر کے افراد کو قرض دینے پر کوئی عمومی اور لازمی پابندی موجود ہے؟۔ اگر ہے تو اس کا موجودہ قانونی یا ضابطہ جاتی حوالہ کیا ہے؟۔ کیا عمر کی حد تمام قرضوں پر یکساں لاگو ہوتی ہے، یا اس کا تعلق مخصوص قرض اسکیموں اور بینکوں کی داخلی پالیسیوں سے ہے؟۔ کیا پنشن وصول کرنے والے بزرگ شہریوں کے لیے ایسی مالی سہولتیں موجود ہیں جن میں عمر کے بجائے ان کی مستقل آمدنی اور قرض واپس کرنے کی صلاحیت کا بھی جائزہ لیا جاتا ہو؟۔

اگر کوئی بزرگ شہری بلاسود قرض کے لیے درخواست دے اور عمر کی وجہ سے نااہل قرار پائے، تو کیا اس کے لیے کسی متبادل فلاحی یا مالیاتی پروگرام کی رہنمائی فراہم کی جاتی ہے؟۔ کیا اسٹیٹ بینک متعلقہ اداروں کے ساتھ مل کر بزرگ شہریوں کے لیے محفوظ، شفاف اور قابلِ برداشت مالی معاونت کا کوئی مخصوص طریقہ کار متعارف کرا سکتا ہے؟۔ یہ سوالات کسی ادارے پر الزام لگانے کے لیے نہیں، بلکہ ایک ایسے معاملے کی وضاحت حاصل کرنے کے لیے ہیں جس کا تعلق لاکھوں خاندانوں کے مالی تحفظ اور بزرگ شہریوں کی زندگی سے ہو سکتا ہے۔
حکومت، اسٹیٹ بینک، کمرشل بینکوں، مائیکروفنانس اداروں اور فلاحی تنظیموں کو چاہیے کہ وہ بزرگ شہریوں کی مالی ضروریات کا باقاعدہ جائزہ لیں۔ اس سلسلے میں چند عملی اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔ باقاعدہ پنشن وصول کرنے والے بزرگوں کے لیے محدود رقم کے خصوصی قرضوں کی گنجائش کا جائزہ لیا جائے، بشرطیکہ قرض کی ادائیگی ان کی بنیادی ضروریات کو متاثر نہ کرے۔ اخوت اور دیگر بلاسود قرض فراہم کرنے والے ادارے اپنے وسائل اور عملی گنجائش کے مطابق عمر رسیدہ افراد کے لیے الگ فلاحی پروگراموں پر غور کریں، خصوصاً ان افراد کے لیے جنہیں علاج یا دیگر ہنگامی ضروریات کے لیے مدد درکار ہو۔
کم آمدنی والے بزرگ شہریوں کے لیے صرف قرض کو واحد حل نہ بنایا جائے۔ جہاں قرض کی ادائیگی ممکن نہ ہو، وہاں زکوٰۃ، سماجی تحفظ، طبی امداد اور دیگر فلاحی معاونت کے راستے فراہم کیے جائیں۔ نجی قرض دینے والوں اور آن لائن قرض کی پیشکش کرنے والوں کی قانونی حیثیت اور سرگرمیوں کی متعلقہ قوانین کے تحت نگرانی کی جائے، تاکہ دھوکا دہی، غیرقانونی وصولیوں اور ہراسانی کی روک تھام ممکن ہو۔ بزرگ شہریوں کے لیے ایک واضح شکایتی اور رہنمائی کا نظام قائم کیا جائے، جہاں انہیں معلوم ہو سکے کہ قرض کی درخواست مسترد ہونے، غیرشفاف شرائط یا مالی استحصال کی صورت میں کس ادارے سے رجوع کرنا چاہیے۔
ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ ہر مالی مسئلے کا حل قرض فراہم کرنا نہیں ہے۔ بعض اوقات کسی بزرگ شہری کو بلاسود قرض درکار ہوتا ہے، جبکہ بعض صورتوں میں اسے طبی امداد، راشن، رہائش یا مستقل مالی معاونت کی ضرورت ہوتی ہے۔ پالیسی سازی میں ان تمام پہلوں کو سامنے رکھنا ضروری ہے۔ ریٹائرڈ ملازمین نے اپنی زندگی کا بڑا حصہ اپنے خاندانوں اور ملک کے لیے کام کرتے ہوئے گزارا ہوتا ہے۔ ان کی عمر بڑھنے کے ساتھ مالی ضرورت پیدا ہو جانا کوئی جرم یا کمزوری نہیں۔ ایک مہذب معاشرے کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان کے لیے ایسے راستے پیدا کرے جن سے وہ اپنی ضروریات عزت کے ساتھ پوری کر سکیں۔
اسٹیٹ بینک آف پاکستان سے یہ توقع بجا ہے کہ وہ بزرگ شہریوں کے لیے قرض کی عمر کی حدود اور متعلقہ ضوابط کے بارے میں واضح معلومات فراہم کرے، جبکہ حکومت اور فلاحی ادارے ان افراد کے لیے قابلِ عمل متبادل تیار کریں جو رسمی مالیاتی نظام کی شرائط پوری نہیں کر پاتے۔ اصل سوال یہ نہیں کہ 65سال سے زائد عمر کے ہر فرد کو قرض کیوں نہیں دیا جاتا، بلکہ یہ ہے کہ جب ایک بزرگ پنشنر کو حقیقی ضرورت پیش آئے اور وہ اپنی عمر کی وجہ سے دستیاب سہولتوں سے محروم رہ جائے تو اس کی مدد کے لیے کون سا محفوظ، شفاف اور باعزت راستہ موجود ہے؟۔
اس سوال کا جواب محض بینکاری ضوابط میں نہیں، بلکہ ہماری معاشرتی ذمہ داری، فلاحی ترجیحات اور بزرگ شہریوں کے مالی تحفظ کے تصور میں بھی پوشیدہ ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ متعلقہ ادارے اس مسئلے پر واضح مقف اختیار کریں اور ایسے اقدامات تجویز کریں جن سے بزرگ شہریوں کو غیر ضروری قرض کے بوجھ اور مالی استحصال کے خطرات سے محفوظ رکھا جا سکے۔ بزرگ شہریوں کا تحفظ کسی ایک ادارے کی ذمہ داری نہیں؛ یہ ریاست، مالیاتی نظام اور پورے معاشرے کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
شکیل سلاوٹ

جواب دیں

Back to top button