Column

تھکن

تھکن
تحریر :صفدر علی حیدری
’’ بے شک یہ دل بھی اسی طرح تھک جاتے ہیں جس طرح جسم تھک جاتے ہیں، لہٰذا جب ایسا ہو تو ان کے لیے حکمت بھرے لطیف نکات تلاش کرو‘‘۔
مولا علی کرم اللہ وجہہ الکریم سے منسوب اس قول میں انسانی نفسیات کا ایک گہرا نکتہ پوشیدہ ہے۔ جسمانی تھکن کے لیے آرام اور نیند درکار ہوتے ہیں، مگر دل کی تھکن کبھی حکمت، کبھی لطیفے، کبھی خوش گوار صحبت اور کبھی زندگی کو نئے زاویے سے دیکھنے کی متقاضی ہوتی ہے۔
انسان کی زندگی تھکن اور آسودگی، جدوجہد اور آرام کے درمیان سفر کا نام ہے۔ ہم عموماً تھکن کو جسمانی مشقت سے وابستہ کرتے ہیں، حالاں کہ جسم کے ساتھ ذہن، دل، احساسات اور رشتے بھی تھکتے ہیں۔ کبھی انسان بظاہر بالکل تندرست دکھائی دیتا ہے، اپنے معمولات انجام دیتا، لوگوں سے ملتا اور ہنستا بولتا ہے، مگر اس کے اندر ایک ایسا بوجھ جمع ہو چکا ہوتا ہے جسے نہ وہ بیان کر سکتا ہے، نہ دوسرے اس کی شدت سمجھ سکتے ہیں۔
جسمانی تھکن اپنے آثار ظاہر کر دیتی ہے۔ بدن میں درد، آنکھوں میں بوجھ اور کام میں دشواری محسوس ہونے لگتی ہے۔ انسان سمجھ جاتا ہے کہ اسے آرام چاہیے۔ ذہنی اور جذباتی تھکن زیادہ خاموش ہوتی ہے۔ معمولی بات پر غصہ آنا، لوگوں سے ملنے کو جی نہ چاہنا، پسندیدہ سرگرمیوں سے دل اچاٹ ہو جانا اور چھوٹی چھوٹی ذمہ داریوں کا پہاڑ محسوس ہونا اس کی علامات ہو سکتی ہیں۔ کبھی زندگی میں کوئی بڑی پریشانی نہیں ہوتی، پھر بھی زندگی بوجھل لگتی ہے۔ ایسی کیفیت کو محض سستی یا ناشکری قرار دینا ناانصافی ہے۔
ذہنی تھکن کی ایک بڑی وجہ مسلسل سوچتے رہنا ہے۔ انسان ماضی کی غلطیوں، مستقبل کے خدشات، معاشی مسائل اور دوسروں کی رائے کے درمیان گھرا رہتا ہے۔ وہ ان باتوں پر بھی توانائی صرف کرتا ہے جنہیں بدل نہیں سکتا۔ جسم بستر پر ہوتا ہے، مگر ذہن مسائل کی گلیوں میں بھٹک رہا ہوتا ہے۔ نیند کے گھنٹے پورے ہونے کے باوجود تازگی محسوس نہیں ہوتی۔ مسئلے کے حل کے لیے سوچنا اور اسے مسلسل سوچتے رہنا دو مختلف کیفیتیں ہیں۔ پہلی تدبیر ہے، دوسری ذہنی تھکن کا سبب بن سکتی ہے۔
دل کی تھکن اس سے بھی زیادہ پیچیدہ ہوتی ہے۔ جب انسان بار بار مایوسی، بے اعتنائی، بے قدری یا محرومی سے گزرتا ہے تو اس کے اندر امید کی روشنی مدھم پڑنے لگتی ہے۔ وہ سب کی بات سنتا ہے، مگر اس کی بات سننے والا کوئی نہیں ہوتا۔ دوسروں کی خوشی کا خیال رکھتا ہے، مگر اپنی خوشی کو چھپانا سیکھ لیتا ہے۔ رفتہ رفتہ شکایت کرنا چھوڑ دیتا ہے۔ بظاہر یہ خاموشی برداشت معلوم ہوتی ہے، مگر بعض اوقات یہ اس دل کی تھکن ہوتی ہے جس نے توقعات ٹوٹنے کے بعد خواہش کرنا ہی کم کر دیا ہو۔
دلوں کی تھکن کا علاج ہمیشہ نصیحت یا سنجیدہ گفتگو نہیں ہوتا۔ کبھی ایک خوش گوار جملہ، کسی دوست کی بے ساختہ ہنسی، کسی بچے کی معصوم شرارت، کسی پرانی یاد کا ذکر یا شام کے وقت کھلی فضا میں چند لمحے گزارنا دل کا بوجھ ہلکا کر دیتا ہے۔ زندگی صرف مسائل حل کرنے کا نام نہیں؛ اس میں مسکرانے، کھیلنے، حیران ہونے اور بے سبب خوش ہونے کی گنجائش بھی ہونی چاہیے۔
تفریح کا مطلب ذمہ داریوں سے فرار نہیں، بلکہ انہیں نبھانے کے لیے اپنی توانائی بحال کرنا ہے۔ جس طرح مسلسل کام کرنے والی مشین کو وقفے کی ضرورت ہوتی ہے، اسی طرح انسان کو بھی فراغت درکار ہے۔ لیکن انسان مشین نہیں۔ اسے آرام کے ساتھ محبت، احترام، امید اور مقصد بھی چاہیے۔ کبھی انسان کام سے نہیں، کام کے ماحول سے تھکا ہوتا ہے؛ کبھی ذمہ داریوں سے نہیں، ان کے غیر منصفانہ بوجھ سے، اور کبھی لوگوں سے نہیں، ان کے رویّوں سے۔
تھکن کا ایک نمایاں مظہر رشتوں میں دکھائی دیتا ہے۔ ( اگرچہ ہم اس تھکن کو کوئی خاص اہمیت نہیں دیتے ) کوئی تعلق ایک دن میں نہیں تھکتا۔ مسلسل بے توجہی، گفتگو میں عدم دلچسپی، قربانیوں کی ناقدری اور اپنی توقعات دوسروں پر مسلط کرنے سے محبت کی توانائی کم ہونے لگتی ہے۔ دو لوگ ایک ہی گھر میں رہتے ہیں، ایک دسترخوان پر کھانا کھاتے ہیں، روز ایک دوسرے کو دیکھتے ہیں، مگر دل کی باتیں کہیں پیچھے رہ جاتی ہیں۔ یوں قربت کے باوجود فاصلے بڑھنے لگتے ہیں۔
ایسے رشتوں کو صرف برداشت کے وعظ سے نہیں بچایا جا سکتا۔ برداشت کے ساتھ احترام، انصاف، احساس اور دونوں طرف سے کوشش بھی ضروری ہے۔ اگر ایک شخص مسلسل سمجھوتا کرے اور دوسرا اپنی ذمہ داری تسلیم نہ کرے تو تھکن بڑھتی جائے گی۔ کبھی گفتگو کا انداز بدلنا پڑتا ہے، کبھی غلطی تسلیم کرنا پڑتی ہے اور کبھی ایک دوسرے کو کچھ وقت اور جگہ دینا پڑتی ہے۔ رشتہ بچانے کا مطلب اپنی ذات کو مٹا دینا نہیں۔ جہاں توہین، خوف یا مسلسل نقصان ہو، وہاں واضح حدود اور مناسب مدد ضروری ہیں۔
معاشرتی حالات بھی انسان کی توانائی نچوڑ لیتے ہیں۔ مہنگائی، بے روزگاری، خاندانی تنازعات اور مستقبل کی غیر یقینی صورتِ حال ذہنی سکون چھین لیتی ہے۔ سوشل میڈیا پر دوسروں کی خوشیاں دیکھ کر انسان اپنی زندگی کو کمتر سمجھنے لگتا ہے، حالاں کہ اسے دوسروں کی زندگی کا صرف روشن رخ دکھائی دیتا ہے۔ ہر شخص کے حالات مختلف ہوتے ہیں۔ دوسروں سے غیر ضروری موازنہ کرنے کے بجائے اپنی ضروریات، صلاحیتوں اور حقیقی خوشیوں کو پہچاننا زیادہ دانش مندی ہے۔
تھکن کی شدت اور مدت کو بھی نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔ معمول کی تھکن بہتر نیند، مناسب غذا، جسمانی سرگرمی اور ذمہ داریوں میں توازن سے کم ہو سکتی ہے۔ لیکن اگر تھکن مسلسل برقرار رہے اور روزمرہ زندگی متاثر ہونے لگے تو طبی معائنہ ضروری ہو سکتا ہے۔ خون کی کمی، ذیابیطس، نیند کی خرابیاں اور دوسری طبی وجوہات بھی اس کا سبب بن سکتی ہیں۔ اسی طرح شدید ذہنی دبا میں ماہر سے مدد لینا کمزوری نہیں، اپنی دیکھ بھال کا ذمہ دارانہ طریقہ ہے۔ زندگی کی دانش مندی یہ نہیں کہ انسان کبھی تھکے ہی نہیں، بلکہ یہ ہے کہ وہ اپنی تھکن کو پہچاننا سیکھ لے۔ ہر وقت مضبوط دکھائی دینے کی کوشش انسان کو اندر سے توڑ سکتی ہے۔ کبھی مدد مانگ لینا، کبھی اپنی مجبوری تسلیم کرنا، کبھی کسی کام سے انکار کر دینا اور کبھی خود کو کچھ وقت دینا بھی ضروری ہے۔ دوسروں کی تھکن کو پہچاننا بھی اتنا ہی اہم ہے۔ ہر خاموشی کو بے رخی، ہر انکار کو غرور اور ہر کمزوری کو نااہلی سمجھنے کے بجائے یہ امکان بھی سامنے رکھنا چاہیے کہ دوسرا شخص کسی ایسی کشمکش سے گزر رہا ہو جس کا ہمیں علم نہیں۔آخرکار، جسم کو آرام، ذہن کو سکون، دل کو محبت اور رشتوں کو توجہ درکار ہوتی ہے۔ کبھی حکمت بھری بات راستہ دکھاتی ہے، کبھی لطیف جملہ مسکراہٹ لوٹا دیتا ہے، کبھی تفریح زندگی کے رنگ واپس لے آتی ہے اور کبھی کسی مسئلے کا سامنا کرنے کے لیے سنجیدہ مدد ضروری ہوتی ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ تھکن کو محض کمزوری نہ سمجھا جائے، بلکہ اس کے پیغام کو سنا جائے۔ یہ پیغام بتاتا ہے کہ کہیں نہ کہیں توازن بگڑ رہا ہے اور اب اپنی ذات، اپنے معمولات یا اپنے تعلقات پر نئے سرے سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔ کیونکہ ہر تھکی ہوئی چیز ٹوٹ نہیں جاتی، مگر ہر تھکی ہوئی چیز کو مسلسل نظر انداز کرتے رہنا بھی دانش مندی نہیں۔

جواب دیں

Back to top button