Column

آبنائے ہرمز کی جنگ، دنیا کی معیشت دائو پر، امریکہ اور ایران میں کون پیچھے ہٹے گا؟

آبنائے ہرمز کی جنگ، دنیا کی معیشت دائو پر، امریکہ اور ایران میں کون پیچھے ہٹے گا؟
تحریر : غلام مصطفیٰ جمالی
دنیا کی تاریخ میں بعض سمندری راستے محض پانی کی گزرگاہ نہیں ہوتے بلکہ عالمی معیشت کی شہ رگ بن جاتے ہیں۔ آبنائے ہرمز بھی ایسا ہی ایک راستہ ہے، جہاں سمندر کی لہروں کے ساتھ عالمی طاقتوں کے مفادات، تیل کی تجارت، سفارتی دبا اور جنگ کے خطرات ایک دوسرے سے ٹکرا رہے ہیں۔ اس آبی گزرگاہ پر امریکہ اور ایران کے درمیان کشمکش نے پوری دنیا کو اس سوال کے سامنے کھڑا کر دیا ہے کہ کیا طاقت کے بل پر کسی ملک کو جھکایا جا سکتا ہے، یا آخرکار ہر جنگ کو مذاکرات کی میز پر ہی واپس آنا پڑتا ہے؟۔
آبنائے ہرمز کی اہمیت کو سمجھنے کے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ دنیا کی قریباً پانچویں حصے کی تیل اور مائع قدرتی گیس کی تجارت اسی راستے سے گزرتی رہی ہے۔ خلیج فارس کے تیل پیدا کرنے والے ممالک کے لیے یہ عالمی منڈیوں تک پہنچنے کا اہم راستہ ہے۔ اگر یہاں جہازوں کی آمدورفت متاثر ہوتی ہے تو اس کے اثرات صرف امریکہ یا ایران تک محدود نہیں رہتے بلکہ ایشیا، یورپ اور دنیا کے دوسرے خطوں تک پھیل جاتے ہیں۔ تیل کی قیمتیں بڑھتی ہیں، مال برداری مہنگی ہوتی ہے، بیمہ کمپنیوں کے اخراجات میں اضافہ ہوتا ہے اور بالآخر ان تمام اخراجات کا بوجھ عام صارف کو برداشت کرنا پڑتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ آبنائے ہرمز میں ہونے والی کسی بھی فوجی کارروائی کو محض دو ملکوں کا باہمی تنازع نہیں سمجھا جا سکتا۔ یہ ایک ایسا بحران ہے جس میں ہر گولی، ہر میزائل اور ہر خطرے کی خبر عالمی منڈیوں میں بے چینی پیدا کر سکتی ہے۔ جب تجارتی جہازوں کو نشانہ بنائے جانے کی اطلاعات سامنے آتی ہیں تو جہاز رانی کی کمپنیاں اپنے راستوں، عملے کی حفاظت اور سفر کے اخراجات پر دوبارہ غور کرنے لگتی ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ اشیا کی ترسیل سست اور مہنگی ہو جاتی ہے، جبکہ توانائی کی فراہمی کے بارے میں غیر یقینی کیفیت مزید بڑھ جاتی ہے۔
امریکہ کی حکمت عملی کا بنیادی مقصد ایران پر اقتصادی اور فوجی دبائو برقرار رکھنا اور اسے اپنے جوہری پروگرام سمیت اہم معاملات پر رعایت دینے پر آمادہ کرنا ہے۔ واشنگٹن سمجھتا ہے کہ پابندیوں، بحری ناکہ بندی اور فوجی برتری کے ذریعے تہران کو مذاکرات میں اپنی شرائط نرم کرنے پر مجبور کیا جا سکتا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا دبا کی یہ پالیسی واقعی پائیدار امن کی طرف لے جا سکتی ہے؟ اگر کسی ملک کو مسلسل اقتصادی مشکلات اور فوجی خطرات کا سامنا ہو تو اس بات کی کوئی ضمانت نہیں کہ وہ ہمیشہ پسپائی اختیار کرے گا۔ بعض اوقات دبا مذاکرات کا راستہ کھولتا ہے، مگر بعض حالات میں یہی دبا مزاحمت کو مزید سخت کر دیتا ہے۔
ایران بھی اس حقیقت سے واقف ہے کہ آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی تجارت کے لیے کتنی اہم ہے۔ اس لیے اس راستے کی سلامتی اور آمدورفت کو مذاکرات میں ایک اہم معاملہ سمجھا جا رہا ہے۔ تہران کے لیے یہ گزرگاہ محض جغرافیائی مقام نہیں بلکہ اس کی علاقائی اہمیت اور سفارتی اثر و رسوخ کا ذریعہ بھی ہے۔ تاہم کسی بھی ملک کے لیے اس اہمیت کو اس انداز میں استعمال کرنا کہ عالمی تجارت اور دوسرے ممالک کی توانائی کی فراہمی خطرے میں پڑ جائے، ایک ایسی حکمت عملی ہے جس کے نتائج خود اس کے لیے بھی نقصان دہ ہو سکتے ہیں۔ عالمی معیشت کو یرغمال بنا کر حاصل ہونے والی رعایتیں دیرپا امن کی ضمانت نہیں ہوتیں۔
اصل سوال یہ ہے کہ امریکہ اور ایران میں سے کون پیچھے ہٹے گا؟ ممکن ہے دونوں ممالک اپنے اپنے عوام کے سامنے کمزوری کا تاثر دینے سے بچنا چاہتے ہوں۔ امریکہ اپنی عالمی طاقت اور اتحادیوں کے سامنے اپنی ساکھ برقرار رکھنا چاہتا ہے، جبکہ ایران اپنی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی حیثیت پر سمجھوتا کرنے سے گریزاں ہے۔ ایسے حالات میں دونوں فریقوں کے لیے براہ راست پسپائی اختیار کرنا سیاسی طور پر مشکل ہو سکتا ہے۔ لیکن بین الاقوامی سیاست میں کامیابی ہمیشہ دوسرے فریق کو مکمل طور پر شکست دینے کا نام نہیں ہوتی۔ بعض اوقات محدود سمجھوتہ بڑی جنگ سے بچنے کا سب سے موثر راستہ ثابت ہوتا ہے۔
یہاں سفارت کاری کی اہمیت بڑھ جاتی ہے۔ اگر ایران آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے کوئی تجویز پیش کرتا ہے اور امریکہ بھی جہاز رانی کی سلامتی، جوہری معاملات اور علاقائی استحکام کو اہم قرار دیتا ہے تو دونوں فریقوں کے پاس بات چیت کے لیے مشترکہ بنیاد موجود ہو سکتی ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ کیا وہ اس بنیاد کو استعمال کرنے کے لیے تیار ہیں؟ مذاکرات کی کامیابی کے لیے ضروری ہے کہ مطالبات واضح ہوں، شرائط قابل عمل ہوں اور دونوں جانب سے ایسے اقدامات کیے جائیں جن سے اعتماد بحال ہو سکے۔ محض سخت بیانات، دھمکیاں اور طاقت کا مظاہرہ کسی پیچیدہ تنازعے کو مستقل طور پر حل نہیں کر سکتے۔
اس بحران میں خلیجی ممالک کا کردار بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، کویت اور دیگر علاقائی ممالک کے مفادات آبنائے ہرمز کی سلامتی سے جڑے ہوئے ہیں۔ اگر اس خطے میں جنگ پھیلتی ہے تو ان کی توانائی کی برآمدات، سرمایہ کاری، تجارت اور شہریوں کی سلامتی متاثر ہو سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ علاقائی ممالک کو صرف کسی ایک طاقت کے موقف کی تائید کرنے کے بجائے ایسا راستہ تلاش کرنا چاہیے جو کشیدگی کم کرے اور بحری تجارت کے لیے محفوظ ماحول پیدا کرے۔ خطے کا امن صرف بیرونی طاقتوں کی فوجی موجودگی سے قائم نہیں رہ سکتا؛ اس کے لیے علاقائی تعاون اور باہمی اعتماد بھی ضروری ہے۔
پاکستان کے لیے یہ بحران خصوصی اہمیت رکھتا ہے۔ ہماری معیشت درآمدی توانائی پر انحصار کرتی ہے، اس لیے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ پاکستان کے لیے مہنگائی، تجارتی خسارے اور زرمبادلہ کے دبائو کی صورت میں مشکلات پیدا کر سکتا ہے۔ جب تیل مہنگا ہوتا ہے تو اس کے اثرات صرف پٹرول پمپ تک محدود نہیں رہتے۔ بجلی کی پیداوار، ٹرانسپورٹ، زراعت، صنعت اور اشیائے خورونوش کی قیمتیں بھی متاثر ہوتی ہیں۔ یوں امریکہ اور ایران کے درمیان ہزاروں میل دور ہونے والی کشمکش کا بوجھ پاکستان کے ایک عام شہری کے گھریلو بجٹ تک پہنچ سکتا ہے۔
ایک مزدور جو پہلے ہی محدود آمدنی میں گھر چلا رہا ہو، ایک کسان جس کے لیے کھاد، ڈیزل اور آبپاشی کے اخراجات بڑھ رہے ہوں، یا ایک چھوٹا تاجر جس کی نقل و حمل مہنگی ہو رہی ہو، ان سب کے لیے عالمی کشیدگی محض اخبارات کی خبر نہیں رہتی بلکہ روزمرہ زندگی کا مسئلہ بن جاتی ہے۔ پاکستان کو ایسے حالات میں توانائی کی فراہمی کے متبادل ذرائع، مثر سفارت کاری اور اقتصادی منصوبہ بندی پر توجہ دینی چاہیے۔ ساتھ ہی عالمی برادری کو یہ پیغام بھی دینا چاہیے کہ سمندری راستوں کی سلامتی اور عالمی تجارت کا تحفظ کسی ایک ملک کے مفاد کا معاملہ نہیں بلکہ مشترکہ ذمہ داری ہے۔
اس بحران کا ایک اور پہلو عالمی اداروں کی ذمہ داری ہے۔ اگر تجارتی جہاز مسلسل خطرات کا سامنا کریں اور عالمی توانائی کی فراہمی غیر یقینی ہو جائے تو صرف فوجی اتحادوں پر انحصار کافی نہیں۔ اقوام متحدہ اور متعلقہ بحری اداروں کو سفارتی رابطوں، انسانی تحفظ اور بین الاقوامی سمندری قوانین کے احترام کے لیے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ تمام فریقوں کو یہ سمجھنا ہوگا کہ تجارتی جہازوں اور ان کے عملے کی سلامتی کو سیاسی دبائو کے آلے کے طور پر استعمال کرنا عالمی تجارت اور انسانی جانوں دونوں کے لیے خطرناک ہے۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ جنگ کا نقصان ہمیشہ صرف میدان جنگ میں نہیں ہوتا۔ جنگ کے دوران سرمایہ کار محتاط ہو جاتے ہیں، کاروباری منصوبے موخر ہوتے ہیں، ترقی پذیر ممالک کے لیے قرضوں اور درآمدات کی ادائیگی مشکل ہو جاتی ہے اور غریب خاندان اپنی بنیادی ضروریات پوری کرنے کے لیے مزید جدوجہد کرتے ہیں۔ بڑی طاقتیں اپنے فوجی وسائل اور اقتصادی دبا کے ذریعی اپنی پوزیشن مضبوط کرنے کی کوشش کرتی ہیں، مگر ان کے فیصلوں کے اثرات اکثر ان ممالک تک پہنچتے ہیں جن کا اس تنازعے میں کوئی فیصلہ کن کردار نہیں ہوتا۔ اسی لیے عالمی قیادت کا اصل امتحان صرف اپنی طاقت دکھانا نہیں بلکہ اپنے فیصلوں کے انسانی اور اقتصادی نتائج کو سمجھنا بھی ہے۔
امریکہ اور ایران کے درمیان موجودہ کشمکش کا فیصلہ صرف یہ نہیں کرے گا کہ آبنائے ہرمز پر کس کا موقف غالب آتا ہے۔ اس سے یہ بھی طے ہوگا کہ عالمی سیاست میں طاقت کو کس طرح استعمال کیا جائے گا اور کیا مخالف ممالک اپنے اختلافات کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اگر دونوں فریق اپنے موقف کو انا کا مسئلہ بنا لیں تو ہر نئی کارروائی مزید جوابی کارروائی کو جنم دے سکتی ہے۔ اس کے برعکس اگر وہ محدود مگر قابل تصدیق معاہدے پر آمادہ ہو جائیں تو بحری آمدورفت بحال کرنے، جنگی خطرات کم کرنے اور بڑے تنازعے کے حل کے لیے راستہ نکل سکتا ہے۔
بالآخر امریکہ ہو یا ایران، کسی بھی ملک کی حقیقی کامیابی اس میں نہیں کہ وہ دوسرے فریق کو ہر قیمت پر جھکنے پر مجبور کر دے۔ حقیقی کامیابی یہ ہوگی کہ عالمی تجارت محفوظ ہو، توانائی کی فراہمی بحال رہے، خطے کے ممالک جنگ کے خطرے سے نکلیں اور عام انسان کو مہنگائی اور تباہی سے بچایا جا سکے۔ اگر کسی معاہدے کے ذریعے یہ مقاصد حاصل ہوتے ہیں تو اسے کمزوری نہیں بلکہ سیاسی بصیرت سمجھنا چاہیے۔
آبنائے ہرمز کی لہریں آج دنیا کو ایک واضح پیغام دے رہی ہیں: جنگ شروع کرنا شاید آسان ہو، مگر اس کے اثرات کو قابو میں رکھنا انتہائی مشکل ہے۔ امریکہ اپنی طاقت کے باوجود عالمی معیشت کو غیر معینہ مدت تک غیر یقینی صورت حال میں نہیں رکھ سکتا، اور ایران بھی اپنی جغرافیائی اہمیت کو ہمیشہ کے لیے اقتصادی دبائو کے ہتھیار کے طور پر استعمال نہیں کر سکتا۔ دونوں کے لیی بہتر راستہ یہی ہے کہ دھمکیوں کے بجائے مذاکرات، تصادم کے بجائے سمجھوتے اور وقتی سیاسی فائدے کے بجائے دیرپا امن کو ترجیح دیں۔
دنیا کو اس وقت کسی فاتح کے اعلان سے زیادہ ایک ایسے معاہدے کی ضرورت ہے جو جنگ کے دروازے بند کرے اور تجارت، سلامتی اور استحکام کے راستے کھولے۔ آخرکار سوال یہ نہیں کہ امریکہ پیچھے ہٹے گا یا ایران، بلکہ سوال یہ ہے کہ کیا دونوں فریق وقت رہتے یہ سمجھ پائیں گے کہ عالمی معیشت اور انسانی زندگیوں کی قیمت پر حاصل ہونے والی فتح درحقیقت کسی کی فتح نہیں ہوتی؟۔

غلام مصطفیٰ جمالی

جواب دیں

Back to top button