قومی سلامتی، مضبوط دفاع

قومی سلامتی، مضبوط دفاع
اور امن کا پاکستانی عزم
پاکستان ایک ایسے خطے میں واقع ہے جہاں امن کی خواہش کے ساتھ قومی سلامتی کے تقاضوں کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ بدلتے ہوئے عالمی حالات، سرحدی چیلنجز، جدید جنگی ٹیکنالوجی اور علاقائی کشیدگی نے دفاعی تیاری کو پہلے سے زیادہ اہم بنا دیا ہے۔ ایسے ماحول میں کمانڈر نیشنل اسٹرٹیجک کمانڈ جنرل سید عامر رضا کا پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول کی پاسنگ آئوٹ پریڈ سے خطاب قومی دفاع، پیشہ ورانہ ذمے داری اور امن کے پاکستانی موقف کی ترجمانی کرتا ہے۔ ان کا واضح پیغام ہے کہ پاکستان امن چاہتا ہے، لیکن اپنی خودمختاری، سرحدوں اور قومی وقار کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ کسی بھی خودمختار ریاست کے لیے اپنی سرحدوں کی حفاظت بنیادی ذمے داری ہے۔ پاکستان نے تاریخ کے مختلف ادوار میں سلامتی کے پیچیدہ چیلنجز کا سامنا کیا ہے اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بھاری قربانیاں دی ہیں۔ ایسے تجربات اس حقیقت کو نمایاں کرتے ہیں کہ قومی دفاع محض عسکری تیاری کا نام نہیں، بلکہ عوام کے تحفظ، ریاستی استحکام اور آنے والی نسلوں کے محفوظ مستقبل کی ضمانت بھی ہے۔ سرحدی خلاف ورزیوں اور دراندازی کے خلاف موثر ردعمل کا عزم اسی اصول کے تحت دیکھا جانا چاہیے کہ قومی خودمختاری کا احترام خطے میں پائیدار امن کے لیے ناگزیر ہے۔ تاہم پاکستان کے دفاعی عزم کا مطلب جنگ پسندی نہیں۔ ایک ذمے دار ریاست اپنی طاقت کو تصادم بڑھانے کے بجائے امن، استحکام اور ممکنہ خطرات کی روک تھام کی لیے استعمال کرتی ہے۔ پاکستان کا موقف یہی ہے کہ اختلافات کو مذاکرات، سفارت کاری اور باہمی احترام کے ذریعے حل کیا جائے، لیکن امن کی کوششوں کو کمزوری نہ سمجھا جائے۔ دفاعی صلاحیت اور سفارتی تدبر ایک دوسرے کے مخالف نہیں، درست حکمت عملی میں دونوں ایک دوسرے کو تقویت دیتے ہیں۔ مضبوط دفاع مذاکرات کی گنجائش ختم نہیں کرتا، بلکہ قومی مفادات کے تحفظ کے ساتھ پُرامن حل کی کوششوں کو موثر بناتا ہے۔ پاکستان کی جانب سے علاقائی کشیدگی کم کرنے اور ثالثی کی کوششوں کا ذکر بھی اسی تناظر میں اہم ہے۔ سفارت کاری کی کامیابی صرف بیانات سے نہیں بلکہ مسلسل رابطوں، قابلِ اعتماد اقدامات اور فریقین کے درمیان مکالمے کے فروغ سے ممکن ہوتی ہے۔ پاکستان کو چاہیے کہ وہ اپنے سفارتی کردار کو مزید موثر بنائے اور عالمی برادری کو یہ باور کرائے کہ جنوبی ایشیا سمیت وسیع تر خطے میں استحکام کا راستہ دھمکیوں اور محاذ آرائی سے نہیں، بلکہ مذاکرات، اعتماد سازی اور بین الاقوامی اصولوں کے احترام سے نکلتا ہے۔ کشمیر کا مسئلہ پاکستان کے قومی مقف کا بنیادی حصہ ہے۔ پاکستان کا مطالبہ ہے کہ اس تنازع کا حل اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق تلاش کیا جائے۔ اس مسئلے پر پائیدار پیش رفت کے لیے عالمی برادری کی توجہ، موثر سفارت کاری اور انسانی حقوق کے اصولوں کی پاسداری ضروری ہے۔ مسئلے کا منصفانہ حل خطے میں کشیدگی کم کرنے اور پائیدار امن کے امکانات بڑھانے میں مدد دے سکتا ہے۔ اسی طرح فلسطین کی صورت حال عالمی ضمیر کے لیے ایک سنجیدہ امتحان ہے۔ خواتین، بچوں اور دیگر شہریوں کی ہلاکتیں، بنیادی سہولتوں کی تباہی اور انسانی مصائب عالمی سطح پر فوری توجہ کے متقاضی ہیں۔ پاکستان کا موقف ہے کہ فلسطینی عوام کے جائز حقوق کی حمایت جاری رہنی چاہیے اور تنازع کا حل بین الاقوامی قانون اور متعلقہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق تلاش کیا جانا چاہیے۔ شہریوں کو نشانہ بنانے اور شہری تنصیبات کو تباہ کرنے جیسے اقدامات کی غیر جانب دارانہ تحقیقات اور جواب دہی ضروری ہے۔ انسانی جان کا احترام کسی سرحد، قومیت یا مذہب کا پابند نہیں، یہی اصول عالمی امن کی بنیاد ہونا چاہیے۔ دفاعی قوت کے تقاضے بھی تیزی سے تبدیل ہورہے ہیں۔ مصنوعی ذہانت، سائبر سیکیورٹی، ڈرون ٹیکنالوجی، جدید میزائل نظام اور اطلاعاتی جنگ نے عسکری حکمت عملی کو نئی جہتیں دی ہیں۔ اب صرف روایتی تربیت کافی نہیں۔ جدید علوم، تکنیکی مہارت، تجزیاتی صلاحیت اور بدلتے حالات میں فوری فیصلے کرنے کی اہلیت بھی ضروری ہے۔ پاکستان کی مسلح افواج کے لیے لازم ہے کہ وہ تحقیق، جدید تربیت اور ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری جاری رکھیں، تاکہ قومی دفاع مستقبل کے خطرات سے نمٹنے کے لیے تیار رہے۔ پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول کی پاسنگ آئوٹ پریڈ اسی تیاری کی علامت ہے۔ تربیت مکمل کرنے والے نوجوان افسران کے کندھوں پر صرف عسکری ذمے داریاں نہیں بلکہ نظم و ضبط، دیانت داری، پیشہ ورانہ اخلاقیات اور اپنے ماتحت اہلکاروں کی رہنمائی کی ذمے داری بھی عائد ہوتی ہے۔ ایک کامیاب فوجی افسر کی پہچان محض اس کی جرأت نہیں، بلکہ مشکل حالات میں درست فیصلہ کرنے، قانون اور ضابطے کی پابندی کرنے اور اپنی قیادت پر اعتماد قائم رکھنے کی صلاحیت بھی ہے۔ پریڈ میں نمایاں کارکردگی دکھانے والے کیڈٹس کو اعزازات سے نوازنا میرٹ، محنت اور پیشہ ورانہ قابلیت کی حوصلہ افزائی ہے۔ مختلف کورسز کے پاکستانی کیڈٹس کے ساتھ بنگلادیش، عراق، مالدیپ، فلسطین، قطر، سری لنکا، تاجکستان اور یمن کے کیڈٹس کی شرکت بھی پاکستان کی عسکری تربیت کے بین الاقوامی روابط کو ظاہر کرتی ہے۔ ایسے مواقع مختلف ممالک کے نوجوان افسران کے درمیان پیشہ ورانہ تعلقات اور باہمی سمجھ بوجھ کو فروغ دے سکتے ہیں۔ قومی سلامتی کو مضبوط بنانے کے لیے دفاعی اداروں کے ساتھ معاشی استحکام، داخلی امن، معیاری تعلیم اور قومی یکجہتی بھی اہم ہیں۔ مضبوط معیشت دفاعی ضروریات پوری کرنے کی صلاحیت بڑھاتی ہے جب کہ تعلیم یافتہ اور ہُنرمند نوجوان جدید تقاضوں کے مطابق قومی ترقی میں حصہ لیتے ہیں۔ دہشت گردی اور انتہاپسندی جیسے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے موثر قانون نافذ کرنے والے اداروں، عوامی تعاون اور انصاف کی فراہمی کو بھی یکساں اہمیت دینا ہوگی۔ پاکستان کا پیغام واضح ہے۔ ہم کسی ملک کے خلاف جارحانہ عزائم نہیں رکھتے، لیکن اپنی خودمختاری اور شہریوں کے تحفظ کے لیے تیار ہیں۔ ہماری طاقت کا مقصد امن کو کمزور کرنا نہیں بلکہ اسے محفوظ بنانا ہے۔ اس مقصد کے لیے عسکری تیاری کے ساتھ ذمے دارانہ سفارت کاری، بین الاقوامی قانون کا احترام اور تنازعات کے پُرامن حل کی کوششیں جاری رہنی چاہئیں۔ کاکول کی پاسنگ آئوٹ پریڈ اسی قومی عزم کی تجدید کا موقع ہے کہ پاکستان کا دفاع پیشہ ورانہ مہارت، قومی یکجہتی اور ذمے دارانہ حکمت عملی کے ذریعے مضبوط بنایا جائے گا۔ ایک پُرامن، مستحکم اور خودمُختار پاکستان نہ صرف اپنے شہریوں کے لیے ضروری ہے بلکہ پورے خطے کے مفاد میں بھی ہے۔ امن ہماری ترجیح ہے، قومی وقار ہماری ذمے داری اور وطن کا دفاع ہمارا غیر متزلزل عزم ہے۔
ڈیجیٹل پاکستان کی نئی امید
پاکستانی فری لانسرز کی جانب سے ستمبر 2026ء میں ریکارڈ 19کروڑ 70لاکھ ڈالر کا زرمبادلہ کمانا ملکی معیشت کے لیے ایک خوش آئند پیش رفت ہے۔ سالانہ بنیاد پر 49فیصد اور ماہانہ بنیاد پر 11فیصد اضافے کے یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ پاکستانی نوجوان عالمی ڈیجیٹل معیشت میں اپنی جگہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ یہ کامیابی محض برآمدی آمدن میں اضافے کی خبر نہیں، بلکہ پاکستان کے لیے معاشی خودانحصاری، روزگار کے نئے مواقع اور عالمی منڈیوں تک رسائی کے وسیع امکانات کا اظہار بھی ہے۔ رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی، یعنی جولائی تا ستمبر 2026 ء کے دوران فری لانسرز کی برآمدی آمدن 55کروڑ ڈالر تک پہنچنا اس شعبے کی بڑھتی ہوئی اہمیت کو مزید نمایاں کرتا ہے۔ اس سے قبل مالی سال 2025۔26میں فری لانسرز نے مجموعی طور پر ایک ارب 76کروڑ ڈالر کا زرمبادلہ کمایا تھا۔ یہ کارکردگی اس حقیقت کی نشان دہی کرتی ہے کہ پاکستانی افرادی قوت صرف روایتی شعبوں ہی میں نہیں بلکہ سافٹ ویئر ڈیولپمنٹ، گرافک ڈیزائننگ، ڈیجیٹل مارکیٹنگ، آن لائن تعلیم، تحریر اور دیگر ڈیجیٹل خدمات میں بھی عالمی سطح پر مقابلہ کر سکتی ہے۔ تاہم ان کامیابیوں کو مستقل معاشی قوت میں بدلنے کے لیے حکومتی سطح پر سنجیدہ اقدامات ناگزیر ہیں۔ تیز رفتار اور سستا انٹرنیٹ، بجلی کی قابلِ اعتماد فراہمی، ڈیجیٹل ادائیگیوں کی سہولت، آسان بینکاری نظام اور عالمی ادائیگی کے پلیٹ فارمز تک موثر رسائی فری لانسرز کی بنیادی ضروریات ہیں۔ ان سہولتوں کی کمی نہ صرف کام کی رفتار متاثر کرتی ہے بلکہ عالمی صارفین کا اعتماد حاصل کرنے میں بھی رکاوٹ بن سکتی ہے۔ اسی طرح نوجوانوں کو جدید ڈیجیٹل مہارتوں کی تربیت فراہم کرنا ضروری ہے۔ مصنوعی ذہانت، سائبر سیکیورٹی، ڈیٹا سائنس اور سافٹ ویئر انجینئرنگ جیسے شعبوں میں معیاری تربیت پاکستانی فری لانسرز کو زیادہ قدر والی خدمات فراہم کرنے کے قابل بنا سکتی ہے۔ جامعات، تربیتی اداروں اور نجی شعبے کو مل کر ایسا نظام تشکیل دینا چاہیے جو نوجوانوں کو محض سرٹیفکیٹ نہیں بلکہ عملی مہارت اور عالمی معیار کے مطابق کام کرنے کی صلاحیت دے۔ فری لانسنگ خواتین، دُوردراز علاقوں کے نوجوانوں اور روایتی ملازمتوں سے محروم افراد کے لیے بھی معاشی مواقع پیدا کر سکتی ہے۔ اس کے لیے ڈیجیٹل تعلیم اور روزگار تک مساوی رسائی یقینی بنانا ہوگی۔ پاکستان کے فری لانسرز نے ثابت کیا ہے کہ صلاحیت اور محنت کے ذریعے عالمی منڈی میں مقام حاصل کیا جاسکتا ہے۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ اس کامیابی کو پائیدار بنانے کے لیے سازگار پالیسیاں، تربیت اور بنیادی سہولتیں فراہم کی جائیں۔ ڈیجیٹل معیشت کو قومی ترقی کی ترجیح بنایا جائے تو یہی شعبہ زرمبادلہ، روزگار اور معاشی استحکام کا مضبوط ذریعہ بن سکتا ہے۔





