
وزیراعظم شہباز شریف کے معاون خصوصی برائے سیاسی امور سینیٹر رانا ثناء اللّٰہ نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی غیر معینہ مدت کے لیے ہوسکتی ہے۔
جیو نیوز کے پروگرام جرگہ میں گفتگو کے دوران رانا ثناءاللّٰہ نے کہا کہ کوئی بڑا آپریشن نہیں ہوگا، کسی کو بےگھر نہیں کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز جاری رہیں گے۔ نئے سیٹ اپ میں صوبائی حکومت سول انتظامیہ کی کمی کو پورا کرے گی۔
رانا ثناءاللّٰہ نے دعویٰ کیا کہ پی ٹی آئی کے لوگ ٹی ٹی پی کے ساتھ مل کر بھتہ مافیا، اسمگلنگ اور کرپشن میں شامل ہیں، جس کے ثبوت بھی موجود ہیں۔
رانا ثناءاللّٰہ نے کہا کہ پاکستان میں دہشت گردی کےلیے افغان سرزمین استعمال ہو رہی ہے، پی ٹی آئی کی حکومت کو موقع دیا گیا کہ اپنے رویہ میں تبدیلی لائیں۔
انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی والے سیاست کریں، سیاسی مطالبات کو بھی آگے بڑھائیں، احتجاج کے جمہوری طریقے پر عمل کریں، اسلام آباد پر چڑھائی کرنا یہ کوئی احتجاج کا طریقہ نہیں۔
ن لیگی سینیٹر نے کہا کہ کے پی کے 12 میں سے 5 اضلاع ایسے ہیں، جہاں پولیس تھانے نہیں، سی ٹی ڈی کا وجود نہیں، دہشت گردوں کے خلاف جو قومی مؤقف ہے پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت نے اس کی تائید نہیں کی۔
اُن کا کہنا تھا کہ سہیل آفریدی نے بطور وزیراعلیٰ اپنی ذمے داری کو پورا نہیں کیا، امن و امان پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت کی ذمے داری تھی، ایمرجنسی کی بڑی وجہ کے پی کے کی حکومت کا طرزعمل ہے۔
رانا ثناء اللّٰہ نے کہا کہ پی ٹی آئی کی حکومت اپنا کردار ادا کرنے کو تیار نہیں ہے، خیبر پختونخوا حکومت کسی قیمت پر دہشت گردی کے خلاف اپنا کردار ادا کرنے کو تیار نہیں تھی
انہوں نے کہا کہ پنجاب میں سی ٹی ڈی نے بہترین کام کیا ہے، اسی وجہ سے وہاں دہشت گردی نہیں، خیبر پختونخوا میں اب بہترین پولیس، سی ٹی ڈی اور سول ایڈمنسٹریشن ہوگی۔
ن لیگی سینیٹر نے کہا کہ متعدد بار سمجھانے کی کوشش کی گئی کہ افغانستان اپنی سرزمین استعمال نہ ہونے دے۔ آخری درجے تک پاکستان اور اس کے دوست ممالک نے بات کی، لیکن کسی بات پر نہیں آئے۔
ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کی جنگ مسلط کرنے کے بعد بڑھانا شروع کیا گیا، کے پی کے کچھ اضلاع میں دن میں حکومت ہوتی ہے، رات میں دہشت گردوں کا کنٹرول ہوتا ہے، یہ ہم نہیں کے پی کے لوگ کہتے ہیں۔
رانا ثناء اللّٰہ نے کہا کہ کے پی کی صوبائی حکومت کے اپنے لوگ بھتا خوری، منشیات فروشی میں ملوث ہیں، ضم اضلاع کےلیے پیسے دیےگئے ہیں، اعداد و شمار بھی موجود ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے لوگ بھتا خوری، منشیات مافیا کے ساتھ ملوث ہیں، جو بھی وفاق کی ہدایات ہوں گی، گورنر خیبرپختونخوا اس پر عمل کریں گے






