تازہ ترینخبریںسیاسیاتپاکستان

خیبر پختونخوا میں گورنر راج آخری آپشن ہے، پی ٹی آئی انتہا پسندی کی سیاست چھوڑ دے: بلاول بھٹو

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا کے حالات سب کے سامنے ہیں، تاہم صوبے میں ایمرجنسی کا نفاذ ایک ’قانونی ایٹم بم‘ کے مترادف ہے اور اسے صرف آخری آپشن کے طور پر استعمال کیا جانا چاہیے۔

 

کراچی میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ایک ہفتہ قبل وفاقی حکومت اور ’پورا نظام‘ خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کے لیے تیار تھا، لیکن پیپلز پارٹی نے مؤقف اختیار کیا کہ ایسے غیر معمولی آئینی اختیارات کا استعمال آخری چارۂ کار ہونا چاہیے۔

 

بلاول بھٹو نے مذاکراتی عمل کے حوالے سے کہا کہ عوام کو یہ بھی بتایا جانا چاہیے کہ پی ٹی آئی نے مذاکرات کیوں ناکام بنائے۔

 

چیئرمین پیپلز پارٹی نے خیبر پختونخوا کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ اگر صوبے میں گورنر راج یا ایمرجنسی کے حوالے سے بحث ہو رہی ہے تو اس کی ذمہ داری صوبائی حکومت پر عائد ہوتی ہے۔

 

ان کا کہنا تھا کہ ’وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے گورنر راج کے لیے کوئی کسر نہیں چھوڑی‘ اور ’صوبے میں ایسے حالات پیدا ہو چکے ہیں کہ ایمرجنسی نافذ کرنے کی باتیں ہو رہی ہیں۔‘

 

بلاول بھٹو زرداری نے ایک بار پھر زور دیا کہ سیاسی کشیدگی اور محاذ آرائی کے بجائے مذاکرات، پارلیمانی سیاست اور جمہوری عمل ہی مسائل کا حل ہیں۔

 

انھوں نے کہا کہ صوبائی حکومت عوامی مسائل پر توجہ دینے کے بجائے ’انتہا پسندی اور نفرت کی سیاست‘ کر رہی ہے، جس کا نقصان صوبے، عوام اور ملک کو پہنچ رہا ہے۔ ان کے بقول اس طرزِ سیاست سے سب سے زیادہ نقصان خود پاکستان تحریک انصاف کو ہو رہا ہے۔

 

بلاول بھٹو نے کہا کہ پی ٹی آئی کے پاس عوامی حمایت موجود ہے، لیکن اپنی سیاسی حکمت عملی اور ’انتہا پسندانہ سیاست‘ کے باعث وہ اپنے ہی حامیوں کو مایوس کر رہی ہے۔ انھوں نے دعویٰ کیا کہ یہی وجہ ہے کہ کراچی میں بھی جماعت مؤثر سیاسی کردار ادا نہیں کر سکی۔

 

انھوں نے کہا کہ اگر پی ٹی آئی نے اپنی موجودہ سیاسی روش برقرار رکھی تو مستقبل میں خیبر پختونخوا میں بھی اس کی سیاسی پوزیشن متاثر ہو سکتی ہے۔

 

پیپلز پارٹی کے چیئرمین نے انتخابی اصلاحات پر بات کرتے ہوئے کہا کہ انھوں نے کوشش کر کے تمام فریقوں کو الیکٹورل ریفارمز کمیٹی پر آمادہ کیا ہے اور مسلم لیگ (ن) اس پر رضامند ہو چکی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر پی ٹی آئی کمیٹی کے اجلاسوں میں شریک نہیں ہوگی تو آئندہ انتخابات کو شفاف کیسے بنایا جا سکے گا۔

 

بلاول بھٹو زرداری نے پی ٹی آئی پر زور دیا کہ وہ دھرنوں، محاذ آرائی اور ’انتہا پسندی کی سیاست‘ ترک کر کے پارلیمانی سیاست، سیاسی جماعتوں سے مکالمے اور پارلیمان کی کمیٹیوں میں فعال شرکت کا راستہ اختیار کرے

جواب دیں

Back to top button