ColumnImtiaz Aasi

سرکاری اداروں میں محاسبے کی بے خوفی

سرکاری اداروں میں محاسبے کی بے خوفی
نقارہ خلق
امتیاز عاصی
جن قوموں میں انصاف ناپید ہو اور سرکاری اداروں میں محاسبے کا خوف نہ رہا ہو ایسی ریاست ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکتی ہے؟۔ سرکاری اداروں میں مالی بدعنوانیوں کی رپورٹس کئی بار منظر عام پر آچکی ہیں، کبھی قومی اسمبلی اور کبھی سینیٹ کی سٹینڈنگ کمیٹیوں میں ارکان اسمبلی کا شور و غوغا سن کر یوں لگتا جیسے پورے کا پورا محکمہ جیل میں ہو گا، مگر بدقسمتی سے معاملہ ٹھپ ہو کر رہ جاتا ہے۔ ایک دور تھا جب سرکاری ادارے آڈٹ پیراگراف کے پبلک اکائونٹس کمیٹی میں جانے سے خائف ہوتے تھے۔ خیر اب تو پبلک اکائونٹس کمیٹی کو بھی سیاسی ادارہ بنا دیا گیا ہے، نہ کبھی پبلک اکائونٹس کمیٹی کا اجلاس ہوا، نہ کوئی خبر نظر سے گزری۔ ملک کے سرکاری اداروں میں مبینہ بدعنوانی میں شائد اسی لئے روز بروز اضافہ ہو رہا ہے، کیونکہ ان اداروں میں کام کرنے والے افسروں اور ملازمین کو اس بات کا پورا یقین ہوتا ہے کسی بھی قسم کی مالی بدعنوانی کے سامنے آنے کے بعد انہیں کچھ نہیں کہا جائے گا، کیونکہ ان کے ساتھ بڑے بڑے افسروں کی مبینہ طور پر ملی بھگت ہوتی ہے۔ وہ وقت بھی تھا جب آڈیٹر جنرل کی رپورٹس آنے پر سرکاری محکموں میں کھلبلی مچ جایا کرتی تھی۔ خیر اب تو کسی کو پروا نہیں ہے، انہیں کامل یقین ہوتا ہے کہ ان کے خلاف کسی قسم کی کارروائی نہیں ہوگی۔ ملک و قوم کی بدقسمتی دیکھئے جن سیاست دانوں کے خلاف مبینہ طور پر منی لانڈرنگ کے مقدمات تھے آج وہی برسراقتدار ہیں، تو ایسی صورت میں کسی افسر یا ملازم کو خائف ہونے کی چنداں ضرورت نہیں رہتی۔ ان دنوں پنجاب کی وزیراعلیٰ کے احکامات پر اینٹی کرپشن حکام بڑے سرگرم ہیں، آئے روز کلرکوں اور پٹواریوں کو ہتھکڑی میں دکھا کر کارروائی ڈال دی جاتی ہے کہکرپشن کے خلاف مہم چلائی جا رہی ہے ۔ سینٹرل جیل گوجرانوالہ کے سپرنٹنڈنٹ کے خلاف اینٹی کرپشن حکام بڑی کارروائی سمجھ رہے ہیں، اللہ کے بندوں اس کے خلاف تو مدعی نے خود شکایت کی ہے، نہ کہ اینٹی کرپشن والوں نے اسے کرپشن کرتے گرفتار کیا ہے۔ ہاں اگر اینٹی کرپشن حکام کسی صوبائی محکمہ میں مالی بدعنوانیوں کو پکڑیں، یا پھر بڑے بڑے پل اور سڑکوں میں ناقص میٹریل استعمال کرنیوالے کنٹریکٹرز اور ان سے مبینہ ملی بھگت کرنے والے افسروں کی گرفتاری عمل میں لاتے تو سمجھا جاتا اینٹی کرپشن والے کرپشن کے خلاف بہت سرگرم ہیں۔ کسی افسر کو تفتیش کے لئے دفتر بلا کر گرفتاری ڈال لینا آسان ہے، لیکن کسی بڑے سکینڈل کو پکڑ کر ملوث افسروں اور اہل کاروں کی گرفتاری کوئی آسان کام نہیں۔ ہمیں یاد ہے کئی عشرے قبل پنجاب اینٹی کرپشن نے سمال انڈسٹری کے محکمے کے ایک بیوروکریٹ ایم ڈی کے خلاف کارروائی کی تو بالاآخر اسے ملازمت سے برخاست کر دیا گیا تھا، ورنہ تو اینٹی کرپشن کے مقدمات میں زیادہ تر ملزم عدالتوں سے بری ہو جاتے ہیں۔ اینٹی کرپشن کے سو مقدمات میں سے چند ایک کو سزا ہوتی ہے، باقی مقدمات میں ملزمان کی بریت یقینی ہوتی ہے، جس کی بڑی وجہ مقدمات میں قانونی سقم چھوڑ کر ملزمان کو فائدہ پہنچایا جاتا ہے۔ اب ہم آتے ہیں اصل موضوع کی طرف، ایک خبر نظر سے گزری، وزارت خارجہ میں بارہ ارب کا سکینڈل سامنے آیا ہے، پڑھ کر حیرت ہوئی، وزارت خارجہ جیسے محکمے میں اس قدر بدعنوانی ہے تو وفاق کے بقیہ محکموں میں کیا حالت ہو گی۔ یہ سکینڈل وزارت خارجہ میں ڈائریکٹر جنرل آڈٹ انسپکشن کی سربراہی میں قائم کمیٹی کی تحقیقاتی رپورٹ میں سامنے آیا ہے، جس میں شہریوں سے کاغذات کی تصدیق کے غیر قانونی چینل استعمال کرنے کے 8لاکھ روپے لئے جاتے رہے۔ اس طرح ایک سال میں مجموعی طور پر 12ارب روپے کی رقم غیر قانونی طور پر جمع کی گئی ہے۔ خیال رہے کہ وزارت خارجہ میں ایک علیحدہ سے ڈائریکٹر جنرل فارن آڈٹ اور اس کا عملہ ہوتا ہے جو بیرون ملکوں میں سفارتی مشنوں کا بھی جا کر آڈٹ کرتا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے ایک نجی کورئیر کمپنی کا وزارت خارجہ کے ایک افسر سے تعلق تھا۔ رپورٹ میں سکینڈل میں ملوث تمام افسروں اور اہلکاروں کی نشاندہی کی گئی ہے جن کا تعلق اس مافیا سے ہے۔ حیرت تو اس پر ایک حال ہی میں سیکرٹری خارجہ سے عہدے سے سبکدوش ہونے والی اور ترکیہ میں سفیر مقرر کی جانے والی خاتون کے آفس کے ایک افسر، ایڈیشنل سیکرٹری اور دیگر کئی ملازم مبینہ طور پر ملوث ہیں۔ خبر کی مطابق تمام حقائق سامنے آنے کے باوجود رپورٹ پر نہ تو کارروائی کی گئی ہے، نہ ہی قومی احتساب بیورو کو کیس بھیجا گیا ہے۔ ہونا تو چاہیے تھا تحقیقاتی رپورٹ کو ایف آئی اے کے سپرد کیا جاتا، تاکہ وہ مزید کاروائی کرکے ذمہ داروں کو قانونی کی گرفت میں لاتے، لیکن جب آوئے کا آوہ بگڑا ہو تو ایسے ماحول میں کرپشن کو گناہ نہیں سمجھا جاتا، بلکہ کرپشن کرنے والوں کے خلاف کارروائی نہ کرکے ان کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے۔ ماضی میں جو حکومتیں اقتدار میں آئیں سبھی نے احتساب کے ادارے قائم کئے، مگر کرپشن کے خاتمے کے لئے سنجیدگی سے اقدامات نہیں کئے گئے۔ اگر کرپشن کے خلاف بروقت اور ٹھوس اقدامات کئے جاتے تو ملک میں کرپشن میں خاتمہ نہ ہوتا تو کم از کم کمی تو ہو سکتی تھی۔ جس ملک میں بڑے لوگوں کو چھوڑ دیا جائے اور چھوٹوں کو قانون کی گرفت میں لایا جائے ایسی قوموں کی تباہی مقدر ہوتی ہے۔ آج ہمارے ملک کا سب سے بڑا المیہ یہی تو ہے بڑے بڑے لوگوں پر ہاتھ نہیں ڈالا جاتا، اور چھوٹے ملازموں کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جاتی ہے۔ وزارت خارجہ میں بارہ ارب کا سیکنڈل سامنے آنے کے بعد ہونا تو چاہیے تھا یہ معاملہ قومی احتساب بیورو کے حوالے کیا جاتا۔ بدقسمتی سے ملک کا کوئی ادارہ کرپشن سے پاک نہیں۔ جو ملک گندم میں خود کفیل ہونے کے باوجود مہنگے داموں گندم درآمد کرتا ہو ایسے ملک سے کرپشن کا خاتمہ خواب بن کر رہ جاتا ہے۔ سچ تو یہ ہے پاکستان کے عوام سیاست دانوں سے مایوس ہو چکے ہیں، ملک میں کسی آیت اللہ خمینی کی ضرورت ہے جو کرپشن کرنے والوں کو چورہواں میں پھانسی دے تو ہمارا ملک کرپشن سے پاک ہو جائے گا۔

جواب دیں

Back to top button