
آبنائے ہرمز کے قریب سمندر میں تیل کے پھیلاؤ کے شواہد سامنے آئے ہیں۔
یورپی کوپرنیکس پروگرام کی جانب سے لی گئی سیٹلائٹ تصویر میں آبنائے ہرمز کے مشرق میں ایرانی ساحل سے تقریباً 20 کلو میٹر دور سمندر کی سطح پر بھورے رنگ کی دھاریاں دکھائی دے رہی ہیں۔
اسی مقام کی لی گئی ایک اور تصویر میں بھی اسی نوعیت اور تقریباً اتنی ہی لمبائی کی بل کھاتی دھاریاں نظر آئیں۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی نے ماہرین کی مدد سے سیٹلائٹ تصاویر کا تجزیہ کرتے ہوئے بتایا کہ یہ دھاریاں آبنائے ہرمز کے قریب سمندر میں تیل کا پھیلاؤ ظاہر کر رہی ہیں
اے ایف پی کے مطابق یہ تیل کا پھیلاؤ ان امریکی حملوں کے بعد سامنے آیا ہے جن میں ایران کے پاسدارانِ انقلاب سے مبینہ تعلق رکھنے والے تیل بردار بحری جہازوں کو نشانہ بنایا گیا۔
دوسری جانب ایران کی پاسدارانِ انقلاب بحریہ نے آبنائے ہرمز کے داخلی راستے پر امریکی فوج کی کشتی کو تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
ایرانی میڈیا کی جانب سے جاری کی گئی ویڈیو میں دکھایا گیا ہے کہ انسان کی مدد کے بغیر چلائی جانیوالی کشتی کا ایک حصہ تباہ ہو گیا۔
ایرانی میڈیا کے مطابق کشتی کا شناختی نمبر 5838 ہے اور اس کا نام سیل ڈرون ہے







