Column

عالمی عدالت اور سندھ طاس معاہدہ

عالمی عدالت اور سندھ طاس معاہدہ
تحریر : صفدر علی حیدری
دریا صرف پانی کی لکیر نہیں ہوتے، وہ قوموں کی زندگی کی رگ ہوتے ہیں۔ ان کے کنارے بستیاں آباد ہوتی ہیں، کھیت سبز ہوتے ہیں، بازاروں میں رونق آتی ہے اور تہذیبیں جنم لیتی ہیں۔
جہاں دریا خشک ہونے لگیں وہاں صرف زمین پیاسی نہیں ہوتی، انسانی مستقبل بھی تشنہ ہو جاتا ہے۔
پاکستان کے لیے دریائے سندھ اور اس سے وابستہ دریائی نظام ، زراعت، خوراک، معیشت اور لاکھوں انسانوں کے روزگار کی بنیاد ہے۔ ہمارے کھیتوں کی ہریالی، کسان کی محنت اور آنے والی نسلوں کی امیدیں اسی پانی سے جڑی ہیں۔اسی پس منظر میں سندھ طاس معاہدہ پاکستان اور بھارت کے درمیان محض پانی تقسیم کرنے والی دستاویز نہیں، بلکہ ایک ایسا تاریخی بندوبست ہے جس نے پانی کے حساس مسئلے کو جنگ کے بجائے قانون، مذاکرات اور بین الاقوامی ضابطے کے دائرے میں رکھنے کی کوشش کی۔ نصف صدی سے زیادہ عرصے تک جنگوں، سیاسی کشیدگی اور باہمی اختلافات کے باوجود اس معاہدے کا قائم رہنا اس کے ادارہ جاتی ڈھانچے کی اہمیت ظاہر کرتا ہے۔31 اگست 2026ء کو دی ہیگ میں قائم سندھ طاس ثالثی عدالت کے متفقہ فیصلے نے ایک مرتبہ پھر اس معاہدے کی قانونی حیثیت کو نمایاں کیا۔ عدالت نے قرار دیا کہ بھارت کی جانب سے اپریل 2025ء میں سندھ طاس معاہدے کو التوا میں رکھنے کا یک طرفہ اعلان معاہدے کو معطل یا ختم کرنے کی قانونی بنیاد نہیں بنتا۔ یوں معاہدہ بدستور نافذ العمل ہے اور اس کی ذمہ داریاں اپنی جگہ برقرار ہیں۔ پاکستان کے لیے یہ ایک اہم قانونی اور سفارتی کامیابی ہے۔ فیصلے نے اس اصول کو تقویت دی ہے کہ کسی بین الاقوامی معاہدے کی قانونی حیثیت محض ایک فریق کے یک طرفہ سیاسی اعلان سے تبدیل نہیں کی جا سکتی۔ یہ کامیابی اس لیے بھی اہم ہے کہ پاکستان نے پانی کے اس حساس تنازع کو طاقت کے اظہار کے بجائے قانون کے راستے پر آگے بڑھایا۔ پاکستان کا موقف رہا کہ معاہدہ ایک باقاعدہ بین الاقوامی دستاویز ہے اور اس کے تحت دونوں فریقوں کے حقوق و ذمہ داریاں یک طرفہ فیصلوں سے ختم نہیں کی جا سکتیں۔
دی ہیگ کے فیصلے نے اسی موقف کو مزید تقویت دی۔ سندھ طاس معاہدے کی تاریخ بھی غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے۔ 1947ء کی تقسیم کے بعد دریائوں کے پانی کا مسئلہ پاکستان اور بھارت کے درمیان ایک سنگین تنازع بن گیا۔ عالمی بینک کی معاونت سے تقریباً نو سال تک مذاکرات جاری رہے اور بالآخر 19ستمبر 1960ء کو کراچی میں پاکستان کے صدر ایوب خان اور بھارت کے وزیراعظم جواہر لعل نہرو نے معاہدے پر دستخط کیے۔ عالمی بینک کے اس وقت کے صدر یوجین بلیک نے بھی مذاکرات میں اہم کردار ادا کیا۔ معاہدے کے تحت دریائے سندھ، جہلم اور چناب یعنی مغربی دریاں کے پانی کے بنیادی استعمال کے حقوق پاکستان کو دئیے گئے، جبکہ راوی، بیاس اور ستلج یعنی مشرقی دریا بھارت کے لیے مختص ہوئے۔ تاہم دونوں ممالک کو معاہدے کی مخصوص شرائط کے تحت دوسرے فریق کے دریائوں میں محدود نوعیت کے استعمال کی اجازت بھی دی گئی۔
معاہدے کی اصل طاقت صرف دریاں کی تقسیم میں نہیں بلکہ اس کے ادارہ جاتی نظام میں ہے۔ سندھ طاس کمیشن دونوں ملکوں کے درمیان رابطے، معلومات کے تبادلے اور پانی سے متعلق معاملات کو آگے بڑھانے کا ذریعہ بنا۔ تکنیکی نوعیت کے بعض اختلافات کے لیے Neutral Expertاور قانونی نوعیت کے تنازعات کے لیے ثالثی عدالت کا راستہ فراہم کیا گیا۔ یوں پانی کے مسئلے کو براہِ راست تصادم کے بجائے قانونی نظام کے اندر رکھنے کی کوشش کی گئی۔ حالیہ تنازع بھی اسی نظام کے اندر آگے بڑھا۔ اپریل 2025ء میں بھارت نے معاہدے کو التوا میں رکھنے کا اعلان کیا تو پاکستان نے اسے یک طرفہ اور قانونی طور پر ناقابلِ قبول قرار دیتے ہوئے اپنے حقوق کے تحفظ کے لیے قانونی راستہ اختیار کیا۔ 31اگست 2026ء کے فیصلے میں پانچ رکنی عدالت نے متفقہ طور پر واضح کیا کہ ایسا یک طرفہ اعلان سندھ طاس معاہدے کی قانونی حیثیت ختم نہیں کرتا۔
رٹلے پن بجلی منصوبہ بھی اسی وسیع تنازع کا اہم حصہ ہے۔ یہ منصوبہ دریائے چناب پر واقع ہے، جو مغربی دریاں میں شامل ہے۔ عدالت نے پاکستان کی عبوری درخواست پر منصوبے کے بعض حصوں میں مخصوص تعمیراتی سرگرمیوں کے حوالے سے بھارت پر پابندیاں عائد کیں۔ تاہم اسے مکمل اور حتمی پاکستانی فتح قرار دینا مناسب نہیں ہو گا، کیونکہ منصوبے کے بعض تکنیکی اور ڈیزائن سے متعلق سوالات اب بھی Neutral Expertکے سامنے زیرِ غور ہیں۔ اس معاملے میں پاکستان کی کامیابی کو ایک اہم عبوری قانونی پیش رفت کے طور پر دیکھنا زیادہ درست ہو گا۔ یہ بھی واضح رہنا چاہیے کہ دی ہیگ کا یہ فیصلہ عالمی عدالتِ انصاف یعنی ICJکا فیصلہ نہیں ہے۔ یہ سندھ طاس معاہدے کے تحت قائم ثالثی عدالت کا فیصلہ ہے، جو Permanent Court of Arbitrationکے فریم ورک کے تحت کام کر رہی ہے۔ اس وضاحت کے باوجود فیصلے کی اہمیت اپنی جگہ مسلم ہے۔پاکستان کی کامیابی کا ایک اہم پہلو اس کا سفارتی اثر بھی ہے۔ بھارت خطے کی ایک بڑی معاشی اور سیاسی طاقت ہے، لیکن پاکستان نے پانی کے مسئلے کو طاقت کے بجائے قانون کے میدان میں لے جا کر یہ ثابت کیا کہ مضبوط قانونی موقف اور مستقل سفارتی کوشش نسبتاً کم طاقت رکھنے والی ریاست کو بھی عالمی سطح پر موثر آواز دے سکتی ہے۔
مگر یہاں پاکستان کے لیے ایک بڑا سوال موجود ہے: کیا صرف عالمی سطح پر قانونی کامیابی کافی ہے؟ یقیناً نہیں۔عدالت ہمارے حق کی حفاظت کر سکتی ہے، مگر ہمارے کھیتوں تک پانی نہیں پہنچا سکتی۔ معاہدہ ہمارے حصے کا پانی متعین کر سکتا ہے، مگر پانی کا ایک قطرہ بھی ذخیرہ نہیں کر سکتا۔ عالمی فیصلے ہماری قانونی پوزیشن مضبوط کر سکتے ہیں، مگر پانی کے ضیاع کو نہیں روک سکتے۔ یہ کام ہمیں خود کرنا ہو گا۔ پاکستان کو پانی کے تحفظ کے لیے جامع اور طویل المدت حکمتِ عملی بنانا ہو گی۔ پانی کے ضیاع کو روکنا، جدید آب پاشی کے طریقے اپنانا، آبی ذخائر میں اضافہ کرنا، نہروں کے نظام کو بہتر بنانا، زیرِ زمین پانی کے بے تحاشا استعمال کو منظم کرنا اور موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کو قومی منصوبہ بندی کا حصہ بنانا ہو گا۔ پانی اب صرف زراعت کا مسئلہ نہیں رہا۔ یہ قومی سلامتی کا مسئلہ ہے۔ یہ خوراک کا مسئلہ ہے۔ یہ معیشت کا مسئلہ ہے۔ یہ انسانی بقا کا مسئلہ ہے۔ آنے والے برسوں میں آبادی میں اضافہ، موسمیاتی تبدیلی اور پانی کی بڑھتی ہوئی طلب پاکستان کے لیے بڑے چیلنج بن سکتے ہیں۔ اس لیے سندھ طاس معاہدے کو صرف بھارت کے ساتھ اپنے حقوق کے تحفظ کے طور پر دیکھنا کافی نہیں۔ اسے پاکستان کی جامع قومی آبی پالیسی کے ایک اہم ستون کے طور پر دیکھنے کی ضرورت ہے۔ دریا کسی سرحد کو نہیں پہچانتے۔ وہ پہاڑوں سے نکلتے، وادیوں سے گزرتے اور انسانوں کو زندگی دیتے ہوئے آگے بڑھتے ہیں۔ سیاسی سرحدیں انسانوں نے بنائی ہیں، مگر پانی قدرت کی امانت ہے۔
جنوبی ایشیا جیسے خطے میں پانی کو دشمنی کا ہتھیار بنانے کے بجائے تعاون کا ذریعہ بنانا ہی دانش مندی ہے۔31اگست 2026ء کا فیصلہ پاکستان کے لیے یقیناً ایک اہم قانونی اور سفارتی فتح ہے، مگر اس فتح کا اصل امتحان اب شروع ہوتا ہے۔ دی ہیگ نے ہمارے قانونی موقف کو تقویت دی ہے، اب ہمیں اپنے دریائوں، نہروں، ذخائر اور کھیتوں کی عملی بنیاد مضبوط کرنا ہو گی۔ ہمیں یہ حقیقت فراموش نہیں کرنی چاہیے کہ عدالتیں دریا نہیں بناتیں، معاہدے بارش نہیں برساتے اور فیصلے خشک زمین کو خود بخود سیراب نہیں کرتے۔ قانون حق کی حفاظت کرتا ہے، مگر حق کو نعمت بنانے کے لیے دانش مندانہ پالیسی، مثر انتظام اور قومی ارادے کی ضرورت ہوتی ہے۔ پاکستان نے دی ہیگ میں اپنے پانی کے حق کی آواز بلند کی ہے۔ اب اس آواز کو اپنے کھیتوں، نہروں اور دریاں میں زندگی دینا ہوگی۔ کیونکہ اصل فتح صرف یہ نہیں کہ دنیا نے ہمارے قانونی حق کو تسلیم کیا۔ اصل فتح اس دن ہو گی جب پاکستان اپنے حصے کے پانی کے ایک ایک قطرے کی حفاظت کرے گا، اسے ضائع ہونے سے بچائے گا اور اسے اپنی آنے والی نسلوں کے لیے زندگی میں تبدیل کرے گا۔ دریا آج بھی بہہ رہے ہیں۔ سوال صرف یہ نہیں کہ پانی کس کا ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ جس پانی کو قدرت نے ہماری زندگی کے لیے عطا کیا ہے، ہم اسے اپنے مستقبل کی ضمانت کب بنائیں گے؟، اور شاید یہی پاکستان کی سب سے بڑی فتح ہو گی۔

جواب دیں

Back to top button