جیل خانہ جات میں اقرباء پروری

جیل خانہ جات میں اقرباء پروری
تحریر : امتیاز عاصی
سرکاری ملازمین کے لئے وہ لمحہ کتنا ہی باعث مسرت ہوتا ہے جب انہیں اگلے عہدوں پر ترقی دی جاتی ہے ۔اگر کسی ملازم کو ترقی سے محروم کر دیا جائے تو یہ بات زندگی کا روگ بن جاتی ہے۔مجھے یاد ہے ایک دوست بیوروکریٹ کو گریڈ بائیس میں ترقی دی جانی تھی جناب نواز شریف وزیراعظم تھے، انہی کی صدارت میں اعلیٰ سطح کے ترقیاتی بورڈ کا اجلاس ہو رہا تھا جب ہمارے مہربان دوست کا نام بولا گیا تو وزیراعظم کا فرمان تھا اے کدا بندہ اے۔ جب کوئی نہیں بولا تو ایک راست باز اور بہت اچھی شہرت کے گریڈ اکیس کے افسر کو اگلے گریڈ میں ترقی سے محروم کر دیا گیا۔ خیر میں جیل خانہ جات میں افسران کی ترقیوں کی بات کروں گا۔ گو کسی ملازم کو اپنے گریڈ میں اگلے گریڈ کی پوسٹ پر لگانے کی قانونی طور پر کوئی ممانعت نہیں مگر پنجاب کا محکمہ جیل خانہ جات جونیئر افسران کو سنیئر پوزیشن پر لگانے میں تمام محکموں سے سبقت لے گیا ہے۔ تاسف ہے گریڈ سترہ کے جو افسران سنیئر ہیں انہیں جیلوں کی Devolpment کی پوسٹ پر ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ کی پوسٹ پر تعینات کیا گیا ہے وہ جونئیر ہیں انہیں ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ ایگزیکٹو کی پوسٹ پر لگایا گیا ہے۔ پنجاب کی آٹھ سینٹرل جیلوں میں ماسوائے ایک دو کے جو گریڈ انیس کے افسر ہیں گریڈ اٹھارہ کے ان لوگوں کو لگایا ہے جو سیاسی اثر و رسوخ رکھتے ہیں۔ سینٹرل جیل گوجرانوالہ، ڈیرہ غازی خان، بہاولپور، فیصل آباد، سینٹرل میانوالی، ہائی سیکورٹی پرزن ساہیوال، سینٹرل جیل ساہیوال وغیرہ جیلوں میں سپرنٹنڈنٹس کی اسامی گریڈ انیس کی، لیکن گریڈ اٹھارہ کے افسر کام کر رہے ہیں۔ اگر ہم ڈسٹرکٹ جیلوں کی بات کریں تو گریڈ سترہ کے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹس کے عہدوں کے افسران کی لائن لگی ہوئی ہے، انہیں گریڈ اٹھارہ کی اسامی پر سپرنٹنڈنٹ لگایا گیا ہے۔ جن جیلوں میں گریڈ سترہ کے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹس عہدہ کے افسران کو اپنے گریڈ میں سپرنٹنڈنٹس مقرر کیا گیا ہے ان میں ڈسٹرکٹ جیل سیالکوٹ، فیصل آباد، اٹک، سب جیل پنڈی بھٹیاں، وہاڑی، بھکر، خانیوال،اوکاڑہ،سب جیل چکوال،شاہ پور، مظفر گڑھ اور لیہ شامل ہیں۔ پنجاب کی جیلوں میں اس وقت اسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ جو گریڈ سولہ کی پوسٹ ہوتی ہے، کئی سو اسامیاں خالی ہیں، حالانکہ چیف وارڈر سے اسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ کے عہدے پر ترقی دینے کا اختیار آئی جی جیل خانہ جات کا ہے۔ پنجاب کے انسپکٹر جنرل جیل خانہ جات میاں سالک جلال جو ایک اچھی شہرت رکھنے والے افسر ہیں انہیں اب ان معاملات پر پیش رفت کرنے کی ضرورت ہے۔ جیسا کہ میں پہلے عرض کر چکا ہوں کہ گریڈ سترہ کے جونیئر افسران کو جب ایگزیکٹو پوسٹ پر لگایا جائے گا تو جب ان سے سنیئر افسران کو اگلے گریڈ میں ترقی دی جائے گی تو انہیں ایگزیکٹو پوسٹ پر کام کرنے کا ایک دن کا بھی تجربہ نہیں ہوگا جس سے انہیں انتظامی امور چلانے میں مشکلات کا پیش آنا قدرتی امر ہے۔ اس ناچیز کے خیال میں محکمہ جیل خانہ جات کو سنیئر افسران کو اگلے گریڈ میں ترقیاں دینے کے سلسلے میں پیش رفت کرنے کی ضرورت ہے۔ آج کل جیل خانہ کے آئی جی اور سیکرٹری داخلہ ڈاکٹر احمد جاوید قاضی ایک اچھی ٹیم ہے جو قیدیوں اور جیل ملازمین کی فلاح و بہبود کے لئے سرگرم رہتے ہیں لیکن انہیں، جن امور کا میں ذکر کر چکا ہوں ان کی طرف بھی توجہ دینے کی اشد ضرورت ہے۔ ایک ذرائع نے ہمیں بتایا کہ گزشتہ ماہ سینٹرل جیل ساہیوال سے قیدیوں کے راشن چوری کے معاملے کو اب سامان کی تبدیلی کا رنگ دیا جا رہا ہے تاکہ موصوف سپرنٹنڈنٹ اور دیگر ذمہ داروں کو بچایا جا سکے۔ سوال ہے جب ایک مرتبہ گھی یا آئل جس کا برانڈ پہلے سے منظور شدہ ہو اس کی تبدیلی کا عمل باعث حیرت ہے؟، پھر سامان کے ساتھ سپرنٹنڈنٹ جیل کے اردلی کا ہمراہ جانا کئی سوالات جنم دیتا ہے۔ ہمیں کسی جیل افسر یا ملازم سے پرخاش نہیں، جب بھی کوئی تحریر لکھی حق تعالیٰ کا ذہن میں خوف رکھتے ہوئے لکھی، اس کے ساتھ کسی بڑے سے بڑے کا خوف ذہن میں رکھے بغیر قلم کی حرمت کا خیال رکھا۔ محکمہ جیل خانہ جات کے بعض حضرات سے شکوے، شکایات بھی سنتا ہوں۔ بعض کی طرف سے ہمیں قید و بند کے دوران بڑی بڑی مشکلات سے بچانے کے دعویٰ کئے جاتے ہیں۔ مگر اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم سے دنیا کی سب سے بڑی مشکل میں کئی برس رہتے ہوئے اللہ سبحانہ تعالیٰ سے رجوع رکھا اور تہجد کے دوران آنسوئوں کی جھڑی میں ایک بار اپنی رہائی کی دعا مانگی تو مولا کریم نے مجھے زندگی کی بہت بڑی مشکل سے نجات دلا دی۔ اگر جیلوں میں قیدیوں کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں پر لکھوں تو کئی کالم لکھے جا سکتے ہیں۔ اللہ عزوجل کی مہربانی سے پندرہ برس کی قید کے دوران کوئی پیشی نہیں تھی، البتہ ہوس کے ایک پجاری نے جو اب دنیا سے کوچ کر چکا ہے میرا نام چالان کے لئے ڈال دیا، اور مجھے چند ماہ تک سینٹرل جیل ساہی کی سزائے موت کی کوٹھڑی میں رہنا پڑا۔ مجھے اکثر دوست قید و بند کی باتیں کرنے سے منع کرتے ہیں، مگر زندگی کا ایک بڑا حصہ قید و بند اور وہ بھی موت کی کال کوٹھڑی میں گزرا ہوا وقت انسان کیسے بھلا سکتا ہے۔ میں جیلوں میں اقرباء پروری کی بات کر رہا تھا، مسلم لیگ نواز جو میرٹ کی بہت بڑی دعویدار ہے، کے دور میں نہ تو جیلوں کے افسران اور ملازمین کو ترقیاں دی جا رہی ہیں، نہ ہی سنیئر افسران کو ایگزیکٹو پوسٹوں پر لگایا جا رہا ہے، تو کیا اسے میرٹ کہا جائے گا، یا پھر اقربا پروری کا نام دیں گے؟۔ ہم امید کرتے ہیں نئے آئی جی جیل خانہ جات جن جن ملازمین کی حق تلفی ہوئی ہے، انہیں ان کا حق ضرور دلوائیں گے ۔ اگر میاں صاحب یہ کام کر گزرے تو جیل خانہ جات کی تاریخ میں انہیں شاندار الفاظ میں دیا کیا جائے گا۔ آخر میں یہ بات ضروری ہے جب آپ جیل ملازمین کو ترقیاں دے سکتے ہیں تو پھر انہیں ان کے جائز حق سے محروم رکھنا قرین انصاف نہیں۔





