Column

پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ: بدلتی دنیا میں دفاعی تعاون کی نئی سمت

پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ: بدلتی دنیا میں دفاعی تعاون کی نئی سمت
تحریر : غلام مصطفیٰ جمالی
عالمی سیاست ایک ایسے دور میں داخل ہوچکی ہے جہاں سلامتی کے تقاضے تیزی سے بدل رہے ہیں اور خطے کی ریاستیں اپنے دفاعی مفادات کے تحفظ کے لیے نئے اتحاد اور شراکت داریاں قائم کر رہی ہیں۔ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان اعلیٰ سطحی مشاورت بھی اسی بدلتی ہوئی عالمی صورتحال کا ایک اہم مظہر ہے۔ تینوں ممالک کے اعلیٰ حکام کی ملاقات میں عالمی سلامتی، دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے اور دفاعی شعبے میں باہمی تعاون کے امکانات پر تفصیلی غور کیا گیا۔
اجلاس میں پاکستان کی جانب سے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وزیر دفاع خواجہ آصف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر شریک ہوئے، جبکہ سعودی عرب کی جانب سے وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان اور وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے شرکت کی۔ ترکی کی نمائندگی وزیر خارجہ حاقان فیدان سمیت اعلیٰ فوجی حکام نے کی۔
اجلاس میں صرف موجودہ سکیورٹی صورتحال پر ہی گفتگو نہیں ہوئی بلکہ تینوں ممالک کی دفاعی صلاحیتوں کو مزید مضبوط بنانے کے امکانات بھی زیر غور آئے۔ دفاعی صنعت میں مشترکہ پیداوار، جدید ٹیکنالوجی کے تبادلی اور دفاعی تعاون کو وسعت دینے جیسے معاملات پر بات چیت اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکی اپنے دفاعی تعلقات کو محض روایتی تعاون تک محدود رکھنے کے بجائے انہیں ایک وسیع تر شراکت داری میں تبدیل کرنا چاہتے ہیں۔
موجودہ عالمی حالات میں دفاعی طاقت کا مطلب صرف زیادہ ہتھیار رکھنا نہیں بلکہ جدید ٹیکنالوجی، مشترکہ تحقیق، مقامی پیداوار، سائبر سکیورٹی، فضائی دفاع اور جدید جنگی نظام میں خودکفالت حاصل کرنا بھی ہے۔ اگر تینوں ممالک دفاعی صنعت میں مشترکہ منصوبوں کو عملی شکل دیتے ہیں تو اس سے نہ صرف ان کی دفاعی ضروریات پوری کرنے میں مدد مل سکتی ہے بلکہ خطے میں ایک مضبوط دفاعی صنعتی تعاون بھی وجود میں آسکتا ہے۔
پاکستان کے لیے یہ تعاون اس لحاظ سے بھی اہم ہے کہ ملک طویل عرصے سے اپنی دفاعی صنعت کو مقامی بنیادوں پر مضبوط بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔ ترکی کے پاس جدید دفاعی ٹیکنالوجی اور ڈرون سمیت مختلف شعبوں میں قابل ذکر تجربہ موجود ہے، جبکہ سعودی عرب اپنی دفاعی صلاحیتوں اور مقامی دفاعی صنعت کو ترقی دینے کے لیے بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کر رہا ہے۔ تینوں ممالک کی صلاحیتیں ایک دوسرے کے لیے معاون ثابت ہوسکتی ہیں۔ تاہم کسی بھی دفاعی تعاون کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ اسے محض سیاسی بیانات اور اجلاسوں تک محدود رکھا جاتا ہے یا واقعی مشترکہ منصوبوں، ٹیکنالوجی کی منتقلی، تحقیق اور صنعتی پیداوار کی شکل دی جاتی ہے۔ اگر دفاعی شعبے میں مشترکہ پیداوار کے منصوبے شروع ہوتے ہیں تو اس کے معاشی اثرات بھی سامنے آسکتے ہیں، کیونکہ دفاعی صنعت روزگار، تحقیق، انجینئرنگ اور ٹیکنالوجی کے نئے مواقع پیدا کرتی ہے۔
یہ تعاون کسی ایک ملک کے خلاف محاذ آرائی کے بجائے تینوں ممالک کی قومی سلامتی، دفاعی خودکفالت اور علاقائی استحکام کے تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔ دنیا میں طاقت کا توازن تیزی سے تبدیل ہورہا ہے اور ایسے حالات میں ممالک کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے دفاعی مفادات کے ساتھ ساتھ سفارتی اور معاشی روابط کو بھی مضبوط بنائیں۔
پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان بڑھتا ہوا تعاون اس اعتبار سے بھی اہم ہے کہ تینوں ممالک کے درمیان تاریخی ، مذہبی، معاشی اور سفارتی تعلقات پہلے سے موجود ہیں۔ اگر ان تعلقات کو جدید دفاعی ٹیکنالوجی، مشترکہ پیداوار اور تحقیق کے شعبوں سے جوڑ دیا جائے تو یہ شراکت داری آنے والے برسوں میں مزید مضبوط ہوسکتی ہے۔ اصل امتحان اب اجلاس کے بعد شروع ہوگا۔ عالمی سلامتی پر غور اور دفاعی تعاون کے عزم کو عملی منصوبوں میں تبدیل کرنا ضروری ہے۔ مشترکہ دفاعی پیداوار، جدید ٹیکنالوجی، تربیت اور تحقیق کے میدان میں ٹھوس اقدامات ہی اس تعاون کو دیرپا اور موثر بنا سکتے ہیں۔
آج کی دنیا میں کوئی بھی ملک مکمل طور پر الگ تھلگ رہ کر اپنے دفاعی اور معاشی مفادات کا تحفظ نہیں کر سکتا۔ باہمی احترام، مشترکہ مفادات اور خودمختاری کے اصولوں پر قائم تعاون ہی خطے میں پائیدار امن اور استحکام کی بنیاد بن سکتا ہے۔ پاکستان، سعودی عرب اور ترکی اگر اپنی صلاحیتوں کو ایک دوسرے کے تجربات اور وسائل سے جوڑنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں تو یہ تعاون نہ صرف تینوں ممالک کی دفاعی طاقت میں اضافہ کر سکتا ہے بلکہ بدلتی ہوئی عالمی سیاست میں ان کے اجتماعی کردار کو بھی زیادہ موثر بنا سکتا ہے۔

جواب دیں

Back to top button