انتخابی اصلاحات اور ووٹ کا احترام

انتخابی اصلاحات اور ووٹ کا احترام
تحریر : رفیع صحرائی
پاکستان میں جمہوریت کی مضبوطی کی بات تو بہت کی جاتی ہے لیکن جمہوریت کے بنیادی ستون یعنی انتخابی نظام کو مضبوط، شفاف اور موثر بنانے پر ہماری توجہ بدقسمتی سے ہمیشہ ثانوی رہی ہے۔ ہر انتخابات کے بعد دھاندلی، نتائج، فارم 45، پولنگ اسٹیشنز، ووٹر لسٹوں اور انتخابی اخراجات پر بحث ہوتی ہے، مگر انتخابی قوانین کی ان خامیوں کو دور کرنے کی سنجیدہ کوشش کم ہی دکھائی دیتی ہے جن کی وجہ سے پورا انتخابی عمل بعض اوقات ایک مہنگا کھیل تماشا بن جاتا ہے۔
پاکستان کے موجودہ انتخابی قوانین میں ایک قابلِ غور سقم یہ ہے کہ ایک امیدوار بیک وقت متعدد حلقوں سے انتخاب لڑ سکتا ہے۔ بڑے سیاسی رہنما عموماً دو، تین، چار بلکہ اس سے بھی زیادہ نشستوں سے امیدوار بن جاتے ہیں۔ کامیابی کی صورت میں ظاہر ہے کہ ایک ہی نشست اپنے پاس رکھی جاتی ہے اور باقی نشستیں خالی ہو جاتی ہیں، جن پر دوبارہ ضمنی انتخاب کرانا پڑتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ جس نشست کو بالآخر چھوڑنا ہی ہے، اس پر پہلے انتخاب لڑنے کی ضرورت کیا تھی؟ یہ عمل صرف امیدوار کے سیاسی قد کاٹھ یا مقبولیت کا مظاہرہ نہیں بلکہ قومی خزانے، انتخابی عملے اور عوام کے وقت کا بھی ضیاع اور امتحان ہے۔ ضمنی انتخاب کے لیے سرکاری مشینری دوبارہ حرکت میں آتی ہے، پولنگ اسٹیشن قائم ہوتے ہیں، سکیورٹی تعینات ہوتی ہے، بیلٹ پیپرز چھپتے ہیں اور کروڑوں روپے خرچ ہو جاتے ہیں۔ سیاسی جماعتیں اور امیدوار انتخابی مہم پر ایک مرتبہ پھر جو بھاری رقوم خرچ کرتے ہیں وہ اس کے علاوہ ہے۔
اکتوبر 2022ء کے ضمنی انتخابات میں عمران خان کا سات قومی اسمبلی کے حلقوں سے بیک وقت انتخاب لڑنا اسی بحث کو نمایاں کرتا ہے۔ وہ چھ نشستوں پر کامیاب ہوئے، مگر بالآخر ایک نشست بھی اپنے پاس رکھنے کے بجائے اسمبلی سے باہر رہے۔ اس سے پہلے 2018ء کے انتخابات میں بھی وہ پانچ نشستوں سے کامیاب ہوئے تھے اور بعد میں ان میں سے چار نشستیں خالی ہوئیں۔ اس مثال سے قطع نظر کہ سیاسی حالات کیا تھے، اصولی سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ کیا ایسا انتخابی طریقہ ایک معاشی مشکلات کا شکار ملک کے لیے مناسب ہے؟
انتخابی قوانین میں ایسی اصلاح ضرور ہونی چاہیے کہ کسی امیدوار کو ایک سے زیادہ حلقوں سے انتخاب لڑنے کی اجازت نہ دی جائے۔ اگر سیاسی اتفاقِ رائے ایک حلقے تک محدود کرنے پر نہیں بنتا تو زیادہ سے زیادہ دو نشستوں کی اجازت دی جا سکتی ہے، لیکن دونوں نشستیں جیتنے کی صورت میں جس نشست کو امیدوار خالی کرے، اس کے ضمنی انتخاب کے اخراجات امیدوار سے وصول کیے جائیں۔ یوں سیاسی مقبولیت ثابت کرنے کا شوق بھی برقرار رہے گا اور قومی خزانے پر اس کا بوجھ بھی نہیں پڑے گا۔
دلچسپ امر یہ ہے کہ بھارت میں بھی ایک وقت میں امیدواروں کو متعدد نشستوں سے انتخاب لڑنے کی اجازت تھی، مگر 1996 ء میں قانون میں ترمیم کرکے اسے دو نشستوں تک محدود کیا گیا۔ وہاں بھی ایک عرصے سے ایک نشست کی حد مقرر کرنے کی تجاویز زیرِ بحث رہی ہیں۔ پاکستان میں بھی الیکشن کمیشن 2017ء میں دو سے زائد حلقوں سے انتخاب لڑنے پر پابندی کی تجویز پارلیمنٹ کو دے چکا ہے۔ اس لیے یہ کوئی ناقابلِ عمل تصور نہیں۔
انتخابی نظام کی دوسری بڑی خامی ’’ فرسٹ پاسٹ دی پوسٹ‘‘ نظام ہے، جس میں سب سے زیادہ ووٹ لینے والا امیدوار کامیاب قرار پاتا ہے، خواہ اسے ڈالے گئے ووٹوں کی اکثریت حاصل نہ ہوئی ہو۔ فرض کیجیے ایک حلقے میں پچاس ہزار ووٹ ڈالے گئے اور سات امیدوار میدان میں ہیں۔ اگر کامیاب امیدوار صرف دس ہزار ووٹ حاصل کرتا ہے تو وہ نشست جیت جائے گا، حالانکہ چالیس ہزار ووٹرز نے اسے ووٹ نہیں دیا۔ یعنی ایک اقلیت پورے حلقے کی نمائندگی حاصل کر لیتی ہے۔
یہ جمہوری اصول کی حوالے سے ایک سنجیدہ سوال ہے۔ اس کا حل یہ ہو سکتا ہے کہ کامیاب امیدوار کے لیے ڈالے گئے ووٹوں کا کم از کم 50 فیصد حاصل کرنا ضروری قرار دیا جائے۔ اگر کوئی امیدوار مطلوبہ اکثریت حاصل نہ کر سکے تو پہلے دو امیدواروں کے درمیان دوسرے مرحلے کا انتخاب کرایا جائے۔ دنیا کے کئی ممالک میں رن آف الیکشن کا یہی تصور رائج ہے۔ اس طریقے سے کامیاب امیدوار کو حقیقی اکثریت حاصل ہوگی اور اس کی نمائندگی کا جواز بھی زیادہ مضبوط ہوگا۔
البتہ اس نظام کے اخراجات کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ حکومت کو چاہیے کہ ایسے انتخابی طریقہ کار کا انتخاب کرے جو عوامی خزانے پر غیر ضروری بوجھ نہ ڈالے۔ جدید ٹیکنالوجی، انتخابی عملے کی بہتر منصوبہ بندی اور پہلے مرحلے کے نتائج کی بنیاد پر دوسرے مرحلے کے محدود انتظامات سے اضافی اخراجات کم کیے جا سکتے ہیں۔
اس سے بھی اہم اصلاح ’’ مسترد سب‘‘ یعنی None of the Aboveکی سہولت ہے۔ بیلٹ پیپر پر ایک ایسا خانہ ہونا چاہیے جسے ووٹر اس وقت استعمال کرے جب اسے کسی بھی امیدوار پر اعتماد نہ ہو۔ خاموشی بھی ایک رائے ہے۔ اگر ایک حلقے میں امیدوار موجود ہوں لیکن بڑی تعداد میں شہری ان سب کو مسترد کر دیں تو اس رائے کو محض غیر حاضری سمجھ کر نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے۔ اگر ’’ مسترد سب‘‘ کو سب سے زیادہ ووٹ ملیں تو انتخاب کالعدم قرار دے کر نئے امیدواروں کو موقع دیا جا سکتا ہے۔ اس سے سیاسی جماعتوں پر بھی دبائو پڑے گا کہ وہ صرف دولت، اثر و رسوخ یا خاندانی وابستگی کی بنیاد پر ٹکٹ جاری نہ کریں بلکہ اہل، دیانت دار اور عوامی خدمت کا ریکارڈ رکھنے والے افراد کو سامنے لائیں۔
انتخابی اصلاحات کا دائرہ صرف ان امور تک محدود نہیں ہونا چاہیے۔ انتخابی اخراجات کی سخت نگرانی، امیدواروں کے اثاثوں اور اخراجات کی موثر جانچ، انتخابی چندے کی شفافیت، ووٹر لسٹوں کی مسلسل تصدیق، پولنگ اسٹیشنز پر بنیادی سہولتوں کی فراہمی اور نتائج کی بروقت و شفاف ترسیل بھی اصلاحات کا حصہ ہونی چاہیے۔ سیاسی جماعتوں کے اندر بھی باقاعدہ اور شفاف انٹرا پارٹی انتخابات کو یقینی بنانا ضروری ہے، کیونکہ جمہوریت کا آغاز سیاسی جماعتوں کے اندر سے ہوتا ہے۔
اسی طرح امیدواروں کے لیے کم از کم تعلیمی قابلیت مقرر کرنے کے بجائے اہلیت، دیانت داری، مالی شفافیت اور عوامی خدمت کے معیار کو زیادہ اہمیت دی جانی چاہیے۔ پارلیمنٹ قانون سازی کا ادارہ ہے؛ اسے ایسے لوگوں کی ضرورت ہے جو قانون، معیشت، خارجہ پالیسی، تعلیم، صحت اور ریاستی نظم و نسق کی بنیادی سمجھ رکھتے ہوں۔ہمیں یہ بھی تسلیم کرنا ہوگا کہ انتخابات محض حکومت بنانے کا ذریعہ نہیں بلکہ عوام کی امانت ہیں۔ ایک ووٹ کے پیچھے ایک شہری کی امید، اعتماد اور مستقبل وابستہ ہوتا ہے۔ اس لیے انتخابی نظام ایسا ہونا چاہیے جس میں امیدوار کے بجائے ووٹر مرکزِ نگاہ ہو۔
پاکستان مزید مہنگے، متنازع اور غیر موثر انتخابات کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ ہمیں ایسی انتخابی اصلاحات درکار ہیں جو انتخاب کو محض اقتدار تک پہنچنے کا راستہ نہیں بلکہ حقیقی عوامی نمائندگی کا ذریعہ بنائیں۔ ایک امیدوار، ایک ذمہ داری، ایک شفاف انتخاب اور ووٹر کی حقیقی اکثریت کے اصول اگر ہماری انتخابی اصلاحات کی بنیاد بن جائیں تو جمہوریت کا معیار بھی بلند ہوگا اور قومی خزانے کا غیر ضروری بوجھ بھی کم ہوگا۔
اب وقت آ گیا ہے کہ ہر سیاسی جماعت انتخابی اصلاحات کو اپنے مخالفین کے خلاف ہتھیار بنانے کے بجائے قومی ضرورت سمجھ کر اس پر اتفاقِ رائے پیدا کرے۔ کیونکہ مضبوط جمہوریت صرف انتخابات کرانے سے نہیں بنتی، بلکہ ایسے انتخابات کرانے سے بنتی ہے جن پر عوام کو اعتماد ہو۔
رفیع صحرائی




