Columnمحمد مبشر انوار

انسداد دہشت گردی ایکٹ ۔ ترمیم

انسداد دہشت گردی ایکٹ ۔ ترمیم
تحریر : محمد مبشر انوار (ریاض)
معاشرے میں امن و امان اور سکون برقرار رکھنے کے لئے عموما قوانین بنائے جاتے ہیں اور ان قوانین پر عملدرآمد کے ذریعہ سے معاشرے میں بسنے والے انسان اپنی زندگی پرسکون انداز میں گزارتے ہیں کہ ا نہیں علم اور یقین ہوتا ہے کہ حکومتوں کی یہ ذمہ داری کہ مجوزہ قوانین کے مطابق شہریوں کو ان کے حقوق میسر رہیں گے۔ البتہ کچھ قوانین عام معاملات سے ہٹ کر ہوتے ہیں جو مخصوص حالات او ر مخصوص جرائم کے لئے بروئے کار لائے جاتے ہیں تا کہ معاشرہ ایسے مخصوص جرائم سے محفوظ رہے۔ دہشت گردی جیسا تباہ کن جرم، جو اپنے ساتھ ہلاکت خیزی و تباہی لاتا ہے، ایسے جرائم کی بیخ کنی کے لئے قوانین بھی خصوصی اور انتہائی سخت ہوتے ہیں لیکن ان قوانین پر عملدرآمد کروانا حکومتوں کے لئے جوئے شیر لانے کے مترادف ہوتا ہے ۔ ایسے کسی بھی جرم کو بغیر شک و شبہ ثابت کرنا،ہی ایک کڑا امتحان ہوتا ہے لیکن جب یہ جرم ثابت ہوجائے تو پھر مجرم پر رحم کرنا،خود پر اور معاشرے پر ظلم کرنے کے مترادف ہوتا ہے لہذا ایسے قوانین پرمختلف ممالک میں عملدرآمد کا طریقہ کار بھی مختلف دکھائی دیتا ہے۔ مغربی و مہذب معاشروں میں گو کہ دہشت گردی کے واقعات نسبتا کم دکھائی دیتے ہیں کہ وہاں کی حکومتوں نے شہریوں کی سہولیات کے لئے قوانین پر عملدرآمد یقینی بنا رکھا ہے تو دوسری طرف یہ حقیقت بھی اپنی جگہ مسلمہ ہے کہ وہاں نظام انصاف بلاامتیاز ہر شہری کو میسر ہے۔ یہ وہ بنیادی وجہ ہے جس کے باعث شہریوں کو مکمل اطمینان ہے کہ ان کے حقوق کسی بھی صورت سلب نہیں ہوسکتے اور نہ ہی ان کا حق چھیناجا سکتا ہے کہ عدالتیں آزاد ہیں اور کسی بھی مظلوم کی داد رسی کے لئے فوری متحرک اور فعال دکھائی دیتی ہیں۔ تاہم اس کے باوجود کئی ایک معاملات میں ایسا دکھائی دیتا ہے کہ جہاں مکمل انصاف نہیں ہوا لیکن ایسے معاملات معدودے چند ہی ہوتے جس کے پس پردہ بہرحال ریاستی سیکیورٹی یا ریاستی امور دکھائی دیتے ہیں بالعموم معاملات قوانین کے مطابق چلتے ہی دکھائی دیتے ہیں۔ اس ضمن میں ماضی قریب کے حوالے سے امریکن صدر بل کلنٹن کی مثال دی جا سکتی ہے تو دوسری طرف انگلینڈ میں مقیم جلا وطن سیاسی رہنما الطاف حسین کی مثال دی جاسکتی ہے کہ امریکی قانون اس قدر سخت ہیں کہ اس سے ملک کی بڑی سے بڑی شخصیت کو بھی استثنیٰ حاصل نہیں اور اگر وہ کوئی غیر قانونی کام کرتا ہے تو ملکی قوانین کے سامنے جوابدہ ہے۔ جبکہ معاشرے کو نقصان پہنچانے والے جرائم کے حوالے سے یہ ممالک انتہائی سخت گیر ہیں اور اس معاملے میں ان کے قوانین بھی خاصے سخت ہیں اور طریقہ کار بھی پیچیدہ سا ہے کہ جس میں بالعموم ملزم کو جج ،پراسیکیوٹر وغیرہ کی شناخت بھی خفیہ ہوتی ہے کہ مبادا ملزم ان کو کوئی نقصان نہ پہچا سکے یا ان پر کوئی دبائو یا کوئی اور حربہ استعمال کرکے ،انصاف کی راہ میں رکاوٹ نہ بن سکے۔ اس طریقہ کار کا مقصد فقط ایک ہوتا ہے کہ بہرحال انصاف کا بول بالا ہو اور سوسائٹی کو جرائم سے پاک رکھا جا سکے، ایسے جرائم کی تعریف بھی انتہائی واضح ہوتی ہے، مبہم تعریف صرف اس لئے نہیں کی جاتی کہ ابہام کے باعث کسی شخص کو اس جرم میں پھنسایا نہ جاسکے، جج بھی اس وقت تک ملزم یا ملزمان کو سزا نہیں دیتے جب تک کہ جرم بغیر کسی شک و شبے کے ثابت نہ ہو جائے اور اس پر عملدرآمد کو یقینی بنانا حکومت کی ذمہ داری ہوتی ہے۔
پاکستان بدقسمتی سے گزشتہ کئی دہائیوں سے ایسے سنگین جرائم کی آماجگاہ بنا ہوا ہے جو براہ راست معاشرے کے سکون کو تہہ و بالا کئے ہوئے ہیں گو کہ پاکستان میں دہشت گردی کے حوالے سے قوانین بھی موجود ہیں لیکن بالعموم ان قوانین پر کماحقہ عملدرآمد نہیں ہوتا بلکہ اکثر و اوقات یہ دہشت گرد، قانون کو مکڑی کے جالے کی طرح توڑ کر نکل جاتے ہیں۔ یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا قوانین نرم ہیں یا دہشت گرد زیادہ طاقتور ہیں؟۔ بات بڑی سیدھی ہے کہ اگر قوانین نرم ہوں یا ان میں ابہام ہو یا ان کے نفاذ میں کمی ہو تو مجرم ازخود طاقتور ہوجاتے ہیں اور پاکستان میں بدقسمتی یہی ہے کہ قانون نافذ کرنے والے محکموں کی حدود وقیود ایسی ہیں ،ان پر ایسے دبائو ہیں کہ بسا اوقات انہیں نہ چاہتے ہوئے بھی ایسے اقدامات کرنے پڑتے ہیں کہ دہشت گردوں کو عدالتیں چھوڑنے پر مجبور ہو جاتی ہیں کہ عدالتوں کو قانونی تقاضے پورے کرنا ہوتے ہیں ۔ جبکہ اس وقت صورتحال انتہائی نا گفتہ بہ ہے کہ سویلین اداروں کی جانب سے بیشتر اوقات یہ شکوے سنائی دیتے ہیں کہ وہ اپنی جان جوکھوں میں ڈال کر ،دہشت گردوں کو گرفتار کرتے ہیں لیکن کسی دوسرے سرکاری محکمے کے اہلکار ان دہشت گردوں کو ،بغیر کسی قانونی کارروائی کے ہی،ان کے گرفت سے چھڑوا کر لے جاتے ہیں۔ دوسرے محکمے کے اہلکاروں کی اپنی ترجیحات ہیں جبکہ پورے ملک میں کسی کو ان کی ترجیحات پر بات کرنے کی اجازت نہیں کہ پر جلتے ہیں لیکن اب صورتحال بدل رہی ہے اور سویلین محکمے کے افراد اس روئیے پر بولنا شروع ہو گئے ہیں کہ کل تک وہ ان کی حمایت میں ہاتھ باندھے کھڑے رہتے تھے اور ان کے ایسے اقدامات پر پردہ ڈالنے کے لئے تیار رہتے تھے لیکن اب چونکہ سوالات خود ان کی کارکردگی پر بڑھ رہے ہیں، اس لئے وہ بھی کھل کھلا کر حقائق آشکار کررہے ہیں۔ اس کے پس منظر میں واللہ اعلم واقعتا ان کی اپنی کارکردگی کا مسئلہ ہے یا ان کو محسوس ہو رہا ہے کہ جو اقدامات کئے جارہے ہیں، وہ اس ملک کی جڑوں کو کھوکھلا کر رہے ہیں یا وطن کی محبت امڈ آئی ہے یا اپنوں کی شہادتیں برداشت سے باہر ہو گئی ہیں لیکن یہاں اس امر سے بھی قطعا انکار نہیں کہ برتر محکمے کے جوانوں اور افسروں نے بھی شہادتیں تو دی ہیں، جانی نقصان ان کا بھی ہوا ہے، پھر بھی ہم آہنگی کے فقدان نے فورسز کو آمنے سامنے لا کھڑا کیا ہے۔ بہرحال دہشت گردی کا عفریت تاحال پاکستان میں کنٹرول میں نہیں آسکا بلکہ اس کا دائرہ کار مسلسل بڑھ رہا ہے اور بالخصوص کے پی اور بلوچستان میں دہشت گردی کی جو آگ دہک رہی ہے، اس نے پورے پاکستان کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے کہ ملک کا ایک حصہ اگر مشکل کا شکار ہے تو اس کا اثر کسی نہ کسی حوالے سے بہرحال دیگر حصوں پر بھی براہ راست یا بالواسطہ ضرور پڑتا ہے۔ کہ ایک طرف کے پی کی مقامی آبادی ان دہشت گردوں کا نشانہ بنتی ہے تو دوسری طرف سیکیورٹی فورسز کی کارروائی کے دوران ضمنی نقصان ( کو لیٹرل ڈیمج) میں بھی بالعموم نقصان مقامی آبادی کا ہوتا ہے کہ اگر وہ اپنے علاقوں سے نقل مکانی نہیں کرتے تو سیکورٹی فورسز کی کارروائی کا نشانہ بھی بن جاتے ہیں اور اگر نقل مکانی کریں تب بھی ان کا مالی نقصان ہوتا ہے۔ دوسری طرف بلوچستان کی صورتحال کا جائزہ لیں تو بدقسمتی سے وہاں سے آنے والی لاشیں، بالعموم پنجاب یا کے پی کے شہریوں کی ہوتی ہیں یا کراچی و سندھ کی، یوں اس بدامنی میں پورا ملک جلتا ہوا نظر آتا ہے۔ اب تو یہ صورتحال ہو چکی ہے کہ بلوچستان سے گزرنے والی پوری کی پوری ریل گاڑی تک دہشت گردوں کے قبضہ میں چلی جاتی ہے ،جس میں سیکیورٹی فورسز کے افراد بھی سوار ہوں، تو صورتحال توقعات سے کئی گنا زیادہ سنگین ہو جاتی ہے جبکہ صوبائی و وفاقی حکومت کے صرف دعوے ہی سنائی دیتے ہیں اور بقول وزیر داخلہ بلوچستان کا معاملہ ایک ایس ایچ او کی مار ہے، لیکن وہ ایس ایچ او آج تک بلوچستان کو میسر نہیں ہوا۔ گو کہ سیکورٹی فورسز بلوچستان میں معاملات کو معمول پر لانے کی اپنی بھرپور کوششوں میں مصروف ہیں اور اس ضمن میں ایک طرف فتنہ الخوارج اور دوسری طرف فتنہ الہندوستان کے خلاف بروئے کار ہیں اور شنید ہے کہ افغانی فتنہ الخوارج کو فی الوقت نکیل ڈال دی گئی ہے لیکن اس بات کی کوئی ضمانت فی الحال نہیں کہ فتنہ الہندوستان دوبارہ ان کو متحرک نہیں کریں گے۔
اس بس منظر میں پنجاب حکومت کی جانب سے انسداد دہشت گردی ایکٹ1997میں شق 21۔AAA کی ترمیم شامل کی گئی ہے، جس کے مطابق گریڈ 20کے بیورو کریٹ کو مجاز اتھارٹی کا اختیار دیا جائیگا جو ایسے ہائی پروفائل کیسز میں بروئے کار آتے ہوئے، لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کو آگاہ کرے گا۔ جس پر چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ انسداد دہشت گردی یا ہائی کورٹ کے ایک جج کو تعینات کرے گا، جس کی شناخت خفیہ رکھی جائیگی، جس کی وجوہات اوپر بیان کر چکا ہوں۔ اسی طرح وکیل، پراسیکیوٹر، تفتیش کار اور گواہان تک کو خفیہ رکھا جائیگا، مقدمہ سے متعلق آڈیو و ویڈیو تک بھی خفیہ رکھی جائیں گی حتی کہ آواز بدلنے کی سہولت تک میسر ہو گی۔ تسلیم کہ یہ طریقہ کار ترقی یافتہ ممالک کے نقش قدم پر چلتے ہوئے اپنانے کی ایک کوشش ہے لیکن گواہان کی شناخت خفیہ رکھنے سے جرح کا عمل کیسے ہوگا؟ تسلیم کہ مقصد ممکنہ طور پر گواہ کی شناخت چھپانے کے لئے ہو گا لیکن کیا اس طرح انصاف کی فراہمی ممکن ہو سکی گی؟ یا اس کے پس پردہ حکومت کے مذموم مقاصد ہوں گے؟ ماہرین کے مطابق یہ کہا جارہا ہے کہ اس کا مقصد بہرطور عمران خان اور تحریک انصاف کے قائدین کو نو مئی کے مقدمات میں دہشت گرد ثابت کرنا ہو گا جبکہ دہشت گردوں اور سیاسی کارکنوں کے احتجاج کی تعریف بہرحال مختلف ہوتی ہے اور ہمیشہ رہے گی البتہ اس وقت خدشات یہی ہیں کہ حکومت اس قانون میں یہ ترمیم لاکر عمران خان اور تحریک انصاف کو ہی فکس کرنا چاہتی ہے کہ سویلین کے مقدمات فوجی عدالتوں میں نہیں چل سکتے، لیکن تاحال یہ بھی ثابت نہیں ہوا کہ نو مئی کے واقعات، واقعتا دہشت گردی کی تعریف پر پورا اترتے ہیں یا اسے سیاسی کارکنوں کا احتجاج کہا جائے ، جس میں تحریک انصاف کا دعویٰ ہے کہ آج تک سی سی ٹی وی فوٹیج سامنے نہیں لائی گئی اور اس کو چھپانے والے ہی اصل دہشت گرد ہیں۔

جواب دیں

Back to top button